Tag: isolation

  • انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں پر زمانے کے گردوغبار سے گردآلود اور دھندلا چکے تھے۔ جس سے وہاں کے موسم کے مزاج سے واقف ہونے ، صورت حا ل کا اندازہ لگانے اور اُس کو صحیح طرح سمجھنے میں اور بھی دقت پیش آرہی تھی۔ جو تھوڑے بہت صاف نقوش تھے وہ بھی حل طلب تھے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اک ویران سٹرک پر پڑا تھا جس کی چاروں جانب حد نظر تک ویرانی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطریں تھے جس سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور ڈروخوف کے آثار صاف ظاہرہورہے تھے ۔ پسینہ ہاتھ سے پونچھ لیا اور چاروں جانب نظر دوڑائی مگر عقل کے پردے پر کچھ عیاں نہ ہوا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں موسم بھی اجنبی ہو، فضاء میں اپنائیت کا مادہ ناپید ہو، ہر ڈگر ہر راستے میں انجانا پن ہو۔ اُس گمنام منظر کے پیش کردہ عکس کے باوجود بھی وہ ہمت نہ ہارا۔اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے سنسان راستے پر چل پڑا۔ راستہ کچھ بے معنی سا معلوم ہور ہاتھا لیکن کوئی مقصد تھا، کوئی منزل تھی جو نظروں سے اوجھل تھی مگر اسے کھوجنے کی جستجو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔





    ابھی اس نے منزل کو پانے چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ راستے کے عین بیچ و بیچ چند چھوٹے چھوٹے پتھر نظر آئے جس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دل چسپی لی۔ کچھ دیر وہ پتھروں کو دیکھتا رہا۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اس کو اپنے اوقات سے پھلانگنے پر اُکسا رہا تھا۔ اس نے پتھروں میں سے دو کو اٹھایا جنہیں وہ اٹھانا چاہتا تھا اور باقی سڑک پر پڑے پتھروں کو لات ما ر کر سامنے سے ہٹا دیا۔ ہاتھ میں لئے دو پتھروں سے من کو بہلانے لگا۔ وہ پتھروں کو ایک ہاتھ سے اُچھال کر دوسرے میں اور دوسرے سے اچھال کر پہلے والے ہاتھ میں کیچ کر نے لگا۔ اسے پتھروں سے کھیلنے میں مزہ آرہاتھا۔ جی بھر آنے پر نظر انداز کردیا۔ پھر دونوں پتھروں کو اُس بھانت سے پکڑا جس سے یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کو تول کر ایک دوسرے سے موازنہ کر رہاتھا۔ سیدھے ہاتھ والا پتھر دوسرے کی نسبت وزنی تھا جسے رکھ کر دوسرے کو پھینک دیا۔ ماحول سے اثرانداز ہونے کی وجہ سے زورزور سے ہنسنے لگااور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر بولا:
    "پاگل ہوں۔۔۔۔! پاگل ہوں میں، سنو میں پاگل ہوں میں۔”
    خودپرستی اور فطرت سے مجبور ہوکر اس پتھر کو بھی پھینکنے کا ارادہ کر لیا جس کو اس نے باقی سارے پتھروں پر فو قیت دی تھی جو اس کو بھا ری، جاذب نظر اور سفر طے کرنے کے دوران جی بہلانے کے لیے اچھا لگا تھا۔ اس نے وہ پتھر بھی پھینک دیا اور رُکے قدم پھر سے منز ل کی کھوج میں اٹھے۔
    طویل سفر کے بعد جب تھک گیا تو ایک طرف بیٹھ گیا، تھکا ہارا جسم اور کھویا دماغ دونوں ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ ادھراُدھر دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی ہو جو اسے راستہ دکھائے، کوئی ایسا جو اسے منزل تک پہنچائے۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ اس کے ذہین میں اک خیال آیا۔ وہ اچانک زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے بچے کھیلنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح سے کھیلنے لگا، اسی طرح تصویریں بنانے اور مٹانے لگا، اُلٹی پلُٹی لکیریں کھینچنے لگا جس طر ح بچپن میں ہوتا ہے۔ وہاں وہ ایسے مگن ہوگیا کہ بھول ہی گیا کہ وہ مسافر ہے۔ اس انجان راہ پر جی لگانا اسے منزل کو پالینے کی آس سے محروم کرسکتا ہے۔ یہاں کے عارضی لطف اسے من کی آواز سے روشناس کرانے نہیں دے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ وہ سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔ راستے میں حائل مشکلات کے چنگل میں وہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ وقتی طور پر تھوڑی بہت خوشی بھی اس کے چہرے پر نمایاں ہو چکی تھی۔ جس کو وہ کل کائنات سمجھ بیٹھا تھا۔ یوں نادانوں کی طرح کھیلنا اس کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ جہاں وہ خو د کو جس ماحول سے واقف کروانے کی کوشش کر رہا تھا سب اس کی نادانی اور کم فہمی تھی کیوں کہ وہ اس کے کردار کے بالکل منافی تھا مگر جب اند ر کی دستک سنائی دینے لگی اور عقل پر چمک پڑی تو کھیلتے کھیلتے اچانک اٹھ گیا اور کھیلنے پر پشیمانی ظاہر کی۔





    "چاروں طر ف ویرانی ہے خاموشی ہے خوف ہے ۔ ناجانے کہاں ہے میری منزل؟ کہاں جارہا ہوں میں؟ اور کتنا ڈھونڈوں گا اپنی اس نامعلوم منزل کو۔ کب تک گم نامی کے اس وسیع وعریض سمندر میں یوں بے بسی سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہوں گا جس کا ہر قطرہ اپنے اند ر گم نامی اور حیرت کا ایک الگ جہاں سمائے ہوئے ہے۔ ہر پل ہر لمحے نئے امتحانا ت سے واسطہ پڑتا ہے۔”
    ناجانے اس طرح کے اور کتنے سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اس نے لمبی آہ بھری اور پاس ہی چٹان کے ساتھ آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی۔ ٹیک لگاتے ہی اس کے دماغ میں امید کی ایک کر ن چمکی، شاید اس کی آنکھوں کو ئی امید بھر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اوپر چٹان کی بلندی کو دیکھا تو اوپر چڑھنے کی تمناّپیدا ہوئی جو ازل سے ہی فطرتوں کا لا حاصل ٹکڑا رہا ہے۔ ہمیشہ سے جو خواہشوں کی مترجم بن چکی ہے۔ وہ بلا کسی تا خیر کے اوپر جانا چاہتا تھا کیوں کہ اونچائی اور وہاں کی فضا اسے اپنی جانب راغب کر رہی تھی جسے وہ ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔ اٹھ کھڑا ہو ا اور جلدی اوپر چڑھنے لگا۔ چڑھتے وقت اس نے صحیح غلط، غرض کسی راستے کی کوئی پرواہ نہ کی اور بالآخر اوپرپہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فضا میں لہرانے لگا۔
    "کوئی ہے۔ ارے کوئی ہے جو میری مد دکر ے؟” مجھے یہاں اس مشکل سے نکالے۔ "اپنے ہم ذات اور ہم اثر سے مد د اس کے کوئی خاص کام نہ آئی۔
    "کوئی میر ی آواز سن رہا ہے؟”
    وہ نظریں دوڑاتا رہا۔ چیختا رہا کوئی نہیں تھا اس کی پکار سننے والا۔ اند ر کی امید کا چراغ بجھنے کو تھا کرنیں تاریکی کا روپ دھار رہی تھی لیکن اس نے بجھنے نہیں دیا اور ایک بار پھر کوشش کی۔
    "کوئی ہے۔ کوئی تو آئے میر ی مد د کو ۔ آپ لوگ میر ی آواز کیوں نہیں سن رہے ہیں۔”
    اس بار کی ناکامی نے ساری امیدیں توڑ دی سب ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آس کے آئینے میں دراڑیں آنے لگی جس نے کوشش کی شکل کو بھی بدنما کر دیا۔
    "میں بھی کتنا بے وقو ف ہوں۔ مد د کے لیے چیخ رہا ہوں وہ بھی ویرانے میں جہاں کسی کا نام ونشان تک نہیں۔ اگر ہوتو میر ی مدد کو کیوں کر آئنگے کہ خود ان پر بھی یہی بیتِ رہی ہوگی۔ بے کا ر رہا سب۔۔۔۔! سب بے کار۔”
    اسے یوں بے جا اپنے ہم ذات سے مد د طلب کر نے کا احساس ہونے لگا تھا جو بالکل بے معنی اور بے ثمر ثابت ہورہاتھا ۔ وہ اترنے کی نیت سے مڑنے ہی والاتھا کہ کہیں سے اسے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا کمر ہ تھا جس کے سامنے اور اردگرد مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے نظر آرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس کا مایوس چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے بنجر زمین پر بارش کی بوندیں آگری ہواور تپش کا زور ختم ہوچکا ہو۔




  • خربوزہ کہانی — عائشہ تنویر

    آم پھلوں کا بادشاہ ہے اسی لیے سب کا راج دلارا ہے۔ امیر، غریب سب کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اسی لئے سخن کے بادشاہ مرزا غالب نے پھلوں کے بادشاہ کے بارے میں کہا تھا کہ آم میں دو خصوصیات ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ میٹھا ہو، اور دوسرا یہ کہ زیادہ۔ اپنی اسی ہر دل عزیزی کے باعث اس کا مزاج اور ریٹ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اعلیٰ کوالٹی کا آم مغرور حکمرانوں کی طرح اپنے ملک کی عوام سے ملنے کی بجائے زرمبادلہ کے بہانے باقی دنیا کی سیر کو چلا جاتا ہے۔ اور زیادہ تو دور کی بات، عوام تو تھوڑے کی پہنچ سے بھی ایسے دور ہیں جیسے بچوں کی پہنچ سے دوائیں۔ عوام بے چاری محبت سے بے قرار جو جیسا ملے اس پر ہی اکتفا کرتی ہے۔
    لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جمہوریت آچکی ہے اور پھلوں میں بھی آم کی آمریت ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت ہے آم سے عوام تک کے سفر کاجی ہم بات کر رہے ہیں عوامی پھل خربوزے کی۔ جو آم جیسی چمکتی زرد رنگت تو نہیں رکھتا، لیکن اس کا پھیکا پیلا پن بھی کچھ لوگوں کو بہت بھاتا ہے۔
    آم نے اگر محاوروں میں جگہ بنائی ہے اور ”آم کھائو پیڑ نہ گنو، آم کے آم گٹھلیوں کے دام” سننے میں آتا رہتا ہے تو ہمارا خربوزہ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے” اور ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کٹتا خربوزہ ہی ہے” بھی آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔
    خربوزہ غریبوں کا عوامی پھل ہے، اسی لئے دوا بھی کہلاتا ہے اور غذا بھی۔ اپنے عوامی مزاج کی وجہ سے یہ آم کی طرح خوشبو پھیلاتا اپنی آمد کا اعلان کرتا نہیں آتا، اسے چھپ کر بھی کھا لیا جائے تو گھر میں فساد کا سبب نہیں بنتا اور کسی کو پوچھ بھی لیں تو وہ سارا چٹ کرنے کی حسرت نہیں رکھتا ۔





    درحقیقت خربوزہ لڑکیوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ نا یہ آم کی طرح جسم کو موٹاپے کی طرف مائل کرتا ہے اور نہ ہی چاند جیسے چہرے پر داغ کی صورت پمپلز پیدا کرتا ہے ۔آم کی طرح یہ مکھیوں کو دعوتِ عام دے کر گھر کی صفائی پر حرف بھی نہیں اٹھاتا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے اچار، چٹنی، مربے کی فرمائش کر کے نازک اندام حسینائوں کو امتحان میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
    آم کی طرح خربوزے کی گٹھلی بھی اٹ کر آپ کے کپڑوں پر نہیں گرتی۔ یہ آم کی طرح آپ کا منہ بھی پیلا نہیں کرتا، جس سے آپ کے مہذب ہونے کا بھرم بھی رہ جاتا ہے۔ زندگی اور خربوزے میں یہ قدر مشترک ہے کہ پھیکا بھی نکل آئے تو پھینکے نہیں جا سکتے۔ ہم کہتے ہیں پھینکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
    بھئی سکرین کا انجکشن صحیح نہیں لگ پایا تو یہ خربوزے والے کا قصور ہے، اس میں بے چارے خربوزے کی کیا غلطی؟ زندگی میں رنگ بھرنا بھی ہماری محنت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اور خربوزے کو ذائقہ بھی ہم اپنی مرضی سے دے سکتے ہیں۔ چاہے تو چینی ڈال کر کھائیں، چاہے نمک… کوئی سلیقہ مند بی بی تو آپ کو اس کی ترکاری بھی بنا دیں گی۔
    خربوزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں۔ سو اگر یہ پھیکا نکل بھی آئے تو آپ گھاٹے میں نہیں رہے۔ اگر آپ نے گھر میں بکری یا مرغی پالی ہے تو اس کے کھانے کا انتظام چھلکوں اور بیج سے ہو جائے گا، ورنہ کسی حکیم کو دے دیں تو وہ خشک کر کے دوا میں استعمال کرلیں۔
    ہمارے ایک جاننے والے خربوزے کے رسیا ہیں، خربوزہ اس قدر رغبت سے کھاتے ہیں کہ خربوزہ بھی اپنی قسمت پر رشک کرتا ہے ۔کسی وقت بھی آپ انہیں کہیں وہ خربوزے کے فوائد اور آم کے نقصانات پر تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید ان کی ذیابیطس ہو جو انہیں آم سے دور ہی رہنے پر مجبور رکھتی ہے۔ کھانے سے پہلے وہ خربوزہ کھاتے ہیں کہ اس سے بھوک کھلتی ہے۔ پھر وہ خربوزہ کھاتے ہیں پیٹ بھرنے کے لئے اور کھانے کے بعد وہ خربوزہ یہ کہہ کر کھاتے ہیں کہ ذرا ہاضمہ ہو جائے۔
    خربوزے میں پانی کی بہت بڑی مقدار شامل ہوتی ہے، سو کھانے کے وقفوں میں جسم میں پانی پورا کرنے کے لیے بھی خربوزہ کھایا جاتا ہے۔
    خربوزے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ہر مشکل کا ساتھی ہے۔ جب دل چاہے کھا لیں، چاہے تو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیں ، لمبے سفر میں ساتھ لے جائیں تو کھانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹے اور راہ میں کسی سے جھگڑا ہو جائے تو اٹھا کر سامنے والے کے سر پر مار دیں، مزے کی بات یہ کہ کسی چیک پوسٹ پر یہ ہتھیار روکا بھی نہیں جاتا بلکہ اگر روک بھی لیا جائے تو یہ اپنی نوعیت کا واحد ہتھیار ہے جسے سامنے والے کو پیش کر کے آپ کی جان بھی چھوٹ سکتی ہے، بلکہ الٹا اگلا آپ کا احسان مند بھی ہو جاتا ہے۔
    جب سے ون ڈش کا غلغہ اٹھا ہے، ہماری رائے میں تو شادیوں میں خربوزہ ہی رکھ دینا چاہئے۔ چاہے کوئی پیٹ بھرنے کو کھائے یا چینی ڈال کر میٹھا سمجھ کر، میزبان تو بری الذمہ ہوں۔
    میزبانی سے یاد آیا، جب آپ کسی کے ہاں دعوت پر جائیں تو آپ اسے بہ طور تحفہ بھی لے کر جاسکتے ہیں۔ چوں کہ یہ سائز میں بڑا ہوتا ہے، اس لیے کم تعداد میں آپ کا شاپر بھی بھر جائے گا اور آپ خرچے سے بچ جائیں گے۔
    اسی طرح بڑی بڑی میزیں خربوزوں کے ڈھیر سے بھر کر میزبان کھانے کی کثرت پر بہ آسانی فخر کر سکتے ہیں اور بریانی کی طرح اسے شاپر میں ڈال کر پار کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سو بے فکر رہیں، آپ کا کھانا کم نہیں پڑے گا ۔
    ہمیں یقین ہے کہ ہماری خربوزہ کہانی سے متاثر ہو کر آپ ایک آدھ خربوزہ تو کھا ہی لیں گے اور ہم نے جو خربوزے کا کھیت لیا ہے وہ نقصان میں نہیں جائے گا۔

    ٭…٭…٭




  • اُلو — محسن عتیق

    اُلو — محسن عتیق

    صبح کے لگ بھگ سات بج رہے تھے جب وہ جھولا جسے میں بڑے مزے سے جھول رہا تھا، اچانک سے آنے والے زلزلے سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اچانک سے آنے والی اس افتاد سے میں سہم گیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح میں نے جھولے کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔
    ”سات بج گئے ہیں۔” اچانک اک آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
    میں کافی سہما ہوا تھا، لیکن ہمت کر کے آواز کے تعاقب میں سر جو اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اک چہرہ پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔لمبے بال،شہد جیسی رنگت والی آنکھیں، وہ لڑکی جو بھی تھی، حسن میں اپنی مثال آپ تھی۔ وہ اس دیس کی لگتی ہی نہیں تھی مانو جیسے کسی اور دیس کی پری رستہ بھٹک کر یہاں آن پہنچی ہو۔
    ”کیسی ہو پری؟؟؟” میں بڑے پیار سے مخاطب ہوا۔
    اب کے ایک پھر زمیں۔ ہلی اور اس شدت سے ہلی کے میرے خوابوں کو چکنا چور کرگئی۔ پری اب نوشابہ بن چکی تھی، میری بیوی۔ وہ مجھے جھنجھوڑ کر اُٹھا رہی تھی۔
    ”اُٹھ جائیں! سوا سات ہونے کو ہیں، آج کالج نہیں جانا کیا؟؟؟” یہ کہتی ہوئی وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور کچھ دیر تو میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا کہ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے؟؟؟
    ادھر اُدھر دیکھا تو ساتھ پڑے موبائل پر نظر پڑی۔ بٹن دباتے ہی سکرین پے لکھا آیا ”بیس مسڈ کالز۔” وہ اصل میں میری گہری نیند سے میرے ساتھی ٹیچرز بہت خوف کھاتے ہیں کیوں کہ ہم ایک ہی بس میں ساتھ جاتے ہیں اس لیے میری وجہ سے اُن کی بس چھوٹ جانا گزشتہ دنوں تک اک عام سی بات تھی، لیکن جب سے پرنسپل کی طرف سے ٹائم کی پابندی کرنے کا حکم آیا ہے میرے ساتھی ٹیچرز نے مجھے جگانے کا کام بھی اپنے سر لے لیا ہے۔ اُن سب کو میسج کر کے میں تیاری میں مصروف ہوگیا۔
    ٹھیک سات بج کر چالیس منٹ پر میں تیار تھا بس ناشتے کے لیے میرے پاس صرف پانچ منٹ تھے۔ جیسے تیسے کر کے میں نے ناشتہ ختم کیا اور چائے کے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ٹیبل پر پڑے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی، جس کی سکرین پر ذیشان کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں نے موبائل اُٹھا کر ریسیو کا بٹن دبایا ہی تھا کہ سرحد پار سے گولا باری شروع ہو گئی۔
    ”یار عامر آج پھر لیٹ کروانا ہے کیا؟؟؟ ہم باہر کھڑے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ قسم سے رستے میں تمہارا گھر نہ ہوتا تو یوں ہی چھوڑ کر چلے جاتے۔۔۔ جلدی باہر آئو۔۔!”
    سامنے پڑی چائے جس کی رنگت اور الائچی کی آنے والی خوش بو ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ آج غلطی سے ہی سہی، بیگم نے چائے بڑی شان دار بنائی ہے۔ ایسی چائے کو چھوڑ دینا یقینًا ایک تکلیف دہ عمل تھا، لیکن تھوڑی دیر پہلے جو سرحد پار سے گولا باری ہوئی تھی، اُس بڑبڑاہٹ نے مجھے سب کچھ بھلا دیا اور میں تیز تیز قدم اُٹھاتا گھر سے باہر آگیا۔ سامنے وہ دونوں غصے سے منہ پھلائے کھڑے تھے۔ دونوں کا پھولا ہوا منہ اُس غبارے کی مانند لگ رہا تھا جس میں غلطی سے زیادہ گیس بھر دی گئی ہو۔
    ”شکر ہے نواب صاحب تیار ہوگئے۔۔۔!” ساجد بولا۔





    ”ارے کم بختو! تم دونوں کی وجہ سے اپنی بیوی کے ہاتھ کی بنی چاے چھوڑ کر آیا ہوں، ابھی بھی مجھ پر غصہ ہورہے ہو؟؟؟” میں نے گرجتے ہوئے ان دونوں سے کہا۔
    ”پھر تو اچھا کیا کہ نہیں پی!” ذیشان نے طنزیہ کہا اور اُن دونوں کے قہقہے فضا میں گونج اُٹھے۔
    ”کیا مطلب؟؟؟ میں سمجھا نہیں؟؟؟” اُن کا یہ طنز میرے اوپر سے ایک جانے مانے ایتھلیٹ کی طرح چھلانگ مارتا گزر گیا تھا۔
    ”کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے ہم نے تو کبھی وہ چائے پی ہی نہیں؟؟؟ اگر اُس چائے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوں گے ”کالی اور پھیکی۔” ایک بار پھر اُن کے قہقہے ہوا میں گونج اُٹھے۔ وہ مجھے چڑانے کی بھرپور سعی کررہے تھے اور سچ بات تو یہ ہے کہ اُن کی یہ سعی کارگر بھی ثابت ہورہی تھی۔
    ”ارے نہیں! آج کی چائے بہت کمال کی تھی۔۔۔ یقین کرو میں تو خود حیران ہوں۔” میں نے صفائی پیش کرنی چاہی۔
    ”ناممکن۔۔۔! کیوں ساجد بھائی کیا تمہیں یقین آرہا ہے؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر ساجد نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میری پیش کی گئی صفائی کو ظالموں نے ردی سمجھ کر ٹوکری میں پھینک دیا۔ بس آنے والی تھی اور ہم تیز تیز قدم اُٹھاتے کالونی سے باہر مین سڑک کی طرف بڑھنے لگے۔
    آج بھی وہ دس سال کا بچہ اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ محرومی کی ایک وا ضح جھلک اُس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اُلجھے ہوئے بال، سانولی رنگت اور نیلے رنگ کی پرانی اور بوسیدہ شلوار قمیص پہنے جس پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ وہ مفلسی کی ایک جیتی جاگتی مثال بنے بیٹھا تھا۔راہ چلتے لوگ اُس کی حالت پر ترس کھا کر چند سکے اُس کی جانب اُچھال دیتے لیکن ہم آج بھی معمول کی طرح اُسے نظر انداز کیے ساتھ سے گزر گئے۔
    ابھی ہم تھوڑا ہی دور گئے تھے کہ اک عجیب سی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میرے قدم بڑی تیزی سے سڑک کی جانب بڑھ رہے تھے اور میری سوچوں کے گھوڑے اُس آواز کو ماضی کے صفحات میں تلاش کرنے میں سرگرداں ہوگئے اور جب وہ صفحہ کھلا تو میرے ہوش اُڑ گئے۔ میرے تیزی سے اُٹھتے قدم منجمد ہوگئے اور میری آنکھیں ترچھی ہوتیں اُس سمت جا پہنچیں جہاں سے وہ آواز آئی تھی۔ میری غیر ہوتی حالت کو ساجد اور ذیشان بھی دیکھ چکے تھے۔ غالبًا اُنہوں نے وہ آواز نہیں سنی تھی۔
    ”اُلو!” مجھ سے صرف یہی لفظ ادا ہوا۔
    ”کیا؟؟؟ کہاں؟؟؟” اُن کے ماتھے پر پڑی شکنوں سے اضطراب جھلک رہا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اُس سمت اشارہ کیا جہاں وہ منحوس پرندہ نظریں گاڑے ہمیں ہی دیکھے جارہا تھا۔ وہ دونوں بھی اُسے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے۔
    ”ایسا منحوس پرندہ رستے میں آجائے تو لوگ سفر ترک کردیتے ہیں۔ میری مانو تو واپسی کا رستہ پکڑو، زندگی جاب سے زیادہ عزیز ہے۔ کہیں کالج جاتے ہوئے اُسی بس کا ایکسیڈینٹ نہ ہوجائے۔” ذیشان کی اس بات پر میں جو ٹرانس کی سی کیفیت میں تھا ذرا چونکا۔
    ”تینوں نے اکھٹی چھٹی کی تو پرنسپل جان سے مار دے گا۔ لیٹ ہوجانے کی وجہ سے پرنسپل صاحب کے سامنے ویسے بھی شہرت زیادہ اچھی نہیں ہے۔” میری بات سن کر ذیشان سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
    ”لیکن عامر چاہے شرط لگا لو اس منحوس اُلو کی وجہ سے ہمارے ساتھ کچھ برا تو لازمی ہوگا، اب یہ نہیں پتا کہ وہ برا آخر کس قدر برا ہوگا۔” ذیشان فکر مندی سے بولا۔
    ”کیوں نہ کچھ صدقہ کردیں؟؟؟” بات کرتے ساجد کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک در آئی۔
    ”لیکن یہاں اس وقت کون ہے جس پر صدقہ لگتا ہو؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر میں بھی ہونقوں کی طرح ساجد کو دیکھنے لگا۔ ہماری حالت اُس وقت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔!





    ”ارے اسی بچے کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں کم از کم آج کے دن تو اس منحوس پرندے کی نحوست سے جان چھٹے گی۔” ساجد کی بات پر ہماری نظریں دانستہ طور پر اُس بچے کی طرف اُٹھ گئیں جو کچھ فاصلے پر بیٹھا ہمیں ہی دیکھ رہا تھا۔
    اچانک بس کے ہارن کی آواز نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ بس میں بیٹھا ڈرائیور سمجھ گیا تھا کہ ہم آج پھر لیٹ ہیں لیکن اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ اُسے دیکھ کر بس کی طرف بھاگنے کی بجاے ہم اُلٹی سمت میں دوڑ پڑیں گے۔ وہ اپنا سر کھجاتے حیرانی سے ہمیں بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ ہم ہانپتے ہوئے اُس بچے کے پاس پہنچے، پیسے اُس بچے کو دیئے اور واپسی کی طرف دوڑ لگادی، لیکن اپنے بھاگتے ہوئے قدموں کو ہمیں روکنا پڑا کیوں کہ سامنے سڑک خالی تھی۔ بس جاچکی تھی۔ بوکھلاہٹ میں ہم بس والے کو رکنے کا اشارہ کرنا ہی بھول گئے تھے۔
    اُن کے چہرے پے ایک بار پھر وہ شوخی جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی۔ نحوست کے بادل چھٹ چکے تھے۔دل اب قدرے مطمئن تھا۔ سڑک پر پہنچ کر وہ دوسری بس کا انتظار کرنے لگے۔
    دوسرے دن پھر وہ منحوس اُلو اُنہیں گھور رہا تھا۔اُس بچے کو پیسے دے کر وہ پھر سے اُس منحوس پرندے کی نحوست سے آزاد ہوگئے۔لیکن یہ اب روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ روزانہ اُس اُلو کا دیدار ہونے پر اب وہ عاجز آچکے تھے۔اضطراب اُن کے چہروں پر واضح اور نمایاں تھا۔ اُس بچے کو پیسے دینے سے اُن کی تنخواہ میں ایک فیصد کمی بھی واقع نہیں ہونی تھی لیکن وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو بھکاریوں کو شاید انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فون کی بیل جارہی تھی، جب دوسری طرف سے ذیشان کی آواز آئی۔
    ”ہیلو عامر صاحب! لگتا ہے میری طرح آپ کے دل کو بھی اُس منحوس اُلو کی وجہ سے چین نہیں آرہا؟؟؟” فون اٹھانے پر ذیشان کی آواز ابھری عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”ہاں یار! کوئی حل نکالو اس مسئلہ کا، میں تو بیوی بچوں والا ہوں کہیں اُس اُلو کی نحوست گھر میں داخل نہ ہوجائے۔” عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”صرف تم ہو؟؟؟ تینوں ہی بیوی بچوں والے ہیں بھائی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ساجد کی کال آئی تھی، اُس نے کالونی کے مالک سے بات کرلی ہے۔ آج ہی اُس منحوس پرندے کو وہاں سے بھگا دیا جاے گا۔” ذیشان کی آواز میں اب قدرے سکون تھا۔
    ”کیا واقعی؟؟؟ ارے یہ تو کمال ہوگیا۔ اس خوش خبری پر تمہارا ماتھا چومنے کو دل کررہا ہے۔” دوسری طرف سے ذیشان کا قہقہہ سنائی دیا۔
    ”ارے بھائی چوم لینا۔۔۔ فی الحال میں فون رکھتا ہوں۔ گھر کی بیل بجے جارہی ہے، ذرا دیکھتا ہوں کون آیا ہے۔خدا حافظ”
    ٭…٭…٭
    اُن کی زندگی جو پچھلے کچھ دنوں سے عجیب موڑ لے رہی تھی، آخر پھر اپنے پرانے رستے پر چلنے لگی۔ اب روزانہ صبح وہ اُس بچے پر تنفر بھری نگاہ ڈالے ساتھ سے گزر جاتے اور وہ بچہ کبھی غرور سے تنی ہوئی اُن گردنوں کو دیکھتا جو پیسے کے دم پر ہر روز ایک محرومی بھرا احساس اُس کے دل میں جگا جاتیں اور پھر اُس کی نظر اُس درخت پر پڑتی جہاں رہنے والا پرندہ اُن لوگوں کے ظلم اور عتاب کا شکار ہوا تھا۔اُس دن کے بعد وہ درخت اُسے ہمیشہ خالی ہی نظر آیا۔
    ٭…٭…٭
    اُفق پر سنہر ی روشنی پھیل رہی تھی۔ عامر گھر سے باہر نکلا تو ذیشان اور ساجد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے کھڑے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ذرا چونکے۔
    ”سیٹھ صاحب! یہ ہماری دعائوں کا اثر ہے ورنہ آپ اور ٹائم پر تیار ہوجائیں؟؟؟ ناممکن!” ذیشان کی اس بات پر میں ہنس پڑا۔
    ہم باتیں کرتے سڑک کی جانب بڑھنے لگے ۔اچانک میری نظر اُس بچے پر پڑی ۔وہ منہ مخالف سمت کیے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے بیٹھا دعا مانگ رہا تھا۔میں نے آہستہ سے ساجد اور ذیشان کو اُس جانب متوجہ کیا۔اُسے دیکھ کر میری طرح اُن کی آنکھوں میں بھی چمک در آیٔ۔
    ”آج دیکھتے ہیں یہ مفلسی کا ڈرامہ کرنے والا خدا سے کیا مانگ رہا ہے۔آج تو اسے رنگے ہاتھوں پکڑیں گے۔” ساجد بولا۔
    ہم چپکے سے قدم اُٹھاتے اُس کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اُس کی آواز ہم اب بہ خوبی سن سکتے تھے۔
    ”اللہ! آپ میری بات مان لیں۔میں نے رات بھی کھانا نہیں کھایا۔ بہت بھوک لگی ہے۔ آپ اُس اُلو کو واپس بھیج دیں۔ وہ آجائے گا تو مجھے دوبارہ پیسے ملنے لگیں گے۔ آپ پلیز اُس اُلو کو کہیں واپس آجائے۔”
    وہ شوخی جو اُن کے چہروں پر جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی، ایک پل میں بوڑھی ہوکر رہ گئی۔ ایک پل میں اُس جھنڈے کے ایک نہیں ہزار ٹکڑے ہوئے تھے۔ وہ ندامت کی ایسی جیل میں قید ہوئے تھے جس نے اُن کی تنی ہوی گردنوں کو جھکا دیا تھا۔ وہ اُس وقت سمجھے تھے کہ منحوس لفظ ہی شاید منحوس ہوتا ہے، ورنہ اُس خدا کی تخلیق کی ہوئی کوئی شے منحوس نہیں ہوتی۔ منحوس تو صرف انسان کی سوچ ہوتی ہے جو کبھی کسی پرندے کو منحوس کہتی ہے کبھی اُس عورت کو جو بانجھ پن کا شکار ہونے کے باوجود روزانہ خدا کے حضور اپنی جھولی بھر جانے کی دعائیں مانگتی ہے۔ وہ تینوں چپ چاپ سر جھکائے کھڑے تھے۔ اُن میں اتنی سکت بھی باقی نہ تھی کہ اُس بچے کی نظروں کا سامنا کرسکیں۔ کتنی بسیں یوں ہی گزر گئیں اور وہ جو کالج جانے کے لیے نکلے تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

    ٭…٭…٭




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔
    آمنہ۔۔۔
    آمنہ فرمان ۔۔۔
    آمنہ ۔۔۔عبداللہ
    آمنہ عبداللہ
    میں بھی یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہوں ۔کسی نے دیکھ لیا تو ہنسے گا مجھ پر ۔ چلو لائن لگا دیتا ہوں اس کانام۔ کاٹ دیتا ہوں آخری لائن کو ۔
    کیا کروں چاہ کر بھی میں اس کا نام کاٹ نہیں پا رہا ۔میں بھی ناں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ ابھی تو مجھے اپنی بہن کو ڈھونڈنا ہے ، اس کے لیے اچھا سا لڑکا تلاش کرنا ہے ، اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں ۔ پھر اپنے بارے میں سوچوں گا ۔ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں ۔ یہ آمنہ خواہ مخواہ چلی آئی میری زندگی میں ۔ آئندہ نہیں سوچنا اس کے بارے میں ۔
    میں نے دل میں تہیہ کیا۔
    ٭٭٭٭٭
    ”تم ۔۔۔تم ۔۔۔حیثیت کیا ہے تمہاری۔تمہاری اتنی جرات بھی کیسے ہوئی کہ تم ایسی بات کرو۔ تم ایک نوکر ۔۔۔ایک مالی ۔۔ایک دو ٹکے کے ۔۔۔تم ۔”
    وہ آنکھیں بند کرتا تو غصے کے ساتھ چلاتی ہوئی آئمہ جہانگیر اس کے سامنے آجاتی ۔ وہ آنکھیں کھولتا تو اس کو اس کی حدیں جتاتی ہوئی آئمہ جہانگیر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
    ”چراغ دین ۔۔اسے بتاؤ کہ ایک نوکر کی حد کیا ہے ۔”
    وہ بہت مضبوط تھا ،لیکن ٹوٹ رہا تھا ۔
    بہت بار اس نے سوچا کہ وہ یہاں سے چلا جائے ، آئمہ جہانگیر کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔مگر جس گلاب کی اس نے آب یاری کی تھی،اسے یونہی چھوڑ کر چلے جانا دشوار ہوا ۔وہ اسے پھول دار دیکھنا چاہتا تھا ، بھلے اس کے کانٹے اسے گھائل کرتے تھے ۔
    شادی کے دن قریب آ رہے تھے ۔عورتوں جیسی چال والا ڈیزا ئنر دلہن اور دلہا کے ملبوسات ، دلہن دلہا کے ماں باپ ،دلہا کی بہن اور دلہن کی سہیلیوں کے ڈریسز کے بارے میں مشورے دینے اور ہدایات لینے چلا آتا، مردوں جیسے حُلیے والی ویڈنگ پلانراپنی ٹیم کے ساتھ گھر کا سروے کرنے چلی آتی۔ برائیڈل شاور کے لیے ہال اور مہندی کے ایونٹ کے لیے لان منتخب کیا تھا اس نے۔
    ”یہ اس طرف اسٹیج بنے گا ۔کچھ پودے کٹوانے پڑیں گے آپ کو ۔” اس نے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا ۔ارم جہانگیر نے سر ہلا دیا تھا ۔
    اس نے تڑپ کر اس گلابی گلاب کے پودے کی طرف دیکھا جس کی ٹہنی اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور جس میں لگی ہرے رنگ کی ننھی ننھی کلیاں اشارہ دیتی تھیں کہ اب اس پہ پھولوں کی بہار آنے ہی والی ہے ۔
    ٭٭٭٭٭



    ”آپ نے مجھے میری ماں سے ملوایا ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی۔” آمنہ فرمان اکثر کہتی تھی اور میں مُسکرا دیتا تھا ۔ میں نے بھلا کیا احسان کیا تھا ۔بس آیا کو اس کی بیٹی سے ملوایا یہ سوچ کر کہ کوئی تو بچھڑا اپنے سے ملے ۔
    جب وہ میری زیادہ احسان مند ہونے لگتی تو میں کہتا ۔
    ”تم نے احسان ہی اتارنا ہے ناں تو دعا کرو کہ میری بہن مجھے مل جائے ۔ ”
    وہ اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتی ۔ میں بس اسے دیکھ کر رہ جاتا ۔بہت خالص تھی وہ ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی میری راہ نہ کھوٹی کر ڈالے۔
    غلط بات تھی ناں کہ میں نے حفصہ کے لیے انکار کیا تھا اور اب آمنہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا۔ واقعی سچ کہتے ہیں دل بڑ ا ہی شہ زور ہوتا ہے ۔ دماغ پہ قابو پا لیتا ہے ۔ میں جو دل میں پکا عہد کرتا تھا کہ اب آمنہ کو نہیں سوچنا ، اس کو دیکھتے ہی ہر عہد بھول بیٹھتا ۔ دل اپنی منوا کر چھوڑتا ۔
    ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں ۔ میں اپنی بہن کی باتیں کرتا اور وہ مجھے اپنے گھاؤ دکھاتی ۔
    عجیب بات ہے کہ کسی کے پاس رشتے نہیں ہوتے،تو وہ تنہا ہوتا ہے ، کسی کے پاس بہت سے رشتے ہوتے ہیں پھر بھی وہ تنہا ہوتا ہے ۔ کوئی یتیم مسکین ہوتا ہے کیو ں کہ اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور کوئی ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین ہوتا ہے ۔
    میری محرومیاں کسی حد تک مٹنے لگی تھیں ۔ میں یتیم خانے میں رہا اور آمنہ اپنے گھر میں۔ میرے ماں باپ حیات نہ تھے ، اس کے ماں باپ اسی دنیا میں تھے ۔ پھر بھی میں آمنہ سے زیادہ بہتر حالات میں رہا ۔ میں اب اللہ کا شکر ادا کرنے لگا تھا ۔
    ہمارے بیچ کوئی اقرار نہ ہوا تھا ، کوئی وعدے نہ ہوئے تھے ۔ پھر بھی خود کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ہی راہ پہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔
    میرا ماسٹرز ہو گیا تو ایک نجی بینک میں کیشئر ہوگیا ۔ ہفتہ اور اتوار کے دن میں بیگم شاہ جہاں کے گھر بھی جاتا تھا بچوں کو ریاضی پڑھانے ، ہفتے بھر میں انہیں ریاضی میں جو بھی مسئلہ پیش آیا ہوتا ، میں انہیں سمجھاتا ۔ کبھی کبھی آمنہ بھی آتی تھی آیا سے ملنے ۔ جس دن وہ آتی ، اس دن میں بات بے بات مسکراتا اور شاید باتیں بھی زیادہ کرتا ۔ بیگم شاہ جہاں نے میری چوری پکڑ لی تھی۔ ایک ہفتے بچوں کو پڑھا کر ان میں ٹافیاں بانٹ کر میں بیگم شاہ جہاں کے پاس آبیٹھا ۔ وہ باہر لان میں بیٹھی بانو قدسیہ کی ”راہ رواں ” پڑھ رہی تھیں ۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میری نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں ۔
    ”آمنہ نہیں آئی آج ۔ ”
    ان کی نظریں کتاب پر تھیں اور آبزرو مجھے کر رہی تھیں ۔چالاک۔۔۔
    میں شرما گیا تھا ۔ وہ بھی ہنس دی تھیں ۔
    ”کروں پھر آیا سے بات ؟”کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
    ”نن ۔۔نہیں ابھی نہیں ۔” میں نے فوراً انہیں منع کیا ۔
    ”کیوں ؟” انہوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر تیکھی نظر سے مجھے دیکھا ۔
    ”ابھی مجھے اپنی بہن کو تلاش کرنا ہے ، اس کی شادی کرنی ہے ۔ پھر ۔۔۔۔”
    ”تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو ۔ ” انہوں نے افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ مجھے ان کی افسردگی اچھی نہیں لگی۔
    ٭٭٭٭٭



    دن گزرتے رہے ،شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں ۔وہ ہنستی مسکراتی شاداب چہرہ لیے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز لیے اس کے پاس سے گزرتی رہی۔پھر ایک دن جانے کیا ہوا کہ اس گلاب جیسی لڑکی کی چمکتی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ، مُسکراتا مطمئن چہرہ یک دم ماتمی لگنے لگا۔اس کے رخساروں کے گلابی گلاب مرجھا گئے اور وہاں زرد گلاب اگ آئے ۔
    ”شادی رک گئی ہے ، بی بی کے سسرال والوں کو پتا چل گیا ہے ۔”ملازموں کے بیچ ہونے والی گفت گو کچھ اس کے کانوں میں بھی پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا ۔اس رات بھی اس کے سجدے طویل رہے۔
    یہ دو دن بعد کی بات ہے جب آئمہ پچھلی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی۔ اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا اور اس کا جسم یوں ہچکولے کھا رہا تھا جیسے وہ رورہی ہو۔
    وہ اپنی حیثیت جانتا تھا پھر بھی خود کو روک نہ پایا اور اس کے قریب چلا آیا۔
    ”سنو۔” اس نے آہٹ پا کر سر اٹھایا تھا ۔اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھہر نہ پایا اور جانے لگا تھا جب آئمہ نے پکارا تھا ۔وہ رک گیا ۔
    ”کیا نام ہے تمہارا۔”
    اس گھر میں مالکوں کے بیچ وہ مالی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔آج وہ اس سے اس کا نام پوچھ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے وہ خود بھی اپنا نام بھول گیا ،پھر یاد آنے پہ بولنا چاہا تو زبان تالو سے جڑی رہ گئی۔
    ”میں نے تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلائی تھی ناں ،آج مجھے اپنی حیثیت پتا چل گئی ہے ۔”آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر آئے اور ذرد گلابوں کو آب یار کر گئے۔
    وہ گلابی گلابوں کا کاشت کار تھا ۔ان زرد گلابوں کو دیکھ نہ پایا اور منہ موڑ لیا ۔
    ”مٹی کے اس ذرّے سے بھی زیادہ حقیر اور کم تر ہوں میں ۔” اس نے پاس پڑے گملے سے مٹی کی مٹھی بھری اور اپنے اوپر اُڑا دی۔
    ”اس ۔۔۔اس پودے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہوں میں ۔” اس نے گملے سے پودا اکھاڑ ڈالا تھا ۔”اس کی تو جڑیں اس کے ساتھ ہیں ۔اور میری جڑیں ۔۔۔میری جڑیں ۔۔جانے کدھر ہیں۔”
    اس کو اپنا کوئی ہوش نہ تھا۔اس کو ایک ساتھ دو دو چوٹیں لگیں تھیں ۔ شادی کا ختم ہونا تو شاید برداشت ہو جاتا مگر ۔۔۔مگر اپنا بے شناخت ہونا موت تھا ۔ وہ مر رہی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہیے تھی۔ محبت کے بنا رہا جا سکتا ہے مگر شناخت کے بنا۔۔۔ہر گز نہیں ۔
    وہ وہاں رک نہ پایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
    اگلے دن وہ گھر سے غائب رہا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭



    میں بیگم شاہ جہاں سے ناراض ہو گیا تھا ، بات ہی انہوں نے ایسی کی تھی۔
    مجھے کہیں سے پتا چلا تھا کہ جس شخص نے میری بہن کو گود لیاتھا ، اس نام کا ایک شخص کراچی میں رہتا ہے ۔ میں کراچی چل پڑاتھا ۔ دنیا میں ایک نام کے کئی انسان۔ وہ بھی کوئی اور ہی نکلا تھا ۔ میں نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہر ا تھا ، وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر نکلا ،ابھی راستے میں ہی تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخم چاخ ، آہ وبکامچ گئی ۔ میں ٹیکسی سے نکل کر لوگوں کی طرف بھاگا ۔ ہر طرف بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے آپ کو بھول کر زخمیوں کی طرف بھاگے تھے ۔ میں بھی ان کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ ایمبولینسز آنے کے بعد زخمیوں کو روانہ کر کے میں بھی اسپتال پہنچا ۔ وہاں خون کی بوتل دی ۔اس دوران میں اپنے موبائل اور بیگ کی طرف سے بالکل غافل تھا ۔بعد میں معلوم چلا کہ میرا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا تھا ہاتھ میں پکڑا موبائل جانے کہاں گر گیا تھا۔ اصل میں مجھے اس وقت کسی شے کا ہوش نہ تھا ، دھیان صرف آہ و بکا کرتے زخمیوں کی طرف تھا۔
    اگلے دن میں واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ایک دن بعد لاہور پہنچا تو بینک کا ایک کولیگ جو میرے ساتھ ہی فلیٹ میں رہتا تھا ، ا س نے بتایا کہ بیگم شاہ جہاں میری طرف سے بہت پریشان ہیں ۔وہ کل فلیٹ پر آئی تھیں اور اب کل سے مسلسل اسے فون کر کے میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔
    ”اوہ۔” مجھے شرمند گی ہوئی ۔ مجھے انہیں کال کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دے دینی چاہیے تھی۔ بم بلاسٹ کی خبر سُن کر وہ پریشان ہوئی ہوں گی۔ اس وقت مجھے یہ سوچ کر خوشی بھی ہوئی کہ اگر میں مر جاؤں تو کوئی تو ہے جو روئے گا اور میری تدفین لاوارث ہو کر نہیں ہو گی۔
    میں منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کر کے بیگم شاہ جہاں سے ملنے آگیا ۔
    ”کہاں ، کہاں تھے تم ؟” جیسے ہی میں کمرے میں پہنچا ،بیگم شاہجہاںاپنی جگہ سے اٹھ کر تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھیں ۔
    ”کراچی۔”
    ”کیوں ؟”
    ”بتایا تو تھا کہ تلاش میں ۔۔۔۔”
    ”کس کی تلاش ۔۔۔” بیگم شاہ جہاں میری بات کاٹ کر غصے سے بولیں ۔ ”کس کی تلاش میں اتنے پاگل اتنے دیوانے ہوئے پھرتے ہو تم؟” میں نظریں نیچی کیے کھڑا رہا ۔”کس کی تلاش میں اپنا آپ بھولے بیٹھے ہو تم ۔اس کی ۔۔۔اس کی جو تمہیں پہچانے گی بھی نہیں ۔”
    میں نے تڑپ کربیگم شاہ جہاں کی طرف دیکھا ۔
    ”وہ پہچانے گی مجھے ، بھائی ہوں میں اس کا ۔۔ آپ کو یاد نہیں ، وہ میرے بغیر کچھ کھاتی نہ تھی ، میرے بغیر کھیلتی نہ تھی ، میرے بغیر ۔۔۔۔”
    ”تمہیں کیا لگتا ہے ۔ انیس سال بعد بھی وہ تمہارے بغیر کچھ کھاتی نہ ہوگی ، تمہارے بغیر کھیلتی نہ ہو گی ، تمہارے بغیر جیتی نہ ہوگی۔” پتا نہیں وہ اتنا سفاک کیوں ہو رہی تھیں۔
    ”نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔”
    ”یہ دیوانگی چھوڑ دو عبداللہ ۔ نہیں ہو تم بھائی اس کے ۔ کان کھول کر سن لو نہیں ہو تم بھائی اس کے۔”
    ”آپ نے یہ رشتہ بنایا آپ ہی مکر رہی ہیں ۔” مجھے ان کے انداز پہ دکھ ہو رہا تھا ۔
    ”ہاں ، میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے یہ رشتہ بنایا ،وہ میری سب سے بڑی بیوقوفی تھی۔”
    ”مگر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔ دولت ہے ۔”
    ”تم سمجھتے کیوں نہیں عبداللہ۔۔۔ اس کی اپنی دنیا ہے ۔”
    ”مگر میری تو دنیا وہی ہے ۔”


  • عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے کو متوجہ کرنے کی ،کچھ کہنے کی ،کچھ بتانے یا پھر کسی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ہر وقت نظریں جھکائے اپنے کام میں مصروف نظر آتا۔اس کے علاوہ وہ بولتا ہے ارم جہانگیر او رخانساماں بھی اس کے گواہ تھے ۔ارم جہانگیر کو اس نے نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خانساماں اس کے ساتھ کمرہ شئر کرتا تھا ۔
    لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے ہاتھ سے لگی کوئی بھی چیز سرسبز ہو جاتی تھی اگر وہ ریت میں ،پتھر میں کوئی بیج کوئی سوکھی ٹہنی بھی لگا دے تو چند دن میں نئی کونپلیں پھوٹ اٹھتی تھیں ۔دو کنال کی اس کوٹھی کو اس نے گل و گلزار کر دیا تھا ۔دنیا بھر کے مہنگے ترین پودے جو پچھلے مالی کی غفلت کی نظر ہو کر بے دم پڑے تھے ، اس کی توجہ سے دنوں میں جھوم اٹھے۔یوں تو وہ ہر پودے، ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتے سے ما ں جیسا سلوک کرتا تھا مگر گلاب اس کی آنکھ کا تارا تھا۔یہ وہ لاڈلا بچہ تھا جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے زیادہ لاڈ پا لیتا ہے ۔
    جہانگیر عثمان کی کوٹھی کے چہار اطراف پھیلے لان میں امریکن پرائیڈ ، ریڈ پیس اور سینڈریلا جیسے عام گارڈن روزز سے لے کر دنیا کا مہنگا ترین گلاب جولیٹ روز بھی تھا اور جب سے وہ آیا تھا اس نے گلابی گلابوں کا پورا قطعہ کاشت کر ڈالا تھا ۔ اس دن وہ گلاب کے پودے کی ٹہنی ہی زمین میں لگا رہا تھا جب اسے وہ دکھائی دی تھی۔
    وہ وہی تھی۔۔۔ہاں وہی تھی ۔
    جسے ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ دشت دشت کا سیاح ہوا ۔جس کی آواز سننے کے لیے وہ شہر شہرکا مسافر ہوا۔
    وہ اپنی جگہ بت بنا اسے دیکھتا چلا گیا ۔
    سرمئی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ ٹراؤزر کے ساتھ واک شوز میں وہ شاید صبح کی سیر کا ارادہ رکھتی تھی۔اونچی پونی ٹیل سے بال نکل نکل کر چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چیونگم چبا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی پونی ٹیل ہلکورے لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور کانوں میں ائیر فونز۔ دوسرے ہاتھ میںسفید بالوں والے ننھے سے کتے کی چین تھی جو اس سے آگے آگے بھاگ رہا تھا ۔مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہا تھا ۔وہ تو ۔۔۔وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا ۔
    وہ بے نیازی کے ساتھ چلی آرہی تھی، جب ہی اس کی نظربت بنے شخص پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    صبح کی ڈیوٹی والا چوکیدار اسے دیکھ کر بھاگتا چلا آیا تھا۔
    ”سلام۔” اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بی بی کو سلام کیا ،اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔” آپ آگئیں بی بی۔پڑھائی پوری ہو گئی آپ کی ؟” وہ جوش سے پوچھ رہا تھا ۔اس نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب بھی اسے تک رہا تھا ۔
    ”مالی ہے ۔” چوکیدار نے بی بی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر تعارف کروایا ۔
    ”ماما بھی جانے کیسے کیسے لوگ رکھ لیتی ہیں ۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
    نگاہ سے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ جسے ہو ش میں آیا تھااور اسے سمجھ آئی کہ یہ وہ نہیں جس کو ایک نگاہ نظر دیکھنے، منہ سے ایک لفظ سننے کے لیے اس نے ایک عمر کاٹ دی۔
    یہ وہ نہیںتھی ۔یہ تو آئمہ جہانگیر تھی جہانگیر عثمان کی اکلو تی بیٹی۔
    ٭٭٭٭٭



    سنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ماں ہوتی ہے ، ایک باپ ہوتا ہے ، بہن بھائی ہوتے ہیں ۔اکثر گھروں میں دادا ،دادی اور نانا نانی جیسے بزرگ بھی ہوتے ہیں اور کئی گھروں میں چاچا، تایا اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔پھوپھو ،خالہ اور ماموں کا ذکر بھی سنا تھا ۔ مگر میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہاں کوئی ماں نہ تھی، جو گود میں لے کر لوریاں سناتی اور پیار سے تھپکتے ہوئے سلاتی۔ویسے تو میں خاصا معصوم بچہ تھا ۔خواہ مخواہ روتا نہیں، ضد نہیں کرتا تھا پھر بھی اگر کبھی نزلہ زکام یا بخار ہوتا یا پھر بھی چوٹ لگ جاتی اور تو میں روتا ،ایک کرخت چہرے والی عورت تھپڑ لگاتی اور میں لوری سنے بنا ہی سو جاتا ۔اس گھر میں کوئی باپ نہ تھا، جو کندھے پہ بٹھا تا ، ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرتا ۔جس کی میں انگلی پکڑ کر چلتا۔ یہاں جو مرد تھا وہ لال آنکھوں سے یوں گھورتا کہ میں دس گز دور ہی کھڑا رہ جاتا ۔اس کی انگلی پکڑنا ،اس کے کندھے پہ بیٹھنا یا اس سے کوئی فرمائش کرناکسی جرات مند کا کام ہو سکتا تھا اور میں بھلا ایسا شجاع کہاں ۔
    نانا نانی، دادا دادی جیسے کردار بھی شاید کسی اور سیارے پہ ہوتے ہوں یا شاعروں اورکہانی نگاروں کا تخیل ہوں کیوںکہ میں نے نظموںاور کہانیوں میں تو ان کے بارے میں پڑھا تھا مگر اس گھر میں روئی کے گالوں جیسے بالوں والی ،کہانیاں سناتی کوئی نانی نہ تھی، کھانستا ہوا، لاٹھی ٹیک ٹیک کر چلتا ہوا کوئی دادا نہ تھا ۔مجھے ان تمام نادیدہ رشتوں سے عشق تھا ۔میں سوچتا تھا ،میں بھی کہانیاں لکھوں گا ۔ان کہانیوں میں ایک گھر ہو گا جہاں یہ سب مریخی،مشتری رشتے بستے ہوں گے ۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک معجزہ ہوا ۔مجھے چاند، مریخ اور عطارد کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میں سات سال کا تھا جب وہ میری زندگی میں آئی اور مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کہانی کار اور شاعر کے تصورات کوئی ایسے ماورائی بھی نہیں ہوتے ۔ گھر اور گھر میں بسنے والے تمام رشتے زمینی ہی ہیں ۔
    ٭٭٭٭
    آج پھر ریحانہ پروین اپنے آپ کو بیچ کر آئی تھی۔
    ماں کی بیماری تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔دوائیں تھیں کہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی تھیں۔ جس گھر میں جھاڑو پوچا کرنے اور کپڑے دھونے جاتی تھی وہ تو مہینے کے مہینے اتنی رقم ہاتھ میں پکڑاتے، جس سے ماں کی ہفتہ بھر کی دوا ہی بہ مشکل آ پاتی۔ پیٹ بھرنے کے لیے مٹی ، بل بھرنے کے لیے اخبار کے کاغذ سے کام نہ چلتا تھا ۔اسے سب بیچنا پڑا تھا ۔پہلے اپنی انگوٹھی ،پھر چوڑی اور اس کے بعد گھر کا باقی سامان۔
    اب جب گھر میں بیچنے کو کچھ اور باقی نہ بچا تھا ایسے میں اسے ایک ہی راہ سجھائی دی کہ اپنا مول لگا لے ۔گہنے ،برتن ،پلنگ اور الماری تو بکنے کے بعد واپس نہ ملے تھے ۔خود توچند گھنٹے بعد ہاتھ میں چھوٹے گوشت ،موسمی پھل اور ماں کی دوا کی تھیلی لیے گھر لوٹ آتی تھی ناں ۔مگر جانے اس دن کیا ہوتا تھا کہ ماں پہ یخنی اثر کرتی نہ ہی دوا۔ بے بسی کی مورت بنی اس کی صورت دیکھتی رہتی۔آنکھوں سے پانی رستا رہتا ۔
    ”آنکھوں والا ڈاکٹر اتوار کو بیٹھے گا تو تیری آنکھیں بھی چیک کرواؤں گی۔”
    کہتے ہوئے آواز بھاری سی ہو جاتی اور نگاہیں فرش پہ ،دیوار پہ اور کبھی چھت پہ رینگنے لگتیں ۔
    جس رات ماں مری ،اس دن تواس کی طبیعت قدرے بہتر تھی ۔ہاں ریحانہ پروین کی اپنی طبیعت خراب تھی۔ماں کے پیر دابتے دابتے اچانک اُلٹی آ گئی تھی پھر نقاہت محسوس ہونے لگی اور رنگ پیلا پڑنے لگا ۔
    اماں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔آنکھوں سے پانی زیادہ بہنے لگا تھا ۔اس دفعہ ماں سے پکا وعدہ کیا کہ اتوار کو آنکھوں کا ڈاکٹر بیٹھے گا تو صبح جا کرہی ٹوکن لے گی مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ماں اسی رات مرگئی۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭



    آنگن میں بیٹھے بچے ایک دوسرے کو ٹہوکا دیتے ،سامنے اشارہ کرتے پھر منہ پہ ہاتھ یا کاپی رکھ کر ہنستے ۔کالی شرٹ والے لڑکے کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا تھا، وہ کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔یہ انٹرٹینمنٹ شو شاید جاری رہتا اگر سرخ رنگ کے پھول دار لباس والی لڑکی کی لڑائی نیلے رنگ کی فراک والی لڑکی کے ساتھ نہ ہوجاتی۔
    آمنہ فرمان ہنگامے پہ ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔صورتِ حال کو سمجھنے میں اسے چند سیکنڈ لگے پھر کرسی سے اُٹھ کر دونوں بچیوں کو چھڑوایا، جو غالبً ایک دوسرے کے بال نوچنے کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔اس نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ترتیب کے ساتھ چٹائی پہ بٹھایا ۔ دونوں جنگ جو بچیوں کو الگ الگ قطار میں بیٹھنے کا حکم دیتی ہوئی تپائی پہ پڑی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
    ”باجی ! میری امی کہتی ہیں کہ تم ندا کے ساتھ نہ بیٹھا کرو ۔” ابھی ایک کاپی بھی چیک نہ ہوئی تھی ،جب عرضی لیے نینا سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”جاؤ ۔۔۔تم وہاں جا کر اریبہ کے پاس بیٹھ جاؤ ۔” اس نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کر کے اس کا مسئلہ حل کیا۔
    ”باجی ! یہ دیکھیں مجھے نبیل نے کیا دیا ہے ۔”
    کالی شرٹ والے بچے کو ٹیسٹ بنا کر دینے لگی توسونیا اُٹھ کر آگئی۔ اس نے رازداری کے ساتھ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔جسے کھولتے ہی اس کا سر گھوم گیا ۔
    ”آئی لو یو سونیا ۔”
    ”نبیل تم کل اپنی امی کو لے کر آنا ۔”
    اس نے کڑے لہجے میں نبیل کو حکم جاری کیا ۔نبیل کا تو رنگ پیلا ہونا تھا ،سو ہوا ۔اس کا اپنا حال بھی خراب ہوا ۔
    ”سونیا کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ تو اٹھا لے گی اسے ٹیوشن سے ۔پانچ سو روپے کا نقصان ۔” حالات بچوں کی حرکتوں پہ کڑھنے کا وقت نہ دیتے تھے۔ اسے اپنی روزی کی فکر ستانے لگی تھی ۔”اور جو بچوں میں سے کسی نے گھر جا کر بتا دیا کہ مس پڑھاتے پڑھاتے سو جاتی ہیں تو ۔۔۔تو اگر کسی نے اپنا بچہ اٹھا لیا ٹیوشن سے تو۔۔۔نہیں ۔” اس کا سر نفی میں ہلا۔ اتنے بڑے بڑے نقصان وہ افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ وہ اٹھی اور غسل خانے کے باہر لگے بیسن پر آ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
    آٹھ بجے بچے گئے تو وہ اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔دال چاول پکانے کے دوران اس نے اسکول سے لائے ہوئے کاپیوں کے ڈھیر کو بھی چیک کرنا تھا ۔آٹے والے کنستر پر رکھے ڈائجسٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے یہ کام بھی نپٹایا ۔دادی کو کھانا اور دوا دی ۔ ان کے سونے کے بعد نماز ادا کی ،صبح کے لیے کپڑے استری کیے اور اپنی کتابیں کھول لیں ۔دو دن بعد بی اے کے امتحانات شروع ہونے والے تھے ۔وہ سونا چاہتی تھی ،بھر پور نیند لینا چاہتی تھی۔صحت اور تازگی کے لیے ضروری تھا مگر وقت اجازت نہ دیتا تھا ۔
    وقت بھر پور نیند کے لیے نکلے یا نہ نکلے ،چچی کے لیے ضرور نکالنا تھا ۔وہ رافعہ کو لیے آ گئی تھیں ۔
    ”اس کو ریاضی مشکل لگتا ہے ۔ایک مشق کروا دو ۔”
    اس نے بارہا چچی سے کہا تھا کہ ٹیوشن والے ٹائم پہ رافعہ کو بھیج دیا کریں ۔ ثنا اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھا دیا کرے تا کہ اس کے وقت کی بچت ہو جائے۔مگر چچی کو اس کے وقت سے کیا لینا دینا ۔
    ”اتنے بچوں میں دل گھبراتا ہے رافعہ کا ۔”
    ”ٹیوشن والے نو بچوں میں دل گھبراتا ہے ،کلا س کے تیس بچوں میں تو ہارٹ فیل ہو سکتا ہے پھر اسکول بھی نہیں بھیجنا چاہیے ۔” وہ محض کڑھ کر رہ جاتی تھی، ان کے منہ پہ کہہ نہ سکتی تھی۔ ان کو کچھ کہنے کا مقصد گھر میں کئی دن کا ہنگامہ ۔ویسے چچا اور تایا کو ایک کمرے کے اس گھر میں پڑی بوڑھی ماں اور یتیموں جیسی بھتیجی کا حال احوال پوچھنے کا وقت ملے نہ ملے ،اس موقع پر ضرور مل جاتا تھا ۔ تایا سمجھانے چلے آتے ،چچا طعنہ زنی کرنے چلے آتے ۔
    امتحانات کے دنوں میں یہ بیرونی آمدورفت اور بدمزگی اس کے حق میں نہ تھی اس لیے رافعہ کو ریاضی کی مشق سمجھانے لگی۔اس کے جانے کے بعد اس نے پھر اپنی کتاب کھول لی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ڈائجسٹ سے قسط وار ناول کی قسط بھی پڑھ لے گی ۔مگر ڈائجسٹ اس کے سرہانے پڑا کا پڑا رہ گیا اور اس کی آنکھیں نیند سے بند ہوتی گئیں ۔
    نیند میں جانے سے پہلے جو آخری خیال تھا ،وہ اس شخص کا تھا جس کا نام عبداللہ تھا ۔
    آج اسے گئے ہوئے تین سو دس دن ہو گئے ۔
    ٭٭٭٭٭

  • چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی
    امایہ خان
    خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
    جانے کتنا وقت گزر چکا ہے ،کتنا اور گزرے گا۔ مجھے بار بار اپنی ماں کا خیال آرہا ہے ،جو ہمیشہ مجھے کمزوراور دبلی پتلی دیکھ کر فکرمند ہوتی تھی۔ آج مجھے دیکھے …اے کاش! وہ آج تو مجھے دیکھ لے…میرا جسم،میرے رخسار کیسے پھولے ہوئے ہیں۔
    آخری بار میری ماں نے مجھے تب دیکھا تھا، جب ابّا اپنے ایک دوست کی شادی میں ہم سب کو لے کر آئے۔میں نے گلابی رنگ کا ریشمی جوڑا پہنا اور امّی سے بہت ضد کرکے ان کے موتیوں والے چھوٹے چھوٹے جھمکے بھی مانگ لئے۔ایک تو جانے کہاں گر گیا…دوسرا ابھی تک موجود ہے پر اس کے بھی کچھ موتی علیحدہ ہو چکے ہیں۔امّی نے دینے سے پہلے کہا بھی تھا:”تم گم کر دوگی’ ‘اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔مجھے کیا پتا تھا میں خود گم ہو جائوں گی ۔
    سارا وقت میںامی، ابا اور میری چھوٹی بہن ہم سب ساتھ ساتھ رہے۔مجھے شادیوں میں لوگوں کی بھیڑ سے بہت خوف آتا تھا۔میں شروع سے بہت ڈرپوک تھی ۔ کبھی اپنی امی سے دور نہیں جاتی تھی۔کسی کی ذرا سی اونچی آوازپر سہم جاتی۔غصّے میں سب کے چہرے بہت خوف ناک ہو جاتے ہیں …بہت بدصورت۔ایسے وقت ہمیشہ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے انہیں سختی سے بند کر لیتی تھی۔



    مگروہ چہرہ میں کبھی نہیں بھول سکتی…اُف…وہ آدمی ابا جیسا تھا…اونچا لمبا…ڈاڑھی والا…پچھلی میزوں پر بیروںسے کھانا لگواتے ہو ئے اس کی نظر مجھ پر پڑی اور پھروہ عجیب انداز میں مسکرایا۔میں جلدی سے امی کی اوٹ میں ہو گئی ۔کچھ دیر بعد میں نے گردن نکال کر اس کی جانب دیکھا ،وہ تب بھی میری ہی جانب دیکھ رہا تھا…نظر ملتے ہی اس نے مجھے پچکار کر قریب آنے کا اشارہ دیا …مگر میں امی کے پاس ہی بیٹھی رہی اور میں نے اُسے نظرانداز کر دیا۔
    کھانا لگاتو امی میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھیں اور میز تک آگئیں۔سب کچھ میری پسند کا تھا ۔امی نے میری پلیٹ بھر کر مجھے پکڑائی اور میں پھر سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔کھانا بہت مزے دار تھا ، ہم سب کو بہت مزا آیا۔میٹھے میں کھیر اور گلاب جامن تھی ۔امّی سب کے لئے کھیر ڈال کر لائیں مگر مجھے گلاب جامن کھانی تھی ۔میں نے امّی سے کہا تو بولیں :”بعد میں ،پہلے کھیر ختم کرو”۔
    میںچپ چاپ کھیر ختم کرنے لگی ۔اتنے میں ابا نے گھڑی دیکھ کر امی کو چلنے کا اشارہ کیا کہ گیارہ بج چکے ہیںبس گھر چلتے ہیں ۔
    امّی ”جی اچھا ”کہہ کر برقع پہننے لگیں اور میں نے للچا کر اس میز کی جانب دیکھا جہاں بڑی پرات میں گلاب جامنیں رکھی تھیں۔امی چلنے کو تیا ر تھیں،ابا تو گیٹ کے پاس پہنچ بھی گئے تھے ۔امی نے میری چھوٹی بہن کا ہاتھ پکڑا اور مجھے آواز دی :”پاکیزہ …چلو گھر چلیں”۔
    میں کرسی سے اُتر کر ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے امی ایک رشتے دار خاتون کو الوداع کہنے کے لئے رکیںاور میں تیزی سے بھاگ کر گلاب جامن لینے میز کی طرف چلی گئی۔بس دو لمحے ہی تو درکار تھے مجھے اور میں مٹھائی لے کر واپس آ جاتی ۔
    جیسے ہی میں نے پرات سے گلاب جامن اُٹھائی،اُسی آدمی نے جھٹ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔



    وہ پیار سے بولا:”اور مٹھائی کھائو گی گڑیا؟…آئو میرے ساتھ…. میں تمہیں ٹشو پیپر بھی دے دوں تاکہ تمہارے ہاتھ اور کپڑے خراب نہ ہوں ”۔
    میں نے مڑ کرامی کی طرف دیکھا وہ ابھی تک ان خاتون سے باتوں میں مصروف تھیں اور یقینامیری غیر موجودگی سے بے خبر بھی ۔میں خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چل دی ،گلاب جامن سے شیرا ٹپک رہا تھا اور میں اپنے کپڑے خراب ہونے سے بچانا چاہتی تھی ۔پانی کا کولر ہال کی دیوار کے ساتھ رکھا تھا ٹشو پیپر بھی وہیں تھے ،پر وہ آدمی رُکا نہیں ،مجھے لے کر وہ پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
    میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے سختی سے ڈانٹتے ہوئے گود میں اُٹھا لیا۔میں کسمسائی تو اس نے گالی دی ،اس کا چہرہ اس قدر خوف ناک ہو گیا تھاکہ میں نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اور گلاب جامن میرے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری ،”میری مٹھائی….”میں نے زمین کی طرف اشارہ کیا اور رونے لگی۔اس وقت اس نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بھاگنے لگا۔
    مجھے گود میں اٹھائے وہ ہال کے پچھلے حصے میں جا نکلا ،یہاں اندھیرابھی بہت تھا۔مجھے ٹھیک سے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ایک کوٹھڑی کے سامنے رُک کر وہ اس کا دروازہ کھولنے لگا ۔اس کے تھپڑ سے میرے گال جل رہے تھے پر مجھے امی ابا کے پاس جانا تھا :”مجھے چھوڑ دو …. چھوڑو….” میں نے چیخنا چاہا۔ لیکن اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر سختی سے بند کیا اور دھکا دیتے ہوئے کوٹھڑی کے اندر داخل ہو گیا۔یہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیوں کے درمیان اس نے مجھے زور سے فرش پر پھینکا اور مڑ کر دروازے کی کنڈی چڑھا دی ۔ میں نے پھر سے رونا شروع کر دیا ”امی …مجھے امّی کے پاس جانا ہے ”میرے پاس آکر میرے منہ کو سختی سے بند کرتے ہوئے اس نے مجھے چت لٹا دیا۔
    ”چپ کر کمینی …بند کر آواز ..ورنہ گلا گھونٹ دوں گا ۔”

    مجھے سانس نہیں آرہا تھا ٹھیک سے ۔۔۔میںچیخنا چاہتی تھی ،”امی ۔۔۔ابا”۔مجھے پکارنا تھا…انہیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ میں اس کے پاس ہوں …..یہ آدمی ….جو میرا منہ بند کر کے میرے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا …مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ جا ئیں گی …سخت فرش پر میرا جسم رگڑ کھائے جا رہا تھا ۔ میں نے پہلے کبھی اتنا درد محسوس نہیں کیا تھا۔
    چڑیا گھر میں ایک بندر نے پاپ کارن کھلانے کی کوشش میں میرے ہاتھ پر کاٹا تب بھی نہیں ۔
    اسکول میںکھیلتے ہوئے جھولے سے نیچے گری تب بھی نہیں ……
    مجھے کبھی ایسا درد نہیں ہوا ….میری آواز حلق میں پھنس گئی اور وہ آدمی مسلسل مجھے کھا رہا تھا ….دانتوں سے….. بھنبھوڑ رہا تھا ۔
    مجھے یاد نہیں کب میری آنکھیں بند ہوئیں…. پر جب کھلیں تو دیکھا میری شلوار میرے منہ پر کس کے بندھی تھی …میرے ہاتھ بھی بندھے تھے میرے جالی کے دوپٹے سے ….
    میری آنکھ کیوں کھلی …؟



    کیوں کہ مجھے درد ہورہا تھا،اتنا زیادہ میں کیسے بتائوں ..میری امی بھی نہیں تھیں میرے پاس ۔
    وہ آدمی جانے کہاں چلا گیا …میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔پھر میرے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی ایک شدید لہر اُٹھی اور میری آنکھیں بند ہو گئیں۔
    نہیں معلوم میں کتنی دیر بے ہوش پڑی رہی ۔
    دن نکل آیا تھا پھر بھی اس کوٹھڑی میں روشنی بہت کم تھی ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو وہ آدمی قریب ہی بیٹھا بے پروا اندازسگریٹ پیتا نظر آیا، میں نظر بچا کرآہستہ آہستہ پیچھے کھسکنے لگی تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ….جیسے ڈر گیا ہومیںبھاگ نہ جاؤں ۔
    میں بھی ڈر گئی تھی ،وہ جلدی سے اُٹھا اور میری گردن دبوچ لی اور بولا:”تو سب کو بتا دے گی میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے”۔
    یہ کہتے ہوئے وہ میرا گلا گھونٹنے لگا ۔منہ پہلے ہی سختی سے بندھا تھا ۔میری آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں….اور یونہی ….آخری سانس تک..اُس مکروہ انسان کا چہرہ …میری آنکھوں کے سامنے رہا ….نہ امی ، نہ ابا اور نہ ہی چھوٹی بہن جو مجھ سے تین سال چھوٹی تھی ، کوئی نہ تھا اس وقت …ہاں….میں چھے سال کی ہوں…بلکہ تھی۔

  • داستانِ حیات

    داستانِ حیات

    داستانِ حیات
    علی فاروق
    (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
    اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
    والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
    10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
    چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”


    ”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
    سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
    پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
    ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
    اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
    ”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
    (بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)


    ”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
    ”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
    پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
    ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر