Tag: faiza iftikhar

  • سوئٹو کا محافظ — عمارہ خان

    سوئٹو کا محافظ — عمارہ خان

    میری شخصیت بچپن سے ہی کمزور رہی ہے،اعتماد سے عاری فرد ہوں میں ۔جلدی گھبراجانا،لوگوں کا سامنا کرنے میں عجیب جھجک اور شور وغل سے گھبراہٹ کا شکار ہوجانا میرے لئے معمولی بات ہے۔گھر میں جب کبھی باجی کی سہیلیاں آجاتیں تب بھی میرا وقت زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی گزرتا تھا جب کہ وہ مجھ سے ملنا اور میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھیں۔
    اب آپ سوچیں گے کیوں؟ایسا کیوں تھا؟۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے بڑھاپے کی اولاد ہوں،مجھے سے پندرہ اور تیرہ سال بڑے سہیل بھائی اور رانی باجی ہیں،وہ ویسے بھی مجھے چھوٹا سا کھلونا سمجھتے ہیں جس سے وہ ہروقت کھیلیں اور خوش ہوں۔آخری اولاد ہونے کے ناطے تھوڑے زیادہ ہی لاڈ پیار سے پرورش کی گئی ہے میری اور سب نے ہی مجھے بگاڑنے میں اپنا پورا حصہ ڈالاہے۔کچھ پیدائشی رنگ روپ میں قدرت نے بھی فیاضی سے کام لیا تھا۔ باقی کسر میرے گھر والوں کے لاڈ پیار نے پوری کر دی ۔
    قد کاٹھ اچھا تھا اور رنگ بھی ماشاء اللہ اور سونے پہ سہاگا ایسے گھنے اور کالے سیاہ بال کہ بس۔۔جو بھی دیکھتا تو امی سے پوچھتا ۔ ”اے بہن!سوئٹو کے بالوں میں کیا لگاتی ہو۔ایسا گھنا پن تو کم کم دیکھنے میں آتا ہے اب۔”
    اور امی اُن نظر باز لوگوں کے جاتے ہی میری نظر اتارتیں تب کہیں جاکے انہیں اور پھر مجھے سکون ملتا تھا۔
    ویسے جب بھی امی اور باجی یہ کہتی تھیں :”سوئٹو پہ نخرہ بہت ہی جچتا ہے ”
    تو میری گردن میں خود بہ خود ہی ایک اکڑ سی آجاتی اور مجھے لاڈ و بچہ بننا اچھا لگتا ۔میری شخصیت کا کباڑاکرنے میں انہی دو خواتین کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے،ہمیشہ ہتھیلی کا چھالابنا کر رکھا۔میں نے ”پراعتماد” شخصیت تو بننا ہی تھا۔
    بچپن سے ہی میرے بھائی اور باجی میرے محافظ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔در اصل ہمارے چھوٹے سے علاقے میںلڑکے لڑکیاں مڈل تک ساتھ ہی پڑھتے تھے ،سو باجی اور بھائی نے مجھے ہمیشہ ہی اپنی نگرانی میں رکھا ،پھر کالج میں بھی کُچھ ایسے ساتھی مل گئے کہ مجھے کبھی اکیلے آنے جانے کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا ۔
    وہ تو جب باجی کی شادی ہوئی ،تواحساس ہوا کہ وہ گھر میں میری کتنی بڑی دُوسراہٹ تھیں۔کیوں کہ مجھ میں تو اعتماد نام کی کوئی چیز نہ تھی لہٰذاباجی نے ہمیشہ ابا جی تک میری آواز پہنچائی اور کامیاب لوٹیں۔۔آپ کو تو معلوم ہی ہے بھائی کہاں اتنی پروا کرتے ہیں۔انہیں تواحساس بھی نہیں ہوتا کہ گھر میں چھوٹا بہن یا بھائی اکیلا ہے۔۔اُسے کُچھ وقت دے دیا کریں۔۔کُچھ خیال کر لیا کریں۔۔

    جب مجھے اکیلے رہنا پڑا تو معلوم ہوا کہ باجی سے کتنی رونق تھی گھرکی۔۔اُن کی سہیلیاں آتیں تو ہلچل مچی رہتی تھی ۔ہ بھی مجھے اور بھائی کو اپنے ساتھ ہی لگائے رکھتیں۔ان کے جانے کے بعد تو گھر بے رونق ہی ہوگیا تھا۔۔میرا دل ہی نہیں لگتا تھا گھر میں۔۔کالج سے آکے جب مجھے میرے کمرے کی ویرانی سے سامناکرنا پڑتا تو دل گھبراجاتا ۔اسی وجہ سے میرا پڑھائی میں دل لگنے لگا تھا۔ظاہر ہے جب کچھ کرنے کو نہیں تو اب انسان یا تو پڑھے گا یا باہر نکل جائے گا۔
    باہر نکلنا اور وہ بھی اکیلے۔۔اُف ف ف ف ف ۔۔۔توبہ توبہ۔۔سوچ کر ہی جھرجھری آجاتی ہے۔پتا نہیں کالج کے دو سال بغیر بھائی کے آنا جانا کیسے ہوتا رہا۔ورنہ میرا تو موڈ پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے کا تھا ،تاکہ سکون سے کچھ لکھنا شروع کردوں۔۔کیوں کہ مجھے لگتا تھا کہ ایک عظیم لکھاری میرے اندرموجود ہے جو تڑپ رہا ہے باہر نکلنے کو۔۔ویسے بھی لکھنا لکھانا تو فارغ۔۔۔میرا مطلب ہے حساس لوگوں کا کام ہے نا۔۔اب مجھ سے زیادہ حساس بھلا کہاں ملے گا کسی کو۔۔اور پھر پڑھ لکھ کر مجھے کرنا ہی کیا تھا۔۔
    مجھے پڑھ لکھ کر کون سی ملازمت کرنے کی اجازت مل جاتی ۔بتایا تھا نا آپ کو کہ میں ذرا لاڈلی اولاد ہوں۔۔گھر بھرمجھے زمانے کی ہوا نہیں لگنے دینا چاہتا تو مجھے بھی کون سی مصیبت پڑی تھی، جو زمانے سے بھگتوں۔۔جب گھر بیٹھے آسائشیں میسر ہوں تو بے وقوف تھوڑا ہی ہوںجوایسی خواہش رکھوں اور اپنا رنگ و روپ خراب کروں۔
    ابا جی کی اتنی اچھی اور چلتی ہوئی دودھ دہی کی دُکان جومیرے نام ہے۔۔ایک دُکان بھائی کے نام بھی ہے لیکن وہ کرائے پر دے رکھی ہے اور باجی کو تو جہیز ہی اتنا دے دیا تھا کہ اب ہمارے معاشرے کی روایات کے عین مطابق جائیداد میں اُن کاحصہ نہ رکھا گیا۔ویسے بھی وہ ابا کے بڑے بھائی کے گھر ہی تو بیاہی تھیں کون سا کسی غیر کے گھر۔
    تو اب آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا میرے اکیلے پن اور نازک صورت حال کا۔۔کیوں کہ گھر میں کوئی ہے ہی نہیں ،جس کے ساتھ وقت گزاروں تو مجھے۔۔یعنی سوئٹو کو کُچھ شیئر کرنے کے لئے کاغذ قلم کا سہارالینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔۔۔
    آج آپ لوگ میرے ایک راز سے واقف ہونے والے ہیں۔
    مجھے۔۔مجھے پیار ہوگیا ہے۔۔ہاں جی وہی پیار ،عشق،محبت اور عاشقی۔۔جو مرضی نام دے دیں۔۔ویسے آپ لوگ بھی حیران ہوں گے کہ کمزور اور دبو شخصیت رکھتے ہوئے پیار۔۔؟۔۔بس جی یہ تو ہو جانے والی چیز ہے۔۔کسی کا بس کہاں چلتا ہے اس پر۔۔تو میری زندگی میں بھی بہار آگئی۔۔اور مانو اجالا ہی ہوگیا۔
    پہلے تو مجھ پرایک جمود سا طاری رہتا تھا اور اب دن رات کیسے گزرتے ہیں نہیں معلوم۔۔ہر وقت محبوب کا خیال مجھے بے چین کئے رکھتا ہے۔۔دل چاہتا ہے کہ چوبیس گھنٹے اپنی چھت سے برابر والوں کی چھت پر ٹکٹکی باندھے رکھوں۔
    آپ بھی سوچتے ہوں کہ یہ اچانک کیا معاملہ پیش آگیا۔حقیقت یہ ہے کہ میرے محبوب کا گھر برابر والا ہی تو ہے۔۔خیر سے ”وہ”ہمارے نئے پڑوسی ہیں۔۔جب دوسال پہلے وہ لوگ ادھر آئے تھے تو مجھے کیا معلوم تھا کہ میری ویران زندگی میں چپکے سے بہار آنے والی ہے۔
    میرے ”اُن” کے بات کرنے کا اسٹائل۔۔آہ، اُف!۔۔اور کیا ہمت و بہادری پائی ہے۔۔اس پر اعتماد کی دولت سے مالا مال شخصیت۔۔اُف !کیا غصہ ہے میرے ”اُن” کا۔۔اور بات کرنے کا ایسا بارعب انداز کہ کوئی آگے سے بول نہ پائے ۔۔مجھے تو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ لوگ اتنے باہمت بھی ہوتے ہیں۔۔۔اپنے محبوب کو دیکھا تو احساس ہوا۔
    میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں۔۔کم ہے۔۔۔سب جانتے ہیں کہ آج کل اچھے رشتے ملتے کہاں ہیں۔۔اب اگر مجھے پڑوس میں ہی اپنا شان دار ”مستقبل” مل گیا تو خوش قسمتی ہے نا میری۔۔میرا محبوب اتنا بہادر ہے کہ اکیلا رکشے میں آتا جاتا ہے۔۔اور پورے گھر کا کام بھی کرتا ہے۔۔مجال ہے کہ اُسے کسی کاڈر ہو ۔
    دراصل وہ اکلوتی اولاد ہے نا اسی لئے اُس کے والدین نے اُس کی پرورش اور تربیت بہادر مردوں کی طرح کی ہے۔۔ورنہ مجھے کیا معلوم تھا کہ لوگ اس عمر میں اتنے بہادر بھی ہوتے ہیں کہ دوسرے بات کرتے ہوئے بالکل بھی ڈریں ۔
    اُس کی شجاعت اور بہادری کے بہت سے چشم دید گواہ ہیں اور بس اُسی وقت میرا نازک سا دل اُس کا طلب گار ہوامگرمحبوب تو سنگ دل ہی ہوتا ہے نا ، سو اُس نے نظر اُٹھا کر بھی مجھے نہ دیکھا ۔۔کہ کوئی کتنی میٹھی میٹھی نظروں سے اُس کا حصار کئے ہوئے ہے۔
    واقعہ کچھ یوں ہوا کہ میری وین جو ابا جی نے میری سہولت کے لئے لگوارکھی ہے وہ گھر سے کچھ دور خراب ہوگئی اور میرا پریشانی کے مارے بُرا حال تھا کیوں کہ گلی کے نکڑ پر کُچھ اوباش لڑکے بیٹھے رہتے تھے ۔ اُنہیں بس موقع چاہئے ہوتا تھا مجھے چھیڑنے کا،لچے لفنگے کہیں کے ۔۔خیر تو جیسے ہی وین پنکچر ہوئی میں نے فوراً بھائی کو فون کیا اوریہ سن کر مجھے غش ہی آگیا کہ انہوں کہا کہ وہ ابھی یونی ورسٹی میں ہیں اور اباجی ظاہر ہے اس وقت دُکان پر تھے ،اب امی کو فون کر کے گلی سے باہربلانا کچھ مناسب نہیں لگ رہا تھا آخر میں اُن کی جوان اولاد ہوں ۔۔بے شک جسمانی لحاظ سے کمزور ہی سہی پر ہوں تو جوان جہان۔
    ہمت مرداں مدد ِخدا کے تحت اپنی پیٹھ خود ٹھونکی ۔یہ الگ بات ہے کہ میرا دل اتنی تیزی دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر نکل کر آ جائے گا۔دھک دھک کی آواز گویا میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔اور ہتھیلیاں پسینا پسیناہوچکی تھیں۔میں نے اپنا بیگ درست کیا ،فائل میرے ہاتھ میں لرز رہی تھی، مضبوطی سے پکڑی اور خود کو تسلی دیتے ہوئے لرزتی ٹانگوں سے گھر کی جانب قدم بڑھادئیے۔۔
    مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ بدمعاش مجھے دور سے دیکھ کر کسی شرارت کی پلاننگ میں مصروف ہیں ۔اتنی دور سے بھی کم بختوں کے چہروں پر پھٹکارصاف نظر آرہی تھی۔ایسے نازک وقت میں،میری ذات اُن کا آسان ہدف تھی کیوں کہ میرے محافظ بھائی اور بہن ساتھ نہیں تھے۔اُن کے قریب پہنچتے ہی میرے قدم خود بہ خود سست پڑتے گئے اور حلق بالکل خشک ہوچکا تھا ۔
    اچانک۔۔اچانک گلی کے نکڑ پر ایک رکشہ رُکا اور وہ بدمعاش ادھر متوجہ ہوگئے ۔
    کیوں کہ اُس رکشے میں دو حسین لڑکیوں کے ساتھ میرے مستقبل کا محافظ بھی تھا۔شائد اُن لفنگوں نے کوئی نازیبا با ت کی۔بس ایک بجلی سی چمکی اور وہ جو اس بد معاش ٹولے کا سردار تھا چاروں شانے چت پڑا دھول چاٹ رہا تھا۔اُس کے باقی دوست مدد کوآگے بڑھے ہی تھے کہ محلے والوں نے بیچ میں آکر معاملہ رفع دفع کرادیا۔میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور جلدی سے گھر کا راستہ ناپا اور تقریباً بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوکر سکون کا سانس لیا۔
    لیکن بس۔۔وہ ایک پل ہی سکون کا تھا۔۔اب تو اٹھتے بیٹھتے صبح شام اُسی ظالم کا دھیان رہنے لگا تھا۔دل چاہتا فوراً امی کو بتادوں۔۔۔لیکن آہ۔۔! یہ مشرقی روائتیں بھی نا۔۔اکثر ضبط کا امتحان لیتی ہیں۔لیکن۔۔کچھ تو کرنا ہی تھا نا۔۔ایسے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تو نہیں بیٹھا جاسکتا تھا۔

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۴

    دانہ پانی — قسط نمبر ۴

    لیا چکر مقدراں اِنج بُلھیا
    اسی اُجڑ گئے اوہ شاہ ہوگئے
    وہ رات مراد پر بڑی بھاری گزری تھی۔ وہ ایک لمحے کے لئے بھی آنکھ بند نہیں کرسکا تھا۔ اس نے ماں کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا کہ مراد کسی شے کی تمنا کرے اور تاجور وہ لانے کے لئے دوڑ نہ پڑے۔ تو پھر موتیا کی دفعہ کیا ہو گیا ماں کو؟
    اس کے کمرے میں قانون کی کتابوں کے ڈھیر میں موجودکسی کتاب میں اس کا جواب نہیں تھا۔ وہ ماں پر جان قربان کرنے والا فرماں بردار بیٹا تھا اور موتیا پر آکر وہ نافرمان کیوں ہوا تھا؟ قانون کی کسی کتاب میں اس کا جواب بھی نہیں تھا۔ کوئی مراد سے پوچھتا تو وہ اسے محبت کہتا۔ تاجور سے پوچھتا تو وہ اُسے آزمائش کہتی۔
    وہ ساری رات کمرے میں پڑی میز پر ماچس کی تیلیوں سے تاج محل بناتا رہا تھا۔ وہ تاج محل جس میں اُس نے موتیا کو بسانا تھا۔ پر اس تاج محل کا دروازہ وہ نہیں بنا سکا تھا۔
    فجر کے وقت چوہدری شجاع نماز کے لئے اُٹھے تھے اورانہوں نے مراد کے کمرے کی روشنی دیکھی تھی پھر کھڑکی سے بیٹے کو سر پکڑے دیکھا تھا اور ان کے جیسے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا۔ عشق معشوقی انہوں نے خود کبھی نہیں کی تھی پر ہیر وارث شاہ بڑی سنی تھی۔ رانجھے کی فریاد بھی، مرزا کو لگنے والے تیروں کے نوحے بھی اور مہیوال کے اپنی ران کے گوشت کو کاٹ کر سوہنی کو کھلانے کی داستانیں بھی۔ پر جو حال انہوں نے اس وقت بیٹے کا دیکھا تھا انہیں سب کچھ بھول گیا تھا۔
    ”تاجور! یہ نہ کر۔ جوان اولاد ہے وہ بھی اکلوتی، نہ کر اتنی ضد اس کے ساتھ۔” چوہدری شجاع نماز کے لئے نیت باندھتی ہوئی تاجور کو ٹوک بیٹھے تھے۔ تاجور کو ان کی یہ مداخلت بے حد بُری لگی تھی۔

    ”صبح سویرے اللہ کا نام لیتے ہوئے آپ کو ن سے قصے لے کر بیٹھ گئے ہیں۔” اس نے بے حد ناخوش انداز میں مصلّے پر کھڑے ہوئے میاں سے کہا تھا۔
    ”مراد ساری رات نہیں سویا۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا ہے۔ وہ پریشان بیٹھا ہوا ہے۔” چوہدری شجاع نے اُسے بتایا۔
    تاجور نے جواب دینے کے بجائے ہاتھ اُٹھا کر نیت باندھ لی مگر چوہدری شجاع کے جملے جیسے اُس کے ذہن میں اٹک گئے تھے۔ وہ ہر دوسری آیت بھولی تھی۔ کبھی کچھ آگے کردیتی کچھ پیچھے۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کی پریشانی کا سن کر تاجور بھی اپنے حواس میں نہیں رہی تھی پر شوہر کے سامنے وہ اپنے آپ کو کمزور ظاہر نہیں کرسکتی تھی۔ چوہدری شجاع نماز پڑھنے چلے گئے تھے اور جب وہ نماز پڑھ کر آئے تو تاجور تسبیح لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔
    ”تم نے کچھ سوچا تاجور؟” چوہدری شجاع نے آتے ہی اس سے کہا تھا اور وہ جیسے آگ بگولہ ہوگئی تھی۔
    ”آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک کمی کی بیٹی بیاہ کر گھر لے آوؑں۔”
    ”میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس سارے معاملے کو حکمت سے سنبھالو۔ وہ ایک دو مہینے کے لئے یہاں ہے، واپس چلا گیا تو موتیا کی محبت کا بخار بھی اُتر جائے گا۔ ابھی ضد نہ کرو اُس کو ماہ نور کے ساتھ کسی رشتے میں باندھنے کی۔ بس اُسے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں سوچنے کے لئے کچھ وقت دے۔ وہ اگلے سال آئے گا تو پھر فیصلہ کریں گے۔” شجاع نے جیسے اُسے سمجھا کر کوئی حل نکالنے کی کوشش کی ۔
    ”وہ نہیں مانے گا۔ اس نے ضد لگائی ہے ماں سے اور ضد میں کوئی تاجور کو کیسے ہرا دے۔”
    تاجور نے چوہدری شجاع کے سامنے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ وہ مسلسل تسبیح کے دانے گرا رہی تھی اور چوہدری شجاع اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے ضد کرنے والی ماؤں کا سنا تھا پر وہ دیکھ پہلی بار رہے تھے اور بے بس تھے۔ باپ ہوکر بھی وہ ماں کی اس ضد کے سامنے بیٹے کے لئے کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
    ”میں نے نیا وظیفہ شروع کیا ہے اس کے لئے۔ آپ دیکھئے گا چار دن میں سیدھا ہوجائے گا۔ یہ سب جادو ٹونے ہیں جن کے اثر میں ہے وہ۔ جب اثر سے نکلے گا تو موتیا کی تو شکل بھی نہیں دیکھے گا۔”
    تاجور نے بے حد اعتماد سے شوہر سے کہا تھا۔ وہ اسی طرح تسبیح کے دانے گراتی ہوئی کمرے سے نکل کر باہر صحن میں چلی گئی تھی جہاں برآمدے میں مراد کے کمرے کی کھڑکی سے اب بھی روشنی آرہی تھی۔ تاجور نے تسبیح پھیرتے ہوئے ڈوبتے دل کو سمجھاتے ہوئے اس کھڑکی سے نظریں چرائیں۔
    ”دل کو پکّا رکھنا تاجور! ایک دفعہ کمزور پڑی تو بس تیری سلطنت گئی تیرے ہاتھ سے۔” اس کے اندر جیسے کسی نے اس کو پکار کر کہا تھا اور تاجور نے اس پکار کو بار بار سنا تھا۔
    …٭…
    گامو اللہ وسائی کا چہرہ دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
    ”تو کیا کہہ رہی ہے اللہ وسائی ؟ چوہدرائن اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئے گی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” اللہ وسائی نے جواباً بڑے اعتماد سے اس سے کہا:
    ”تجھے بتایا تو ہے گامو! موتیا کو پسند کرتا ہے چوہدری مراد۔ اُس نے کہا ہے اس سے کہ وہ رشتہ بھیجے گا۔”
    اللہ وسائی نے جھجکتے جھجکتے اُسے موتیا اور مراد کے بارے میں جیسے سب کچھ سنا دیا ۔ گامو بے حد پریشان ہوا تھا اور کچھ دیر کے لئے جیسے اس سے بات ہی نہیں ہوسکی تھی۔
    ”کچھ تو عقل کر اللہ وسائی! کہاں چوہدری کہاں ہم۔ تو نے موتیا کو سمجھانا تھا۔”
    ”سمجھایا تھا گامو! پر موتیا کا تو کوئی قصور نہیں، دل تو مراد کا آیا ہے۔ رشتہ بھیجنے کی خواہش تو اُس نے کی ہے۔”
    اللہ وسائی نے موتیا کے جذبات پر پردہ ڈالتے ہوئے گامو کے سامنے بیٹی کا دفاع کیا۔ گامو اُس کا چہرہ دیکھ کے رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
    ”تیرا بھی تو دل کرتا تھا نا کہ چوہدری مراد کے ساتھ موتیا کا رشتہ ہوجائے۔تو نے بھی تو مجھ سے کہا تھا کہ میری موتیا کے ساتھ صرف وہی سجتا ہے۔” اللہ وسائی نے یک دم جیسے عجیب سے لہجے میں اُس کے جملے دہرائے۔
    ”میرے سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں تو پاگل ہوں، عقل کم ہے مجھ میں۔ ہر الٹی سیدھی بات سوچ لیتا ہوں۔ تو میری بات کیوں دہرارہی ہے؟” وہ یک دم گڑبڑا کر اللہ وسائی سے کہنے لگا۔
    ”کیا پتا چوہدرائن واقعی رشتہ لینے آجائے۔” اللہ وسائی نے شوہر کے ساتھ بحث نہیں کی تھی۔ اس نے جیسے تمنا کی تھی۔
    ”وہ نہیں آئے گی اللہ وسائی! میں جانتا ہوں چوہدرائن کو اور تو بھی جانتی ہے۔ اس لئے جھوٹے خواب نہ دیکھ۔” گامو نے اسے ڈانٹ دیا۔ اس نے جواباً بڑی عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔
    ”تو اور میں تو جھوٹے خواب دیکھتے ہیں پر موتیا تو ہمیشہ سچے خواب دیکھتی ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ چوہدرائن رشتہ لے کے آئی ہے اس کے لئے۔” گامو اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا ۔
    اس کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ آمین کہے ، ما شاء اللہ یا الحمد للہ ۔ موتیا کا خواب ہمیشہ سچا ہوتا تھا۔ یہ وہ بھی جانتا تھا۔ پر یہ خواب کیسے سچا ہوسکتا تھا؟
    …٭…

  • کسک — حسنین انجم

    کسک — حسنین انجم

    کتنا شوق تھا اُسے کہ اُس کی کہانی بھی لکھی جائے۔ پتا نہیں وہ اپنے آپ کوایسا اہم یا الف لیلوی کردار کیوں سمجھتی تھی۔ یہ اُس کی عجیب سی خواہش تھی۔ جہاں کسی لکھنے والے سے میل ملاقات ہوتی، کہانیوں کے سُراغ میں لگ جاتی اور اپنی تشنہ خواہش کو ہونٹوں پر لے آتی۔ قلم کار اُسے یہ کہہ کر چُپ کروا دیتے کہ وہی پرانی باتیں، رشتوں کاکرب، رویوں کی منافقت، نمود و نمائش، خود غرضی و بے حسی، خود فریبی، پچھتاوے اور فلمی اختتام۔ ایسی کہانی کی کیا اہمیت ہو گی۔ کوئی نیا پن ہو تو نئی کہانی بنے۔ بار بار کا دہرایا ہوا قصہ اور کتنی بار دہرایا جا سکتا ہے۔ مگر اُسے اِن باتوں کی سمجھ ہی نہ آتی تھی، لیکن آج وہ بہت سوں کو قلم اُٹھانے پر مجبور کر گئی تھی۔ اُس کی کہانی گاؤں سے نکل کر شہر شہر پہنچ چکی تھی۔ وہ اپنے محبوب شوہر کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہو کر زبانِ زدِ خاص و عام ہو گئی تھی۔ اُس کا سراپا، اُس کا عام سا کردار، سطحی سی باتیں ذہنوں سے اس طرح لپٹی تھیں کہ قلم اٹھائے بغیر رہا نہیں جا سکتا تھا۔
    اِرد گرد سے بے خبر دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ نیل پالش لگانے میں محو تھی۔ سرخ سرخ ناخن دیکھ کر آپ ہی آپ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی کتنے اچھے لگ رہے ہیں میرے ہاتھ۔ اُس نے بہ غور اپنے ہاتھ دیکھے اور پھر اپنے پیروں کے ناخن سنوارنے لگے۔
    ”مریم تم ہر وقت خود کو سنوارتی نہ رہا کرو۔ کچھ کام بھی کر لیا کرو”۔شمع پھوپھو نے تار پر کپڑے پھیلاتے ہوئے اُسے آواز دی۔ ”لو… اور کیا تمہاری طرح ہو جاؤں بڈھی روح۔”وہ ہر نصیحت کو سن کر سر جھٹک دینے کی عادی تھی۔ ”نہیں بیٹا !کم تو اپنے وقتوں میں میں بھی نہ تھی۔ بس اپنے اپنے نصیب کی بات ہے”۔ شمع پھوپھو کہیں کھو سی گئیں۔ ”اپنی بزدلی کو نصیب کا نام نہ دو پھوپھی۔ میں ایسا حل نکالوں گی کہ کہ تم حیران ہو جاؤ گی۔ زمین و آسماں ایک نہ کر دیے تو پھر کہنا۔”
    وہ سدا سے ہی جوشیلی تھی۔ دِن رات خیالوں کی دُنیا میں کھوئی رہتی۔ برائے نام سا کام کرتی، پڑھنا پڑھانا سب ختم ہو چکا تھا۔ دِن میں دو چار گھروں کی خیر خبر لینا، بار بار بال سنوارتے رہنا اور باقی وقت میں رومانی قسم کے ڈائجسٹ پڑھنا اُس کا معمول تھا۔
    ”مریاں مجھے تیری حرکتوں سے کبھی کبھار بڑا ڈر لگتا ہے۔” شمع پھوپھو اُس کے پاس آبیٹھیں۔ ”ڈر” وہ زیر لب دہرا کر ہنس پڑی ”جب پیار کیا تو ڈرنا کیا” اُس کی گنگناہٹ بڑھ گئی۔ ”مریم تو میری ذات سے نصیحت پکڑ، میری ساری عمر باپ اور بھائی کی دہلیز پر بیٹھے گزر گئی ہے۔ خواہش، حسرت بن گئی۔ رنگ رُوپ بجھ گیا، دل مر گیا۔ برسوں بیت گئے پر آج بھی باہر نکلوں تو کئی اُنگلیاں میری طرف اُٹھتی ہیں۔ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں۔” شمع کی باتوں میں ادھورے خوابوں کا کرب پھیلا ہوا تھا۔
    ”یہی تو حماقت تھی آپ کی۔ بزدل تھیں آپ۔ میں آپ کی جگہ ہوتی تو حشر کر دیتی”۔ وہ جواباً جوش سے بولی۔
    ”حشر تو میں نے بھی اٹھایا تھا جب میں بپھری ہوئی شیرنی کی طرح پنڈال میں جاپہنچی تھی” وہ نیل پالش کا ایک اور کوٹ کرتے کرتے شمع کی باتیں غور سے سننے لگی۔ جو اکثر اوقات ہی اپنے تلخ ماضی کو دہراتی رہتی تھی۔

    صابر حسین نے اپنی سوزوکی وین باہر روکی۔ اور پاؤں جھٹک کر اندر داخل ہوا۔ یہ اُس کی پرانی عادت تھی کہ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ ایک زور دار قدم رکھتا تھا۔ وہ آج بھی اپنی لوگوں کی روایت کو لے کر چل رہا تھا کہ کھانس کر یا قدم جما کر گھر والوں کو آنے کی خبر دی جائے اور آج تو اُسے غصہ بھی بہت تھا۔ اسلم کریانے والے کے پاس وہ سگریٹ لینے رُکا تو دو چار منٹ میں ہی اماں رحمتے نے اُسے دو چار کھری کھری سُنا دی تھیں۔ ”اماں اپنا تمباکو اور پتی لو اور جاؤ میری دکان داری خراب نہ کرو”۔ اسلم نے اماں کو چلتا کر دیا تھاورنہ جانے وہ کیا کیا کہہ دیتی۔
    ”مریاں کی ماں اسے کسی کال کوٹھری میں بند کر دے یا رسی سے باندھ دے۔ مجھ سے یہ بکواس برداشت نہیں ہوتی۔” مریاں کی ماں آٹا گوندھتی گوندھتی لُتھڑے ہوئے ہاتھوں سے ہی صحن میں چلی آئی۔ ”کیا ہوا خیر تو ہے”؟
    ”ابھی تو خیر ہے لیکن جلدی ختم ہو جائے گی”۔ وہ حیرت سے صابر حسین کو دیکھ رہی تھی جس کا سانولارنگ غصے سے تپ کرسیاہ ہو گیا تھا۔ ”وقت نے جو راکھ دبا دی ہے مجھے لگتا ہے وہ اُڑ کرپھر میرے سر پر پڑے گی۔ مریاں کو گھر سے باہر نہ جانے دیا کر۔ اور میں کہتا ہوں اس کا رشتہ ڈھونڈ اور بس”۔ ”سیدھی طرح بات کہو۔ کیا اِدھر اُدھر کی سُنا رہے ہو”۔
    ”اری بھلی مانس اس کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں لوگ گلی گلی کھڑے ہو کر میری شرافت کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس کا کوئی چکر ہے اُن کے لڑکے سے جس سے ہماری سالوں پرانی عداوت ہے”۔
    صابر حسین بیوی کو اُن باتوں کی تفصیل بتا رہا تھاجو کئی دنوں سے وہ سن رہا تھا۔ جبھی وہ ٹِک ٹک کرتی چلی آئی اور باہر دروازے کی طرف بڑھی۔ ”کدھرجا رہی ہو مریم؟” صابر حسین کی بارعب آوازنے اُس کے بڑھتے قدم روک لیے۔ ”حنا سے ڈیزائن ٹریس کروانا ہے اُدھر جاری رہی ہو”۔
    ”کوئی ضرورت نہیں۔ بہانے کرتی ہو۔ کبھی حنا، کبھی چندا اور کبھی ڈولی۔ چارجماعتیں پڑھ کر دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا”۔
    ”باباچار نہیں۔ دس جماعتیں، میٹرک پاس ہوں” وہ بات ہنسی میں اُڑا کر منہ بنائے گھر کے پچھواڑے بنے باغیچے میں چلی گئی۔ صابر حسین پریشان تھا۔ اس لیے مریم کی ماں بھی سوچوں میں گھرگئی تھی کہ بات یقینا کچھ ہے۔ ”یا اللہ عزت رکھنا گھر بیٹیوں سے بھرا پڑا ہے۔ سویا ہوا فتنہ پھر سے جاگنے لگا ہے، شمع نے کیا کسر چھوڑی تھی جو اس نے پر پُرزے نکال لیے”۔
    اپنی سوچوں میں گم صم وہ آٹا گوندھنے لگی۔ صابر حسین دِل کا غبارنکال کر سگریٹ کے کش لے رہا تھا اور مریاں اپنے ماں باپ کی فکروں سے بے نیاز شمع کے ساتھ رازو نیاز میں مصروف تھی۔ ”شمع پھوپھی، دانی نے آج پکا وعدہ کیا ہے کہ اپنی آپا کو ہمارے گھر بھیجے گا”۔
    ”خدا تیرے حال پہ رحم کرے مریاں، تو کن گورکھ دھندوں میں پڑ گئی ہے۔ یہ تو بڑی لمبی منزل ہے۔ میلوں سے خاک اُڑ اُڑ کر سروں پر پڑتی ہے اور خواب پھر بھی ادھورے رہ جاتے ہیں”۔
    ”دیکھ پھوپھی تو ایسی حسرت زدہ باتیں کر کے میرے رنگ میں بھنگ نہ ڈالا کر۔ تو بزدل تھی جو ڈر گئی۔ پیار محبت تو سب کا حق ہے کوئی گناہ تھوڑی ہے”۔ وہ عشق میں سر شار ڈائیلاگ بول رہی تھی۔
    ”ہرہفتے سینما میں لیڈیز شو دیکھ دیکھ کر تجھے ڈائیلاگ بازی خوب آگئی ہے”۔ شمع نے اُسے ٹوک دیا ”ایک یہی تو تفریح ہے ہم غریبوں کی۔ اب یہ بھی نہ کریں۔ ویسے بابا سے بہانہ کرتے ہوئے ڈر تو لگتا ہے پر مزا بھی بہت آتا ہے”۔ وہ مست مست سی لگ رہی تھی۔ ”جس دن پول کھل گیا تب سارا مزا نکل جائے گا”۔ پھوپھی نے اُسے ڈرانا چاہا۔ ”تم کس لیے ہو پھوپھی۔ بچا لینا مجھے”۔ شمع پھوپھو سے اُس کی شروع سے دوستی تھی۔ پھوپھو انہی کے پاس تو رہتی تھی۔ اُن دونوں کی گاڑھی چھنتی تھی۔
    سلائی مشین سرکا کر انہوں نے ایک طرف کی اور بکھرے کپڑے کو تہ کر کے رکھ دیا۔ پھر ڈبہ کھول کر سوئی نکالی اور دھاگا ڈالنے کی کوشش کرنے لگیں۔
    ”یہ سب چھوڑیے اور میری بات سنیے آپا”۔ ”سُن رہی ہوں۔ ساتھ ساتھ کام کرنے دو۔ یہ قمیص آج مکمل کر کے زینو کو دینی ہے اُس سے سلائی لی ہے ناں۔”دانتوں سے دھاگا کاٹتے ہوئے وہ دانش کی طرف متوجہ ہوئیں جو کافی دیر سے بیٹھاانہیں اپنی پریشانی بتا رہا تھا۔ وہ بڑی بہن ہونے کے ناطے اُسے سختی سے روک بھی نہ سکتی تھیں کہ اُس کے باغی ہو جانے کا ڈر تھا۔ ”دیکھو دانی ہمارے ماں باپ سر پہ نہیں ہیں، جو تمہیں برا بھلا بتائیں اِس قصے کو یہیں چھوڑ دو”۔ انہوں نے بڑی محبت سے سمجھایا۔ ”لیکن ذکیہ آپا۔ اب بات بڑھ گئی ہے۔ سمیٹناتو ہے ناں قصہ”۔ ”تم تایا جی کے پاس چلے جاوؑ۔ وہ سب کچھ سنبھال لیں گے”۔ وہ مسئلے کا حل بتا رہی تھیں۔ ”ہرگز نہیں”۔ ”تھوڑے دنوں کی بات ہے جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا تم آجانا”۔
    ”آپا وہ میرا بچپن تھا جو اِدھر اُدھر کھیل کود کر بیت گیا۔ اب میں وہاں جا کر رہ نہیں سکتا”۔ اُسے تایا ابا کا بارعب چہرہ یا د آگیا۔ ”تمہیں اس مقام تک لانے میں اُن کا کتنا ہاتھ ہے یہ بھول گئے تم۔ اتنی محبت دی انہوں نے ہمیں، کوئی سگا بھی کیا دیتا”۔ ”آپا وہ اُن کی مجبوری تھی۔ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہی ہوتی ہیں۔ ہماری دادی کا دودھ پیا تھا انہوں نے جب اُن کی اپنی ماں بیمار تھی۔ دُنیا داری نبھاتے ہیں لوگ۔ بچپن میں بے سہاروں کو ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد اندازِنگاہ بدل جاتا ہے۔” اُس کے لہجے کی تلخی سے ذکیہ آپا کو غصہ سا آگیا تھا۔
    ”تم خواہ مخواہ بکواس نہ کرو”۔ ”یہ حقیقت ہے آپا۔ میں نے اُن کے مزاج کوبہت قریب سے دیکھا ہے۔ پچھلے سال گاوؑں آئے تو مجھ سے ملنے نہیں آئے۔ میں خود گیا تھا حویلی ملنے اور وہ حجاب جو مجھ سے کئی سال چھوٹی ہونے کے باوجود سکول میں مجھے کمپنی دیتی تھی۔ باقاعدہ لنچ لاتی تھی میرا۔ بریک میرے ساتھ گزارتی تھی۔ اب میں لاہورجاؤں تو میری ہیلو ہائے پر ہی تایا جی منہ بنالیتے ہیں”۔ وہ بے زار سابول رہا تھا۔ ”چلو خیر میں خود تایا جی کے پاس جاتی ہوں کسی دِن۔”
    اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق ذکیہ کچھ دنوں بعد تایا جی کی طرف پہنچ گئیں اور سارا قصہ گوش گزارکر دیا۔ وہ سنتے ہی آگ بگولا ہو گئے۔ سِلے ہوئے زخم پھر سے کھل گئے تھے۔
    اُن دنوں وہ آرمی میں میجر تھے، جب اُن کے بھائی کا گاؤں میں افیئرشروع ہوا تھا۔جب معاملہ اُن تک پہنچا تو انہوں نے چند ہی دنوں میں بھائی کی مرضی کے برعکس اپنے ماموں کے گھر بات ٹھہرا دی۔ بھائی نے انہیں بہت دھمکیاں دیں۔ گھر سے بھاگ جانے اور کورٹ میرج کے دعوے بھی کئے لیکن وہ ڈٹ گئے تھے۔ ”صابر حسین تانگے والے کی بہن کے ساتھ کبھی بھی تعلق نہیں بن سکتا۔ دُنیا اِدھر کی اُدھر ہو جائے۔”

  • کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    کتنی صدیاں بند ہیں —- فائزہ افتخار

    ”کاشی…او کاشی…!” ابھی اسے کھیلنے میں مزہ ہی آنے لگا تھا کہ کوثر کی آواز سنائی دی۔
    ”کیا ہے امی؟” اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے منہ اوپر کر کے جواب دیا۔
    ”تیرے ابے کے آنے کا ٹیم ہوگیا ہے۔چل واپس آ۔” اس نے چھت کی ٹوٹی منڈیر سے جھانک کر تاکید کی۔وہ گھر سے چند قدم آگے کچی گلی کے بیچوں بیچ اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ بیٹھا کنچے کھیل رہا تھا۔
    ”سنا نہیں! کانوں میں روئی دی ہوئی ہے کیا؟جلدی آ… منہ ہاتھ دھو کے صاف کپڑے پہن لے،ابھی تک اسکولے(سکول) والی وردی میں پھر رہا ہے۔”
    کوثر نے بھی صرف ایک بار آواز دینے پر اکتفا نہ کیا۔ آخر اس کے مسلسل واویلا پہ کاشف جھنجھلا کے اٹھا۔غصے کے اظہار کے طور پر اس نے چپل سے بے نیاز پیروں کو زور سے کیچڑ میں مار کر اور بھی غلیظ کیا۔میلے کف سے بہتی ہوئی ناک کو رگڑ کے صاف کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور لکڑی کے رنگ اُڑے کواڑ کو دھکیل کے اپنے گھر کی تاریک متعفن ڈیوڑھی میں داخل ہوا۔ روشنی سے ایک دم اندھیرے میں آجانے سے کتنی ہی دیر وہ آنکھیں چندھی کیے کھڑا رہا۔
    ”وے کاشی…!”اوپر سے کوثر اب تک اسے آوازیں دے رہی تھی۔
    ”آگیا ہوں۔” وہ ایسے چِلّایا جیسے آکر کوئی بہت بڑا احسان کیاہو۔ اب آنکھیں گھر کی نیم تاریکی سے ذرا مانوس ہورہی تھیں۔صرف چار فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوڑی۔اس لال اینٹوں والے فرش کی ڈیوڑھی میں سے گزر کے جانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔صرف وہی باآسانی گزرسکتے تھے جو اس سے آنے جانے کے عادی ہوں۔ورنہ اور کوئی ہو تو اس کا تو حشر ہی خراب ہوجائے۔اس قدر بدبو سے… دروازے کے بالکل ساتھ جس اونچے سے ڈربے پہ بدرنگ پردہ لٹک رہا تھا،وہ اس گھر کا واحد ”باتھ روم” تھا جہاں باتھ… یعنی غسل کرنے والا صاف تو کیا ہوتا، الٹا ناپاک ہوکر ہی نکلتا۔ذرا سی جگہ میں نلکا،نلکے کے نیچے ٹوٹی ہوئی غلیظ پلاسٹک کی بالٹی اور اس میں تیرتا تانبے کا ٹیڑھا میڑھا ڈبہ… چھت پہ ٹین کی چادر، دیواروں میں جا بہ جا اینٹیں اکھڑی ہوئیں اور ان کو بھرنے کے لیے یا بے پردگی سے بچنے کے لیے پرانے کپڑے گول مول کر کے ٹھونسے گئے تھے جو بدبو چھوڑ رہے تھے۔ ہر طرح کے کیڑے مکوڑے نالی کے راستے یہاں با آسانی پائے جاتے تھے۔ یہاں سے نکلنے والی نالی ڈیوڑھی سے ہوتی ہوئی گلی میں جاتی تھی اور یہی اس جگہ کی بدبو کا راز تھا اور جو رہی سہی کسر تھی وہ یہاں کوڑے کے ڈھیر سے پوری ہوجاتی تھی۔ کوثر گھر گھر صفائی کا کام کرتی تھی، واپسی پہ بچا کھچا کھانالے آتی، گرمیوں کے موسم میں اکثر راستے میں ہی یہ کھانا خراب ہوجاتا جو کھانے کے قابل نکلتا کھالیا جاتا، باقی اسی ڈھیر کی زینت بنتا۔پہلے سے گلے سڑے پھلوں کے مزید گلے ہوئے چھلکے، بوٹیاں، بچی ہوئی ہڈیاں…وغیرہ، وغیرہ…

    اپنے ماں باپ اور بہنوں کی طرح کاشف بھی اس بدبودار ماحول کا عادی تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باہر سے آنے پہ آج بھی اسے بدبو کا احساس ہوا جو تھوڑی دیر تک تو رہنا ہی تھا رفتہ رفتہ اس کا احساس کم ہوتا جاتا۔ وہ اپنے کچے صحن میں بچھی بان کی چارپائی پہ آبیٹھا۔ اس صحن میں دو ہی چارپائیوں کی گنجائش تھی۔اس صحن میں رکھی بانس کی سیڑھی اوپر جاتی تھی۔ گھر کے واحد کمرے کے اوپر کی جگہ چھت کا کام دیتی جہاں کوثر فارغ وقت میں پائی جاتی، اس وقت بھی وہ سبزی کی ٹوکری اٹھائے نیچے اتررہی تھی۔
    ”کیا پک رہا ہے۔” اس نے چھلکوں کا ڈھیر دیکھ کر پوچھا۔
    ”ٹینڈے… یہ پھلیاں تو ملکانی جی کی ہیں، چھیلنے کے واسطے لائی تھی۔نی کڑیو! تم بھی ذرا ہاتھ ہلا لیا کرو۔ میں باہر کے بھی سیاپے کروں،گھر کے بھی نمٹاؤں۔ یہ ذرا سی رہ گئی ہیں، دونوں مل کے منٹوں میں بنا لو۔”
    ”فیدہ…؟” سب سے بڑی پندرہ سالہ تنک مزاج اور تیکھے نقش والی مروفاں نے اپنے کوکے والی ناک چڑھا کر کہا۔
    ”ایک کلو پھلیاں بنانے میں بیس پچیس منٹ لگتے ہیں اور ایک کلو کی بنوائی یہ مالکن بس دوروپے دیتی ہے۔ کیا فیدہ! دو گھنٹے لگا کے دس روپے بھی نہ ہاتھ لگیں۔ پتا نہیں تو کیا کیا کام پکڑ لاتی ہے، کبھی گھٹڑ ساگ کا، کبھ بھرے چنے نکالنے واسطے۔کبھی لہسن چھیلنے واسطے تو کبھی پھلیاں۔ اتنا شوق ہے ان لوگوں کو مشکل مشکل سبزیاں کھانے کا تو آپ بنا لیا کریں۔بڑا احسان کرتی ہیں کلو کے پیچھے دو روپے دے کے۔”
    ”تیرے لیے دس روپے کوئی چیز نہیں ہوں گے۔گھر بیٹھی ہے نا اوروہ بھی ماں پیو کے گھر۔ میرے سے پوچھ، دس روپے میں آدھا کلو دودھ آجاتا ہے سارے دن کی چائے کے لیے، دس روپے میں پاؤ بھر دال آجاتی ہے۔ایک وقت پکانے کے لئے اور دس روپے میں…”
    ”ہاں ہاں ،بڑا کچھ آجاتا ہے دس روپے میں۔” مروفاں نے ہاتھ ہلا کر کہا اور صحن میں رکھے چولہے کو جلانے لگی۔
    ”دس روپے میں تین کیلے آجاتے ہیں جو آدھے آدھے کاٹ کے ہمارا سارا ٹبر کھاتا ہے۔دس روپے میں ابا کے سگریٹ کی آدھی ڈبی آجاتی ہے جو اس نے سارے دن میں لازمی پھونکنی ہوتی ہے۔ٹھیک ہے بھئی اماں! کما دس روپے۔” وہ زور زور سے سلور کی پرات میں حساب سے نکالا آٹا گوندھنے لگی۔ٹینڈے کا شوربے والا سالن وہ پہلے ہی چڑھا چکی تھی۔بہن کے دل جلے تبصروں پہ ہمیشہ کی طرح کاشف دانت نکال رہا تھا۔
    ”وے بیڑہ غرق… کیسا مٹّی میں رُل کے آرہا ہے۔دفع ہو’ جا کے منہ ہاتھ دھو۔ پیو آنے والا ہے۔” کوثر کا دھیان پھر اس کی جانب گیا۔
    ”ہاں ہاں، ہاتھ منہ دھو۔ ابا آنے والا ہے۔ اس نے آتے ہی تیرا منہ چومنا چاٹنا ہے۔”
    مروفاں نے پھر سے زہر اگلا۔ کاشف کے لب عادتاً پھیلے مگر ساتھ ہی سکڑ بھی گئے۔اس کا چہرہ اترسا گیا اور وہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ منہ دھونے چل پڑا۔ اور یہ سچ بھی تھا کہ بالے نے تین بیٹیوں کے بعد منّتوں مرادوں سے پیدا ہونے والے اکلوتے بیٹے کو کبھی بانہوں میں بھر کر پیار نہ کیا تھا کبھی اس کا ماتھا چوم کے لاڈ نہ کیا تھا۔ جب وہ بہت چھوٹا ہوگا تب شاید کبھی گود میں اٹھا کے پھرا ہو۔ کاشف کو تو ایسا کوئی واقعہ یاد نہ تھا۔ ایسا نہ تھا کہ وہ بیٹے کی جانب سے لاپروا تھا یا کبھی اس کی جانب نظر نہ اٹھا کے دیکھتا تھا۔دیکھتا تھا، گھر آتے ہی دیکھتا تھا مگر کھاجانے والی نظروں سے۔
    پوچھتا تھا مگر مارنے کے بہانے کسی کام کی خاطر۔
    اسی لیے اس کے آنے سے پہلے کوثر اسے نہلا دھلا، صاف کپڑے پہنا کر، گڈا سا بنا کے چارپائی پہ کتابیں دے کر بٹھا دیتی مگر اقبال دین عرف بالے کو کوئی نہ کوئی بہنا مل جاتا اس کی کھنچائی کرنے کا۔
    لال صابن سے رگڑ کے منہ دھونے کے بعد وہ تختی لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔
    ”مانو نے آج فیر تیری گاچی کھائی تھی۔” اس کی تختی دیکھ کے منجھلی والی رانی کو سب سے چھوٹی کی حرکت یاد آئی تو اس نے شکایت لگانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔مانو کو مٹی کھانے کی عادت تھی۔کبھی کبھی وہ کاشف کی تختی پہ پھیرنے والی ”گاچی” بھی ہضم کرجاتی۔
    ”ماں… مانو نے میری گاچی کھائی ہے۔ ابھی پرسوں ہی ڈھیلا لیا تھا۔” وہ چلّایا اور کوثر نے نزدیک رکھی جھاڑو اٹھائی اور دھڑا دھڑ مانو پہ برسانی شروع کردی۔اس نے سن رکھا تھا کہ جسے جھاڑو سے مار پڑے وہ تنکے کی طرح سوکھنا شروع ہوجاتا ہے،اس لیے ہر بار ہی مانو کی پٹائی کرنے کے لیے وہ بڑے اہتمام سے جھاڑو اٹھاتی تھی تاکہ اسی بہانے مٹی، ریت اور گارا کھا کھا کے پلنے والی موٹی کپّا اس کی گیارہ سالہ تیسرے نمبر کی لڑکی کچھ دبلی ہی ہوجائے مگر جس طرح مٹی اور گاچی اسے وٹامن اور کیلشیم کی طرح لگتے تھے،اسی طرح جھاڑو بھی شاید کسی ٹانک کا کام دیتا تھا۔ وہ اور بھی پھولتی جارہی تھی۔البتہ تیرہ سالہ کالی کلوٹی بھینگی آنکھوں والی رانی کے چہرے پہ اطمینان بھری مسکراہٹ کھیلنے لگتی تھی۔اپنی شکایت کے اس بھرپور اور تسلی بخش رد عمل پہ۔
    ”اماں! بتّی جلا دے، اندھیرا ہوگیا ہے۔” کاشف نے اس مار کٹائی کے عمل میں دخل دیا۔گرمیوں میں سات بجے تک اس گھر میں بتی نہیں جلتی تھی۔حالانکہ وہ کمرہ جو اچھی بھلی کوٹھری تھا، وہاں دن کو بھی بغیر بتی جلائے کچھ نظر نہ آتا تھا، اسی لیے یہ واحد کوٹھری کم ہی استعمال میں آتی۔سارا دن اس مختصر سے صحن میں گزرجاتا، جہاں قدرتی روشنی سے تب تک کام چلانے کی کوشش کی جاتی، جب تک رات کے اندھیرے گہرے نہ ہوجائے۔
    ”ابھی مغرب نہیں ہوئی، تیرا پیو آگیا تو میری ماں بہن ایک کردے گا کہ بجلی ضائع کررہی ہوں۔”
    ”تُو ادھر آکے تختی لکھ لے کاشی! ادھر چولہے کے بالن کی بڑی روشنی ہے۔” مروفاں نے اسے اپنے نزدیک بلایا۔
    ”ناں… میں نئیں آتا، ہانڈی پکنے کی بو بڑی زہر لگتی ہے مجھے۔” اس نے ناک پہ ہاتھ رکھا۔
    ”لے… تُو تو دوجے جی سے ہونے والی زنانیوں کی طرح نخرے دکھا رہا ہے۔”
    کوثر نے ٹھٹھا مار کے ایک بے جھجھک مذاق کیا، جس میں اس کے قہقہے کا ساتھ اس کی کم عمر کنواری بیٹیاں بڑی بے باکی سے دے رہی تھیں۔
    منہ پھلا کے بیٹھے کاشف کی نظر یونہی دروازے کی جانب چلی گئی۔ لکڑی کے کواڑ میں بے شمار درزیں اور سوراخ تھے۔جن سے باہر کی روشنی اور دھوپ چھن چھن کے راستہ بناتی باریک لکیروں کی صورت نیم تاریک ڈیوڑھی میں نظر آتی رہتی تھی۔مغرب کا وقت بس ہوا ہی چاہتا تھا، لیکن روشنی کی یہ لکیریں اب تک واضح تھیں۔جیسے ہی کاشف کی نظر دروازے پہ گئی، اچانک اسی وقت یہ لکیریں غائب ہوگئیں۔ جیسے کسی نے ان سوراخوں کا منہ بند کردیا ہو، ساری درزیں بھردی ہوں۔
    ”ابا…!” اس نے پھنکارتی ہوئی سرگوشی کی۔کوثر کے قہقہے، مروفاں کی کھی کھی، رانی کی شوخی اور مانو کی ریں ریں… سب کچھ تھم گیا۔ جیسے کسی نے جادوکی چھڑی گھما کے اس ڈیڑھ مرلے کے نیم کچے مکان کو سوئے ہوئے محل میں تبدیل کردیا ہو۔ اگلے ہی لمحے بالے کے کھنکھارنے کی آواز نے گویا پھر کسی منتر کا کام دیا، سب بُتوں میں جان پڑگئی۔کوثر نے سبزی کی ٹوکری اس چارپائی کے نیچے سرکائی جہاں کاشف اب ہل ہل کر زیرِ لب اپنا سبق دوہرا رہا تھا۔خود وہ اٹھ کے کنڈے کھولنے چلی گئی۔ مروفاں نے پیڑھی پہ پڑا دوپٹہ اٹھا کے سر پہ رکھا اور انگلیوں میں پہنے رنگ برنگے چھلے سرعت سے اتار کے چولہے کے پیچھے چھپائے اور بڑے انہماک کے ساتھ سلور کی پچکی ہوئی دیگچی میں ڈوئی ہلانے لگی۔ مانو اپنا آنسوؤں سے تر اور مٹّی سے لتھڑا چہرہ لے کر اندر چُھپ چکی تھی اور رانی ستّو کا شربت بنانے کے لیے شکر گھولنے لگی تھی۔
    ”یہ ہنسی ٹھٹھول کس خوشی میں ہورہا تھا؟” اس نے آتے ہی اپنی کھوجی آنکھیں ایک ایک کے چہرے پہ گاڑتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔