Tag: eid collection

  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”