Tag: daam

  • امربیل — قسط نمبر ۱۰

    امربیل — قسط نمبر ۱۰

    اس سے ہونے والی اس لمبی چوڑی گفتگو کے چوتھے دن عمر امریکہ چلا گیا۔ علیزہ نے اس بار پہلی دفعہ اس کے جانے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔
    وہ اس کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اپنی زندگی کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نانا اور نانو نے اس سے پچھلے کچھ ہفتوں میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ان کے لئے شاید اتنا ہی کافی تھا کہ وہ دوبارہ کالج جانے لگی ہے، اس کی خود ساختہ قید تنہائی ختم ہوگئی تھی اور شہلا ایک بار پھر سے اس کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔ اس کے ٹیسٹ پہلے کی طرح اچھے ہونے لگے تھے۔ مگر اس کی پہلی والی سنجیدگی اور کم گوئی ابھی بھی برقرار تھی۔
    عمر نے واپس جانے کے ایک ہفتے بعد انہیں فون کیا تھا۔ نانو سے بات کرنے کے بعد اس نے علیزہ سے بھی بات کی۔ علیزہ کو وہ پہلے سے زیادہ پر جوش اور خوش لگا تھا۔
    ”یار! میں تمہیں بہت مس کر رہا ہوں۔” اس نے ہمیشہ والی بے تکلفی کے ساتھ علیزہ کی آواز سنتے ہی کہا۔
    علیزہ اس کی بات پر بچوں کی طرح خوش ہوئی۔ ”میں بھی آپ کو بہت مس کر رہی ہوں۔” اس نے جواباً کہا۔
    ”یہ تو بڑی حیران کن بات ہے کہ علیزہ سکندر جیسی ہستی ہمیں مس کر رہی ہیں واپس آجاؤں؟” اس کی آواز میں شوخی تھی۔




    ”آجائیں۔” علیزہ اس کے انداز سے محظوظ ہوئی۔
    ”آجاؤں گا مگر ابھی نہیں۔ ابھی میں اسپین جا رہا ہوں۔”
    ”کیوں؟”
    ”بس ویسے ہی سیرو غیرہ کے لئے، کچھ دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں۔” اس نے اطلاع دی۔
    ”واپس کب آئیں گے؟”
    ”پاکستان یا امریکہ؟” عمر نے پوچھا۔
    ”پاکستان۔” ”چند ماہ تک۔”
    ”آپ نے کہا تھا۔ میں سیشنز کروانا شروع کردوں تو آپ جلدی آجائیں گے۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں مجھے یاد ہے، تم باقاعدگی سے سیشنز کے لئے جا رہی ہو؟”
    ”ہاں پھر آپ کب آئیں گے؟” علیزہ نے ایک بار پھر بے تابی سے پوچھا۔
    ”پتا نہیں۔ دراصل مجھے کچھ کام بھی ہے لیکن پھر بھی میں وعدہ کرتا ہوں، جلدی آجاؤں گا۔” عمر نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر اس نے عمر سے مزید اصرار نہیں کیا۔ اسے یقین تھا وہ جلدی واپس آجائے گا۔
    ***
    اسے میگزین جوائن کئے تین ماہ ہو گئے تھے، اور یہ تین ماہ اس کے لئے بہت اچھے ثابت نہیں ہوئے تھے۔ وہ جرنلزم کے بارے میں جو خواب لے کر اس میگزین میں گئی تھی۔ وہ پہلے ہفتے ہی ختم ہو گئے جب اسے کچھ غیر ملکی میگزین یہ کہہ کر دیئے گئے کہ اسے ان میں سے شوبزنس کی خبریں منتخب کرنی ہیں۔ وہ کچھ ہکا بکا ہو کر سارا دن وہ میگزینز دیکھتی رہی۔ شہلا اس دن آفس نہیں آئی۔ علیزہ نے گھر واپس جاتے ہی اسے فون کیا۔
    ”کیا ہوا بھئی؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟” شہلا نے اس کی آواز سے فوراً اندازہ لگایا کہ وہ کسی وجہ سے پریشان ہے۔ علیزہ نے اسے ساری تفصیل بتا دی۔
    ”تو پھر؟ ”شہلا نے اس کی ساری باتیں سننے کے بعد بڑے اطمینان سے پوچھا۔
    ”تو پھر کیا مطلب ہے تمہارا؟”
    ”میرا مطلب ہے کہ تم کیوں پریشان ہو اس سب سے؟”
    ”میں پریشان کیوں ہوں؟” میں اس لئے پریشان ہوں کیونکہ یہ وہ کام تو نہیں ہے جس کے لئے میں وہاں گئی ہوں۔” علیزہ اس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے بولی۔
    ”آپ کس لئے گئی ہیں وہاں؟”
    ”کوئی تخلیقی اور چیلنجنگ کام کرنے، غیر ملکی میگزینز سے خبریں چننے نہیں گئی۔ ہم کیا کریں گے وہاں باہر کی خبریں غیر ملکی ماڈلز کے فیشن شوٹس کی کاپی کرتے ہیں بس فرق یہ ہوتا ہے کہ ماڈل اپنی ہوتی ہے اور فوٹو گرافر بھی۔ میک اپ اور ہیر اسٹائل تک ان ہی جیسا ہوتا ہے یہ کیا چیز ہے جو ہم اپنے لوگوں کو دے رہے ہیں، تفریح۔” وہ واقعی اکتائی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو جانا شروع کیا ہے وہاں۔ اتنی جلدی کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے۔ ابھی تو ہمیں جرنلزم کی الف ب کا بھی پتا نہیں ہے۔ تھوڑا عرصہ وہاں کام کریں گے تو کچھ پتا چلے گا۔ کچھ تجربہ ہو گا تو ہم لوگ ٹرینڈز بدل بھی سکتے ہیں۔” شہلا نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔
    ”ہم ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ کیا ٹرینڈ بدل سکتے ہیں؟ غیر ملکی میگزینز میں سے چوری کی جانے والی خبریں اور آرٹیکلز روک سکتے ہیں۔ یا اپنے فوٹو گرافر کو اوریجنل شوٹ کے لئے مجبورکر سکتے ہیں۔” وہ اب بھی اتنی ہی مایوس تھی۔
    ”تم جاب چھوڑنا چاہتی ہو؟” شہلا نے مزید کچھ کہے بغیر اس سے براہ راست پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں کنفیوزڈ ہوں۔”
    ”کنفیوز کیوں ہو، اگر یہ سب تمہیں پسند نہیں ہے تو جاب چھوڑ دو کچھ اور کر لو۔” شہلا نے اسے کھٹ سے مشورہ دیا۔
    ”اور کیا کروں؟”




  • امربیل — قسط نمبر ۵

    امربیل — قسط نمبر ۵

    ”موڈ ٹھیک ہوگیا تمہارے کزن کا؟” شہلا نے ساتھ چلتے چلتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” وہ ہلکے سے مسکرائی۔
    ”چلو شکر ہے کم از کم تمہارے چہرے پر بارہ بجے والی مستقل کیفیت سے تو چھٹکارا ملا۔” علیزہ اس کی بات پر کچھ جھینپ گئی۔
    ”کیا مطلب؟”
    ”کچھ نہیں یار! میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اب پہلے کی طرح تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو مل جایا کرے گی جو کئی دن سے غائب تھی۔”
    ”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
    ”ایسی ہی بات ہے۔ عمر کا موڈ صحیح، تمہارا موڈ صحیح۔ عمر کا موڈ خراب تمہارا موڈ خراب۔”
    ”تم غلط کہہ رہی ہو شہلا۔” اس نے جیسے احتجاج کیا تھا۔
    ”کاش کہ یہ بات واقعی غلط ہوتی مگر ایسا نہیں ہے علیزہ سکندر! آپ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔” اس نے ہینڈ بیگ میں سے کینو نکال کر ساتھ چلتے ہوئے چھیلنا شروع کردیا۔
    ”میں اس کی وجہ سے پریشان تھی مگر۔۔۔”
    شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔”تمہیں میرے سامنے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
    I know you inside out”




    اس نے قاش منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی پھر اس نے کچھ مدھم آواز میں کہا۔
    ”میری اس کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ”صرف انڈراسٹینڈنگ ہونے سے کوئی کسی کیلئے اس طرح پریشان نہیں ہوتا۔”
    وہ صاف گوئی کا ہرا گلا پچھلا ریکارڈ توڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
    ”وہ میرا دوست ہے۔”
    ”نہیں! معاملہ دوستی کی حدود سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔”
    ”شہلا! میں۔۔۔”
    شہلا نے کچھ تنک کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم ڈرتی کیوں ہو، یہ مان لینے سے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔”
    ”ایسا نہیں ہے۔”
    ”ایسا ہی ہے بلکہ سو فیصد ایسا ہی ہے۔”
    ”اچھا ٹھیک ہے پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟”
    ”بہت کچھ ہوتا ہے… علیزہ بی بی! آپ کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ساری دنیا اسی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ جاکر اس سے کہیں کہ آپ اس سے محبت فرما رہی ہیں۔ وہ بھی خاموش محبت۔”
    ”اس سے کیا ہوگا؟”
    ”اس سے یہ ہوگا کہ یا تو عمر صاحب بھی آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرلیں گے یا پھر یہ ہوگا جس کا زیادہ امکان ہے کہ وہ آپ کا دماغ درست کردیں گے۔ کم از کم پھر آپ اس محبت کے چکر سے تو نکل آئیں گی۔”
    علیزہ نے کچھ رنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔”
    ”کیا مطلب! تم نہیں چاہتیں کہ وہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور شادی کرے؟” شہلا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”تو پھر۔”
    ”میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ ٹھیک رہے، پریشان نہ ہو، بس وہ خوش رہے۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں کوئی علیزہ سکندر نہ ہو۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں، میں نہ ہوں۔”
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ تم آخر چاہتی کیا ہو۔ مجھے جو چیز اچھی لگے میں چاہتی ہوں وہ مجھے مل جائے۔ میرے Possession میں ہو اور تم… تم عمر سے محبت کرتی ہو تو اس کا اقرار نہیں کرتیں۔ اقرار کرتی ہو تو اسے حاصل کرنا نہیں چاہتیں اور میں سوچتی ہوں کہ اگر تم اس کو حاصل کرلو گی تو پھر تم اسے پاس رکھنا نہیں چاہو گی، ہے نا؟” شہلا کا لہجہ مذاق اڑانے والا تھا۔
    ”کسی چیز کو صرف میری محبت میرے پاس نہیں لاسکتی۔ میں اپنے پیرنٹس سے بھی بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت انہیں اکٹھا نہیں رکھ سکی نہ انہیں میرے پاس رکھ سکی ہے۔ عمر سے محبت کروں گی تو کیا ہوگا۔ کیا وہ میرا ہوجائے گا؟”




  • امربیل — قسط نمبر ۴

    امربیل — قسط نمبر ۴

    ”عمر کے بارے میں کیا بات کر رہے تھے؟”
    وہ بھی کچھ فکر مند ہو گئی تھی۔ نانو اب بہت الجھی ہو ئی لگ رہی تھیں۔
    ”پتا نہیں اب کیا پرابلم ہے؟”
    نانو بڑبڑائی تھیں۔
    ”انکل جہانگیر کل پاکستان آئیں گے؟”
    اس نے اس بار سوال بدل دیاتھا۔
    ”نہیں ! پاکستان تو وہ دو دن پہلے ہی آچکا ہے!”
    ”انہوں نے آپ کو پہلے انفارم کیوں نہیں کیا؟”
    ”پتہ نہیں !”
    ”ملنے بھی نہیں آئے؟”
    ”اب میں کیا کر سکتی ہوں۔ اس کی مرضی ہے۔”
    ”پہلے تو سیدھا یہیں آیا کرتے تھے۔”
    ”پہلے تو بات ہی اور تھی۔ پہلے تو تمہارے نانا کی وجہ سے وہ سیدھا یہیں آیا کرتا تھا۔ اب جب سے ان کی ڈیتھ ہوئی ہے جہانگیر بہت لاپرواہ ہو گیا ہے۔”
    ”انکل لاہور میں ہی ہیں؟”
    ”پتا نہیں۔ یہ میں نے نہیں پوچھا۔ ہو سکتا ہے، لاہور میں ہی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابھی کراچی میں ہو۔”
    ”کل کس وقت آرہے ہیں؟”
    ”کہہ رہا تھا کہ شام کو آئے گا۔”
    ”آپ نے ان سے پوچھا کہ یہاں کتنے دن رہیں گے؟”
    ”تم بے وقوف ہو علیزہ ! بھلا میں یہ کیسے پوچھ سکتی تھی۔ وہ سوچتا ماں کو پہلے ہی اس کی واپسی کی فکر پڑ گئی ہے۔”
    علیزہ کا چہرہ خفت سے تھوڑا سرخ ہو گیاتھا۔
    ”نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں تھا ، میں تو اس لئے پوچھنا چاہ رہی تھی تاکہ ان کا کمرہ اسی طرح سیٹ کر سکوں۔رہیں گے تو یہیں نا؟”
    ”ہاں، کہہ تو یہی رہا ہے کہ یہیں رہے گا مجھ سے کہہ رہا تھا کہ عمر کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہ بتاؤں۔ میں نے کہا کہ عمر تو یہاں ہے ہی نہیں۔ کہنے لگا کہ پھر بھی اسے میرے آنے کی اطلاع نہیں ہونی چاہئے۔”
    ”انکل جہانگیر نے ایسا کیوں کہا؟”
    علیزہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ”آخر عمر سے وہ اپنی آمد کیوں چھپانا چاہ رہے ہیں؟”
    ”یہ تو میری بھی سمجھ میں نہیں آیا۔”
    ”پتا نہیں انکل جہانگیر اور عمر کا اتنا جھگڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟”
    ”دونوں غصہ ور ہیں۔ دونوں ہی اپنی منوانے والے ہیں۔ پھر جھگڑا نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ بہرحال تم جہانگیر کے لئے بھی کمرہ تیار کروا دو۔”
    ”نانو انکل اکیلے آرہے ہیں؟”
    ”ہاں ! اکیلا ہی آ رہا ہے۔”
    نانو اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی تھیں۔
    علیزہ کچھ دیر خاموشی سے وہاں بیٹھی کچھ سوچتی رہی پھر اٹھ کر عمر کے کمرے کی طرف آگئی تھی۔ کمرے میں عمر کے کلون کی مہک ابھی تک موجود تھی۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کی طرف گئی تھی، وہاں عمر کا وہ اسکیچ موجود نہیں تھاجو اس نے کل وہاں رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر وہ اسکیچ دیکھ چکاتھا۔ اسے نامعلوم سی خوشی ہوئی تھی۔ وہ واپس مڑنے کو تھی جب اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل کے پاس پڑی ویسٹ پیپر باسکٹ پر پڑی تھی۔ اس میں صرف ایک مڑا تڑا کاغذ پڑا ہوا تھا اور وہ اس کاغذ کو ہاتھ لگائے بغیر بھی جانتی تھی کہ وہ کونسا کاغذ تھا۔
    ٭٭٭




  • عکس — قسط نمبر ۱۶ (آخری قسط)

    ”کیا دیکھ رہی ہیں آپ اس آئینے میں؟” مثال نے کچھ تجسس آمیز انداز میں عکس سے پوچھا جو اس Cheval mirror کے سامنے کھڑی اس آئینے کے فریم کو اپنی انگلیوں سے غیر محسوس انداز میں یوں چھو رہی تھی جیسے اس کے ہونے کا احساس چاہتی ہو… فریم پر موجود بار بار کی جانے والی پالش بھی اب اس کی بوسیدگی اور خستگی کو چھپانے میں ناکام ہورہی تھی۔
    فریم کو چھوتے ہوئے اس پر موجود گرد کو اپنی پوروں کو آپس میں رگڑ کر محسوس کرتے ہوئے وہ مثال کی بات پر مسکرائی تھی۔
    ”میں اس آئینے میں تاریخ دیکھ رہی ہوں۔”
    ”کیسی تاریخ؟” مثال کا تجسس کچھ اور بڑھا۔
    ”اپنی زندگی کی تاریخ… اپنا ماضی… اس ماضی سے جڑے چہرے…” اس نے فریم سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس کو ایک بار پھر دیکھا پھر اپنے برابر میں کھڑی مثال پر ایک مسکراتی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا… ممی بھی اس آئینے کے سامنے اسی طرح فریز ہو گئی تھیں جس طرح آپ ہوئی ہیں… میں نے ان سے بھی پوچھا تھا کہ وہ اس میں کیا دیکھ رہی ہیں؟” مثال نے اسی دلچسپی سے اس آئینے پر نظر دوڑاتے ہوئے آئینے میں نظر آتی ہوئی عکس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا۔
    ”کیا کہا انہوں نے؟” عکس نے اس بار پلٹ کر مثال کو دیکھا۔




    ”انہوں نے کہا وہ اس آئینے میں مستقبل کو دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں کا عکس جو اس میں کہیں چھپا ہے… عجیب بات ہے ناں… آپ اس میں ماضی دیکھ رہی ہیں… ممی مستقبل… مجھے کیا دیکھنا چاہیے… حال؟” مثال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ عکس اس کی بات پر مسکرا دی پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ آئینے کو دیکھا۔
    ”میرا بچپن اس آئینے کے ساتھ گزرا ہے… میرا، شہربانو اور شیردل تینوں کا بچپن دیکھا ہے اس نے۔”
    ”ممی آپ بھول رہی ہیں۔ میرا، طغرل اور باذل کا بچپن بھی تو دیکھا ہے اس نے۔” مثال نے اسے ٹوکا۔
    ”ہاں اورتم بھول رہی ہو کہ توران کا بچپن بھی تو دیکھ رہا ہے یہ۔” اس نے مثال کو جیسے یاد دلایا۔
    ”اوہ ہاں… یہ آئینہ تو واقعی ہماری فیملی heritage کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے اسے یہاں نہیں ہمارے خاندانی گھر میں ہونا چاہیے۔”
    ”آئیڈیا برا نہیں ہے لیکن سرکاری ملکیت ہے یہ۔” عکس نے کہا۔
    ”ممی میں اور ابراہیم گھر کو renovate کرنے والے ہیں… فرنیچر بھی بدلا جائے گا اور کاٹھ کباڑ میں یہ آئینہ بھی نکالنے والے ہیں ہم… بہت زیادہ پرانا اور outdated ہو گیا ہے یہ۔” مثال نے اس کے ساتھ جیسے اپنا پلان شیئر کیا۔
    ”کیوں… ابھی تو ٹھیک ہے یہ۔” عکس نے اعتراض کیا۔
    ”ممی ٹھیک نہیں ہے… کم از کم سو سال پرانا ہو گیا ہے یہ… میں اور ابراہیم تو حیران تھے اس بات پر کہ آخر اب تک ٹکا کیسے ہوا ہے یہ… کسی آفیسر یا اس کی وائف نے ہٹایا کیوں نہیں اسے یہاں سے… نانا، نانی سے لے کر آپ اور پاپا تک کسی کو بھی اسے یہاں سے ہٹانے کا خیال نہیں آیا۔” وہ کچھ حیرانی سے کہہ رہی تھی۔ عکس نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”میں نے تمہیں بتایا ہے ناں یہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہا ہے… اس میں ہم لوگ اپنا، اپنا عکس دیکھتے رہے ہیں… اپنی اپنی زندگیاں بنانے یا بگاڑنے والے چہروں کا عکس۔” مثال کو لگا عکس بات کرتے کرتے جیسے کچھ سنجیدہ ہوئی تھی۔
    ”آپ نے اس میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا جس نے آپ کی زندگی بگاڑی ہو؟” مثال نے دلچسپی سے کچھ سوچے سمجھے بغیر اپنی طرف سے ایک معمول کا سوال کیا تھا۔ اس سوال نے عکس کو کچھ دیر کے لیے ہلنے نہیں دیا۔ اس کے لیے اس سوال کا جواب بہت مشکل تھا۔ وہ ہاں کہتی اور مثال اس سے اس شخص کا نام پوچھتی… وہ جھوٹ جو اسے بعد میں بولنا تھا وہ شاید پہلے ہی بول دینا چاہیے تھا۔
    ”آپ کیا سوچ رہی ہیں؟” مثال نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”میں نے اس چہرے کو اپنی زندگی بگاڑنے نہیں دی۔” وہ عکس کی بات پر تجسس آمیز انداز میں مسکرائی۔
    ”یعنی آپ نے بھی اس آئینے میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا تھا؟” وہ اب جیسے زور دینے والے انداز میں بولی تھی۔ ”آپ کو پتا ہے ہم لوگوں نے اس گھر کے بارے میں بھی ملازموں سے بہت عجیب و غریب باتیں سنی ہیں۔ پاپا اور آپ یہاں نہ رہ چکے ہوتے تو میں اور ابراہیم تو کبھی یہاں نہ رہتے۔” وہ اب عکس کو بتا رہی تھی وہ دلچسپی سے سننے لگی۔ ”آپ نے کبھی اس گھر کے بارے میں کچھ سنا تھا؟” مثال نے اب عکس سے ڈائریکٹ پوچھا۔
    ”مثلاً کیا؟” عکس نے دھیمی آواز میں اس سے نظر ملائے بغیر کہا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مثال نے اس گھر کے بارے میں کیا سنا ہو گا۔
    ”بہت ساری باتیں کہہ رہے ہیں ملازم لیکن سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس گھر میں جو کپل بھی رہتا ہے ان کا break up ہو جاتا ہے… کتنی خوفناک بات ہے ناں ممی… میں تو ڈر ہی گئی یہ سن کے لیکن ابراہیم کو بالکل یقین نہیں ہے ایسی باتوں پہ… آپ یقین کرتی ہیں ایسی باتوں پہ؟” اس نے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں۔” عکس نے بلاتوقف کہا۔ مثال نے ایک کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ عکس کو دیکھا۔
    ”مجھے پتا تھا، آپ کہاں یقین کرنے والی ہیں ایسی باتوں پہ۔ ابراہیم بھی آپ ہی کی مثال دیتا ہے کہ ممی کو دیکھو وہ کتنی بار Serve کر چکی ہیں اس شہر میں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو ان پر بھی کوئی effect ہوتا… لیکن وہ تو ہمیشہ گھر جوڑنے والی رہی ہیں۔ ان کو تو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے اس گھر میں… ہے ناں ممی؟” اس نے بات کے آخر میں استفہامی انداز میں عکس سے پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔ پھر وہ آہستہ قدموں کے ساتھ برآمدے سے باہر نکل آئی۔ مثال بھی اس کے ساتھ باہر آگئی تھی۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے بالکل سامنے موجود لان میں آگئی تھیں۔ عکس نے لان میں پہنچ کر پلٹ کر روپہلی دھوپ میں روشن اس قدیم گھر کو دیکھا۔ مثال بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں اس گھر کو دیکھنے لگی۔ عکس نے چند لمحے اس گھر کو دیکھتے رہنے کے بعد کہنا شروع کیا۔
    ”اس گھر میں اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ہے… کم از کم میرے نزدیک… اس گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر ہے… دنیا میں کچھ اچھے لوگ ملتے ہیں، کچھ برے لوگ… اچھوں کی اچھائی بھی زندگی بدل سکتی ہے، بروں کی برائی بھی… پر جگہوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو بھی کچھ ہوتا ہے وہاں بسنے والے انسانوں کی وجہ سے ہوتا ہے… تمہیں سمجھ آرہی ہے میری بات؟” عکس نے گردن موڑ کے برابر کھڑی مثال کو دیکھا۔ وہ جواباً مسکرا دی۔
    ”سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔” عکس بھی اس کی بات پر مسکرائی۔ پھر وہ دوبارہ گھر کو دیکھنے لگی۔
    ”گھروں میں کچھ نہیں ہوتا، وہ انسانوں کو جوڑنے یا توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ بس اینٹوں، سیمنٹ، سریے اور لکڑی کی ایک عمارت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے… ان کے اندر آکر رہنے والے انسان اپنی سوچ، عمل اور رویوں سے اپنی زندگی بناتے یا بگاڑتے ہیں۔” مثال بہت سنجیدگی سے عکس کی بات سن رہی تھی وہ ہمیشہ اس کی بات اسی سنجیدگی اور انہماک سے سنا کرتی تھی، عکس مراد علی اس کا آئیڈیل تھی۔ وہ ہمیشہ اس جیسا بننا چاہتی تھی۔ لیکن ہر بار وہ یہ اعتراف کرتی تھی کہ ان جیسا بننا بہت مشکل کام تھا۔ کم از کم مثال شیردل کے لیے… یا کسی کے لیے بھی۔ مثال نے زندگی میں عکس مراد علی جیسی کوئی شخصیت نہیں دیکھی تھی اوراسے فخر تھا وہ ”شخصیت” اس کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی ماں تھی۔
    ”میں اس گھر کے ایک کوارٹر میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ کوارٹر اب وہاں ہے بھی نہیں۔” عکس نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔ ”میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کوارٹر سے باہر نکل کے میں کبھی اس گھر میں آکے رہوں گی… اس گھر میں اپنی ماں اور نانا کے ساتھ آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں کام کرتے تھے یہاں… یہاں پوسٹ ہونے والے آفیسرز اور ان کی فیملیز کی خدمت کیا کرتے تھے… میں اس back ground کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی پھر اس گھر میں رہنے والے ایک کپل نے مجھے اچھی تعلیم دلوانے کے میرے نانا کے خواب کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس گھر میں میری زندگی کی بنیادیں ہیں۔ وہ بنیادیں جن پر آج میری زندگی کی عمارت کھڑی ہے… یہاں پر میں اپنے بہترین دوست اور جیون ساتھی سے ملی۔ یہاں میری پہلی اولاد ہوئی… میری زندگی کے بہت سارے Milestones اس گھر سے وابستہ ہیں۔”
    ”آپ کے لیے تو یہ گھر بڑا Lucky رہا ہے پھر۔” مثال نے مرعوب انداز میں کہا۔ عکس اس کی بات پہ ہنس پڑی اور اس نے اس طرح مسکراتے ہوئے اس گھر کو دوبارہ دیکھا پھر کہا۔
    ”اس گھر میں، میں نے اپنے باپ کو کھویا، اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے، اپنے نانا کو کھویا… یہاں میں اپنے بچپن میں Child abuse کا شکار ہوئی… بہت ذلت اور بے عزتی کی حالت میں اپنی فیملی کے ساتھ دھکے دے کے نکالی گئی۔ میرے کیریئر میں واحد معطلی بھی اسی گھر میں ہوئی۔” عکس نے مسکراتے ہوئے مثال کو دیکھا۔ وہ اب الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”اب تم سوچ رہی ہو گی کہ نہیں، یہ گھر تو میرے لیے بہت Unlucky ثابت ہوا۔” مثال کچھ بے بسی سے مسکرائی تھی۔ ”میں نے تم سے کہا ناں، گھروں میں کچھ نہیں ہوتا۔ انسان نے چوٹ کھا کے گرنا ہے یا تکلیف سہتے ہوئے بھی کھڑے رہنا ہے؟ یہ فیصلہ اس کی ہمت کرتی ہے، گھر نہیں۔” عکس نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”لیکن ممی اس گھر کے ملازم کہتے ہیں کہ یہاں انہوں نے بونے دیکھے ہیں، اور ہم نے بھی کچھ عجیب عجیب آوازیں اور چیزیں experience کی ہیں۔” مثال کی بات پہ عکس مسکرائی اور اس نے کہا۔
    ”میں بھی بچپن میں یہاں بہت عجیب چیزیں دیکھتی تھی۔” مثال اس کے اس غیر متوقع جملے پر کچھ حیران ہوئی پھر اسی حیرانی سے کہا۔
    ”اوہ، رئیلی ممی۔” عکس مثال کو دیکھنے لگی۔
    ”ہاں۔”پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”آپ نے کبھی یہاں بونے دیکھے؟” مثال نے بڑے تجسس سے پوچھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے عکس کی آنکھوں کے سامنے پتا نہیں کیا کچھ گزر کرچلا گیا تھا۔ وہ سارے Mental Block چند لمحوں کے لیے جیسے بالکل بیکار ہو کے رہ گئے تھے، جس سے اس نے اپنی زندگی کی اس سیاہ ترین رات کو چھپایا ہوا تھا۔
    ”آپ خاموش کیوں ہیں ممی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کے جیسے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی، عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”بتائیں ناں، آپ نے کبھی اس گھر میں بونے دیکھے؟”
    ”ہاں۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال یکدم excited ہوئی۔
    ”Oh my God… آپ نے واقعی بونے دیکھے؟” عکس نے سرہلایا۔ اس نے اسی انداز میں عکس سے پوچھا۔ کتنے بونے دیکھے؟”
    ”ایک۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال نے ایک بار پھر excited انداز میں کہا۔ ”wow! وہ بونا دیکھنے میں کیسا تھا؟ آپ کو ڈر لگا اس سے؟ اس نے آپ سے کچھ کہا…؟ کچھ کیا؟” مثال نے جیسے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
    عکس نے ایک گہری سانس لی۔
    اتنے بہت سارے سوالوں کا جواب اور وہ بھی اس کے بچپن کے اس تکلیف دہ واقعے کے بارے میں جس کو سوچنا زخموں پر پاؤں رکھ کر گزرنے جیسا تھا۔
    ”آپ کو اس کی شکل یاد نہیں آرہی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کر کریدا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی۔ وہ جیسے اسے سوال کا جواب نہ دینے کا موقع دے رہی تھی۔
    ”بعض چہرے انسان چاہے تو بھی نہیں بھول سکتا۔” اس نے مدھم آواز میں کہنا شروع کیا۔”وہ بونا بہت خوب صورت تھا… اچھی شکل صورت کا …انسانی شکل صورت اور وجود … بہت دراز قد…”




  • عکس — قسط نمبر ۱۵

    طغرل نے اس آئینے میں پہلے اپنے آپ کو دیکھا پھر اپنے عقب میں آئے شیردل اور عکس کو دیکھا۔ اسے وہاں رکے دیکھ کر شیردل بھی وہاں چند لمحوں کے لیے رک گیا تھا۔ عکس نے پلٹ کر ایک بار پھر باذل کا ہاتھ پکڑ لیا جس نے بڑی مہارت سے گاڑی سے نکل کر یہاں برآمدے میں آنے تک چند قدموں کے فاصلے میں دو بار اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔ اس پر قابو پانا صرف اسی کا کمال تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں نے تمہاری ممی کو پہلی بار کہاں دیکھا تھا؟” عکس نے آئینے کے سامنے کھڑے شیردل کو طغرل سے کہتے سنا۔
    ”کہاں پاپا؟” طغرل نے بڑی دلچسپی سے گردن موڑ کرباپ کو دیکھا۔
    ”اسی مرر میں۔” عکس کی نظریں آئینے میں شیردل سے ملی تھیں۔ ان آنکھوں میں شیردل کو حیرانی نظر آئی۔ وہ مسکرایا تھا اور وہ حیرانی پل بھر میں ایک کھلکھلاہٹ میں بدل گئی تھی۔ عکس ہنس پڑی تھی۔ اسے یاد آگیا تھا شیردل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس نے پہلی بار اسے اسی آئینے میں دیکھا تھا جب وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا تھا اور وہ برآمدے کے ایک ستون کے پیچھے چھپی اسے دیکھتی رہتی تھی… کسی میکانیکی انداز میں اس نے بے اختیار گردن موڑ کر اس ستون کو دیکھا تھا۔ ستون اب بھی وہیں تھا لیکن اس کے گرد وہ بیل نہیں تھی شاید نمی کے اثرات کو روکنے کے لیے ان تمام بیلوں کو ستونوں اور دیواروں سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا جو کئی سال پہلے اس گھر کی شناخت تھیں۔ عکس نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔ گھر بہت بدل گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس کی ایک، ایک چیز کو آج بھی آنکھیں بند کیے چھو کر بھی پہچان سکتی تھی۔ وقت زندگی کو کس طرح بہا کر لے جاتا ہے کہ انسان خود بھی اسے روکنے بیٹھے تو روک نہ سکے… گزر جانے والے لمحوں کو گننے بیٹھے تو گنتی بھول جائے۔




    ”آپ مذاق کررہے ہیں۔” نو سالہ طغرل نے پہلے الجھ کر پھر ہنس کر اسی آئینے میں دیکھتے ہوئے شیردل سے کہا۔ اس کے تبصرے نے عکس کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ لی۔
    ”کیوں؟” شیردل نے طغرل سے پوچھا۔
    ”ممی اس مرر میں کیسے ہو سکتی ہیں؟” طغرل نے جیسے اپنی بے یقینی کی وضاحت کی۔
    ”دیکھو ابھی ہیں یا نہیں؟” شیردل نے اس کی وضاحت کے جواب میں آئینے میں نظر آتی عکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اطمینان سے پوچھا۔ طغرل نے آئینے میں عکس کو دیکھا۔ باپ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ وہ واقعی آئینے میں تھی۔ طغرل الجھا پھر ہنس پڑا۔
    ”پاپا یہ تو ان کا reflection ہے۔” اس نے جیسے شیردل کی کم علمی بتائی۔
    ”یعنی عکس ہے۔” شیردل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    عکس تب تک ان کے قریب آچکی تھی۔ اس نے شیردل کے کندھے کو ہولے سے چھوتے ہوئے کہا۔ ”تم بس کر دو اب… کب تک اس بے چارے کو تنگ کرتے رہو گے۔ ذرا اسے سنبھالو تو پھر پتا چلے۔” اس نے باذل کا ہاتھ شیردل کے ہاتھ میں دے دیا۔
    شیردل نے ایک نظر سات سالہ باذل کو دیکھا پھر جیسے کچھ احتجاجی انداز میں عکس سے کہا۔ ”تم ہمیشہ مجھے مشکل چیلنج دیتی ہو۔”
    ”تم ہر آسان چیلنج کو بھی مشکل بنا لیتے ہو اپنے لیے۔” وہ اطمینان سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔ آج اس آئینے کے سامنے کھڑے اس نے اس آئینے میں اپنے شوہر اور بچوں کے علاوہ کسی اور چیز کو کھوجنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ تلاش کئی سال پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
    ”پاپا! آپ کیا مجھے اٹھا سکتے ہیں؟” شیردل کے ساتھ اندرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے باذل کے قدم تھمے اور اس نے بڑی معصومیت سے شیردل سے پوچھا۔
    ”میں اٹھا سکتا ہوں لیکن اٹھاؤں گا نہیں۔” شیردل نے جواباً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”ممی اٹھا سکتی ہیں مجھے۔” باذل نے جیسے باپ کی مردانگی کو چیلنج دیا جسے شیردل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کیا۔ عکس بڑی خاموشی کے ساتھ باپ بیٹے کی گفتگو سنتے ہوئے اندر کی جانب بڑھتی رہی۔
    ”تمہاری ممی اس گھر میں dwarfs (بونے) دیکھا کرتی تھیں جب وہ چھوٹی تھیں۔” شیردل نے چلتے چلتے یک دم جیسے کچھ یاد آنے پر طغرل کو بتایا۔
    ”Really mummy?۔” طغرل چلتے چلتے بے یقینی کے عالم میں رک کر عکس کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی ٹھٹک گئی تھی اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گزر گیا تھا۔
    ”dwarfs… بونے… آئینہ…” شیردل نے اسے کیا یاد دلا دیا تھا۔ اسے وہ سات ساتھی بونے بھی یاد آگئے تھے۔ اس کے تصوراتی دوست… لیکن جس برق رفتاری سے وہ یاد آئے تھے اسی برق رفتاری سے ان کے حلیے، حرکتیں اور نام یاد نہیں آئے تھے… اس میں وقت لگا تھا… اس میں اگلے دو دن لگ گئے تھے۔
    ”پاپا مذاق کر رہے تھے۔” عکس نے مدھم انداز میں طغرل کی حیران آنکھوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔ شیردل نے گردن پلٹ کر جیسے پرحیرت نظروں سے اسے دیکھا۔
    ”میں مذاق کررہا ہوں؟ تم نے خود ہی تو مجھے بتایا تھا ایک بار کہ تم نے یہاں…” عکس نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”بچپن کی بات تھی وہ اور بچپن میں انسان کو پتا نہیں کیا کیا وہم ہوتے رہتے ہیں۔” وہ بڑی سہولت سے کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ شیردل نے کچھ حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔
    ”پاپا، ممی نے really dwarfs دیکھے تھے یہاں؟” طغرل کا تجسس کم نہیں ہوا تھا۔
    ”اپنی ممی سے پوچھنا، وہ آپ کو بتائیں گی۔” شیردل بھی اسے ٹالتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
    ……٭……
    اس گھر میں عکس مراد علی کی وہ دوسری پوسٹنگ تھی۔ پورے دس سال کے بعد… لیکن اس بار وہ وہاں کمشنر کی حیثیت سے آئی تھی۔ اس شہر کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہو جانے کے بعد وہاں تعینات ہونے والی پہلی کمشنر… کمشنر کی رہائش گاہ زیرتعمیر تھی اور اس کے زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ کو وقتی طورپر کمشنر ہاؤس کا سرکاری درجہ دے دیا گیا تھا۔ گھر میں سامان کی شفٹنگ کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا لیکن یہ کام شیردل کی نگرانی میں ہوا تھا۔ وہ آج پوسٹ ہونے کے بعد پہلی بار اس گھر میں آئی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ دس سال پہلے ہونے والی یہاں اپنی پہلی پوسٹنگ کی طرح وہ آج اس طرح جذباتی نہیں ہوئی تھی نہ ہی اتنی ایکسائیٹڈ تھی… شاید اس لیے کیونکہ اس کے نانا اس کے ساتھ نہیں تھے۔ اس بار وہ ایک قلعہ فتح کرنے وہاں نہیں آئی تھی۔
    اس گھر کے ہال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عکس مراد علی نے عجیب سی اداسی محسوس کی۔ نانا اسے ایک بار پھر بری طرح یاد آنے لگے تھے۔ وہ آج ایک بار پھر اسے اس گھر میں کمشنر کے طور پر آتے دیکھتے تو بے حد خوش ہوتے۔ بہت سارے خواب صرف ان کے تھے اس کے حوالے سے… جو صرف وہ دیکھتے تھے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد عکس مراد علی کے نزدیک کامیابی کا مفہوم وہ نہیں رہا تھا جو نانا کی زندگی میں تھا۔
    ہال کمرے میں کھڑی ان در و دیوار کو اداسی سے دیکھتے ہوئے وہ یک دم چونکی تھی۔ شیردل نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا۔ وہ اب اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ اس لمس میں عجیب دلگیری تھی، کچھ کہے اور سنے بغیر بھی جیسے دنیا جہان کی گفتگوتھی… ہر مرہم بننے والا پھایا محسوس ہونے والا لفظ…
    ساری عمر وہ دونوں ایک دوسرے کی خاموشی کو اسی طرح پڑھتے رہے… لفظوں کے بغیر… اداسی کو بیرومیٹر کی طرح بھانپ لیتے تھے اور خفگی کو راڈار کی طرح… اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
    عکس مراد علی نے ایبک شیردل کے چہرے کو گردن موڑ کر دیکھا۔ اس نے اس کی نظریں محسوس کرتے ہی جیسے بڑی حیرانی سے اس سے کہا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ”کچھ نہیں۔” وہ مسکرا دی۔ اس نے اس کے گال پر نظر آنے والے پلک کے ایک بال کو انگلیوں کی پوروں کی غیر محسوس حرکت سے ہٹایا تھا۔ زندگی میں ایسا جیون ساتھی بہت خوش قسمت عورتوں کے حصے میں آتا تھا۔ عکس مراد علی نے وہاں کھڑے چند لمحوں کے لیے جیسے عجیب تعجب سے سوچا۔ اس گھر میں اپنا بچپن گزارتے ہوئے اس نے جتنی بھی خواہشیں کبھی کی تھیں وہ تمام پوری ہوئی تھیں اور اس بات کا ادراک اسے عجیب وقت پر ہوا تھا۔ یہ گھر خوش قسمتی اور بدقسمتی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھا اس کے لیے۔
    ……٭……
    شرمین اور فاروق نے شہربانو کو ائرپورٹ پر ریسیو کیا تھا لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ شہربانو نے بے حد تھکے ہوئے انداز میں مثال کو ماں کو پکڑا دیا تھا۔ وہ مثال کو بہلانے پھسلانے یا ڈرانے کسی بھی چیز میں پورا راستہ کامیاب نہیں ہوئی تھی اور اب شرمین کی صورت میں اسے جیسے کچھ دیر کے لیے اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے ایک اور کندھا مل گیا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مثال شرمین سے بھی بہلنے والی نہیں تھی۔ ایک بچے کے طور پر بھی وہ صورت حال کی سنگینی کو بھانپ گئی تھی۔ وہ چند ہفتے پہلے والی مثال نہیں تھی جو خوشی خوشی امریکا اپنی نانی اور نانا کے پاس چھٹیاں گزارنے آئی تھی اور ائرپورٹ سے لے کر گھر تک شرمین کو پتا نہیں کیا کیا قصے سناتی رہی تھی۔ اس بار مثال، شرمین کی بے تحاشا کوششوں کے باوجود صرف اس ایک جملے کے سوا کچھ بولنے پر تیار نہیں تھی کہ اسے پاپا کے پاس جانا ہے۔ وہ پاپ کو مس کررہی تھی۔ فاروق خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہے تھے۔ شہربانو ان کے برابر والی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے اس خوفناک خواب کے بارے میں سوچتی رہی تھی جو اس نے حقیقت میں دیکھا تھا۔ عقبی نشست میں شرمین، مثال کو لیے بیٹھی کسی طرح اس کو بہلانے کی کوششوں میں مصروف تھیں اور ہر بار اس کے منہ سے نکلنے والے جملے شہربانو کے اعصاب پر جیسے ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ وہ مثال کو اپنی ”ساری فیملی” سمجھ کر سمیٹ لائی تھی اور مثال کی ساری فیملی سمٹ کر جیسے شیردل کی ذات پر آکر ٹھہر گئی تھی… تو وہ… خود وہ شہربانو کہاں کھڑی تھی۔
    اگلے دو دن شہربانو اور شرمین کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن شرمین اسے یہ ضرور بتاتی رہی تھیں کہ پاکستان سے کس کس کا کتنی کتنی بار فون آیا تھا اور امریکا میں ان کے کس کس رشتے دار نے شیردل کی فیملی کے دباؤ پر ان سے رابطہ کیا تھا۔ شہربانو نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کا تھا۔ وہ جیسے عجیب گم صم سی حالت میں تھی۔ عجیب سوتی جاگتی کیفیت جس میں وہ اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار رکھ کر جوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی جارہی تھی کہ شاید کسی طرح وہ اس سارے معمے کا کوئی حل، کوئی شکل نکال پاتی… ہر بار وہ ناکام رہی۔ مثال کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی صرف اب اگر کوئی فرق پڑا تھا تو یہ کہ وہ ہر وقت روتی نہیں رہتی تھی لیکن وہ بھی شہربانو کی طرح کوئی کھلونا پکڑے کسی کونے میں بیٹھی رہتی پھر یک دم کسی بات پر ضد شروع کر دیتی اور پھر کتنی کتنی دیر بیٹھ کر روتی رہتی۔ شہربانو عجیب میکانیکی انداز میں اسے روتا دیکھتی رہتی۔ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ مثال کے اس طرح رونے کو اتنی سردمہری کے ساتھ نظرانداز کر سکتی تھی، اس کی چیخ و پکار کے سامنے اس طرح بے حس ہو سکتی تھی لیکن وہ ہو گئی تھی۔ انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑ جاتا ہے وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے… میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح ہو سکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں جواب نہیں… جواب بس ایک ہوتا ہے… اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا… شہربانو کو بھی نہیں مل پارہا تھا۔
    ”اب تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” دو دن کے بعد بالآخر شرمین نے ایک رات اس سے اس موضوع پر بات کی۔ وہ کچن صاف کررہی تھیں اور وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑے اسٹول پر کافی کا مگ لیے بیٹھی تھی۔
    ”پتانہیں۔” شرمین کو پتا تھا وہ کیا کہے گی۔ وہ بھی اس کے قریب کاؤنٹر کے دوسری طرف اسٹول پر آکر بیٹھ گئیں۔
    ”تم شیردل کے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟” انہوں نے بالآخر ایک لمبی خاموشی کے بعد کہا۔
    ”نہیں۔” جواب کسی توقف کے بغیر آیا تھا۔
    ”divorce چاہتی ہو؟” شرمین نے اگلا سوال کیا۔
    ”شاید۔” جواب اس بار بھی جلدی آیا تھا لیکن الجھن لیے ہوئے تھا اور الجھن کیوں تھی، شہربانو کے پاس اس بات کا بھی جواب نہیں تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۴

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی شہربانو کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی، وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے… ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوئی ہوئی چمک، بجھی ہوئی رنگت… وقت نے ایسے ہی بہت سے نشانات اس کے اپنے وجود اور اس چہرے پربھی چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا… ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو… شیردل کو… آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا لیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح نظریں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی… وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    شیردل اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندر چلا گیا تھا۔ شہربانو نے سر اٹھا کر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا۔
    زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی… نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی… وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی… اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ تھی جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو شہربانو اس گھر کا نام لیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود شہربانو وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی۔ کیونکہ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔
    ……٭……




    بختیار شیردل نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے خیردین کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لیے بات کا آغاز کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈتے ہوئے انہیں بھی دانتوں پسینے آگئے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تھے اور جس چیز کی معذرت وہ کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر بھی زبان پر لاتے ہوئے وہ منوں بوجھ کے نیچے دب رہے تھے۔ وہ طبقاتی فرق پر یقین رکھتے تھے لیکن بے ضمیری پر نہیں۔ ان کے برابرمیں بیٹھی ہوئی منزہ نے ایک بار بھی خیردین کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ بس بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اپنی کلائی میں موجود رولیکس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی رہی۔ بختیارشیردل کو اسے خیردین کے پاس معذرت کے لیے چلنے پر تیار کرنے کے لیے زندگی میں پہلی بار بہت سخت لفظوں کا استعمال کرنا پڑا تھا اور ان لفظوں نے منزہ کی خفگی کو جیسے بڑھا دیا تھا۔ شوہر کے غصے نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور ان کی بات ماننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ دل میں موجود کدورت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ بختیارشیردل جیسے ایک چور کو اس گھر میں اس مالک کے سامنے لے آئے تھے جس کے گھر میں ڈاکا ڈالا گیا تھا۔
    ”آپ کچھ لیں گے؟” غیر متوقع طور پر گفتگو کا آغاز خیردین نے کیا تھا۔ وہ شاید ان کی مشکل بھانپ گیا تھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں… thank you۔” بختیار نے بڑی شائستگی کے ساتھ انکار کیا۔ خیردین نے ان کے انکار کے باوجود کارنر ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر ملازم سے چائے کے لیے کہا اور پھر ریسیور رکھ دیا۔ ہتک کی کوئی انتہا تھی جو منزہ اس وقت وہاں خیردین کے سامنے بیٹھے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ وہ اسی گھر میں ایک مہینہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کرتا رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کو استری کرنے سے لے کر اس کے جوتے صاف کرنے تک… صبح اس کو بیڈ ٹی پہنچانے سے لے کر آدھی رات کو کسی بھی وقت طلب کیے جانے پر حاضر ہو جانے تک… اور اس کی کبھی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ سکے… وہ ہاتھ باندھ کر آتا تھا، ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا تھا اور اسی طرح ہاتھ باندھے سر جھکائے چلا جایا کرتا تھا اور اب وہ ان کے لیے اس گھر کے اس صوفے پر بیٹھ کر چائے آرڈر کر رہا تھا جہاں پر میزبان بیٹھا کرتا تھا اور اب وہ ان کے ساتھ انہی برتنوں میں چائے پیے گا جن برتنوں میں وہ پئیں گے اور یہ سب اس کے اس احمق شوہر کی وجہ سے ہورہا تھا جو 21 گریڈ کا ایک سیکریٹری ہوتے ہوئے 18 گریڈ کی ایک ڈپٹی کمشنر کے گھر اپنے ضمیر کی چبھن مٹانے آیا تھا۔
    ”idiot۔” اس نے دل ہی دل میں اپنے شوہر کو کوسا۔ وہاں خیردین کے برابر بیٹھنا منزہ کے لیے جیسے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنے کے برابر تھا۔ اتنے سال اپنے بھائی کی جس عزت کو بچانے کے لیے وہ کامیاب جدوجہد کرتی آرہی تھی وہ آج بیچ چوراہے نیلام ہونے چلی تھی اور اس کا سارا کریڈٹ اس کے ”باضمیر” شوہر اور الو کے پٹھے بیٹے کو جاتا تھا۔
    ”میں اپنی فیملی کی طرف سے شہباز حسین سے ہونے والی ساری غلطیوں کے لیے معذرت کرنے آیا ہوں۔” بختیار نے بالآخر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ”شہباز اب اس دنیا میں نہیں ہے ورنہ میں اسے ساتھ لے کر آپ کے پاس آتا۔ اس نے جو کچھ بھی آپ کے اور آپ کی نواسی کے ساتھ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی اچھے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کے طرزعمل کے لیے آپ سے کتنا شرمندہ ہوں آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” آنسو خیردین کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک لمحہ میں امڈ آئے تھے۔ اسے بختیار شیردل سے اتنے کھلے لفظوں میں اس گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کی ملاقات کس لیے ہورہی تھی۔ ایبک شیردل کے والدین اگر اس سے ملنے آرہے تھے تو کس لیے آرہے تھے… اس نے بہت سے اندازے لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے کسی اندازے میں شہباز حسین نہیں آیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد منزہ کو دیکھنے پر اور بختیار کے منہ سے اسی قصے کا ذکر سننے پر وہ جیسے بری طرح دل گرفتہ ہوا تھا۔ وہ بختیار شیردل سے اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کے بعد بھی دو تین سرکاری فنکشنز میں ایبک شیردل کے ساتھ مل چکا تھا لیکن وہ منزہ سے پہلی بار مل رہا تھا۔ بختیار کی گفتگو سنتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہورہا تھا کہ چڑیا اس سے ایبک شیردل کے بارے میں اتنا بڑا راز چھپا سکتی تھی… کیا وہ بھی اسی کی طرح اس خاندان کی شناخت سے بے خبر تھی؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور تبھی بختیار نے اس کیس کا ذکر شروع کر دیا۔ خیردین کو کرنٹ لگا تھا تو اس کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا تھا وہ جانتی تھی ایبک شیردل کون تھا اور اس نے پھر بھی خیردین کو کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا… کیوں؟ خیردین کو زندگی میں پہلی بار اپنی چڑیا سے گلہ ہوا تھا۔
    ……٭……
    شیردل اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ شہربانو سے ان دو سوالوں کی ان الفاظ میں توقع نہیں کررہا تھا۔ نہ وہ عکس کا ذکر اس انداز میں سننے کی امید رکھے ہوئے تھا۔
    شہربانو کو اس کی اس خاموشی سے خنجر کی کاٹ جیسی تکلیف ہوئی جو ان دو سوالوں کے جواب میں اسے شیردل سے ملی تھی۔ سارے خدشات، ساری بدگمانیوں، سارے گلے شکووں کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں اسے بھی جیسے ایک عجیب سی امید تھی کہ وہ بے ساختہ انکار کرے گا، تردید کرے گا… اس نے ایسا تو کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے کہ اس کے سامنے کھائی آجاتی۔ شیردل کی خاموشی نے اس کے اندر کے شور کو یک دم اور بڑھا دیا تھا۔
    ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جواب اتنا مشکل ہے تمہارے لیے۔” شہربانو نے عجیب شکست خوردگی کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ شکست اس کے غصے کو عجیب طرح سے بھڑکانے لگی تھی۔
    ”احمقانہ باتوں اورسوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔” شیردل نے بالآخر جیسے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”احمقانہ؟” وہ تلخی سے ہنس پڑی۔ ”شیردل تم اپنے دل سے پوچھو کہ تمہیں یہ سوال احمقانہ لگا ہے؟” اس نے عجیب چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
    ”ہاں مجھے لگا ہے۔ اسی لیے کہا ہے تم سے…” شیردل نے بڑی خفگی کے ساتھ اس سے کہا۔ ”ہم کیس کو ڈسکس کررہے تھے… میرے اور عکس کے حوالے سے کوئی ڈسکشن نہیں ہورہی تھی۔”
    ”یہ کیس تمہاری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ تمہارے اورعکس کے اس تعلق کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس پر تم بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری کہانی میں یہ تیسرا اینگل نہ ہوتا تو یہ کیس بھی کورٹ میں نہ ہوتا۔” شہربانو نے بے حد تلخی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۳

    چند لمحے پہلے آئینے میں نظر آنے والے اپنے عکس کو اس بار اس نے خیردین کی آنکھوں میں منعکس ہوتے دیکھا تھا۔
    ایک سرخ اور سنہرے کامدار دوپٹے کے ہالے میں دلہن کا روپ لیے چمکتا ہوا اس کا چہرہ… ماتھے کے بیچوں بیچ تاج کی طرح ٹکا اس کے لباس کے ہم رنگ سرخ پتھروں سے مرصع بیضوی شکل کا ایک ٹیکا… اس کے کانوں میں ہلکورے لیتے لمبے لمبے جھمکے جن کے نچلے حصے پر لٹکتے سرخ باریک موتی اس کی قمیص کے گہرے گول گلے سے ہمیشہ کی طرح نمایاں کالر بون کو گردن کے ذرا سے خم پر چومنے لگتے تھے اور اس کی باریک صراحی دار گردن کے گرد موجود سرخ پتھروں کا وہ نیکلس جس کا نیچے کو نکلا ہوا سنہری بیضوی حصہ اس کی سرخ قمیص کے سرے کو چھو رہا تھا۔ وہ آئینے میں اپنے شفاف اور واضح اس عکس کو دیکھ کر مبہوت نہیں ہوئی تھی۔ خیردین کی آنکھوں میں اپنے دھند لائے ہوئے عکس کو دیکھ کر ہوگئی تھی۔ وہ اپنے نانا کی آنکھوں کی نمی میں ہلکورے لے رہی تھی یا شاید وہ اس کی اپنی آنکھوں کی نمی تھی جس نے خیردین کی آنکھوں کی نمی میں دھند لاتے اس کے عکس کو کچھ اور دھند لا کر دیا تھا۔




    لیکن خیردین اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ… بے یقینی کے ایک عجیب سے جہاں میں پہنچے ہوئے۔
    اس کے چہرے سے بالا خر نظریں پہلے خیردین نے ہی ہٹائی تھیں۔ وہ اپنی چڑیا کو اپنی نظر لگنے سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جس کو دیکھنے کے لیے وہ کئی سالوں سے متمنی تھا اور آج اس روپ میں چڑیا کو دیکھتے ہوئے اس کا دل عجیب سی خوشی اور طمانیت کے ساتھ ساتھ بڑی عجیب سی کسک محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی چڑیا کو اپنا جیون ساتھی مل گیا تھا وہ اس کے ساتھ اب ایک نئے سفر پر اڑجانے والی تھی۔
    عکس نے خیردین کو خود سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسے اپنے ساتھ لپٹاتے دیکھا۔ وہ جذباتی نہیں تھی لیکن وہ اس لمحے رودی تھی۔
    وہ چند منٹ پہلے بیوٹی پارلر سے نکاح کی اس سادہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھی جو اسی گھر کے لان میں منعقد کی گئی تھی اور دروازے پر اس کا استقبال خیردین نے ہی کیا تھا۔ وہ چڑیا کے چند گھنٹے پہلے پارلر جانے کے بعد سے وہاں مہمانوں کا استقبال کرتا وہاں سے ہلا نہیں تھا۔ اسے اپنی چڑیا کی واپسی کا انتظار تھا۔ دلہن کے روپ میں اس پر پہلی نظر ڈالنے کی بے قراری… خیردین کی نظریں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں پائیں باغ کی طرف بھیجتے ہوئے بھی گیٹ پر جمی رہی تھیں۔
    اور اب جب وہ گھر کے اندرونی دروازے کے سامنے گھر کے اندر جانے کے لیے اپنی چند دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی تو خیردین کا دل عجیب طرح سے بوجھل تھا۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی نہ خیردین نے اسے عام طرح سے پالا تھا پھر بھی وہ ایک لڑکی تھی اور خیردین کا دل ویسے ہی اندیشوں اور خدشات سے دوچار تھا جیسے اندیشے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو ایک انجان آدمی کے ساتھ ایک انجان سفر پر رخصت کرتے ہوئے رکھتا…چاہے وہ انجان آدمی جیون ساتھی ہی کیوں نہ ہوتا۔ چاہے وہ انجان سفر زندگی کا سفر ہی کیوں نہیں ہوتا۔
    خیردین نے اسے کندھوں سے تھامے ہوئے اس کے جھکے ہوئے سر کو پھر ماتھے کو چوما ،عکس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اپنے نانا کو دیکھا وہ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی اس نے خیردین کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے لیے کیا دعائیں کررہا تھا وہ اس کے ساکت ہونٹ سے بھی سن سکتی تھی۔ عکس مراد علی نے اپنی ساری زندگی میں ایسا مرد کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شفیق تھا، رہبر تھا، دوست تھا، غم خوار تھا، اس پر جان چھڑکنے والا تھا اوروہ اس کے لیے اپنی انا اور عزت کو ہر بار کی طرح اس بار بھی کہیں بہت پیچھے رکھ آیا تھا۔ ایسا کون ملے گا اسے جو اسے خیردین کی طرح چاہے گا… کبھی کوئی نہیں مل سکتا، کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا ،کوئی اس کے لیے اپنے دل میں ویسی غیر مشروط محبت رکھ ہی نہیں سکتا۔ چڑیا نے اپنے نانا کی آنکھوں میںیہ سب پڑھا تھا۔ کھلی کتاب کی طرح جس کا ایک ایک لفظ خود بول رہا تھا۔
    بنا کچھ کہے اس نے خیردین کا ہاتھ تھام لیاتھا۔ اس ہاتھ کے لمس میں وہ تشکر جھلک رہا تھاجو عکس کے دل میں تھا اور جو اس کے نرم ہاتھ کی سخت گرفت میں تھا۔
    ”میں تمہارے بغیر بہت اداس ہوجاؤں گا چڑیا۔”خیردین نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”نانا میں آپ کی زندگی سے کہیں جاؤں گی تو اداس ہوں گے نا آپ۔ میں کہیں نہیں جارہی ، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔” خیردین رنجیدگی سے اس کی تسلی سنتے ہوئے مسکرادیا تھا۔ وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی۔
    ”رک کیوں گئیں؟” خیردین نے اسے گھر کے اندرونی دروازے میں رکتے دیکھ کر کہا۔
    ”نہیں… ایسے ہی۔” وہ چونکی تھی اور اس نے اپنے ان سات ساتھیوں سے نظریں ہٹا لی تھیں جو ایک بار پھر اس کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اور جنہیں وہ ہمیشہ اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہیں نہ کہیں دیکھتی رہی تھی۔ وہ سات اس کی زندگی کے اس نئے سفر پر اسے رخصت کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں موجود تھے۔
    ٹوفو اس کے رو پہلی چوڑی دار پاجامے کی چوڑیوں کے ساتھ لٹکا اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف تھا۔ کنٹا اس کی پینسل ہیل والے جوتے کے اسٹرپ سے چپکا اس کے پیروں پر بنے مہندی کے نقش ونگار پر غور فرمانے میں مصروف تھا۔ منٹا ایک باجا پکڑے گھر کی دہلیز پر ادھر سے ادھر جاتے ہوئے اسے بجانے میں لگا تھا۔ ڈیڈو اچھل اچھل کر اس کے ٹخنوں تک پہنچتی سرخ قمیص کے سنہری کامدار دامن کو پکڑنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ٹوکو اس کے زمین تک لٹکنے والے دوپٹے کے پلو سے لٹکا ہوا تھا اور کٹو اور ٹنٹو خوشی سے بے قابو سر پر سالگرہ والی نوکدار لمبی ٹوپیاں پہنے پھر کی کی طرح گول گول گھومتے چکراتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اس کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کررہے تھے۔ چڑیا نے اس غیر مرئی دنیا کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو صرف اسے نظر آتی تھی اور جہاں کی ملکہ وہ تھی۔
    ایلس آج اپنے اس ونڈر لینڈ کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ایک نئے ونڈر لینڈ کو آباد کرنے جارہی تھی۔
    ……٭……
    ان دونوں نے بہت دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ شیردل چند لمحے پہلے ہی ہاسپٹل کے اس کوریڈور میں داخل ہوا تھا جہاں خیردین کا کمرا تھا اور عکس ابھی ابھی ہاسپٹل سے کسی کام کے لیے باہر نکل رہی تھی۔ شیردل کو آتے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ بہت دور سے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو ایک خیرمقدمی مسکراہٹ دی تھی۔
    ”کب آئے؟” عکس نے اس کے قریب آنے پر علیک سلیک کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ابھی، ابھی۔” شیردل نے جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے کو جیسے کھوجنے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا تھا۔ وہاں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ ایک انتہائی اطمینان بھری مسکراہٹ جس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں تھا۔
    ”کیا ضرورت تھی اتنی جلدی یہاں آنے کی؟ ریسٹ کرتے… کل پرسوں آجاتے یا فون پر حال پوچھ لیتے۔” عکس نے اسے کہا۔
    ”انکل کیسے ہیں؟” شیردل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
    ”اللہ کا شکر ہے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔” عکس نے جواباً کہا۔ ”تمہاری فلائٹ کیسی رہی؟”
    ”ٹھیک تھی، تم نے مجھے اپنی suspensionکے بارے میں نہیں بتایا۔” شیردل نے چھوٹتے ہی وہ سوال کیا جو ہاسپٹل تک آنے کے پورے راستے میں اسے پریشان کرتا رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی پھر اس نے اسی اطمینان سے کہا۔
    ”کیا بتاتی؟”ایک لمحے کے لیے اس کے سوال نے شیردل کو لاجواب کیا۔
    ”انفارم کرتیں مجھے، کل میری اور تمہاری بات ہوئی ہے تم نے ذکر تک نہیں کیا۔” وہ بات کرتے کرتے شکایت کرگیا۔
    ”فائدہ کیا ہوتا؟” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
    نقصان بھی کوئی نہیں تھا۔” شیردل نے جتایا۔
    ”میں نے نہیں بتایا تو بھی پتا تو چل ہی گیا نا تمہیں… ایسا کوئی راز تو نہیں تھا کہ پتا نہ چلتا۔ نانا سے ملوگے؟” اس نے اس کی شکایت کو بے پروائی سے نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” شیردل نے مختصراً کہا اور قدم آگے بڑھادیے۔ عکس بھی اس کے ساتھ واپس پلٹ گئی تھی۔
    ”suspensionکیوں ہوئی؟” شیردل نے ساتھ چلتے ہوئے اس سے پوچھا، وہ گردن موڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔
    ”پوری چارج شیٹ سناؤں یا صرف بنیادی وجہ بتاؤں؟” اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس سے شیردل پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔
    ”میں نے تمہیں منع کیا تھا۔” شیردل نے اس سے نظریں چراتے ہوئے خفگی سے کہا۔ ”اسی سب سے بچانا چاہتا تھا تمہیں، اسی سب سے بچانے کے لیے وارن کررہا تھا تمہیں۔”
    ”میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟” اس نے شیردل کی بات بڑے تحمل سے کاٹ دی تھی۔ ”اب تمہیں پتا چلا میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا اپنی سسپینشن کے بارے میں۔”
    ”تم اپنا سروس ریکارڈ خراب کررہی ہو عکس۔” شیردل چلتے چلتے رک گیا تھا۔
    ”شیردل وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔ مجھے چارج کیا گیا ہے میں انہیں explanation دے لوں گی۔ اور میرے لیے یہ سب غیر متوقع نہیں ہے۔ جس دن میں نے کیس فائل کیا تھا مجھے اندازہ تھا کہ میں کون سا پینڈورہ باکس کھولنے جارہی ہوں۔ اس لیے تم پریشان مت ہو۔ تم اپنی فیملی اور اپنے انکل کو defend کرو… مجھے کیس لڑنے کے لیے جو کرنا پڑا میں وہ کروں گی لیکن ہم پھر بھی دوست رہیں گے۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے عکس مراد علی بے وقوف لگی تھی۔
    ”تم عقل سے پیدل ہو۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
    ”اچھا؟”وہ بے اختیار ہنس دی تھی۔
    ”تم اتنا آسان سمجھ رہی ہو یہ سب کچھ… تمہارا خیال ہے کہ تمہیں اگر suspend کیا گیا ہے تو پھر تمہاری explanationلے کرتم سے معذرت کرتے ہوئے تمہیں بحال کردیا جائے گا۔” وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”شیردل میں کیس واپس نہیں لوں گی اور اب تو بالکل بھی نہیں۔ تم نانا کی عیادت کرنا چاہتے ہو یا ویسے ہی واپس جانا چاہتے ہو؟” اس نے شیردل کی بات کاٹ کر اسے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”جہنم میں جاؤ تم۔” شیردل اس کے جملے پر بری طرح جھنجلایا… وہ دوبارہ قدم اٹھاتے ہوئے مسکرائی۔
    ”میں وہاں سے گزر کر آئی ہوں۔ دوبارہ بھی جانا پڑا تو باہر نکلنے کا راستہ جانتی ہوں۔” اس کا اطمینان قا بل داد تھا اوروہ داد دیتا اگر کیس اس کے اپنے خلاف نہ ہوا ہوتا۔
    ”اور اب نانا سے میری suspension کا قصہ لے کر مت بیٹھنا۔” اس نے ساتھ چلتے ہوئے اسے ہدایت کی۔
    ”انہیں کچھ بتانا ہوتا تو سب سے پہلے اس کیس کے بارے میں بتاتا۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے بولا۔
    ”عقل مند ہوگئے ہو۔” وہ داد نہیں تھی راز کو راز رکھے رکھنے کی ترغیب تھی اور شیردل یہ بات جانتا تھا۔
    خیردین بستر پہ لیٹے ہوئے دروازے میں داخل ہوتے شیردل کو دیکھ کر مدھم انداز میں ہلکا سا مسکرایا تھا۔ شیردل بھی جواباً مسکرایا۔ وہ عکس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس سے کچھ بات کرتے کرتے وہ خیردین کے بستر کے قریب آگیا۔ خیردین پر ذرا سا جھکتے ہوئے اس نے خیردین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بڑی نرم آواز میں آس سے پوچھا۔
    ”آپ کی طبیعت اب کیسی ہے انکل؟” خیردین مسکرایا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۲

    عکس نے گاڑی سے اترتے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اوراس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔وہ وہاں سے اس آئینے کو دیکھ سکتی تھی اور وہ وہاں سے بھی شیر دل اور شہر بانو کو بھی دیکھ سکتی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے دل کی دھڑکن پر قابو پایا تھا۔ دوسری گہری سانس میں اس نے اپنے دماغ سے وہ سب غائب کرنے کی کوشش کی تھی جس کی کرچیاں اس گھرکے سامنے بیرونی سڑک پر سامان کے ایک ڈھیر پر اپنی ماں کے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے یہاں اندر تک چپے چپے پر بکھری ہوئی تھیں۔




    سب کچھ غائب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ ایک عام سرکاری رہائش گاہ تھی اب اس کے لیے۔ ایسی درجنوں عمارتوں میں وہ جاچکی تھی رہ چکی تھی۔ اس گھر میں بھی اس کے لیے کچھ غیر معمولی نہیں تھا… ایک عام پرانی لیکن شاندار عمارت۔ ویسی ہی ایک تقریب جو وہ کئی دفعہ اٹینڈ کرتی آئی تھی۔ ایک پرانی طرز کا پورچ اور داخلی دروازے کے پاس ایک پرانا آئینہ… ایک سرسری نگاہ میں اس مینٹل بلاک کے ساتھ اس نے صرف یہ دیکھا تھا… کسی بھی چیز پر نظر جمائے بغیر ہر چیز سے نظریں چراتے ہوئے۔ لوگ… جگہ نہیں… باتیں… چیزیں نہیں…میں کوئی تکلیف دہ یاد ذہن میں نہیں لاؤں گی۔ میں ماضی کی کسی چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی۔ میرا کل کا ورک شیڈول کیا ہے؟ یہاں سے ڈنر کے بعد کیا کیا کام کرنے ہیں میں نے؟ وہ اپنے ذہن کو مسلسل بھٹکارہی تھی ،بڑی کامیابی کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک رکاوٹ کو عبور کررہی تھی، جب تک اس نے شہر بانو اور شیر دل کو اکٹھا نہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ شہر بانو کو تصویروں میں دیکھ چکی تھی ۔وہ اسے چند فنگشنز میں شیر دل کے ساتھ دور سے دیکھ چکی تھی لیکن وہ آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھنے والی تھی، اس سے ملنے والی تھی…اس بار بی ڈول سے جو اس کے بچپن کی چندcinations faمیں سے ایک تھی اور جو اس کی زندگی میں سیاہ ترین باب کا اضافہ کرنے والے شخص سے منسلک تھی… اورجو اس شخص کی زندگی کا حصہ تھی جس سے اس نے شدید محبت کی تھی ۔
    آئینے میں نظرآتے اس عکس سے نظریں ہٹاتے ہوئے عکس مراد علی نے جیسے خود کو سنبھالنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے لمحے بھر کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی… وہ برسات جو اس کی آنکھوں سے نہیں برس پارہی تھی وہ کہیں اور سے برسنا شروع ہوگئی تھی اس نے ڈرائیور سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے باہر آیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے وہ ہر چیز کا سہارا لے رہی تھی۔
    پانی کی ہلکی سی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کرتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائیڈڈز ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹاڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں۔ مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا تھا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی۔ کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ آیا تھا۔ عکس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپر ٹٹولا تھا۔ اس کی یہ بے اختیاری شہر بانو نے نوٹس کی تھی جس کے برابر سے وہ یک دم ہٹا تھا۔ اس نے کمشنر کی گاڑی کے پورچ سے ہٹ جانے اور عکس کی گاڑی کے آگے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ عکس کے گاڑی سے نکل آنے پر وہ اس کا استقبال کرنے چلا گیا تھا۔ وہ دور جاتے شیر دل سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کمشنر کی بیوی سے بات کرتے ہوئے بھی وہ عجیب بے چین انداز میں شیر دل کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھتی رہی تھی جہاں اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس مراد علی کو اس نے ایک عجیب سے اضطراب کے ساتھ دیکھا تھا۔
    ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس جب تک پلٹی شیر دل اس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔عکس نے اس سے نظر چرائی… خود کو سنبھالا… پھر اسے دیکھا… وہ بہت بارایک دوسرے کے اتنے ہی قریب آکر کھڑے ہوچکے تھے… بہت بارایک دوسرے کے بالمقابل اتنے ہی فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی جھانکتے بھی رہے تھے… اور عکس مراد علی نے کبھی ان آنکھوں میں پہچان کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی… نہ چڑیا کے لیے… نہ اس سترہ سالہ عکس مراد علی کے لیے جو ایک انٹر کالجیٹ کے مقابلے میں ایبک شیر دل کا نام ہی سن کر بدک گئی تھی۔ جس نے اپنے کیرئیر کے بد ترین تقریری مقابلے میں اسٹیج پر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ایک ایک لمحہ اس خوف میں گزارہ تھا کہ وہ ابھی…ابھی چڑیا کو پہچان لے گا… اور وہ یہ کیوں نہ سوچتی کہ وہ اسے پہچان لے گا۔ چڑیا کی زندگی کے آٹھ سال ایبک شیر دل کے بارے میں سوچتے گزرے تھے۔ آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی اس سے ایبک کا حلیہ پوچھتا تو وہ سیکنڈز میں اس کے حلیے کی ڈیٹیل بتادیتی۔ اس کے نین نقش سے لے کر اس کے زیر استعمال ا سنیکرز اورا سپورٹس وئیر کے لیبلز اور برانڈز تک اسے یاد تھے۔ وہ ایبک کے ساتھ گزارے ہوئے ان چند ہفتوں کو اپنے ذہن کی ڈائری کی انٹریز کی طرح پڑھ سکتی تھی… ایبک کا ایک ایک جملہ… ایک ایک بات… پھر اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی ایبک کو اسی طرح یاد ہوگی تو یہ زیادہ بڑی خوش فہمی نہیں تھی۔ آٹھ سال اتنا طویل عرصہ نہیں ہوتا کہ ایبک اس کے چہرے کے نقوش میں کوئی یاد کھوج نہیں پاتا… لیکن ایبک شیر دل اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ نام سے اسے نہیں پہچان سکتا تھا کیونکہ خیر دین اسے چڑیا کہتا تھا یا پھر فاطمہ… اس کے نام کا دوسرا حصہ جس سے وہ چڑیا کے بعد جانی اور پہچانی جاتی تھی… عکس کے نام سے وہ اسکول کے علاوہ اور کہیں نہیں پکاری جاتی تھی۔ نہ گھر میں نہ خاندان میں… فاطمہ اس کے نام کا وہ حصہ تھا جس کا اضافہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے خاندان کے افراد کے عکس نام سے اسے پکارنے میں دقت کے بعد کیا گیا تھا۔ خیر دین نے اس کا نام بڑے شوق سے رکھا تھا لیکن چند ہفتوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نام کو اس کے خاندان اور گاؤں والے کبھی بھی صحیح تلفظ سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔ خیر دین نے چڑیا کا نام نہیں بدلا صرف اس میں فاطمہ کا اضافہ کردیا لیکن وہ اسکول ،کالج میں عکس مراد علی کے طور پر ہی جانی جاتی رہی۔ ایبک بھی خیر دین کی طرح اسے عکس یا فاطمہ کے بجائے چڑیا ہی کہتا رہا تھا۔ چڑیا کو پھر بھی خوش فہمی تھی وہ عکس کا لفظ سنتے ہی چڑیا تک پہنچ جائے گا، وہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی اسے پہچاننے لگے گا۔ یہ پہچا ن چڑیا کو کبھی خوف زدہ نہ کرتی اگر اس رات اس نے ایبک کو وہاںریلنگ کے پاس کھڑے چلاتے نہ دیکھ لیا ہوتا۔خوف اور دہشت کے عالم میں بھی ایبک کے سامنے بے لباسی کا احساس چڑیا کو گاڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی چیخوں نے چڑیا کی جان بچائی تھی مگر ان آٹھ سالوں میں بہت بار چڑیا اس ایک نظر سے نادم رہی جو اس نے ایبک کو خود پر ڈالتے دیکھی تھی… وہ جس حالت میں ایبک کے سامنے آئی تھی وہ اس حالت میں کبھی بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اسے جیسے خوف بھی یہی تھا کہ وہ اسے پہچانے گا تو اس بے لباسی کے حوالے سے اس ایک رات کے حوالے سے پہچانے گا… ان چند شاندار ہفتوں میں اکٹھے گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے نہیں۔
    اس تقریری مقابلے کے بعد بھی اسے یقین تھاایبک کو اگر فوری طور پر وہ یاد نہیں آئی ہوگی تو گھر جا کر یاد آجاتی… چند دنوں کے بعد یاد آجاتی… اور کچھ نہیں تو کم از کم چڑیا کا چہرہ اس کے نظروں میں بھی اٹک جاتا۔
    اس کی یہ خوش فہمی اکیڈمی میں دو ر ہوگئی تھی۔ عکس مراد علی کے حوالے سے ایبک شیر دل کی کسی قسم کی کوئی یادداشت نہیں تھی… اسے شروع میں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی اسے یاد نہیں تھی۔ کئی ہفتے وہ اسے اگنور کرتی رہی صرف اسی ایک خدشے کے تحت کہ وہ اب اسے ضرور پہچان لے گا… اگر چڑیا کا چہرہ نہ پہچان سکا تو کم از کم سات آٹھ سال پہلے ہونے والے اس تقریری مقابلے کی تو کوئی میموری ہوگئی اس کے پاس…
    اورجب عکس مراد علی کو با لا خر یہ یقین آیا کہ ایبک شیر دل کو اس کے حوالے سے” کچھ بھی” یاد نہیں تھا تو وہ ہل کر رہ گئی تھی… شاک کی ایک عجیب سی کیفیت تھی جس سے وہ دوچار ہوئی تھی۔ ایبک شیر دل کمزور یاد داشت کا مالک نہیں تھا کم از کم عکس کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا اس کے باوجود اس کا یاد نہ رہنا صرف ایک چیز کا اظہار تھا… چڑیا ایبک کے لیے ٹائم پا س تھی… وہ اس کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتی تھی جو ایبک اس کے لیے رکھتا تھا…اور کیوں اہمیت رکھتی آخر وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر بچے کے لیے جس کے پاس کزنز اور دوستوں کا ایک جم غفیر تھا جو اسی کی طرح کے سوشل سیٹ اپ سے تعلق رکھتے تھے۔ چڑیا ایک چھوٹے شہر میں آکر بوریت سے بچنے کے لیے ڈھونڈی جانے والی ایک ساتھی ہوسکتی تھی لیکن وہ اس کی وہ دوست نہیں ہوسکتی تھی جسے اس نے واپس ایجی سن اپنے جیسے دوستوں میں جا کر مس کیا ہو… وہ چڑیا کے بچپن کی بہترین چیزوں میں سے ایک تھا لیکن چڑیا ایبک کے لیے ایک بہترین یاد کیسے ہوسکتی تھی۔ بڑے سالوں بعد عکس مراد علی نے بیٹھ کر جذباتیت کی گرد جھاڑ کر اپنے اور ایبک کے تعلق کو دیکھا تھا اور عجیب سی ندامت اور رنجیدگی ہوئی تھی اسے۔
    ایبک شیردل ،عکس مراد علی کو اس تقریری مقابلے کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھ پایا تھا… اسے اپنی شکل و صورت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی کبھی نہیں رہی تھی لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ مرد اسے اگنور نہیں کرسکتے، وہ کم از کم اتنے معمولی خدوخال کی مالک نہیں تھی کہ ایبک اسے یاد بھی نہ رکھتا… اور یہاں اسے اہم سمجھنے کا سوال بھی نہیں تھا یہاں بات صرف یاد رکھنے کی تھی… صرف اور صرف یادداشت کا حصہ رکھنے کی… عکس مراد علی وہ بھی نہیں تھی۔
    ”زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں… ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔”عکس مرادعلی نے اس گتھی کو خیر دین سے حل کروانے کی کوشش کی تھی۔
    ”میرے ساتھ اکیڈمی میں ایک لڑکا ہے نانا… سات آٹھ سال پہلے ایک انٹر کالجیٹ مقابلے میں اس نے مجھے ہر ا کر وہ مقابلہ جیتا تھا لیکن میں حیران ہوں کہ اسے میں یاد تک نہیں حالانکہ وہ مجھے یاد ہے۔” اس نے خیر دین کو ایبک شیر دل کانام لیے بغیر اپنا مسئلہ بتایا۔ مجھے لگتا ہے وہ دکھاوا کررہا ہے مجھے نہ پہچاننے کا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے میں یاد ہی نہ ہوں۔” عکس نے اپنا اندازہ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا۔
    ”لوگ ہارنے والوں کے چہروں اور ناموں پر غور نہیں کرتے چڑیا۔ تم نے تو دوسری ،تیسری پوزیشن بھی نہیں لی اس مقابلے میں… پھر تمہیں وہ کس حوالے سے یاد رکھتا… ہارنے والے تو بہت سے ہوتے ہیں۔ ” کیا تلخ حقیقت تھی جو خیر دین نے مصری کی ڈلی کی طرح توڑ کر چڑیا کے سامنے رکھ دی تھی۔ ایبک شیر دل عام شخص تھا اس کی نفسیات بھی عام شخص جیسی ہی تھی… جیت اور جیتنے والوں کو یاد رکھنے کی کوشش …ہار اور ہارنے والوں کو بھول جانے کی… وہ اوپر دیکھنے کا عادی تھا نیچے نہیں۔
    زندگی میں ایک اور سبق عکس مراد علی نے اس دن حاصل کیا تھا۔ وہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے چہروں اور ناموں پر بھی غور کرے گی جنہیں وہ زندگی میں ہرائے گی۔ وہ زندگی میں خود کبھی عکس مراد علی جیسے حریف کا سامنا نہیں چاہتی تھی جو یک دم کسی dark horse کی طرح ایک دن اس کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اسے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ ہوتا۔
    بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھی۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنراپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ عکس مراد علی نے اتنے سالوں کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی، اس کی ٹائی کو اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا اور وہ کبھی بھی اس کے چہرے سے اس کے دل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ وہ اسے راستے میں ہی بھٹکا دیتی تھی… ہمیشہ بڑی کامیابی کے ساتھ… عکس نے سوچا اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کے studs اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو یا سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے جھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے… پھر اس نے نظر چرائی تھی… جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں اپنا چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے اس سے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟” اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر اور لپ اسٹک کے علاوہ شاید ہی کچھ اور لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا۔ میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیاز ی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب بھی ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا گیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ اس کی اس حس مزاح کی عادی تھی۔ اسے دیکھ کر شیر دل کے لیے خاموش رہنا اور کسی نہ کسی بات پر کوئی کوئی نہ کوئی پھڑکتا ہوا تبصرہ نہ کرنا ناممکن تھا۔ وہ بچپن سے اس کی عادی تھی۔ ایبک شیر دل کے پاس بچپن میں بھی احمقانہ باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا اور ڈھیر کا مطلب ڈھیر ہی ہوتا تھا اور وہ ہر احمقانہ بات بے حد سنجیدگی سے کرتا تھا۔ چڑیا اس کے ان چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جو بہت جلد ہی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری باتیں کم از کم ایبک کے لیے احمقانہ نہیں تھیں۔ وہ انہیں بڑی سنجیدگی سے کرتا تھا… اور چڑیا دوسرے بچوں کے بر عکس بڑی سنجیدگی سے انہیں سن لیا کرتی تھی… اس کی یہ عادت اب بھی قائم تھی۔
    وہ اب باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شیر دل اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کمشنر کی بیوی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
    ”شہر بانو …عکس مراد علی۔” چند لفظوں میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق وسباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کا تعارف کروایا تھا۔سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔ عکس اس کے لیے کوئی اور تشبیہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔ وہ آج بھی اس کی بار بی ڈول تھی۔ ڈاکٹر فرح کی بیٹی کے پاس موجود وہ گڑیا جو اسے ہمیشہ للچایا کرتی تھی اور اس جیسی گڑیا خرید نے کے لیے اس نے خیر دین سے بہت اصرار کیا تھا۔
    خیر دین اسے لے لے کر بازاروں میں کھلونوں کی دکانوں پر باربی ڈول کی تلاش میں پھرتا رہا تھا۔ جو سستی نقل دکانوں پر مل رہی تھی وہ چڑیا کو پسند نہیں آرہی تھی وہ اصل اور نقل کا فرق بتا نہیں سکتی تھی لیکن سمجھتی ضرور تھی اور جو اصلی باربی ڈول اسے چند دکانوں میں نظر آئی تھی اس کی قیمت اتنی تھی کہ خیر دین اسے چڑیا کو دکھا سکتا تھا دلوا نہیں سکتا تھا ۔کئی دن بازاروں کی خاک چھاننے کے بعد با لآخر چڑیا کو پتا چل گیا تھا کہ باربی ڈول اس کی استطاعت اور اوقات سے باہر کی چیز تھی اور اس کے لیے ضد یا اصرار کرنا خیر دین کو تکلیف اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہ دیتا۔ اس نے باربی ڈول کی فرمائش ختم کردی تھی مگر وہ اس کے حواس پر سوار رہی تھی۔ تین سالہ شہر بانو پر پہلی نظر میں بھی اسے خوب صورت ایوننگ گاؤن والی وہ باربی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ اس کے صرف بال سنہری نہیں تھے مگرا س کی خوب صورتی ،ناز نخرہ ،لباس سب اسی باربی ڈول جیسا تھا جو اس کے لیے untouchable تھی۔
    اتنے سالوں بعد شہر بانو کو دیکھتے ہوئے عکس مراد علی کو آج بھی بار بی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار آنکھیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ… عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر… اسے آج بھی اس پر ویسا ہی پیار آیا تھا جیسا اس کو پہلی بار دیکھ کر آیا تھا۔ اس کا دل آج بھی اس کی طرف سے اسی طرح ہمکا تھا جس طرح پہلی بار اسے دیکھ کر ہمک کر اس کی طرف گیا تھا۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔ شیر دل کے ذہن میں سب سے پہلے شہر بانو کے حوالے سے اس طرح کا خیال ڈالنے والی بھی وہی تھی۔
    ”میرا خیال ہے وہ تم سے محبت کرتی ہے۔” اس نے فون پر شیر دل سے شہر بانو کے حوالے سے کوئی قصہ سننے کے بعد کہا تھا۔ وہ جواباً ہنسا تھا۔
    ”یہ کون سی نئی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو، میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… مجھ پر مرتی ہے۔” اس نے آخری جملہ بڑے اعتماد سے بڑے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔”کوئی پہلی لڑکی تو نہیں ہے وہ جسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو…”
    مسٹر شیخ چلی تم اگر شیخیاں بگھارنا بند کرو تو میں کچھ کہوں۔” عکس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے ٹوکا۔”تم سے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھی لڑکی محبت کررہی ہے۔”
    ” now that’s not fair ” شیر دل نے اس کی بات کاٹ کر احتجاج کیا۔”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو… تمہیں کیا پتا مجھ پر کون کون مرتا…” عکس نے اس کی بات کاٹی۔
    ”تم تقریر کرنے کے بجائے ان لڑکیوں کے ناموں کی ایک لسٹ بنالو جو تم پر مرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں… ہوسکے تو تصویریں بھی لگالینا ساتھ… تصویریں تو ہوں گی نا ہر لڑکی کی تمہارے پاس؟ عکس نے اسے بظاہر بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے کہا یوں جیسے دونوں اکیڈمی میں کوئی سینڈ پکیٹ رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں suggestion پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔




  • عکس — قسط نمبر ۷

    اپنے تنے ہوئے جسم کو حتی الامکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پہلی بار اس آئینے کو دیکھا، وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اپنے اسی استقبالی، خیرمقدمی انداز میں… اسی غرور اور طنطنے کے ساتھ… اسی پراسراریت میں لپٹے جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ برآمدے میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دوڑائی تھی۔




    اس گھر میں اس کی آمد 26 سال بعد ہوئی تھی اور ان 26 سالوں کو اس نے جیسے ایک مونو سیکنڈ میں calculate کر لیا تھا۔ گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا۔ اس کا ماتحت عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کا پی اے اس گھر کی تفصیلات سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا وہ اسے روک دے۔ اسے اس گھر کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ گھر اس کی یادداشت کا انمٹ حصہ تھا جسے کھرچ کھرچ کر مٹا دینے کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
    ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریز ہو گئے تھے۔ وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھیں۔ سیڑھیاں، چیخیں اور…
    ”وہ وہاں کچن کا دروازہ ہے۔” پی اے کا جملہ اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا جو اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔ اس نے چونک کر ان سیڑھیوں سے نظریں ہٹائیں اور پی اے کو دیکھا۔
    ”پانی مل سکتاہے؟” اپنے اعصاب اور حواس پر بیک وقت قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹوکا۔ پی اے فوری طورپر اس کی پیاس بجھانے کے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔ اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی وہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی لیکن مل گئی تھی۔ جسم میں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے earth کیا۔ غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے اور نظریں چراتے ہوئے اس نے پانی کا وہ گلاس تھاما جو اس کے سامنے ایک ٹرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے ایک سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا۔ وہ گھر اسے کس طرح ہیبت زدہ کرنے والا تھا یہ اس کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ آسیب زدہ گھر 26 سالوں کے بعد جیسے اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
    ”مجھے اس گھر کو ایک نظر دیکھنے دیں۔”پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا جب کہ اس نے اسے ٹوک دیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ماتحت عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے۔
    گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جسے اس نے ایک ہی نظر میں نہ پہچان لیا ہو۔ اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ اس گھر نے اس کی زندگی میں idealاور idealism نام کی چیز کو چھین لیا تھا اور بہت سارے سوال دے دیے تھے جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا… الجھتا رہا… ناکام ہوتا رہا… اور پھر جب بالآخر اسے جواب ملا تھا تو بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سال اسے اپنے حصار میں رکھا اور بے یقینی وہ واحد شے نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی… ایک ناقابل بیان اذیت بھی، شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیے اسے دیکھ رہاتھا۔ صرف چند سیکنڈز کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔
    اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاکڈ تھے۔ اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا۔ وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی۔ اس گھر کا ماسٹر بیڈ روم بھی لاکڈ تھا اور صرف وہ واحد کمرا تھا جس کے دروازے کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریز ہوئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جانے کی شدید خواہش نے اسے آن گھیرا تھا پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا تھا۔
    ”باہر چلتے ہیں۔” اس نے جیسے منٹوں میں عمارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کہا۔ وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لیے جارہا تھا۔ اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی۔
    عمارت کے اردگرد موجود لان پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا… اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں، کھوکھلے ہوتے تنے اور سوکھے ہوئے پیڑ پودے دکھانے شروع کر دیے تھے جو بظاہر اس تراش خراش کے دم پر کھڑے تھے جو یقینا اس کی آمد سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ 26 سال پہلے وہ لان اس حالت میں نہیں تھا… نہ وہ لان نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹینس کا وہ کورٹ جس پر آخری میچ یقینا سالوں پہلے کھیلا گیا تھا۔ سب کچھ بوسیدہ اور خستہ حال تھا ان تکلیف دہ یادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے ہمہ وقت موجود رہنے کے باوجود ایک لمبے عرصے سے وہ کاٹ اور چبھن کھو چکی تھیں جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رحمی سے لہولہان اور مسخ کیا تھا۔
    ”اس طرف سرونٹ کوارٹرز ہیں۔” پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے بغیر لان کے عقبی حصے میں کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا۔ اس کو ڈی سی کے انداز میں اس عمارت کے لیے ایک عجیب سی familiarity (مانوسیت، واقفیت) نظر آرہی تھی۔
    ”پتا ہے۔”اس کے انداز میں واقعی ہی ایک عجیب سی مانوسیت تھی اس گھر کے لیے۔ کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا تب بھی اس کے لیے عمارت کے عقبی حصے میں اس جگہ جانا دشوار نہ ہوتا۔ اس کے قدم اب جس رستے پر تھے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بدترین یادیں بکھری تھیں۔ کچن کے عقبی دروازے سے کئی فرلانگ دور۔ عمارت کے بالکل عقب میں، وہاں اب وہ کوارٹر نہیں تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بے بسی کی حالت میں پایا جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کی تھی۔
    وہ closure اب بھی نہیں ہوا تھا جس کی خواہش اسے وہاں تک لے آئی تھی۔ وہ آسیب اب بھی اس کے وجود کے اندر ہی رہنے والا تھا۔
    ……٭……




    ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ایبک فرنٹ رو میں اس مباحثے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار ایچی سن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹرکالجیٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا۔ کنیئرڈ کی ٹیم ہمیشہ سے ہی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے… اور ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے اضافی advantage کے ساتھ وہ اس بار کچھ اور بھی deadly ہو سکتی تھی۔ اس کے برابر بیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے اسٹیج پر چڑھتی ہوئی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا۔ وہ کنیئرڈ کالج کا Ace تھی۔ کم سے کم اکبر کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا۔ وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافی گنوا چکا تھا۔ فلک شگاف تالیوں کی گونج میں اس سے آٹھ دس گز دور اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روسٹرم سنبھال لیا تھا۔
    ہال میں اب پن ڈراپ سائلنس ہو گئی تھی۔ اس لڑکی پر نظریں جمائے ایبک کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مسکراہٹ رینگی۔ یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈیئنس صرف ایک چیمپئن ڈبیٹر کو دیتا تھا۔ اس لڑکی کی تقریر میں اس کی دلچسپی اور تجسس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ وہ اب روسٹرم پر لگا مائیک ٹھیک کر رہی تھی اور اس وقت پہلی بار ایبک نے اسے نروس محسوس کیا… اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی سب سے اچھی خبر تھی۔ وہ اتنا ہی mean تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے خاص طور پر اس صورت میں جب مدمقابل صنف نازک ہو اوراس کی کامیابی کے قوی امکانات ہوں۔ ایبک کو وہاں نیچے بیٹھے اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیس کی وجہ وہ خود تھا۔وہ اگر اسٹیج سے نیچے بیٹھا اس پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے میں مصروف تھا تو وہ روسٹرم کے سامنے کھڑی اس کو نہ دیکھنے کے باوجود اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں دبے آتش فشاں کی طرح باخبر تھی۔
    ایبک نے مباحثے کے آغاز میں چند ہی جملوں کے بعد اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ واضح طور پر تقریر بھولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی کنیئرڈ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈیئنس نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ کسی مقرر کی غلطی کو کوراپ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ… ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے کالجز کے مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی۔ تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈز میں ہی بھولنا کسی مقرر کے لیے کتنا demoralising تھا وہ سب جانتے تھے۔ فاطمہ کی تقریر میں سب کا انہماک پہلے ہی تھا۔ اب اشتیاق بھی بڑھ گیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔