Tag: covid-19

  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • سمو — شاذیہ ستار نایاب

    سمو — شاذیہ ستار نایاب

    ”امی تصویریں دیکھیں لیزا کی؟ کیسی لگیں آپ کو؟” فاخر نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ہاں! اچھی پیاری لڑکی ہے، مگر ہے کون؟”
    ”امی میری کلاس فیلو ہے۔ اس کے والد کا یہاں سپراسٹور ہے جہاں میں پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں۔” فاخر نے کہا۔
    ”مگر یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہے ہو۔” امی نے پوچھا۔
    ”امی میں اسے پسند کرنے لگا ہوں۔ ان فیکٹ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے والدین بھی راضی ہیں اب آپ اور ابو بھی…” فاخر نے بات ادھوری چھوڑی۔
    ”کیا وہ مسلمان ہوگئی ہے؟” امی نے کڑے انداز میں پوچھا۔
    ”ابھی تو نہیں… شاید بعد میں… وہ کہتی ہے کہ پہلے میں اسلام کا مطالعہ کروں گی اور پھر فیصلہ کروں گی۔”فاخر نے جواب دیا۔
    ”وہ لڑکی عیسائی ہے؟ تو کیسے ممکن ہے؟” امی نے پوچھا۔





    ”امی عیسائی اہلِ کتاب ہوتے ہیں ان کے ساتھ نکاح جائز ہے میں نے معلوم کیا ہے۔”
    ”یہ تم کہہ رہے ہو۔” میں حیران ہوئی۔ نگاہوں کے سامنے بے اختیار کچھ عرصہ پہلے کا منظر آگیا۔
    آنگن میں دھیرے دھیرے سرمئی شام اُتر رہی تھی۔ فاخر شاپنگ بیگز سے لدا پھندا سیٹی پہ شوخ سی دھن بجاتا گھر میں داخل ہوا۔
    ”امی… امی! کہاں ہیں آپ۔” فاخر نے آواز دی۔
    ”ادھر ہوں کچن میں۔” میں نے کہا۔
    فاخر کچن میں چلا آیا۔ ایک طرف کالی کلوٹی سمو بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اسے دیکھ کر فاخر ہمیشہ کی طرح جھلاّ گیا۔
    ”یہ کیا کررہی ہے یہاں؟” فاخر منہ بناتا ہوا بولا۔
    ”دیکھ نہیں رہے کھانا کھا رہی ہے۔”
    ”آپ باہر آئیں۔” فاخر بولا۔
    میں ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی باہر آئی۔
    ”امی وہ عیسائی ہے آپ اسے کچن میں بٹھا لیتی ہیں۔ اس کے برتن الگ رکھا کریں۔” فاخر نے کہا۔
    ”بیٹا عیسائی اہل کتاب ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے۔” میں نے سمجھایا۔
    ”ہوتا ہوگا، مگر مجھے نہیں پسند۔” فاخر ہٹ دھرمی سے بولا۔
    ”اچھا یہ بتاؤ… مجھے کیوں بلا رہے تھے؟”
    ”آپ کو اپنی شاپنگ دکھانی تھی اور آپ ہیں کہ کالی سمو کی خدمت میں جتی ہیں۔” فاخر نے کہا۔
    ”دکھاؤ کیا لائے ہو۔ گرم کپڑے… جوتے سب لے لیے ہیں نا؟”
    ”کیا نہیں ہونا چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    ”صرف ڈیڑھ سال کی بات ہے پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے اور آپ کا بیٹا ڈگری لے کر آپ کے پاس۔” فاخر نے چٹکی بجائی۔
    ”یہ ماں کے دل سے پوچھو… پرایا دیس پرائے لوگ… مجھے تو بہت فکر ہورہی ہے۔”
    ”امی آپ کا بیٹا اب بڑا ہوگیا ہے۔ اب تو واٹس ایپ ہے، وائبر ہے، سکائپ ہے، روز آپ کو ویڈیو کال کیا کروں گا۔” فاخر نے تسلی دی۔
    اور آج واٹس ایپ پر اس کی یہ بات سن کر میں چپ چاپ ماضی کے مناظر میں کھو گئی۔
    ”ہیلو… ہیلو… امی آپ خاموش کیوں ہوگئیں۔ بتائیں نا ابو سے آپ بات کر لیں گی نا۔” فاخر نے کہا۔
    ”فاخر تم تو کچن میں بیٹھ کر سمو کو کھانا نہیں کھانے دیتے تھے۔ اسے اپنے برتنوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے اور اب… اب ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو۔”
    ”آپ سمو کو لیزا سے کیوں ملا رہی ہیں۔ لیزا اتنی خوبصورت اتنی امیر لڑکی ہے۔ سمو تو اتنی کالی تھی۔”
    ٭…٭…٭




  • باغی — قسط نمبر ۳ — شاذیہ خان

    فوزیہ ہاتھ میں گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا پتا لیے بس سے نیچے اتری اور ایک راہ گیر کو پرچی دکھاتے ہوئے ایڈریس دریافت کیا۔ راہ گیر نے اسے ناصرف پتا سمجھایا بلکہ اسے یہ بھی بتا دیا کہ اس طرف کون سی بس جائے گی۔فوزیہ نے بس کے بجائے رکشہ پہ جانا زیادہ مناسب سمجھا۔تھوڑی ہی دیر بعد رکشے والے نے بآسانی اسے گوہر کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی تک پہنچا دیا۔ فوزیہ کرایہ ادا کرکے رکشے سے اتری اوربلڈنگ کے اندر چلی گئی جہاں ایک چوکیدار نے اس سے پوچھا کہ میڈم آپ نے کہاں جانا ہے؟جب فوزیہ نے اسے میڈیا ٹیک ایڈ ایجنسی کا بتایا تو اس نے فوزیہ کو بتایا کہ یہ دفتر پانچویں فلور پر ہے۔فوزیہ نے اس کی بات سن کر سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
    پانچویں فلور پر لفٹ سے باہر نکل کر وہ ایک دفتر کے سامنے پہنچی جہاں میڈیا ٹیک ایڈورٹائزنگ کمپنی کا نام لکھا ہوا تھا۔ فوزیہ نے رُک کر پرچی پر لکھا نام دوبارہ پڑھا۔ اسی وقت بند دروازہ کھلااور ایک آدمی باہر نکلاتو وہ اندرگھس گئی۔ سامنے ریسپشنسٹ کسی سے فون پر بات کررہی تھی۔ اُس نے فوزیہ کو دیکھ کر فون رکھا اور مسکرا کر پوچھا۔
    ” جی میم!کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں؟” فوزیہ نے پرچی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ ریسپشنسٹ نے پرچی پر نظر ڈ الی اور پوچھا۔
    ” آپ کو گوہر صاحب سے ملنا ہے؟”
    ”جی ہاں۔”فوزیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
    ریسپشنسٹ نے فون ملایااور فوزیہ سے اس کا نام پوچھا۔
    ” فوزیہ بتول،انہوں نے مجھے آج کا ٹائم دیا تھا۔”فوزیہ نے قدرے رک رک کر جواب دیا۔





    ” سر آپ سے کوئی مس فوزیہ بتول ملنے آئی ہیں۔ ”ریسپشنسٹ نے کہا اور پھر اوکے سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
    فون رکھنے کے بعد اس نے فوزیہ سے کمرے میں جانے کا کہا، فوزیہ ”شکریہ” کہہ کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    فوزیہ کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ایک پینتیس سالہ درمیانی عمر کا عیار سا شخص لیپ ٹاپ پربیٹھا تھا جو اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ فوزیہ خاموشی سے آگے بڑھی، ہاتھ میں پکڑا پرس میز پر رکھا اورگوہر کو سلام جھاڑ دیا۔
    ”السلام علیکم جی میں فوزیہ بتول۔”
    ”جی جی ! ویلکم۔” گوہرنے خوش اخلاقی سے کہااور ایک کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”میں آپ ہی کا انتظار کررہا تھا،آیئے بیٹھیے۔”
    ”کیا آپ گوہر صاحب ہیں اور آپ ہی نے مجھے فون کیا تھا؟”فوزیہ کے لہجے میں شبہ تھا۔
    ”جی جی میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔ باقی باتیں بعد میں،پہلے یہ بتائیں کیا لیں گی چائے، کافی یا…؟” گوہر نے مسکرا کر انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی رہنے دیں۔” فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ارے نہیں،ایسے اچھا نہیں لگتا۔”گوہر نے اس کی جھجک محسوس کی اور کہاپھراصرار کرتے ہوئے انٹرکام کان سے لگا لیا۔”آپ پہلی بار آئی ہیں ایسے کیسے جانے دیں،آپ کو کچھ نہ کچھ تو لینا پڑے گا۔”
    ” جی پھر کافی منگوا لیں۔” فوزیہ نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”بلیک یا وِد ملک؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”جی؟” فوزیہ اس کی بات پر تھوڑا بوکھلا گئی اس نے تو کبھی کافی نہیں پی تھی اب بلیک یا ملک والی کا کیا جواب دیتی۔
    ” میرا مطلب ہے بلیک کافی پیتی ہیں یا ملک والی۔”گوہر نے سمجھاتے ہوئے پوچھا۔
    ” جیسی آپ پئیں۔” فوزیہ کے لہجے میں اب بھی ہچکچاہٹ تھی۔
    ”میں تو بلیک کافی پسند کرتا ہوں۔”گوہرنے ہنستے ہوئے کہا۔
    ” میں بھی وہی پی لوں گی۔” فوزیہ نے فوراً کہا۔
    ” کافی تابع دار قسم کی خاتون ہیں آپ۔” گوہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل رہی تھی۔
    انٹرکام پر کافی کا آرڈر دینے کے بعد گوہر نے دوبارہ بات شروع کی۔
    ” ویسے اچھا ہوا آپ آگئیں ورنہ آج ہی یہ ایڈ کسی اور کے نصیب میں چلا جاتا۔ کافی دن تو آپ نے رابطہ ہی نہ کیا۔ ”
    ” جی میرے گھر کے کچھ مسائل تھے۔” فوزیہ نے سر جھکاتے ہوئے ہوئے جواب دیا۔
    ” مسائل؟کیسے مسائل؟”گوہر نے پوچھا۔
    ” جی میرے میاں اجازت نہیں دے رہے تھے۔”فوزیہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے بتایا۔
    ” آپ شادی شدہ ہیں؟”گوہر نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔





    ”جی میرا ایک بیٹا بھی ہے۔”وہ شرمندگی سے بولی۔
    ”لیکن جب آپ نے اپنی تصاویر کے ساتھ انفارمیشن لکھی تھی اس میں تو سنگل شو کیا تھا۔”
    ”جی اس وقت تک میری شادی نہیں ہوئی تھی۔”فوزیہ نے گڑبڑا کرجواب دیا۔
    ” دیکھیں مس فوزیہ بتول!یہ فیلڈ ینگ لڑکیوں کے لیے ہے۔یہاں نوجوان اور غیرشادی شدہ لڑکیاں ہی کام یاب ہیں، آپ کیسے چلیں گی یہاں؟” گوہر کرسی کی پشت سے کمر لگاتے ہوئے بولا۔
    ”وہی تو آپ کو بتانا چاہ رہی ہوں کہ میری میاں سے علیحدگی ہوچکی ہے۔ وہ اجازت نہیں دے رہے تھے اور مجھے ہر حال میں اس فیلڈ میں آنا تھا۔” فوزیہ نے فوراً بات بنائی۔
    ” اوہ اچھا اچھا! ایسے میں کہنا تو نہیں چاہیے مگر اگر آپ واقعی اس فیلڈ میں نام کمانا چاہتی ہیں تو یہ آپ کے حق میں بہت اچھا ہوا۔” گوہر نے قدرے سکون کا سانس لیا۔
    اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اورچپڑاسی کافی لے کر آگیا اور دونوں کے آگے کافی کپ رکھ دیے۔ گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے اصرار کرتے ہوئے اسے کپ اُٹھانے کا کہا۔
    ”فوزیہ! کافی لیجیے ،ہمارے آفس کی کافی بہت پسند کی جاتی ہے ۔”
    فوزیہ نے کپ اٹھایا اور پہلے ہی سپ پر اس نے منہ بنا کر کافی چھوڑ دی۔ گوہر نے فوراً پوچھا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ناسمجھی کے انداز میں فوزیہ نے منہ بنایااور بولی۔”اتنی کڑوی۔”
    ”لیکن کافی تو کڑوی ہی ہوتی ہے۔” گوہر نے حیرانی سے جواب دیا۔
    ” ہاں لیکن یہ تو بہت ہی کڑوی ہے۔”فوزیہ نے بھی جیسے بات بنائی۔
    ” چلیں یہ آپ رہنے دیں ،میں چائے منگواتا ہوں آپ کے لیے۔” گوہر نے اس کے آگے سے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ” نہیں نہیں رہنے دیں، مجھے ابھی کچھ نہیں پینا۔ آپ پلیز مجھے بتائیں کہ کرنا کیا ہے؟کس اشتہار کے لیے آپ نے مجھے بلایاہے؟” فوزیہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا۔
    ” جی وہ بھی بات ہو جائے گی، پہلے تو مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا پورٹ فولیو دوبارہ بنوانا پڑے گا اور آپ کو تھوڑا مین ٹین بھی کرنا پڑے گا۔ اپنے اوپر توجہ دیں۔ اس ایک سال میں آپ کا وزن کافی بڑھ گیا ہے۔”گوہر نے اس کے خدوخال پرنظریں جماتے ہوئے جواب دیا۔
    ”جی وہ بس بچے کے بعد …لیکن میں جلد کم کرلوں گی،آپ فکر نہ کریں۔” فوزیہ کے لہجے میں شرمندگی چھپی ہوئی تھی۔
    ” خیر ہم آپ کو ساری سہولیات دیں گے، پہلے تو یہ بتائیں آپ ٹھہری کہاں ہیں؟ ”گوہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ بس میں ابھی…”فوزیہ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔
    ” اچھا خیر اس کا انتظام بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک گیسٹ ہاؤس ہے،میں ڈرائیور سے کہتا ہوں کہ آپ کو وہاں چھوڑ آئے،اب آپ ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت جلد آپ ہمارے ادارے سے ایک روشن ستارے کی طرح چمکیں گی مس فوزیہ۔”گوہر نے اسے تسلی دی۔
    ” جی بہت شکریہ آپ میراخواب پورا کررہے ہیں۔ ” فوزیہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔
    ”مس فوزیہ بس آپ ہمارے خواب پورے کریں ہم آپ کے پورے کریں گے۔ زندگی دراصل کچھ لو،کچھ دو ہی کا نام ہے۔”
    فوزیہ گوہر کی یہ بات سمجھ تو نہ سکی لیکن محض جی کہہ کر مسکرا دی۔
    ٭…٭…٭





    گوہر سے رخصت ہونے کے بعد ڈرائیور اسے گیسٹ ہاؤس لے آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔اس نے کمرے کی ایک ایک چیز کا غور سے جائزہ لیا۔ LCDکے پاس جاکر اس پر ہاتھ پھیرا اوراس کے بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہیں ہوئی تو ساتھ آئے ملازم سے پوچھا۔
    ”یہ چلتا کیوں نہیں، کیا خراب ہے؟ ”
    ”جی نہیں میم یہ ریموٹ سے چلے گا۔”ملازم نے طنز آمیز مسکراہٹ سے جواب دیا اورپاس پڑا ریموٹ اٹھا کر اُسے تھمادیا۔
    ” ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اورریموٹ پر لگے بٹن دبائے لیکن اسکرین روشن نہ ہوئی تو اس نے دوبارہ ملازم کی طرف دیکھا تو ملازم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے ریموٹ تھام لیا اور ٹی وی چلادیا۔
    ”میم اس بٹن کو دبانے سے آپ چینل چینج کرسکتی ہیں۔” ملازم ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،ساتھ ہی وہ بڑی عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھ رہا تھا۔
    ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا اورپھر غور سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے ملازم کو ڈانٹا۔”کیا گھور کر دیکھ رہے ہو؟کبھی کوئی لڑکی دیکھی نہیں؟ ”
    ”کچھ نہیں جی معاف کردیں،کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو بتا دیں۔” ملازم یوں پکڑے جانے پر گھبرا گیا اور ہکلا کر جواب دیا۔
    ” نہیں، اب تم جاؤ۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
    ملازم ڈانٹ کھانے کے بعدسر جھکائے باہر نکل گیا۔ فوزیہ نے چپل ایک طرف اتاری اور صوفے پر پھیل کر بیٹھ گئی۔ ریموٹ ہاتھ میں لے لیا اور چینل بدل بدل کر دیکھنے لگی۔ ایک چینل پر ایک بچے کی فلم آرہی تھی۔اس کا چینل بدلتا ہاتھ اپنی جگہ ٹھہر سا گیا۔ وہ دل جمعی سے دیکھنے لگی۔ اس کے بیٹے کی عمر کا ایک ہنستا ہوا بچہ تھا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور اسے اپنا بیٹایاد آنے لگا۔نہ جانے اس وقت منا کس کے پاس ہوگا،اسے کون سنبھال رہا ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ماجدشدید رو رہا تھا اور عابد اسے سنبھالتے سنبھالتے خود پریشان ہوگیا تھا،لیکن وہ کسی صورت چپ ہی نہیں ہو رہاتھا۔ اتنے میں اس کی ماں فیڈر بنا کر لائی تو عابد نے بچہ ماں کی گود میں ڈال دیا۔
    دادی نے منہ بناتے ہوئے بچے کے منہ میں فیڈر ٹھونسی اور بولی۔
    ”تو نے کیوں روک لیا اِسے، لے جارہی تھی تو لے جانے دیتا۔”
    ”اماں یہ میرا بیٹا ہے، میرے پاس ہی رہے گا۔”عابد غصے سے بولا۔
    ”تو سنبھالے گا کون اسے؟ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں۔ تو نے بھی بس کچھ سوچے سمجھے بغیر تین بول سنا دیے۔” ماں نے بھی غصے سے جواب دیا۔
    ” تو نے دیکھا نہیں کتنی بدتمیزی کررہی تھی،اور تو فکر نہ کر آ جائے گی۔”عابد نے ماں کو تسلی دی۔
    ” عابد پتا تو کر ابھی تک اس کے گھر سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا۔”عابد کی ماں کے لہجے میں تجسس تھا۔
    ” کرلیں گے رابطہ بھی، جلدی کیا ہے۔ ابھی تو ایک دن ہی ہوا ہے۔ پلٹ کر واپس گھر ہی آئے گی، اس نے جانا کہاں ہے؟اس کے گھر والے بھی اُسے نہیں رکھیں گے۔”عابد نے اپنی ماں کو قائل کرتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن دیکھ اب ذرا لگامیں کھینچ کر رکھنا ۔تواُسے بہت ڈھیل دے دیتا ہے جب ہی تیرے سر پر ناچتی ہے۔”ماں نے اسے نصیحت کی۔
    ”تو فکر ہی نہ کر ،ایسی چٹیا پکڑ کر رکھوں گا کہ یاد رکھے گی۔ زیادہ ہی دماغ خراب ہوگیا ہے اُس کا۔”عابد نے ماں کی بات سن کر غصے سے جواب دیا۔
    ” چل تو آج راجدہ کو بتا جا کر ،اُسے کہہ کہ اماں نے بلایا ہے۔اس سے مشورہ کرتی ہوں کہ جب تک وہ واپس نہیں آتی اس کا کیا کریں۔ میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنادم نہیں۔آکر راجدہ ہی اسے سنبھال لے۔” ماں نے پریشانی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اماں میں جاکر راجدہ سے بات کرتاہوں تب تک تو سنبھال اسے۔”یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی نند اور اس کی ساس بیٹھی آپس میں باتیں کررہی تھیں۔راجدہ کی گود میں عابد کا بیٹا تھا اور وہ اُسے پیار سے گلے لگائے ہوئے تھی۔ فوزیہ کی نند بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی۔
    ” فوزیہ کتنی سنگ دل ہے ،اتنا پیارا بیٹا چھوڑ کر چلی گئی۔ ویسے اماں جھگڑا ہوا کس بات پر تھا؟”
    ” ویسے تو کم بخت کا جھگڑا روز ہی کسی نہ کسی بات پر ہوتا تھا، لیکن کل تو ضد کررہی تھی کہ مجھے اشتہاروں میں کام کرنا ہے، لیکن تیرے بھائی نے انکار کردیا۔” فوزیہ کی ساس نے نفرت سے جواب دیا۔
    فوزیہ کی نند یہ بات سن کر گال پیٹنے لگی۔
    ”توبہ توبہ !ویسے کتنی آوارہ ہے، شریفوں والی زندگی چھوڑ کر گندی عورتوں والے کام کرنا چاہتی ہے۔”
    ”بس بدنصیب ہوتی ہیں کچھ عورتیں۔ وہ توبہت ہی آوارہ تھی۔ نہ جانے تیرے بھائی کو کیا پسند آیا اس میں۔زبان دیکھو گز بھر کی،ذرا ذرا سی بات پر لڑنے کو تیار۔ بھئی اب اگر منہ چلائے گی تو پٹے گی بھی۔” فوزیہ کی ساس سر پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
    ” او چھوڑ اماں، گھر بسانے والی عورتیں ایسی نہیں ہوتیں۔ اس نے گھر بسانا ہی نہیں۔” فوزیہ کی نند نے نفرت سے فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
    ” لیکن اپنابچہ تو کوئی نہیں چھوڑتااس طرح ؟اس بچے کی خاطر وہ واپس آئے گی۔پہلے بھی آگئی تھی،لیکن اب تو بہت دھڑلے سے گئی ہے۔”فوزیہ کی ساس نے فکر سے سر ہلایا۔
    ”تو نے کہا بھائی سے کہ پتا لے کر آئے؟”فوزیہ کی نند تشویش سے بولی۔
    ” ہاں آج جائے گاوہ پتا کرنے، دیکھ کیا کہتے ہیں وہ لوگ۔” فوزیہ کی ساس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کہنا کیا ہے اماں،پہلے کی طرح بھیج دیں گے بیٹی کو، انہوں نے کون سا بٹھانا ہے اسے۔” فوزیہ کی نند نے بے پروائی سے کہا۔
    ان دونوں کی باتوں کے دوران ماجدنے پھر رونا شروع کردیاجسے راجدہ تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ کسی صورت قابو نہیں آرہا تھا۔
    ”کتنی بدنصیب ماں ہے، اللہ نے اتنا خوب صورت بیٹا دیا، گھر دیا اور وہ آوارہ پھر رہی ہے۔ اس لڑکی کے چلن تو پہلے ہی ٹھیک نہ تھے، شادی کے بعد تو اور بھی پر نکل آئے۔”فوزیہ کی نند کے لہجے میں فوزیہ کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔
    ”چل تو اس کو دیکھ میں کچھ اور کام کرلوں۔”فوزیہ کی ساس جیسے اس بات سے اکتا گئی تھی، وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں بہت ہی بھیانک اور عجیب سا خواب دیکھ کر گھبرا کر اُٹھ بیٹھی اور امام بخش کو جھنجھوڑا۔ وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اُٹھ بیٹھا۔
    ”خیر ہے بھاگ بھری تو کیوں اُٹھ کر بیٹھ گئی؟”
    ”فوزیہ کے ابا!میں نے فوزیہ کے بارے میں ایک بڑا بُرا خواب دیکھا ہے ۔”ماں نے پریشانی سے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ” کیسا خواب؟ ” امام بخش حیرانی سے بولا۔
    ”وہ بہت پریشان ہے، رو رہی ہے، کہہ رہی ہے اماں مجھے معاف کردے۔” ماں نے پریشان لہجے میں کہا۔
    ”او! رہن دے وہ مر جائے گی لیکن تجھ سے یا مجھ سے کبھی معافی نہیں مانگے گی۔” امام بخش نے ہاتھ جھٹک کر جواب دیا۔
    ” نہیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں، وہ رو رہی تھی۔”فوزیہ کی ماں نے اپنی بات پر اصرار کیا۔
    ”چل رہن دے، سو جا ابھی صبح دیکھیں گے۔” امام بخش نے دوبارہ بے پروائی سے چارپائی پر کروٹ لی۔
    ” فوزیہ کے ابا بات سُن ۔” ماں نے پاس آکر بڑے مان سے کہا۔
    ”ہاں بول کیا بات ہے؟”اُس نے کروٹ بدل کر پوچھا۔
    ” کل تو فوزیہ کی طرف جا خبر لے کر آ اُس کی وہ ٹھیک تو ہے؟”ماں نے بہت اصرار سے کہا۔
    ” دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں، اس کے بارے میں مجھ سے کوئی بات مت کر میں بالکل نہیں جاؤں گااور تو بھی خاموشی سے بیٹھی رہ اپنی جگہ۔”وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور غصے سے بولا۔
    ” تو کتنا بے درد ہے؟ تجھے ذرا اپنی بیٹی کا خیال نہیں آتا؟” فوزیہ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے جسے اس نے اپنے دوپٹے سے پونچھا۔
    ” دیکھ اس نے بھی تو کبھی ہمارا خیال نہیں کیا اور تو اس وقت اس کی ساری باتیں چھوڑ اور سو جا۔ نہ جانے رات کو بیٹی کی کیسی محبت جاگ گئی کہ تو نے میری نیند بھی خراب کردی۔ ”امام بخش نے یہ کہہ کر کروٹ لی،ماں نے بھی دوسری طرف منہ کر لیا ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ ایک میگزین کے لیے فوٹو شوٹ کروا کر کرسی پر بیٹھی تھی اور دوسرے شوٹ کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کی ماں کا فون آ گیا۔
    فوزیہ نے فون نمبر دیکھ کر پہلے کچھ سوچا اور پھرکال ریسیو کر لی۔دوسری طرف ماں کی آواز سن کر بولی۔
    ”ہاں اماں بول کیا بات ہے؟ ”
    ”فوزیہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے تو ٹھیک تو ہے اور تو ہے کہاں؟”ماں نے پریشان ہوکر کہا۔
    ”ہاں اماں میں بالکل ٹھیک ہوں اور اس وقت شہر میں ہوں۔” فوزیہ نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”کیوں شہر میں کیوں تو اپنے گھر میں نہیں ہے؟” ماں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔
    ” اماں اس نے پھر مجھے طلاق دے دی تھی۔” فوزیہ نے قدرے توقف کے بعد جواب دیا۔
    ماں کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا، وہ اپنے گال پیٹنے لگی۔
    ” ہائے وے میرے ربا تو کیا کہہ رہی ہے فوزیہ؟”
    ”ہاں اماں دیکھ میرااب ایسے اس کے ساتھ رہنا حرام تھا۔ میں چھوڑ آئی اُسے۔” فوزیہ نے کندھے اچکائے۔
    ”تو کیسی باتیں کررہی ہے فوزیہ؟ اپنے سر کے سائیں کو چھوڑ دیا؟”ماں نے تشویش سے کہا۔
    ” اماں اس نے مجھے مارا تھا، طلاق دینا تو جیسے کھیل بنالیا تھا۔ اسے میں چھوڑ آئی ہوں۔” فوزیہ نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہائے فوزیہ تو نے اپنے بچے کا بھی نہیں سوچا،کیسے پلے گی وہ ننھی سی جان۔” فوزیہ کی ماں نے تاسف سے پوچھا۔
    بچے کے نام پر فوزیہ کے لہجے میں تھوڑی اُداسی اتر آئی۔”بچہ بھی تو اُسی کا ہے اور پھر ہے بھی لڑکا، لڑکے تو پل ہی جاتے ہیں اماں۔”
    ”تو کتنی سنگ دل ہوگئی ہے فوزیہ۔ تجھے اپنے بچے پر ذرا ترس نہیں آرہا۔”ماں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
    ”بالکل ترس آرہا ہے اماں، مگر تو سوچ اس کا باپ کیا چاہتا ہے؟ بات بات پر طلاق دے دیتا ہے۔دوسری شادی کا خیال ہے اس کا، کتنا عرصہ چلتا یہ سلسلہ۔پھر اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ مجھے کام کرنے دے گا اب مکر گیا ہے اور اماں سچ بولوں اس نے اپنی ماں کی جھوٹی قسم کھائی تھی جو شخص اپنی ماں کے نام کی جھوٹی قسم کھا لے اس کا کیا اعتبار۔”فوزیہ نے کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے ماں کو جواب دیا۔
    ” تو چھوڑ سب باتوں کو ،یہ بتا تو اس وقت کہاں ہے؟ تیرا باپ تجھے لینے آرہا ہے۔”فوزیہ کی ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ” اماں بتا دوں گی وقت آنے پر، مگرابھی مت پوچھ۔ ” فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”کیوں نہ پوچھوں، تو واپس آ بس اسی وقت۔”فوزیہ کی ماں نے اصرار کیا۔
    ” میں نے ابھی واپس بالکل نہیں آنا،تو زبردستی مت کر۔” فوزیہ نے غصے سے جواب دیا۔
    اسی دوران سپاٹ بوائے نے اُسے پکارا۔”مس فوزیہ آپ کا شوٹ ریڈی ہے۔ touching وغیرہ کروالیں۔”
    ”اچھا اماں میں فون بند کررہی ہوں۔ ضروری کام ہے،خدا حافظ۔” فوزیہ نے ماں سے جان چھڑائی۔
    ٭…٭…٭
    شوٹ کروانے کے بعد فوزیہ گوہر کے کمرے میں آگئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی تھیجس میں کچھ زیوراتتھے جو وہ اسے بیچنا چاہتی تھی۔
    ”یہ رکھ لیں۔”فوزیہ نے زیورات گوہر کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ” یہ کیا ہے؟”گوہر نے پوٹلی کو کھولتے ہوئے دیکھا۔
    ” مجھے تھوڑے پیسوں کی ضرورت تھی میں نے سوچا انہیں بیچ دوں۔”فوزیہ نے ہچکچاہٹ سے کہا۔
    گوہر نے پوٹلی میں سے زیورات نکال کر دیکھے،پھر انہیں دوبارہ پوٹلی میں بند کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔
    ”تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟”اس نے فوزیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیسے اُسے جانچا۔
    ”یہی تھوڑے بہت مل جاتے بس، ضرورت پڑ جاتی ہے۔”فوزیہ نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    گوہر نے دراز سے پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھا دیے۔




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”

  • عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔
    آمنہ۔۔۔
    آمنہ فرمان ۔۔۔
    آمنہ ۔۔۔عبداللہ
    آمنہ عبداللہ
    میں بھی یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہوں ۔کسی نے دیکھ لیا تو ہنسے گا مجھ پر ۔ چلو لائن لگا دیتا ہوں اس کانام۔ کاٹ دیتا ہوں آخری لائن کو ۔
    کیا کروں چاہ کر بھی میں اس کا نام کاٹ نہیں پا رہا ۔میں بھی ناں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ ابھی تو مجھے اپنی بہن کو ڈھونڈنا ہے ، اس کے لیے اچھا سا لڑکا تلاش کرنا ہے ، اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں ۔ پھر اپنے بارے میں سوچوں گا ۔ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں ۔ یہ آمنہ خواہ مخواہ چلی آئی میری زندگی میں ۔ آئندہ نہیں سوچنا اس کے بارے میں ۔
    میں نے دل میں تہیہ کیا۔
    ٭٭٭٭٭
    ”تم ۔۔۔تم ۔۔۔حیثیت کیا ہے تمہاری۔تمہاری اتنی جرات بھی کیسے ہوئی کہ تم ایسی بات کرو۔ تم ایک نوکر ۔۔۔ایک مالی ۔۔ایک دو ٹکے کے ۔۔۔تم ۔”
    وہ آنکھیں بند کرتا تو غصے کے ساتھ چلاتی ہوئی آئمہ جہانگیر اس کے سامنے آجاتی ۔ وہ آنکھیں کھولتا تو اس کو اس کی حدیں جتاتی ہوئی آئمہ جہانگیر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
    ”چراغ دین ۔۔اسے بتاؤ کہ ایک نوکر کی حد کیا ہے ۔”
    وہ بہت مضبوط تھا ،لیکن ٹوٹ رہا تھا ۔
    بہت بار اس نے سوچا کہ وہ یہاں سے چلا جائے ، آئمہ جہانگیر کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔مگر جس گلاب کی اس نے آب یاری کی تھی،اسے یونہی چھوڑ کر چلے جانا دشوار ہوا ۔وہ اسے پھول دار دیکھنا چاہتا تھا ، بھلے اس کے کانٹے اسے گھائل کرتے تھے ۔
    شادی کے دن قریب آ رہے تھے ۔عورتوں جیسی چال والا ڈیزا ئنر دلہن اور دلہا کے ملبوسات ، دلہن دلہا کے ماں باپ ،دلہا کی بہن اور دلہن کی سہیلیوں کے ڈریسز کے بارے میں مشورے دینے اور ہدایات لینے چلا آتا، مردوں جیسے حُلیے والی ویڈنگ پلانراپنی ٹیم کے ساتھ گھر کا سروے کرنے چلی آتی۔ برائیڈل شاور کے لیے ہال اور مہندی کے ایونٹ کے لیے لان منتخب کیا تھا اس نے۔
    ”یہ اس طرف اسٹیج بنے گا ۔کچھ پودے کٹوانے پڑیں گے آپ کو ۔” اس نے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا ۔ارم جہانگیر نے سر ہلا دیا تھا ۔
    اس نے تڑپ کر اس گلابی گلاب کے پودے کی طرف دیکھا جس کی ٹہنی اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور جس میں لگی ہرے رنگ کی ننھی ننھی کلیاں اشارہ دیتی تھیں کہ اب اس پہ پھولوں کی بہار آنے ہی والی ہے ۔
    ٭٭٭٭٭



    ”آپ نے مجھے میری ماں سے ملوایا ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی۔” آمنہ فرمان اکثر کہتی تھی اور میں مُسکرا دیتا تھا ۔ میں نے بھلا کیا احسان کیا تھا ۔بس آیا کو اس کی بیٹی سے ملوایا یہ سوچ کر کہ کوئی تو بچھڑا اپنے سے ملے ۔
    جب وہ میری زیادہ احسان مند ہونے لگتی تو میں کہتا ۔
    ”تم نے احسان ہی اتارنا ہے ناں تو دعا کرو کہ میری بہن مجھے مل جائے ۔ ”
    وہ اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتی ۔ میں بس اسے دیکھ کر رہ جاتا ۔بہت خالص تھی وہ ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی میری راہ نہ کھوٹی کر ڈالے۔
    غلط بات تھی ناں کہ میں نے حفصہ کے لیے انکار کیا تھا اور اب آمنہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا۔ واقعی سچ کہتے ہیں دل بڑ ا ہی شہ زور ہوتا ہے ۔ دماغ پہ قابو پا لیتا ہے ۔ میں جو دل میں پکا عہد کرتا تھا کہ اب آمنہ کو نہیں سوچنا ، اس کو دیکھتے ہی ہر عہد بھول بیٹھتا ۔ دل اپنی منوا کر چھوڑتا ۔
    ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں ۔ میں اپنی بہن کی باتیں کرتا اور وہ مجھے اپنے گھاؤ دکھاتی ۔
    عجیب بات ہے کہ کسی کے پاس رشتے نہیں ہوتے،تو وہ تنہا ہوتا ہے ، کسی کے پاس بہت سے رشتے ہوتے ہیں پھر بھی وہ تنہا ہوتا ہے ۔ کوئی یتیم مسکین ہوتا ہے کیو ں کہ اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور کوئی ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین ہوتا ہے ۔
    میری محرومیاں کسی حد تک مٹنے لگی تھیں ۔ میں یتیم خانے میں رہا اور آمنہ اپنے گھر میں۔ میرے ماں باپ حیات نہ تھے ، اس کے ماں باپ اسی دنیا میں تھے ۔ پھر بھی میں آمنہ سے زیادہ بہتر حالات میں رہا ۔ میں اب اللہ کا شکر ادا کرنے لگا تھا ۔
    ہمارے بیچ کوئی اقرار نہ ہوا تھا ، کوئی وعدے نہ ہوئے تھے ۔ پھر بھی خود کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ہی راہ پہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔
    میرا ماسٹرز ہو گیا تو ایک نجی بینک میں کیشئر ہوگیا ۔ ہفتہ اور اتوار کے دن میں بیگم شاہ جہاں کے گھر بھی جاتا تھا بچوں کو ریاضی پڑھانے ، ہفتے بھر میں انہیں ریاضی میں جو بھی مسئلہ پیش آیا ہوتا ، میں انہیں سمجھاتا ۔ کبھی کبھی آمنہ بھی آتی تھی آیا سے ملنے ۔ جس دن وہ آتی ، اس دن میں بات بے بات مسکراتا اور شاید باتیں بھی زیادہ کرتا ۔ بیگم شاہ جہاں نے میری چوری پکڑ لی تھی۔ ایک ہفتے بچوں کو پڑھا کر ان میں ٹافیاں بانٹ کر میں بیگم شاہ جہاں کے پاس آبیٹھا ۔ وہ باہر لان میں بیٹھی بانو قدسیہ کی ”راہ رواں ” پڑھ رہی تھیں ۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میری نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں ۔
    ”آمنہ نہیں آئی آج ۔ ”
    ان کی نظریں کتاب پر تھیں اور آبزرو مجھے کر رہی تھیں ۔چالاک۔۔۔
    میں شرما گیا تھا ۔ وہ بھی ہنس دی تھیں ۔
    ”کروں پھر آیا سے بات ؟”کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
    ”نن ۔۔نہیں ابھی نہیں ۔” میں نے فوراً انہیں منع کیا ۔
    ”کیوں ؟” انہوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر تیکھی نظر سے مجھے دیکھا ۔
    ”ابھی مجھے اپنی بہن کو تلاش کرنا ہے ، اس کی شادی کرنی ہے ۔ پھر ۔۔۔۔”
    ”تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو ۔ ” انہوں نے افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ مجھے ان کی افسردگی اچھی نہیں لگی۔
    ٭٭٭٭٭



    دن گزرتے رہے ،شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں ۔وہ ہنستی مسکراتی شاداب چہرہ لیے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز لیے اس کے پاس سے گزرتی رہی۔پھر ایک دن جانے کیا ہوا کہ اس گلاب جیسی لڑکی کی چمکتی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ، مُسکراتا مطمئن چہرہ یک دم ماتمی لگنے لگا۔اس کے رخساروں کے گلابی گلاب مرجھا گئے اور وہاں زرد گلاب اگ آئے ۔
    ”شادی رک گئی ہے ، بی بی کے سسرال والوں کو پتا چل گیا ہے ۔”ملازموں کے بیچ ہونے والی گفت گو کچھ اس کے کانوں میں بھی پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا ۔اس رات بھی اس کے سجدے طویل رہے۔
    یہ دو دن بعد کی بات ہے جب آئمہ پچھلی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی۔ اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا اور اس کا جسم یوں ہچکولے کھا رہا تھا جیسے وہ رورہی ہو۔
    وہ اپنی حیثیت جانتا تھا پھر بھی خود کو روک نہ پایا اور اس کے قریب چلا آیا۔
    ”سنو۔” اس نے آہٹ پا کر سر اٹھایا تھا ۔اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھہر نہ پایا اور جانے لگا تھا جب آئمہ نے پکارا تھا ۔وہ رک گیا ۔
    ”کیا نام ہے تمہارا۔”
    اس گھر میں مالکوں کے بیچ وہ مالی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔آج وہ اس سے اس کا نام پوچھ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے وہ خود بھی اپنا نام بھول گیا ،پھر یاد آنے پہ بولنا چاہا تو زبان تالو سے جڑی رہ گئی۔
    ”میں نے تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلائی تھی ناں ،آج مجھے اپنی حیثیت پتا چل گئی ہے ۔”آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر آئے اور ذرد گلابوں کو آب یار کر گئے۔
    وہ گلابی گلابوں کا کاشت کار تھا ۔ان زرد گلابوں کو دیکھ نہ پایا اور منہ موڑ لیا ۔
    ”مٹی کے اس ذرّے سے بھی زیادہ حقیر اور کم تر ہوں میں ۔” اس نے پاس پڑے گملے سے مٹی کی مٹھی بھری اور اپنے اوپر اُڑا دی۔
    ”اس ۔۔۔اس پودے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہوں میں ۔” اس نے گملے سے پودا اکھاڑ ڈالا تھا ۔”اس کی تو جڑیں اس کے ساتھ ہیں ۔اور میری جڑیں ۔۔۔میری جڑیں ۔۔جانے کدھر ہیں۔”
    اس کو اپنا کوئی ہوش نہ تھا۔اس کو ایک ساتھ دو دو چوٹیں لگیں تھیں ۔ شادی کا ختم ہونا تو شاید برداشت ہو جاتا مگر ۔۔۔مگر اپنا بے شناخت ہونا موت تھا ۔ وہ مر رہی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہیے تھی۔ محبت کے بنا رہا جا سکتا ہے مگر شناخت کے بنا۔۔۔ہر گز نہیں ۔
    وہ وہاں رک نہ پایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
    اگلے دن وہ گھر سے غائب رہا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭



    میں بیگم شاہ جہاں سے ناراض ہو گیا تھا ، بات ہی انہوں نے ایسی کی تھی۔
    مجھے کہیں سے پتا چلا تھا کہ جس شخص نے میری بہن کو گود لیاتھا ، اس نام کا ایک شخص کراچی میں رہتا ہے ۔ میں کراچی چل پڑاتھا ۔ دنیا میں ایک نام کے کئی انسان۔ وہ بھی کوئی اور ہی نکلا تھا ۔ میں نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہر ا تھا ، وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر نکلا ،ابھی راستے میں ہی تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخم چاخ ، آہ وبکامچ گئی ۔ میں ٹیکسی سے نکل کر لوگوں کی طرف بھاگا ۔ ہر طرف بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے آپ کو بھول کر زخمیوں کی طرف بھاگے تھے ۔ میں بھی ان کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ ایمبولینسز آنے کے بعد زخمیوں کو روانہ کر کے میں بھی اسپتال پہنچا ۔ وہاں خون کی بوتل دی ۔اس دوران میں اپنے موبائل اور بیگ کی طرف سے بالکل غافل تھا ۔بعد میں معلوم چلا کہ میرا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا تھا ہاتھ میں پکڑا موبائل جانے کہاں گر گیا تھا۔ اصل میں مجھے اس وقت کسی شے کا ہوش نہ تھا ، دھیان صرف آہ و بکا کرتے زخمیوں کی طرف تھا۔
    اگلے دن میں واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ایک دن بعد لاہور پہنچا تو بینک کا ایک کولیگ جو میرے ساتھ ہی فلیٹ میں رہتا تھا ، ا س نے بتایا کہ بیگم شاہ جہاں میری طرف سے بہت پریشان ہیں ۔وہ کل فلیٹ پر آئی تھیں اور اب کل سے مسلسل اسے فون کر کے میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔
    ”اوہ۔” مجھے شرمند گی ہوئی ۔ مجھے انہیں کال کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دے دینی چاہیے تھی۔ بم بلاسٹ کی خبر سُن کر وہ پریشان ہوئی ہوں گی۔ اس وقت مجھے یہ سوچ کر خوشی بھی ہوئی کہ اگر میں مر جاؤں تو کوئی تو ہے جو روئے گا اور میری تدفین لاوارث ہو کر نہیں ہو گی۔
    میں منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کر کے بیگم شاہ جہاں سے ملنے آگیا ۔
    ”کہاں ، کہاں تھے تم ؟” جیسے ہی میں کمرے میں پہنچا ،بیگم شاہجہاںاپنی جگہ سے اٹھ کر تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھیں ۔
    ”کراچی۔”
    ”کیوں ؟”
    ”بتایا تو تھا کہ تلاش میں ۔۔۔۔”
    ”کس کی تلاش ۔۔۔” بیگم شاہ جہاں میری بات کاٹ کر غصے سے بولیں ۔ ”کس کی تلاش میں اتنے پاگل اتنے دیوانے ہوئے پھرتے ہو تم؟” میں نظریں نیچی کیے کھڑا رہا ۔”کس کی تلاش میں اپنا آپ بھولے بیٹھے ہو تم ۔اس کی ۔۔۔اس کی جو تمہیں پہچانے گی بھی نہیں ۔”
    میں نے تڑپ کربیگم شاہ جہاں کی طرف دیکھا ۔
    ”وہ پہچانے گی مجھے ، بھائی ہوں میں اس کا ۔۔ آپ کو یاد نہیں ، وہ میرے بغیر کچھ کھاتی نہ تھی ، میرے بغیر کھیلتی نہ تھی ، میرے بغیر ۔۔۔۔”
    ”تمہیں کیا لگتا ہے ۔ انیس سال بعد بھی وہ تمہارے بغیر کچھ کھاتی نہ ہوگی ، تمہارے بغیر کھیلتی نہ ہو گی ، تمہارے بغیر جیتی نہ ہوگی۔” پتا نہیں وہ اتنا سفاک کیوں ہو رہی تھیں۔
    ”نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔”
    ”یہ دیوانگی چھوڑ دو عبداللہ ۔ نہیں ہو تم بھائی اس کے ۔ کان کھول کر سن لو نہیں ہو تم بھائی اس کے۔”
    ”آپ نے یہ رشتہ بنایا آپ ہی مکر رہی ہیں ۔” مجھے ان کے انداز پہ دکھ ہو رہا تھا ۔
    ”ہاں ، میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے یہ رشتہ بنایا ،وہ میری سب سے بڑی بیوقوفی تھی۔”
    ”مگر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔ دولت ہے ۔”
    ”تم سمجھتے کیوں نہیں عبداللہ۔۔۔ اس کی اپنی دنیا ہے ۔”
    ”مگر میری تو دنیا وہی ہے ۔”


  • عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے کو متوجہ کرنے کی ،کچھ کہنے کی ،کچھ بتانے یا پھر کسی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ہر وقت نظریں جھکائے اپنے کام میں مصروف نظر آتا۔اس کے علاوہ وہ بولتا ہے ارم جہانگیر او رخانساماں بھی اس کے گواہ تھے ۔ارم جہانگیر کو اس نے نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خانساماں اس کے ساتھ کمرہ شئر کرتا تھا ۔
    لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے ہاتھ سے لگی کوئی بھی چیز سرسبز ہو جاتی تھی اگر وہ ریت میں ،پتھر میں کوئی بیج کوئی سوکھی ٹہنی بھی لگا دے تو چند دن میں نئی کونپلیں پھوٹ اٹھتی تھیں ۔دو کنال کی اس کوٹھی کو اس نے گل و گلزار کر دیا تھا ۔دنیا بھر کے مہنگے ترین پودے جو پچھلے مالی کی غفلت کی نظر ہو کر بے دم پڑے تھے ، اس کی توجہ سے دنوں میں جھوم اٹھے۔یوں تو وہ ہر پودے، ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتے سے ما ں جیسا سلوک کرتا تھا مگر گلاب اس کی آنکھ کا تارا تھا۔یہ وہ لاڈلا بچہ تھا جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے زیادہ لاڈ پا لیتا ہے ۔
    جہانگیر عثمان کی کوٹھی کے چہار اطراف پھیلے لان میں امریکن پرائیڈ ، ریڈ پیس اور سینڈریلا جیسے عام گارڈن روزز سے لے کر دنیا کا مہنگا ترین گلاب جولیٹ روز بھی تھا اور جب سے وہ آیا تھا اس نے گلابی گلابوں کا پورا قطعہ کاشت کر ڈالا تھا ۔ اس دن وہ گلاب کے پودے کی ٹہنی ہی زمین میں لگا رہا تھا جب اسے وہ دکھائی دی تھی۔
    وہ وہی تھی۔۔۔ہاں وہی تھی ۔
    جسے ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ دشت دشت کا سیاح ہوا ۔جس کی آواز سننے کے لیے وہ شہر شہرکا مسافر ہوا۔
    وہ اپنی جگہ بت بنا اسے دیکھتا چلا گیا ۔
    سرمئی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ ٹراؤزر کے ساتھ واک شوز میں وہ شاید صبح کی سیر کا ارادہ رکھتی تھی۔اونچی پونی ٹیل سے بال نکل نکل کر چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چیونگم چبا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی پونی ٹیل ہلکورے لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور کانوں میں ائیر فونز۔ دوسرے ہاتھ میںسفید بالوں والے ننھے سے کتے کی چین تھی جو اس سے آگے آگے بھاگ رہا تھا ۔مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہا تھا ۔وہ تو ۔۔۔وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا ۔
    وہ بے نیازی کے ساتھ چلی آرہی تھی، جب ہی اس کی نظربت بنے شخص پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    صبح کی ڈیوٹی والا چوکیدار اسے دیکھ کر بھاگتا چلا آیا تھا۔
    ”سلام۔” اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بی بی کو سلام کیا ،اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔” آپ آگئیں بی بی۔پڑھائی پوری ہو گئی آپ کی ؟” وہ جوش سے پوچھ رہا تھا ۔اس نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب بھی اسے تک رہا تھا ۔
    ”مالی ہے ۔” چوکیدار نے بی بی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر تعارف کروایا ۔
    ”ماما بھی جانے کیسے کیسے لوگ رکھ لیتی ہیں ۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
    نگاہ سے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ جسے ہو ش میں آیا تھااور اسے سمجھ آئی کہ یہ وہ نہیں جس کو ایک نگاہ نظر دیکھنے، منہ سے ایک لفظ سننے کے لیے اس نے ایک عمر کاٹ دی۔
    یہ وہ نہیںتھی ۔یہ تو آئمہ جہانگیر تھی جہانگیر عثمان کی اکلو تی بیٹی۔
    ٭٭٭٭٭



    سنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ماں ہوتی ہے ، ایک باپ ہوتا ہے ، بہن بھائی ہوتے ہیں ۔اکثر گھروں میں دادا ،دادی اور نانا نانی جیسے بزرگ بھی ہوتے ہیں اور کئی گھروں میں چاچا، تایا اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔پھوپھو ،خالہ اور ماموں کا ذکر بھی سنا تھا ۔ مگر میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہاں کوئی ماں نہ تھی، جو گود میں لے کر لوریاں سناتی اور پیار سے تھپکتے ہوئے سلاتی۔ویسے تو میں خاصا معصوم بچہ تھا ۔خواہ مخواہ روتا نہیں، ضد نہیں کرتا تھا پھر بھی اگر کبھی نزلہ زکام یا بخار ہوتا یا پھر بھی چوٹ لگ جاتی اور تو میں روتا ،ایک کرخت چہرے والی عورت تھپڑ لگاتی اور میں لوری سنے بنا ہی سو جاتا ۔اس گھر میں کوئی باپ نہ تھا، جو کندھے پہ بٹھا تا ، ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرتا ۔جس کی میں انگلی پکڑ کر چلتا۔ یہاں جو مرد تھا وہ لال آنکھوں سے یوں گھورتا کہ میں دس گز دور ہی کھڑا رہ جاتا ۔اس کی انگلی پکڑنا ،اس کے کندھے پہ بیٹھنا یا اس سے کوئی فرمائش کرناکسی جرات مند کا کام ہو سکتا تھا اور میں بھلا ایسا شجاع کہاں ۔
    نانا نانی، دادا دادی جیسے کردار بھی شاید کسی اور سیارے پہ ہوتے ہوں یا شاعروں اورکہانی نگاروں کا تخیل ہوں کیوںکہ میں نے نظموںاور کہانیوں میں تو ان کے بارے میں پڑھا تھا مگر اس گھر میں روئی کے گالوں جیسے بالوں والی ،کہانیاں سناتی کوئی نانی نہ تھی، کھانستا ہوا، لاٹھی ٹیک ٹیک کر چلتا ہوا کوئی دادا نہ تھا ۔مجھے ان تمام نادیدہ رشتوں سے عشق تھا ۔میں سوچتا تھا ،میں بھی کہانیاں لکھوں گا ۔ان کہانیوں میں ایک گھر ہو گا جہاں یہ سب مریخی،مشتری رشتے بستے ہوں گے ۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک معجزہ ہوا ۔مجھے چاند، مریخ اور عطارد کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میں سات سال کا تھا جب وہ میری زندگی میں آئی اور مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کہانی کار اور شاعر کے تصورات کوئی ایسے ماورائی بھی نہیں ہوتے ۔ گھر اور گھر میں بسنے والے تمام رشتے زمینی ہی ہیں ۔
    ٭٭٭٭
    آج پھر ریحانہ پروین اپنے آپ کو بیچ کر آئی تھی۔
    ماں کی بیماری تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔دوائیں تھیں کہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی تھیں۔ جس گھر میں جھاڑو پوچا کرنے اور کپڑے دھونے جاتی تھی وہ تو مہینے کے مہینے اتنی رقم ہاتھ میں پکڑاتے، جس سے ماں کی ہفتہ بھر کی دوا ہی بہ مشکل آ پاتی۔ پیٹ بھرنے کے لیے مٹی ، بل بھرنے کے لیے اخبار کے کاغذ سے کام نہ چلتا تھا ۔اسے سب بیچنا پڑا تھا ۔پہلے اپنی انگوٹھی ،پھر چوڑی اور اس کے بعد گھر کا باقی سامان۔
    اب جب گھر میں بیچنے کو کچھ اور باقی نہ بچا تھا ایسے میں اسے ایک ہی راہ سجھائی دی کہ اپنا مول لگا لے ۔گہنے ،برتن ،پلنگ اور الماری تو بکنے کے بعد واپس نہ ملے تھے ۔خود توچند گھنٹے بعد ہاتھ میں چھوٹے گوشت ،موسمی پھل اور ماں کی دوا کی تھیلی لیے گھر لوٹ آتی تھی ناں ۔مگر جانے اس دن کیا ہوتا تھا کہ ماں پہ یخنی اثر کرتی نہ ہی دوا۔ بے بسی کی مورت بنی اس کی صورت دیکھتی رہتی۔آنکھوں سے پانی رستا رہتا ۔
    ”آنکھوں والا ڈاکٹر اتوار کو بیٹھے گا تو تیری آنکھیں بھی چیک کرواؤں گی۔”
    کہتے ہوئے آواز بھاری سی ہو جاتی اور نگاہیں فرش پہ ،دیوار پہ اور کبھی چھت پہ رینگنے لگتیں ۔
    جس رات ماں مری ،اس دن تواس کی طبیعت قدرے بہتر تھی ۔ہاں ریحانہ پروین کی اپنی طبیعت خراب تھی۔ماں کے پیر دابتے دابتے اچانک اُلٹی آ گئی تھی پھر نقاہت محسوس ہونے لگی اور رنگ پیلا پڑنے لگا ۔
    اماں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔آنکھوں سے پانی زیادہ بہنے لگا تھا ۔اس دفعہ ماں سے پکا وعدہ کیا کہ اتوار کو آنکھوں کا ڈاکٹر بیٹھے گا تو صبح جا کرہی ٹوکن لے گی مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ماں اسی رات مرگئی۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭



    آنگن میں بیٹھے بچے ایک دوسرے کو ٹہوکا دیتے ،سامنے اشارہ کرتے پھر منہ پہ ہاتھ یا کاپی رکھ کر ہنستے ۔کالی شرٹ والے لڑکے کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا تھا، وہ کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔یہ انٹرٹینمنٹ شو شاید جاری رہتا اگر سرخ رنگ کے پھول دار لباس والی لڑکی کی لڑائی نیلے رنگ کی فراک والی لڑکی کے ساتھ نہ ہوجاتی۔
    آمنہ فرمان ہنگامے پہ ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔صورتِ حال کو سمجھنے میں اسے چند سیکنڈ لگے پھر کرسی سے اُٹھ کر دونوں بچیوں کو چھڑوایا، جو غالبً ایک دوسرے کے بال نوچنے کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔اس نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ترتیب کے ساتھ چٹائی پہ بٹھایا ۔ دونوں جنگ جو بچیوں کو الگ الگ قطار میں بیٹھنے کا حکم دیتی ہوئی تپائی پہ پڑی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
    ”باجی ! میری امی کہتی ہیں کہ تم ندا کے ساتھ نہ بیٹھا کرو ۔” ابھی ایک کاپی بھی چیک نہ ہوئی تھی ،جب عرضی لیے نینا سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”جاؤ ۔۔۔تم وہاں جا کر اریبہ کے پاس بیٹھ جاؤ ۔” اس نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کر کے اس کا مسئلہ حل کیا۔
    ”باجی ! یہ دیکھیں مجھے نبیل نے کیا دیا ہے ۔”
    کالی شرٹ والے بچے کو ٹیسٹ بنا کر دینے لگی توسونیا اُٹھ کر آگئی۔ اس نے رازداری کے ساتھ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔جسے کھولتے ہی اس کا سر گھوم گیا ۔
    ”آئی لو یو سونیا ۔”
    ”نبیل تم کل اپنی امی کو لے کر آنا ۔”
    اس نے کڑے لہجے میں نبیل کو حکم جاری کیا ۔نبیل کا تو رنگ پیلا ہونا تھا ،سو ہوا ۔اس کا اپنا حال بھی خراب ہوا ۔
    ”سونیا کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ تو اٹھا لے گی اسے ٹیوشن سے ۔پانچ سو روپے کا نقصان ۔” حالات بچوں کی حرکتوں پہ کڑھنے کا وقت نہ دیتے تھے۔ اسے اپنی روزی کی فکر ستانے لگی تھی ۔”اور جو بچوں میں سے کسی نے گھر جا کر بتا دیا کہ مس پڑھاتے پڑھاتے سو جاتی ہیں تو ۔۔۔تو اگر کسی نے اپنا بچہ اٹھا لیا ٹیوشن سے تو۔۔۔نہیں ۔” اس کا سر نفی میں ہلا۔ اتنے بڑے بڑے نقصان وہ افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ وہ اٹھی اور غسل خانے کے باہر لگے بیسن پر آ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
    آٹھ بجے بچے گئے تو وہ اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔دال چاول پکانے کے دوران اس نے اسکول سے لائے ہوئے کاپیوں کے ڈھیر کو بھی چیک کرنا تھا ۔آٹے والے کنستر پر رکھے ڈائجسٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے یہ کام بھی نپٹایا ۔دادی کو کھانا اور دوا دی ۔ ان کے سونے کے بعد نماز ادا کی ،صبح کے لیے کپڑے استری کیے اور اپنی کتابیں کھول لیں ۔دو دن بعد بی اے کے امتحانات شروع ہونے والے تھے ۔وہ سونا چاہتی تھی ،بھر پور نیند لینا چاہتی تھی۔صحت اور تازگی کے لیے ضروری تھا مگر وقت اجازت نہ دیتا تھا ۔
    وقت بھر پور نیند کے لیے نکلے یا نہ نکلے ،چچی کے لیے ضرور نکالنا تھا ۔وہ رافعہ کو لیے آ گئی تھیں ۔
    ”اس کو ریاضی مشکل لگتا ہے ۔ایک مشق کروا دو ۔”
    اس نے بارہا چچی سے کہا تھا کہ ٹیوشن والے ٹائم پہ رافعہ کو بھیج دیا کریں ۔ ثنا اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھا دیا کرے تا کہ اس کے وقت کی بچت ہو جائے۔مگر چچی کو اس کے وقت سے کیا لینا دینا ۔
    ”اتنے بچوں میں دل گھبراتا ہے رافعہ کا ۔”
    ”ٹیوشن والے نو بچوں میں دل گھبراتا ہے ،کلا س کے تیس بچوں میں تو ہارٹ فیل ہو سکتا ہے پھر اسکول بھی نہیں بھیجنا چاہیے ۔” وہ محض کڑھ کر رہ جاتی تھی، ان کے منہ پہ کہہ نہ سکتی تھی۔ ان کو کچھ کہنے کا مقصد گھر میں کئی دن کا ہنگامہ ۔ویسے چچا اور تایا کو ایک کمرے کے اس گھر میں پڑی بوڑھی ماں اور یتیموں جیسی بھتیجی کا حال احوال پوچھنے کا وقت ملے نہ ملے ،اس موقع پر ضرور مل جاتا تھا ۔ تایا سمجھانے چلے آتے ،چچا طعنہ زنی کرنے چلے آتے ۔
    امتحانات کے دنوں میں یہ بیرونی آمدورفت اور بدمزگی اس کے حق میں نہ تھی اس لیے رافعہ کو ریاضی کی مشق سمجھانے لگی۔اس کے جانے کے بعد اس نے پھر اپنی کتاب کھول لی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ڈائجسٹ سے قسط وار ناول کی قسط بھی پڑھ لے گی ۔مگر ڈائجسٹ اس کے سرہانے پڑا کا پڑا رہ گیا اور اس کی آنکھیں نیند سے بند ہوتی گئیں ۔
    نیند میں جانے سے پہلے جو آخری خیال تھا ،وہ اس شخص کا تھا جس کا نام عبداللہ تھا ۔
    آج اسے گئے ہوئے تین سو دس دن ہو گئے ۔
    ٭٭٭٭٭