Tag: children story

  • بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی
    معاویہ مومن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں ایک بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا بیٹا ”بھولُو” بڑا ہی بے وقوف تھا۔ ایک دن بُڑھیا نے بھولُو کو کچھ سامان خریدنے بازار بھیجا۔ بھولُو نے بُڑھیا سے دو سِکّے لیے اور بازار کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے ٹھوکر لگی اور دونوں سِکّے کہیں گر گئے۔ بھولُو بہت پریشان ہوا۔ اُس نے واپس آکر اپنی امّی کو بتایا کہ سکّے گم گئے ہیں۔ بُڑھیا نے سمجھایا: ”بیٹا اس طرح کی چیزوں کو جیب میں رکھتے ہیں۔”
    دوسرے دن بُڑھیا نے بھولُو کو گھی لانے کے لیے بازار بھیجا۔ اِس بار بھولُو نے دکان سے گھی لیا اور اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے سارا گھی پگھل کر بہ گیا۔ بھولُو نے دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ بُڑھیا نے اُسے پھر سمجھایا: ”بیٹا! اِس طرح کی چیزوں کو مرتبان یا ڈبے میں ڈال کر لاتے ہیں۔” اگلے دن بھولُو ایک بار پھر بازار گیا۔ اُس نے دو چوزے خریدے اور انہیں ڈبے میں بند کرکے گھر لے آیا۔ جیسے ہی بُڑھیا نے ڈبہ کھولا، اندر سے دو چوزے نکلے جو دم گھٹنے سے مرچکے تھے۔
    بُڑھیا نے افسردہ ہوکر کہا: ”بیٹا ایسی چیزیں ہاتھوں میں اٹھا کر لاتے ہیں۔” چناں چہ اگلے دن بھولُو نے بازار سے گدھے کا ایک بچہ خریدا اور اسے اپنے کندھوں پر سوار کرلیا۔ گدھے کا بچہ اُس کے کندھوں پر ٹِک ہی نہیں رہا تھا۔ بھولُو بڑی مشکل سے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا۔
    راستے میں ایک اُداس شہزادی کا محل تھا۔ شہزادی نے اُس دن اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی اُسے ہنسائے گا وہ اِسے انعام دے گی۔ شام ہونے کو تھی لیکن کوئی بھی شہزادی کو ہنسانہ سکا۔ ایسے میں محل کے سامنے سے بھولُو کا گزر ہوا جس نے بڑی مشکل سے اپنے کندھوں پر گدھے کا بچہ اُٹھا رکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی شہزادی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اُس نے بھولو کو بلا کر بہت سارے انعامات دیے۔

    ٭…٭…٭

  • بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی
    ہما جاوید

    کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بِل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی منہ میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ وہ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محنت سے کرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا توراہ چلتے دوستوں سے بے مقصد بات چیت نہ کرتا، وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا مل بھی جاتا تو چیونٹا دور ہی سے سلام دعا لے کر آگے روانہ ہوجاتا تھا ۔
    اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔جہاںشریر اور آوارہ بچے گھنٹوں اس گندے پانی میں نہاتے رہتے۔ ان بچوں کے ساتھ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھیں۔ چیونٹا بڑا پریشان تھاکیوں کہ بھینسیںوہاںسارا دن پھرتی رہتی تھیں۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں اُس کا کوئی بچہ اِن کے پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
    ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا۔ وہ دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے لگا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجھوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا اور دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے سر پر کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تووہ بولی: ”آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ”
    ”ہیں …؟کیا کہاپانی …؟” کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹاگھبرا کر بولااور پھر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم پانی پرمار رہی ہے جس سے چھینٹے اُڑ اُڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ اِس طرح تو ہماری خوراک کا ذخیرہ برباد ہوجائے گااور جاڑوں کے موسم میں ہم بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچاپھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھر پر چڑھ کر بولا:
    ”بی بھینس! میری ایک بات سنوگی؟”
    ”کیا ہے بھئی؟” بی بھینس نے اکڑکرجواب دیا۔
    ”دیکھو بہن! میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ہم اپنی بِل میں برے وقت کے لیے پہلے ہی سے خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”تو پھر میں کیا کروں؟” بھینس روکھے پن سے بولی۔
    ”اچھی بہن !تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہمیں خوراک کاذخیرہ تباہ ہونے کااندیشہ ہے۔ خدا کے لیے میرے بچوں پر ترس کھائو ۔ میں زندگی بھر تمہارا احسان مندرہوں گا۔” وہ بھینس بڑی بد اخلاق تھی۔ اُس پرچیونٹے کی اِن باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ آنکھیں نکال کر بولی:
    ”چل بھاگ یہاں سے… میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ جب تک چاہوں دُم ہلاتی رہوں تُو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ نکل جا ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔” چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیاکہ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چناںچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر نے کے باعث خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا ۔ چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے بچوں کوپانی سے نکالا اور باہر لے آیا پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈال کر کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔
    اب اس کے پاس کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کو ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا ۔چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انہیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا:” پیارے بھائی!آپ ہمارے محسن ہیں۔ہر برے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔”
    یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹاا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے گھروں سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے ۔اب غلے کا ایک بڑا ڈھیربن گیاتھا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ جمع ہوچکاتھا۔ اس نے اپنے سب دوستوںکا شکریہ ادا کیا۔
    ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بھینس ندی کے باہر کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس کو تکلیف میں دیکھا تو اسے بھینس پربڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ”بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ ”چیونٹا بے چینی سے بولا :”مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
    ”میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہا۔ تنکا کسی بھی طرح نکل نہیں رہا۔” بھینس نے بتایا ۔
    ”میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ تم اپنا سرزمین پر رکھو۔” چیونٹا نے کہا۔
    بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال لایا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملااور اس کی آنکھوں میںندامت کے آنسو اُمڈ آئے ۔اس نے شکریہ ادا کیااوربولی:”چیونٹے میاں! میں نے تم پر ظلم کیا لیکن اس کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا، آخر کیوں؟”
    چیونٹا بولا: ”سنو بہن اگر تمہاری بدی کرنے پر میںبھی بدی سے جواب دیتا تو تم میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جاتا ۔اس طرح تو دنیا سے نیکی ہی مٹ جائے ۔ویسے بھی اگر تمہیں اُس خوشی کا احساس ہو جائے جو بھلائی کر کے ملتی ہے تو تمہارے سوال کا جواب تمہیں خود مل جائے گا۔” یہ سن کر بھینس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا پھر اس نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آئے گی۔

  • بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی
    نواب صاحب
    زاہدہ عروج تاج

    زاہدہ عروج تاج صاحبہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں اور آج کل بہاولپور مقیم ہیں۔ ایف اے تک روایتی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شارٹ کورسز کیے، پھر جی ایچ کیو اسلام آباد میں دفاعی تربیت کے ساتھ دیگر کورسز میں حصہ لیا۔ 1993ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔ مختلف رسائل میں بڑوں کے لیے افسانے اور نظمیں لکھیں۔ طویل وقفے کے بعد 2004ء میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔ سینکڑوں کہانیاں لکھ چکی ہیں۔ الدعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے پاکستان کی بہترین کہانی کار کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    اس حقیقی کہانی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن جس ریاست کی یہ کہانی ہے وہاں کے لوگ آج بھی مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ایک ریاست، جس کا نام تھا بہاول پور!
    نہایت خوش حال ریاست تھی۔ یہاں کے نواب صاحب بڑے جی دار تھے۔ وہ اپنی رعایا کا خوب خیال رکھتے۔ ان کے غم اور خوشیوں میں شریک ہوتے۔ لوگوں کی فلاح اور بہبودکے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ تعلیم اور صحت کے بہتر معیار کے لیے اقدامات ان کی بہترین ترجیح تھی۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک ا زاد اور خود مختار اسلامی مملکت کی آواز بلند ہوئی اور پھر یہ آواز ہر سو پھیل گئی۔
    نواب صاحب کے ملکہ برطانیہ سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دفعہ وہ انگلستان کی سیر کے لیے گئے۔انگلستان اس وقت بھی امیر اور ترقی یافتہ ملک تھا۔ ایک دن وہ لندن میں بون سٹریٹ پر عام شہریوں کی طرح گھوم پھر رہے تھے کہ ا ن کا گزر گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے سے ہوا۔ وہ مشہور زمانہ رولز رائس گاڑیوں کا شو روم تھا۔ رولز رائس اس وقت کی سب سے مشہور اور مہنگی گاڑی تھی۔ نواب صاحب کی نظر شوروم میں موجود چمچماتی گاڑیوں پر پڑی۔ وہ اندر جانے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔ نواب صاحب کے اصرار پر اس نے بہ غور اُن کا حلیہ دیکھا۔ مطلب یہ تھا کہ ایک عام سے انسان کا رولز رائس کے شو روم میں کیا کام؟ بہرحال نواب صاحب کے اعتما دسے گھورنے پر وہ دروازے سے ہٹ گیا اور وہ اندر چلے گئے۔ انہوں نے گاڑیاں دیکھیں اور ایک گاڑی کا ماڈل انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے سیلز مین سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ رولز رائس کا نیا اور جدید ماڈل تھا جو کہ سب سے مہنگا تھا۔
    ”اس گاڑ ی کی کیا قیمت ہے؟” نواب صاحب نے پوچھا، مگر سیلز مین نے انہیں ایک عام ایشیائی آدمی سمجھ کر طنزیہ نظروں سے دیکھا اور کہا: ”تم یہ گاڑی نہیں خرید سکتے کیوں کہ تمہاری حیثیت نہیں ۔” اُس کا جواب سن کر نواب صا حب طیش میں آگئے۔
    ”میری حیثیت کیا ہے، اس بات سے تمہیں غرض نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے ملازم کو غصے سے کہا۔ جواب میں ملازم بولا تو کچھ نہیں، مگراس نے عجیب سا منہ بنا کر ہونٹ سکیڑتے ہوئے کندھے اُچکائے۔ نواب صاحب کو کمپنی ملازمین کے رویّے پر پہلے ہی غصہ تھا۔ اب تو وہ اوربھی سیخ پا ہو گئے اور دل ہی دل میںکمپنی کو مزہ چکھانے کا ارادہ لیے ہوٹل واپس آگئے۔ نوابی خون ساری رات کھولتا رہا اور وہ کمپنی کو مزہ چکھانے کا سوچتے اور ٹہلتے رہے۔ آخرکار اُن کے ہونٹوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ اُبھری اور وہ سونے کے ارادے سے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئے۔
    اگلے روز نواب صاحب پورے شاہی پروٹوکول اور ملازمین کی فوج کے ساتھ شوروم پہنچے ۔ اس وقت شو روم میں چھے رولز رائس گاڑیاں موجود تھیں ۔نواب صاحب نے چھے کی چھے گاڑیاں خرید لیں۔ قیمت ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا پاؤں میز پر رکھا اور جوتے میں سے ایک ہیرا نکال کر کمپنی کے نمائندے کو دیا۔ وہ ہیرا ان سب گاڑیوں کی قیمت سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔ ایک روز پہلے آنے والے گاہک کو وہ معمولی ایشیائی سمجھے تھے اور آج وہ جس شان سے آیا تھا یہ دیکھ کر کمپنی کے ملازمین ہکا بکا رہ گئے اور ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
    سب گاڑیاں لمحوں میں خرید لینے اور رقم کی ادائیگی کے انوکھے انداز پر سب حیران تھے ۔ نواب صاحب گاڑیاں خرید کر واپس آگئے ۔گو اپنی حیثیت تو انہوں نے جوتے کے ایک ہیرے سے ہی باور کروا دی تھی، مگر آپ سوچ رہے ہوں گے اس سے کمپنی کو کیا مزہ چکھایا گیا؟ کمپنی کو تو فائدہ ہو گیا۔ اب سنیے! اپنی نوعیت کا یہ دل چسپ اور انوکھا انتقام تھا جس میں بچوں جیسی معصومیت بھی ہے۔
    تو ہو اکچھ یوں کہ نواب صاحب نے گاڑیاں فوری طور پر اپنی ریاست بہاولپور بھجوائیں اور انہیں میونسپل کمیٹی کے حوالے کر دیا۔
    کمیٹی کے عہدیداروں کو حکم دیا کہ ان گاڑیوں سے شہر کی صفائی اور کوڑا کچرا اُٹھانے کا کام لیا جائے۔ ہدایت کے مطابق عہدیداروں نے گاڑیوں کے آگے بڑے بڑے جھاڑو باندھے اور صفائی کا کام شروع کردیا۔

    بہت جلد یہ خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے ایک نئے ملک پاکستان میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی رولز رائس گاڑی کی مارکیٹ ڈاؤن ہونے لگی۔ اب ایسی مہنگی گاڑی کون خریدنا پسند کرے اور کون اس میں بیٹھنا چاہے گا جو کچرا گاڑی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو بلکہ ہوا یہ کہ اب رولز رائس گاڑی کا نام سنتے ہی لوگ مذاق اُڑانا شروع کر دیتے۔ جو لوگ پہلے ہی سے رولز رائس گاڑی استعما ل کر رہے تھے وہ بھی حیران و پریشان ہوکر وقتی طور پرگاڑی کا استعمال ترک کر بیٹھے کیوں کہ جدھر سے گاڑی گزرتی لوگ اشارے کر کے وہی انوکھی خبر دہراتے اور قہقہے لگاتے۔
    اس سے گاڑی کی اہمیت کم ہوئی، تو کمپنی مالک کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ فوراً کمپنی کا ایک وفد نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے باضابطہ تحریری معافی مانگی اور درخواست کی کہ گاڑیوں سے یہ گندا کام لینا بند کر دیا جائے تو آپ کی نوازش ہو گی کیوں کہ آپ کے اس اقدام سے کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ پھر پرانی گاڑیاں لے کر انہیں چھے نئی گاڑیاں تحفے میں دیں۔
    نواب صاحب نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے میونسپلٹی والوں کو حکم دیا کہ گاڑیوں کو اس کام سے ہٹا لیا جائے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے کمپنی کے مالک کو اپنے ان اقدام کی وجہ بھی بتائی۔ نواب صاحب نے ان نئی ملنے والی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی قائد اعظم محمد علی جناح کو تحفے میں دی۔ آپ کو بتاتے چلیں ان نواب صاحب کا نام ”نواب محمد خان عباسی ”تھا ۔آج بھی بہاولپور اور چولستان میں نواب صاحب کا یہ قصہ زبانِ زد عام ہے اور لو گ اس قصے کو دہراتے ہوئے مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

  • بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

    بلتستانی لوک کہانی
    ماس جنالی
    محمد عثمان طفیل

    محمد عثمان طفیل 1984ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ بی ایس سی کے بعد لاہور چلے آئے اور ایک ادبی جریدے سے منسلک ہوگئے۔ اس کے بعد اخبار طلبہ، مجلة الاساتذہ اور روضہ الاطفال کے مدیر رہے۔ بچوں کی علمی، ادبی اور تربیتی سرگرمیوں میں بھرپور دل چسپی لیتے ہیں۔ مختلف ادروں سے بیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور ایک تعلیمی ادارے کی نصابی کتب کی تیاری کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ الف نگر کے لیے قلمی تعاون اور مشاورت میں خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔

     

    ”مومو…! مومو…!”
    عبداللہ یوگوی نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور آواز کی سمت دیکھا۔ اس کا بھانجا بلتی زبان میں ماموں، ماموں کہتا ہوا اُس کی طرف آ رہا تھا۔
    ” اللہ خیر کرے۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا پھر کندھے پر ٹکائی ”کدال” اور ہاتھ میں پکڑا ”پھاوڑا ”زمین پر رکھ دیا۔
    ”چی سونگس جولے؟” (کیا ہوا؟)
    بھانجے کے قریب پہنچتے ہی عبداللہ یوگوی نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کے بھانجے نے بولنے کی کوشش کی مگر پھولی سانسوں کے سبب یہ ممکن نہ سکا۔ اس نے ہانپتے ہانپتے ایک جانب اشارہ کیا۔ عبداللہ نے دیکھا تو یوں لگا جیسے دور کہیں لوگوں کا ہجوم سا ہو۔غور کرنے پر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب اِسی طرف آ رہے ہیں۔ وہ غلط نہیں تھا، ہجوم اُسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے منظر واضح ہونا شروع ہوا اور لوگوں کے چہرے نظر آنے لگے۔
    ”ان میں تو نیت قبول حیات کاکا خیل بھی موجود ہیں۔” عبداللہ بڑبڑایا۔ نیت قبول حیات ضلع غذِر کے حاکم تھے۔ ان کے ساتھ بہت سے مقامی نوجوان تھے جنہوں نے عبداللہ ہی کی طرح کدا لیں اور پھاوڑے اٹھا رکھے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے دل میں اُبھرتے تمام سوالوں کے جواب مل گئے۔ اپنے حاکم کی ہدایت پر اس نے دیگر نوجوانوں سے مل کر ایک بڑے میدان کو ہموار کرنے کا کام شروع کردیا۔
    …٭…
    ”آہ میرے مولا!” عبداللہ یوگوی نے کدال زمین پر ماری اور مٹی کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ سطح سمندر سے ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود تھا مگر اس کے باوجود پسینا پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ یہ معاملہ صرف اسی کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے تمام ساتھی پسینے سے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر سانس درست کیا اور پھر سے کام میں جت گیا۔ گھنٹے دنوں میں اور دن ہفتوں میں ڈھلتے رہے۔ ان کے حاکم نیت قبول حیات مسلسل اُن کی حوصلہ افزائی میں مصروف تھے۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ لگ بھگ 56 میٹر چوڑا اور 200 میٹر لمبا زمین کا ٹکڑا بالکل ہموار ہوگیا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن انسانی ہمت و حوصلے نے اسے آسان بنا دیا۔
    نیت قبول حیات کو کام مکمل ہونے کی اطلاع ملی تو وہ بھاگم بھاگ وہاں پہنچے۔ انہوں نے ایک نظر اس میدان کودیکھا اور تصور ہی تصورمیں برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ ”ایولین ہے کوب” کا چہرہ دیکھا جو اس میدان کو دیکھ کر خوشی سے چمک اٹھے گا۔ چند دن بعد جب تمام تیاریاں مکمل ہوگئیں تو ”ای ایچ کوب” نے اس میدان کا دورہ کیا۔ کام اس کی توقع سے بھی بڑھ کر شان دار ہوا تھا۔ اس نے نیت قبول حیات کو بہت اعلیٰ انعام کی پیش کش کی۔ بھلا ایسے کام انعامات کی لالچ میں کب مکمل ہوتے ہیں۔ نیت قبول حیات تو اپنے آباء و اجداد بالخصوص علی شیر خان انچن سے متعلق سوچ رہا تھا جس نے یہ سارا علاقہ فتح کرکے پہلی بار یہاں ”ماس جنالی” بنایا اور ”چوگان” جیسے کھیل کا آغاز کیا۔ سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں نہ جانے کیا آیا کہ اس نے ای ایچ کوب سے ایک انوکھی فرمائش کی۔
    ”بس آپ یہ کام کروا دیں، میں اسے ہی اپنا انعام سمجھوں گا۔”
    ای ایچ کوب کچھ لمحے ہچکچایا اور پھر بولا: ”ٹھیک ہے۔ تمہاری خواہش پر ایسا ہی ہو گا۔”
    …٭…

    سیٹی بجی اور کئی گھوڑے ہنہناتے ہوئے ”پڑنجو” (پولو والی گیند) کی طرف لپکے۔ شانزے نے بھی جلدی سے اپنے عربی گھوڑے کو ایڑلگائی۔ گھوڑے نے کچھ اَڑی کی اور پھر سوار کے حکم پر دوڑ پڑا۔ یہ گھوڑا اس کے لالہ کا تھا۔ شانزے اپنے سرخ و سپید لالہ کو اس سرمئی گھوڑے کو دوڑاتا ہوا دیکھتی تو ماشاء اللہ ماشاء اللہ کا ورد کرنے لگتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ لالہ گھوڑے کی شان بڑھا رہے ہیں یا گھوڑا لالہ کی۔
    لالہ جانتے تھے کہ شانزے کو گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے خود اُسے ایک بہترین گھڑ سوار بنایا تھا۔ اس وقت بھی شانزے ہاتھ میں ایک لمبی سی ہاکی تھامے گھوڑا دوڑا رہی تھی۔ وہ ہر صورت میں ”پڑنجو” حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن ایسا ہو نہیں پارہا تھا۔ دوسری ٹیم کے کھلاڑی مسلسل ایک دوسرے کی طرف پڑنجو پھینک رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ گول کرنے میں کامیاب ہوجاتے، شانزے کی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے پڑنجو چھین لی۔ اگلے ہی لمحے پڑنجو شانزے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شانزے نے بڑی مہارت سے اُسے روکا اور آگے بڑھا دیا۔
    وہ اس وقت ”ماس جنالی” کے تاریخی میدان میں موجود تھی۔ ”چوگان” اپنے عروج پر تھا اور ان کا مقابلہ چترال کی بے حد ماہر ٹیم سے تھا۔ شانزے بلتستانی ٹیم کا حصہ تھی اور اس وقت وہ اپنے لالہ کے گھوڑے پر سوار تھی۔ یہ خیال آتے ہی کہ وہ لالہ کی بجائے خود ٹیم کا حصہ ہے، شانزے چونک سی گئی۔وقت اچانک ٹھہر گیا اور اُسے لگا کہ شندور کا میدان بلند ہوتے ہوتے بادلوں کے ساتھ تیرنے لگا ہے۔ گھوڑے دوڑنے کے بجائے اُڑنے لگے تھے اور پڑنجو کو بھی پر لگ چکے تھے۔ وہ بڑی پھرتی سے مخالف ٹیم کے سب کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتی آگے بڑھ رہی تھی۔ گول کے قریب پہنچ کر اُس نے ہاکی فضا میں بلند کی اور بس یہی وہ لمحہ تھا جب اس کا توازن بگڑ گیا۔ ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ شانزے گھوڑے سے نیچے آگری۔نیچے زمین تو تھی نہیں، اسے لگا کہ وہ نیچے ہی نیچے گرتی جا رہی ہے۔
    …٭…