Tag: ary news

  • عکس —عمیرہ احمد (قسط نمبر ۱)

    وہ کھلے داخلی دروازے سے اندر جانے کے بجائے وہیں برآمدے میں ہی رک گئی تھی۔ داخلی دروازے کے دائیں طرف یہ ایک Cheval Standing Floor Mirror تھا جس نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔ Oak Tree سے بنا ہوا لیکن آبنوسی رنگت کا وکٹورین اسٹائل کا ایک بہت پرانا Mirror Cheval جس کے ساتھ دونوں اطراف ہک تھے۔ اچھی پالش نہ ہونے کے باوجود بے حد اچھی حالت میں تھا۔ فرنیچر میں تھوڑی سی دلچسپی اور پہچان رکھنے والا بھی ایک نظر میں ہی لکڑی کی عمدگی اور اس پر بنے ہوئے ڈیزائن کی نفاست کو جانچ لیتا۔ وہ ایک اینٹک پیس تھا اور کم از کم شہر بانو کی نظر سے چوک نہیں سکتا تھا۔ وہ کچھ تجسس اور دلچسپی کے عالم میں فریم کے پاس آئی تھی۔ اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس نے لکڑی پر بنے ہوئے ڈیزائن کے نشیب و فراز کو جیسے محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی پوریں گرد آلود ہوئی تھیں۔ فریم کو یقیناً باقاعدگی سے صرف سرسری انداز میں جھاڑا جاتا تھا۔ اوول شکل کا آئینہ شفاف نہیں رہا تھا اس میں ہلکے ہلکے نشان نظر آ رہے تھے۔ یقیناً دوسری طرف موجود کروم اب اپنی مدت پوری کرنے کے بعد فنا پزیر تھا لیکن اپنے وجود پر زمانے کے تغیر و تبدل کے تمام نشانات رکھنے کے باوجود Mirror Cheval کسی بھی آرٹ لور کو سحر زدہ کر سکتا تھا جیسے اس وقت وہ ہو رہی تھی۔




    اس نے Mirror Cheval میں اپنے عکس کو دیکھا۔ غیر محسوس طور پر سر پر ٹکائے گلاسز کو ٹھیک کرتے ہوئے اس نے ماتھے پر آئے ہوئے اپنے کچھ بالوں کو دوبارہ سن گلاسز کی مدد سے قابو کرنے کی کوشش کی تھی اور مرر کے سامنے سے ذرا ہٹتے ہی اس نے آئینے میں اپنے عقب میں ابھی تک ڈرائیو وے میں کھڑے اپنے عملے کے افراد سے باتیں کرتے شیر دل کو دیکھا تھا۔ وہ رہائش گاہ کے سامنے موجود لان کے حوالے سے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پی اے سے کچھ کہہ ہا تھا۔ شہر بانو کے بر عکس اس کے گلاسز کی آنکھوں پر تھے۔ سیاہ ٹراؤزر کے اوپر سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ پہنے وہ casualڈریس میں ہونے کے باوجود بے حد نارمل حلیئے میں لگ رہا تھا۔ چھ فٹ سے نکلتے قد کے ساتھ اپنے تیکھے نقوش اور کسرتی جسم کے ساتھ وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح picture perfectلگ رہا تھا ڈرائیووے کی آرچ میں سامنے لان کے داخلی راستے میں کھڑے اس کے چہرے پر دھوپ پڑ رہی تھی۔ شہر بانو کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ ایک عجیب سے استحقاق نے اسے سرشار کیا تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا قابل رشک مرد اس کا تھا یا شاید وہ اس کی تھی۔ نہیں… وہ دونوں ایک دوسرے کے تھے۔ ایک دوسرے کے لیے تھے۔ وہ عکس جو کسی بھی عورت کی نظر کو بھٹکانے کا باعث بن سکتا تھا صرف اس کا تھا… شہر بانو کا شیر دل۔
    اسے یاد نہیں، وہ زندگی میں کتنی بار اسے دیکھ کر فریز ہوئی تھی۔ کتنی بار اس پر فدا ہوئی تھی۔ کتنی بار اسے اپنے آپ پر رشک آیا تھا کہ شیر دل کا نام اس کے نام کا حصہ تھا۔ آئینے میں نظر آنے والا مرد اس کے وجود کو اتنے سالوں سے اسی طرح اپنی انگلیوں کے گرد لپیٹے ہوئے تھا۔
    شیر دل بالآخر مرکزی لان اور وہاں موجود flag poleکے بارے میں ہدایات سے فارغ ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑی تین سالہ مثال نے اس کی انگلی دوبارہ پکڑ لی تھی۔ شیر دل نے ذرا سا جھک کر بڑی سہولت کے ساتھ مثال کو اٹھا لیا پھر اپنے عملے کے افراد کے ساتھ برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے اس Mirror Cheval کے سامنے کھڑی شہر بانو کو دیکھا۔ شہر باتو تب آئینے میں نظر آنے والے اس عکس سے نظریں ہٹا چکی تھی۔ اس نے آئینے میں شیر دل کو اندرونی دروازے کی طرف آتے دیکھ لیا تھا۔ ذرا سا پلٹ کر وہ شیر دل کے انتظار میں رکی، ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔ شیر دل اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ ہ اس گھر میں پہلے آ چکا تھا اور وہ جانتا تھا داخلی دروازے کے قریب رکھا یہ آئینہ اس کی بیوی کے قدموں کی زنجیر بننے والا تھا۔ شہر بانو وہاں نہ رکتی تو وہ حیرت سے مر جاتا۔ وہ اپنی بیوی کی پسند نا پسند سے کسی psychicکی طرح واقف تھا۔ اس حد تک کہ وہ اس گھر میں موجود ان تمام چیزوں کی لسٹ بنا کر دے سکتا تھا جن کے سامنے شہر بانو آج رکنے والی تھی اور قیام لمبا ہوتا یا چھوٹا وہ یہ بھی بتا سکتا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ یہ بھی بتا سکتا تھا کہ اس گھر کی کون کون سی چیز اسے پسند نہیں آنے والی تھی اور وہ ان تمام چیزوں کی تبدیلی کے انتظاما ت کر کے آیا تھا۔
    ”Isn’t it beautiful” اس نے شیر دل کے قریب آتے ہی اس کے بازو پر غیر محسوس انداز میں ہاتھ رکھتے ہوئے اس تک اپنی ستائش پہنچائی تھی۔
    ”It is” شیر دل نے تائید کی۔ اس نے بھی اپنے سن گلاسز اب سر پر ٹکا لیے۔ وہ دونوں اب اس اسٹینڈنگ مرر کے بالکل سامنے ایک دوسرے کے برابر کھڑے تھے۔ مثال کو گود میں لیے وہ ایک خوش و خرم خاندان کا عکس تھا۔ اوول مرر میں ان کا عکس گل میں پہنے جانے والے کسی لاکٹ میں لگی تصویر کی طرح دکھ رہا تھا۔ مثال نے شیر دل کی گود سے اترنے کے لیے جدوجہد کی۔ شیر دل نے اسے جھک کر نیچے اتار دیا۔ وہ ہاتھ میں پکڑے ٹیڈی بیئر کے ساتھ داخلی دروازے سے اندر بھاگ گئی تھی۔
    ”بہت پرانا لگتا ہے؟” شہر بانو اب اس مرر پر تبصرہ کر رہی تھی۔
    150”سال پراناتو یہ گھر ہے اور یہاں موجود بہت سا فرنیچر انگریزوں کے زمانے کا ہی ہے۔ استعمال سے زیادہ ڈیکوریشن اور maintenance budget خراب کرنے کے لیے سنبھال کر رکھا ہوا ہے تب سے شاید…” شیر دل اب اندر چلا گیا تھا۔ شہر بانو بھی اندر داخل ہو گئی۔ داخلی دروازے کو ان کے لیے کھول کر پکڑے ہوئے ملازم نے جیسے سکون کی سانس لی تھی۔ وہ دروازہ پکڑے پندرہ منٹ میں وہاں اکڑ گیا تھا۔
    وہ ایک راہداری نما کمان کی شکل کا برآمدہ تھا جس میں وہ داخل ہوئے تھے۔ وہ راہداری دونوں اطراف سے آگے گھر کے ان کمروں تک جاتی تھی جن کے دروازے فی الحال ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ پوری راہداری میں قد آدم کھڑکیاں تھیں جن کے اوپر پڑی ہوئی آرائشی چقیں اس وقت اٹھی ہوئی تھیں۔ دونوں اطراف میں مختلف جگہوں پر کرسیاں، تپائیاں اور دیوان پڑے ہوئے تھے۔ وہ راہداری اس آپٹیکل انگلش آرکیٹکچر کی ایک شاندار مثال تھی جو انگریزوں نے برصغیر میں یہاں کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ اس راہداری کی قد آدم کھڑکیوں سے برصغیر کی مون سون اور یورپ کے سن باتھ دونوں سے لطف اندوز ہوا جا سکتا تھا۔
    دیواروں پر اب اکثر جگہوں پر سیلن نظر آ رہی تھی۔ باہر کھڑکیوں اور دیواروں پر چڑھی بیلیں اس کی بنیادی وجہ تھی شاید۔
    شہر بانو نے وہاں کھڑے کھڑے ایک ہی نظر میں اس پوری راہداری کا جائزہ لے لیا تھا۔ شیر دل اب داخلی دروازے کے بالکل سامنے اندر ہال میں کھلنے والے دروازے کی طرف جا رہا تھا جس کے دونوں پٹ پہلے ہی کھلے ہوئے تھے اور اس میں دور مثال مٹر گشت کرتی نظر آ رہی تھی۔ اس ہال نما کمرے کے آدھے حصے میں ڈائننگ ایریا تھا اور باقی کا آدھا حصہ سٹنگ ایریا کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
    شیر دل نے ٹھیک کہا تھا وہاں اندر واقعی بہت سے ایسے فرنیچر آئٹمز تھے جو استعمال کرنے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ شہر بانو اب مکمل طور پر aweمیں تھی۔ وہ جیسے کسی اینٹیک گیلری میں آ گئی تھی۔
    ”کیا فرنیچر ہے!” وہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکی۔ وہ اب ایک ایک چیز کے پاس جا کر جیسے اسے چھو کر اسے اپنا خراج پیش کر رہی تھی۔




  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”