Tag: Ary digital

  • امربیل — قسط نمبر ۵

    امربیل — قسط نمبر ۵

    ”موڈ ٹھیک ہوگیا تمہارے کزن کا؟” شہلا نے ساتھ چلتے چلتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” وہ ہلکے سے مسکرائی۔
    ”چلو شکر ہے کم از کم تمہارے چہرے پر بارہ بجے والی مستقل کیفیت سے تو چھٹکارا ملا۔” علیزہ اس کی بات پر کچھ جھینپ گئی۔
    ”کیا مطلب؟”
    ”کچھ نہیں یار! میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اب پہلے کی طرح تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو مل جایا کرے گی جو کئی دن سے غائب تھی۔”
    ”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
    ”ایسی ہی بات ہے۔ عمر کا موڈ صحیح، تمہارا موڈ صحیح۔ عمر کا موڈ خراب تمہارا موڈ خراب۔”
    ”تم غلط کہہ رہی ہو شہلا۔” اس نے جیسے احتجاج کیا تھا۔
    ”کاش کہ یہ بات واقعی غلط ہوتی مگر ایسا نہیں ہے علیزہ سکندر! آپ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔” اس نے ہینڈ بیگ میں سے کینو نکال کر ساتھ چلتے ہوئے چھیلنا شروع کردیا۔
    ”میں اس کی وجہ سے پریشان تھی مگر۔۔۔”
    شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔”تمہیں میرے سامنے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
    I know you inside out”




    اس نے قاش منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی پھر اس نے کچھ مدھم آواز میں کہا۔
    ”میری اس کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ”صرف انڈراسٹینڈنگ ہونے سے کوئی کسی کیلئے اس طرح پریشان نہیں ہوتا۔”
    وہ صاف گوئی کا ہرا گلا پچھلا ریکارڈ توڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
    ”وہ میرا دوست ہے۔”
    ”نہیں! معاملہ دوستی کی حدود سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔”
    ”شہلا! میں۔۔۔”
    شہلا نے کچھ تنک کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم ڈرتی کیوں ہو، یہ مان لینے سے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔”
    ”ایسا نہیں ہے۔”
    ”ایسا ہی ہے بلکہ سو فیصد ایسا ہی ہے۔”
    ”اچھا ٹھیک ہے پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟”
    ”بہت کچھ ہوتا ہے… علیزہ بی بی! آپ کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ساری دنیا اسی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ جاکر اس سے کہیں کہ آپ اس سے محبت فرما رہی ہیں۔ وہ بھی خاموش محبت۔”
    ”اس سے کیا ہوگا؟”
    ”اس سے یہ ہوگا کہ یا تو عمر صاحب بھی آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرلیں گے یا پھر یہ ہوگا جس کا زیادہ امکان ہے کہ وہ آپ کا دماغ درست کردیں گے۔ کم از کم پھر آپ اس محبت کے چکر سے تو نکل آئیں گی۔”
    علیزہ نے کچھ رنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔”
    ”کیا مطلب! تم نہیں چاہتیں کہ وہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور شادی کرے؟” شہلا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”تو پھر۔”
    ”میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ ٹھیک رہے، پریشان نہ ہو، بس وہ خوش رہے۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں کوئی علیزہ سکندر نہ ہو۔”
    ”چاہے اس کی زندگی میں، میں نہ ہوں۔”
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ تم آخر چاہتی کیا ہو۔ مجھے جو چیز اچھی لگے میں چاہتی ہوں وہ مجھے مل جائے۔ میرے Possession میں ہو اور تم… تم عمر سے محبت کرتی ہو تو اس کا اقرار نہیں کرتیں۔ اقرار کرتی ہو تو اسے حاصل کرنا نہیں چاہتیں اور میں سوچتی ہوں کہ اگر تم اس کو حاصل کرلو گی تو پھر تم اسے پاس رکھنا نہیں چاہو گی، ہے نا؟” شہلا کا لہجہ مذاق اڑانے والا تھا۔
    ”کسی چیز کو صرف میری محبت میرے پاس نہیں لاسکتی۔ میں اپنے پیرنٹس سے بھی بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت انہیں اکٹھا نہیں رکھ سکی نہ انہیں میرے پاس رکھ سکی ہے۔ عمر سے محبت کروں گی تو کیا ہوگا۔ کیا وہ میرا ہوجائے گا؟”




  • امربیل — قسط نمبر ۴

    امربیل — قسط نمبر ۴

    ”عمر کے بارے میں کیا بات کر رہے تھے؟”
    وہ بھی کچھ فکر مند ہو گئی تھی۔ نانو اب بہت الجھی ہو ئی لگ رہی تھیں۔
    ”پتا نہیں اب کیا پرابلم ہے؟”
    نانو بڑبڑائی تھیں۔
    ”انکل جہانگیر کل پاکستان آئیں گے؟”
    اس نے اس بار سوال بدل دیاتھا۔
    ”نہیں ! پاکستان تو وہ دو دن پہلے ہی آچکا ہے!”
    ”انہوں نے آپ کو پہلے انفارم کیوں نہیں کیا؟”
    ”پتہ نہیں !”
    ”ملنے بھی نہیں آئے؟”
    ”اب میں کیا کر سکتی ہوں۔ اس کی مرضی ہے۔”
    ”پہلے تو سیدھا یہیں آیا کرتے تھے۔”
    ”پہلے تو بات ہی اور تھی۔ پہلے تو تمہارے نانا کی وجہ سے وہ سیدھا یہیں آیا کرتا تھا۔ اب جب سے ان کی ڈیتھ ہوئی ہے جہانگیر بہت لاپرواہ ہو گیا ہے۔”
    ”انکل لاہور میں ہی ہیں؟”
    ”پتا نہیں۔ یہ میں نے نہیں پوچھا۔ ہو سکتا ہے، لاہور میں ہی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابھی کراچی میں ہو۔”
    ”کل کس وقت آرہے ہیں؟”
    ”کہہ رہا تھا کہ شام کو آئے گا۔”
    ”آپ نے ان سے پوچھا کہ یہاں کتنے دن رہیں گے؟”
    ”تم بے وقوف ہو علیزہ ! بھلا میں یہ کیسے پوچھ سکتی تھی۔ وہ سوچتا ماں کو پہلے ہی اس کی واپسی کی فکر پڑ گئی ہے۔”
    علیزہ کا چہرہ خفت سے تھوڑا سرخ ہو گیاتھا۔
    ”نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں تھا ، میں تو اس لئے پوچھنا چاہ رہی تھی تاکہ ان کا کمرہ اسی طرح سیٹ کر سکوں۔رہیں گے تو یہیں نا؟”
    ”ہاں، کہہ تو یہی رہا ہے کہ یہیں رہے گا مجھ سے کہہ رہا تھا کہ عمر کو اس کی آمد کے بارے میں کچھ نہ بتاؤں۔ میں نے کہا کہ عمر تو یہاں ہے ہی نہیں۔ کہنے لگا کہ پھر بھی اسے میرے آنے کی اطلاع نہیں ہونی چاہئے۔”
    ”انکل جہانگیر نے ایسا کیوں کہا؟”
    علیزہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ”آخر عمر سے وہ اپنی آمد کیوں چھپانا چاہ رہے ہیں؟”
    ”یہ تو میری بھی سمجھ میں نہیں آیا۔”
    ”پتا نہیں انکل جہانگیر اور عمر کا اتنا جھگڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟”
    ”دونوں غصہ ور ہیں۔ دونوں ہی اپنی منوانے والے ہیں۔ پھر جھگڑا نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ بہرحال تم جہانگیر کے لئے بھی کمرہ تیار کروا دو۔”
    ”نانو انکل اکیلے آرہے ہیں؟”
    ”ہاں ! اکیلا ہی آ رہا ہے۔”
    نانو اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی تھیں۔
    علیزہ کچھ دیر خاموشی سے وہاں بیٹھی کچھ سوچتی رہی پھر اٹھ کر عمر کے کمرے کی طرف آگئی تھی۔ کمرے میں عمر کے کلون کی مہک ابھی تک موجود تھی۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے اسٹڈی ٹیبل کی طرف گئی تھی، وہاں عمر کا وہ اسکیچ موجود نہیں تھاجو اس نے کل وہاں رکھا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عمر وہ اسکیچ دیکھ چکاتھا۔ اسے نامعلوم سی خوشی ہوئی تھی۔ وہ واپس مڑنے کو تھی جب اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل کے پاس پڑی ویسٹ پیپر باسکٹ پر پڑی تھی۔ اس میں صرف ایک مڑا تڑا کاغذ پڑا ہوا تھا اور وہ اس کاغذ کو ہاتھ لگائے بغیر بھی جانتی تھی کہ وہ کونسا کاغذ تھا۔
    ٭٭٭




  • عکس — قسط نمبر ۱۶ (آخری قسط)

    ”کیا دیکھ رہی ہیں آپ اس آئینے میں؟” مثال نے کچھ تجسس آمیز انداز میں عکس سے پوچھا جو اس Cheval mirror کے سامنے کھڑی اس آئینے کے فریم کو اپنی انگلیوں سے غیر محسوس انداز میں یوں چھو رہی تھی جیسے اس کے ہونے کا احساس چاہتی ہو… فریم پر موجود بار بار کی جانے والی پالش بھی اب اس کی بوسیدگی اور خستگی کو چھپانے میں ناکام ہورہی تھی۔
    فریم کو چھوتے ہوئے اس پر موجود گرد کو اپنی پوروں کو آپس میں رگڑ کر محسوس کرتے ہوئے وہ مثال کی بات پر مسکرائی تھی۔
    ”میں اس آئینے میں تاریخ دیکھ رہی ہوں۔”
    ”کیسی تاریخ؟” مثال کا تجسس کچھ اور بڑھا۔
    ”اپنی زندگی کی تاریخ… اپنا ماضی… اس ماضی سے جڑے چہرے…” اس نے فریم سے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے آئینے میں جھلکتے اپنے عکس کو ایک بار پھر دیکھا پھر اپنے برابر میں کھڑی مثال پر ایک مسکراتی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا… ممی بھی اس آئینے کے سامنے اسی طرح فریز ہو گئی تھیں جس طرح آپ ہوئی ہیں… میں نے ان سے بھی پوچھا تھا کہ وہ اس میں کیا دیکھ رہی ہیں؟” مثال نے اسی دلچسپی سے اس آئینے پر نظر دوڑاتے ہوئے آئینے میں نظر آتی ہوئی عکس سے نظریں ملاتے ہوئے کہا۔
    ”کیا کہا انہوں نے؟” عکس نے اس بار پلٹ کر مثال کو دیکھا۔




    ”انہوں نے کہا وہ اس آئینے میں مستقبل کو دیکھ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں کا عکس جو اس میں کہیں چھپا ہے… عجیب بات ہے ناں… آپ اس میں ماضی دیکھ رہی ہیں… ممی مستقبل… مجھے کیا دیکھنا چاہیے… حال؟” مثال نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ عکس اس کی بات پر مسکرا دی پھر اس نے پلٹ کر دوبارہ آئینے کو دیکھا۔
    ”میرا بچپن اس آئینے کے ساتھ گزرا ہے… میرا، شہربانو اور شیردل تینوں کا بچپن دیکھا ہے اس نے۔”
    ”ممی آپ بھول رہی ہیں۔ میرا، طغرل اور باذل کا بچپن بھی تو دیکھا ہے اس نے۔” مثال نے اسے ٹوکا۔
    ”ہاں اورتم بھول رہی ہو کہ توران کا بچپن بھی تو دیکھ رہا ہے یہ۔” اس نے مثال کو جیسے یاد دلایا۔
    ”اوہ ہاں… یہ آئینہ تو واقعی ہماری فیملی heritage کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے اسے یہاں نہیں ہمارے خاندانی گھر میں ہونا چاہیے۔”
    ”آئیڈیا برا نہیں ہے لیکن سرکاری ملکیت ہے یہ۔” عکس نے کہا۔
    ”ممی میں اور ابراہیم گھر کو renovate کرنے والے ہیں… فرنیچر بھی بدلا جائے گا اور کاٹھ کباڑ میں یہ آئینہ بھی نکالنے والے ہیں ہم… بہت زیادہ پرانا اور outdated ہو گیا ہے یہ۔” مثال نے اس کے ساتھ جیسے اپنا پلان شیئر کیا۔
    ”کیوں… ابھی تو ٹھیک ہے یہ۔” عکس نے اعتراض کیا۔
    ”ممی ٹھیک نہیں ہے… کم از کم سو سال پرانا ہو گیا ہے یہ… میں اور ابراہیم تو حیران تھے اس بات پر کہ آخر اب تک ٹکا کیسے ہوا ہے یہ… کسی آفیسر یا اس کی وائف نے ہٹایا کیوں نہیں اسے یہاں سے… نانا، نانی سے لے کر آپ اور پاپا تک کسی کو بھی اسے یہاں سے ہٹانے کا خیال نہیں آیا۔” وہ کچھ حیرانی سے کہہ رہی تھی۔ عکس نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”میں نے تمہیں بتایا ہے ناں یہ ہماری زندگیوں کا حصہ رہا ہے… اس میں ہم لوگ اپنا، اپنا عکس دیکھتے رہے ہیں… اپنی اپنی زندگیاں بنانے یا بگاڑنے والے چہروں کا عکس۔” مثال کو لگا عکس بات کرتے کرتے جیسے کچھ سنجیدہ ہوئی تھی۔
    ”آپ نے اس میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا جس نے آپ کی زندگی بگاڑی ہو؟” مثال نے دلچسپی سے کچھ سوچے سمجھے بغیر اپنی طرف سے ایک معمول کا سوال کیا تھا۔ اس سوال نے عکس کو کچھ دیر کے لیے ہلنے نہیں دیا۔ اس کے لیے اس سوال کا جواب بہت مشکل تھا۔ وہ ہاں کہتی اور مثال اس سے اس شخص کا نام پوچھتی… وہ جھوٹ جو اسے بعد میں بولنا تھا وہ شاید پہلے ہی بول دینا چاہیے تھا۔
    ”آپ کیا سوچ رہی ہیں؟” مثال نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”میں نے اس چہرے کو اپنی زندگی بگاڑنے نہیں دی۔” وہ عکس کی بات پر تجسس آمیز انداز میں مسکرائی۔
    ”یعنی آپ نے بھی اس آئینے میں کوئی ایسا چہرہ دیکھا تھا؟” وہ اب جیسے زور دینے والے انداز میں بولی تھی۔ ”آپ کو پتا ہے ہم لوگوں نے اس گھر کے بارے میں بھی ملازموں سے بہت عجیب و غریب باتیں سنی ہیں۔ پاپا اور آپ یہاں نہ رہ چکے ہوتے تو میں اور ابراہیم تو کبھی یہاں نہ رہتے۔” وہ اب عکس کو بتا رہی تھی وہ دلچسپی سے سننے لگی۔ ”آپ نے کبھی اس گھر کے بارے میں کچھ سنا تھا؟” مثال نے اب عکس سے ڈائریکٹ پوچھا۔
    ”مثلاً کیا؟” عکس نے دھیمی آواز میں اس سے نظر ملائے بغیر کہا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مثال نے اس گھر کے بارے میں کیا سنا ہو گا۔
    ”بہت ساری باتیں کہہ رہے ہیں ملازم لیکن سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس گھر میں جو کپل بھی رہتا ہے ان کا break up ہو جاتا ہے… کتنی خوفناک بات ہے ناں ممی… میں تو ڈر ہی گئی یہ سن کے لیکن ابراہیم کو بالکل یقین نہیں ہے ایسی باتوں پہ… آپ یقین کرتی ہیں ایسی باتوں پہ؟” اس نے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں۔” عکس نے بلاتوقف کہا۔ مثال نے ایک کھسیانی مسکراہٹ کے ساتھ عکس کو دیکھا۔
    ”مجھے پتا تھا، آپ کہاں یقین کرنے والی ہیں ایسی باتوں پہ۔ ابراہیم بھی آپ ہی کی مثال دیتا ہے کہ ممی کو دیکھو وہ کتنی بار Serve کر چکی ہیں اس شہر میں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو ان پر بھی کوئی effect ہوتا… لیکن وہ تو ہمیشہ گھر جوڑنے والی رہی ہیں۔ ان کو تو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے اس گھر میں… ہے ناں ممی؟” اس نے بات کے آخر میں استفہامی انداز میں عکس سے پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔ پھر وہ آہستہ قدموں کے ساتھ برآمدے سے باہر نکل آئی۔ مثال بھی اس کے ساتھ باہر آگئی تھی۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے بالکل سامنے موجود لان میں آگئی تھیں۔ عکس نے لان میں پہنچ کر پلٹ کر روپہلی دھوپ میں روشن اس قدیم گھر کو دیکھا۔ مثال بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں اس گھر کو دیکھنے لگی۔ عکس نے چند لمحے اس گھر کو دیکھتے رہنے کے بعد کہنا شروع کیا۔
    ”اس گھر میں اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ہے… کم از کم میرے نزدیک… اس گھر میں داخل ہونا جیسے دنیا میں آنے کے برابر ہے… دنیا میں کچھ اچھے لوگ ملتے ہیں، کچھ برے لوگ… اچھوں کی اچھائی بھی زندگی بدل سکتی ہے، بروں کی برائی بھی… پر جگہوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو بھی کچھ ہوتا ہے وہاں بسنے والے انسانوں کی وجہ سے ہوتا ہے… تمہیں سمجھ آرہی ہے میری بات؟” عکس نے گردن موڑ کے برابر کھڑی مثال کو دیکھا۔ وہ جواباً مسکرا دی۔
    ”سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔” عکس بھی اس کی بات پر مسکرائی۔ پھر وہ دوبارہ گھر کو دیکھنے لگی۔
    ”گھروں میں کچھ نہیں ہوتا، وہ انسانوں کو جوڑنے یا توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ بس اینٹوں، سیمنٹ، سریے اور لکڑی کی ایک عمارت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے… ان کے اندر آکر رہنے والے انسان اپنی سوچ، عمل اور رویوں سے اپنی زندگی بناتے یا بگاڑتے ہیں۔” مثال بہت سنجیدگی سے عکس کی بات سن رہی تھی وہ ہمیشہ اس کی بات اسی سنجیدگی اور انہماک سے سنا کرتی تھی، عکس مراد علی اس کا آئیڈیل تھی۔ وہ ہمیشہ اس جیسا بننا چاہتی تھی۔ لیکن ہر بار وہ یہ اعتراف کرتی تھی کہ ان جیسا بننا بہت مشکل کام تھا۔ کم از کم مثال شیردل کے لیے… یا کسی کے لیے بھی۔ مثال نے زندگی میں عکس مراد علی جیسی کوئی شخصیت نہیں دیکھی تھی اوراسے فخر تھا وہ ”شخصیت” اس کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی ماں تھی۔
    ”میں اس گھر کے ایک کوارٹر میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ کوارٹر اب وہاں ہے بھی نہیں۔” عکس نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔ ”میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کوارٹر سے باہر نکل کے میں کبھی اس گھر میں آکے رہوں گی… اس گھر میں اپنی ماں اور نانا کے ساتھ آیا کرتی تھی۔ وہ دونوں کام کرتے تھے یہاں… یہاں پوسٹ ہونے والے آفیسرز اور ان کی فیملیز کی خدمت کیا کرتے تھے… میں اس back ground کے ساتھ اس گھر میں آئی تھی پھر اس گھر میں رہنے والے ایک کپل نے مجھے اچھی تعلیم دلوانے کے میرے نانا کے خواب کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس گھر میں میری زندگی کی بنیادیں ہیں۔ وہ بنیادیں جن پر آج میری زندگی کی عمارت کھڑی ہے… یہاں پر میں اپنے بہترین دوست اور جیون ساتھی سے ملی۔ یہاں میری پہلی اولاد ہوئی… میری زندگی کے بہت سارے Milestones اس گھر سے وابستہ ہیں۔”
    ”آپ کے لیے تو یہ گھر بڑا Lucky رہا ہے پھر۔” مثال نے مرعوب انداز میں کہا۔ عکس اس کی بات پہ ہنس پڑی اور اس نے اس طرح مسکراتے ہوئے اس گھر کو دوبارہ دیکھا پھر کہا۔
    ”اس گھر میں، میں نے اپنے باپ کو کھویا، اپنی زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے، اپنے نانا کو کھویا… یہاں میں اپنے بچپن میں Child abuse کا شکار ہوئی… بہت ذلت اور بے عزتی کی حالت میں اپنی فیملی کے ساتھ دھکے دے کے نکالی گئی۔ میرے کیریئر میں واحد معطلی بھی اسی گھر میں ہوئی۔” عکس نے مسکراتے ہوئے مثال کو دیکھا۔ وہ اب الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”اب تم سوچ رہی ہو گی کہ نہیں، یہ گھر تو میرے لیے بہت Unlucky ثابت ہوا۔” مثال کچھ بے بسی سے مسکرائی تھی۔ ”میں نے تم سے کہا ناں، گھروں میں کچھ نہیں ہوتا۔ انسان نے چوٹ کھا کے گرنا ہے یا تکلیف سہتے ہوئے بھی کھڑے رہنا ہے؟ یہ فیصلہ اس کی ہمت کرتی ہے، گھر نہیں۔” عکس نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”لیکن ممی اس گھر کے ملازم کہتے ہیں کہ یہاں انہوں نے بونے دیکھے ہیں، اور ہم نے بھی کچھ عجیب عجیب آوازیں اور چیزیں experience کی ہیں۔” مثال کی بات پہ عکس مسکرائی اور اس نے کہا۔
    ”میں بھی بچپن میں یہاں بہت عجیب چیزیں دیکھتی تھی۔” مثال اس کے اس غیر متوقع جملے پر کچھ حیران ہوئی پھر اسی حیرانی سے کہا۔
    ”اوہ، رئیلی ممی۔” عکس مثال کو دیکھنے لگی۔
    ”ہاں۔”پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”آپ نے کبھی یہاں بونے دیکھے؟” مثال نے بڑے تجسس سے پوچھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے عکس کی آنکھوں کے سامنے پتا نہیں کیا کچھ گزر کرچلا گیا تھا۔ وہ سارے Mental Block چند لمحوں کے لیے جیسے بالکل بیکار ہو کے رہ گئے تھے، جس سے اس نے اپنی زندگی کی اس سیاہ ترین رات کو چھپایا ہوا تھا۔
    ”آپ خاموش کیوں ہیں ممی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کے جیسے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی، عکس نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”بتائیں ناں، آپ نے کبھی اس گھر میں بونے دیکھے؟”
    ”ہاں۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال یکدم excited ہوئی۔
    ”Oh my God… آپ نے واقعی بونے دیکھے؟” عکس نے سرہلایا۔ اس نے اسی انداز میں عکس سے پوچھا۔ کتنے بونے دیکھے؟”
    ”ایک۔” عکس نے مدھم آواز میں کہا۔ مثال نے ایک بار پھر excited انداز میں کہا۔ ”wow! وہ بونا دیکھنے میں کیسا تھا؟ آپ کو ڈر لگا اس سے؟ اس نے آپ سے کچھ کہا…؟ کچھ کیا؟” مثال نے جیسے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
    عکس نے ایک گہری سانس لی۔
    اتنے بہت سارے سوالوں کا جواب اور وہ بھی اس کے بچپن کے اس تکلیف دہ واقعے کے بارے میں جس کو سوچنا زخموں پر پاؤں رکھ کر گزرنے جیسا تھا۔
    ”آپ کو اس کی شکل یاد نہیں آرہی؟” مثال نے اسے خاموش دیکھ کر کریدا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی۔ وہ جیسے اسے سوال کا جواب نہ دینے کا موقع دے رہی تھی۔
    ”بعض چہرے انسان چاہے تو بھی نہیں بھول سکتا۔” اس نے مدھم آواز میں کہنا شروع کیا۔”وہ بونا بہت خوب صورت تھا… اچھی شکل صورت کا …انسانی شکل صورت اور وجود … بہت دراز قد…”




  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”




  • عکس — قسط نمبر ۱۵

    طغرل نے اس آئینے میں پہلے اپنے آپ کو دیکھا پھر اپنے عقب میں آئے شیردل اور عکس کو دیکھا۔ اسے وہاں رکے دیکھ کر شیردل بھی وہاں چند لمحوں کے لیے رک گیا تھا۔ عکس نے پلٹ کر ایک بار پھر باذل کا ہاتھ پکڑ لیا جس نے بڑی مہارت سے گاڑی سے نکل کر یہاں برآمدے میں آنے تک چند قدموں کے فاصلے میں دو بار اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔ اس پر قابو پانا صرف اسی کا کمال تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں نے تمہاری ممی کو پہلی بار کہاں دیکھا تھا؟” عکس نے آئینے کے سامنے کھڑے شیردل کو طغرل سے کہتے سنا۔
    ”کہاں پاپا؟” طغرل نے بڑی دلچسپی سے گردن موڑ کرباپ کو دیکھا۔
    ”اسی مرر میں۔” عکس کی نظریں آئینے میں شیردل سے ملی تھیں۔ ان آنکھوں میں شیردل کو حیرانی نظر آئی۔ وہ مسکرایا تھا اور وہ حیرانی پل بھر میں ایک کھلکھلاہٹ میں بدل گئی تھی۔ عکس ہنس پڑی تھی۔ اسے یاد آگیا تھا شیردل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اس نے پہلی بار اسے اسی آئینے میں دیکھا تھا جب وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا تھا اور وہ برآمدے کے ایک ستون کے پیچھے چھپی اسے دیکھتی رہتی تھی… کسی میکانیکی انداز میں اس نے بے اختیار گردن موڑ کر اس ستون کو دیکھا تھا۔ ستون اب بھی وہیں تھا لیکن اس کے گرد وہ بیل نہیں تھی شاید نمی کے اثرات کو روکنے کے لیے ان تمام بیلوں کو ستونوں اور دیواروں سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا جو کئی سال پہلے اس گھر کی شناخت تھیں۔ عکس نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔ گھر بہت بدل گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس کی ایک، ایک چیز کو آج بھی آنکھیں بند کیے چھو کر بھی پہچان سکتی تھی۔ وقت زندگی کو کس طرح بہا کر لے جاتا ہے کہ انسان خود بھی اسے روکنے بیٹھے تو روک نہ سکے… گزر جانے والے لمحوں کو گننے بیٹھے تو گنتی بھول جائے۔




    ”آپ مذاق کررہے ہیں۔” نو سالہ طغرل نے پہلے الجھ کر پھر ہنس کر اسی آئینے میں دیکھتے ہوئے شیردل سے کہا۔ اس کے تبصرے نے عکس کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ لی۔
    ”کیوں؟” شیردل نے طغرل سے پوچھا۔
    ”ممی اس مرر میں کیسے ہو سکتی ہیں؟” طغرل نے جیسے اپنی بے یقینی کی وضاحت کی۔
    ”دیکھو ابھی ہیں یا نہیں؟” شیردل نے اس کی وضاحت کے جواب میں آئینے میں نظر آتی عکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اطمینان سے پوچھا۔ طغرل نے آئینے میں عکس کو دیکھا۔ باپ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ وہ واقعی آئینے میں تھی۔ طغرل الجھا پھر ہنس پڑا۔
    ”پاپا یہ تو ان کا reflection ہے۔” اس نے جیسے شیردل کی کم علمی بتائی۔
    ”یعنی عکس ہے۔” شیردل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    عکس تب تک ان کے قریب آچکی تھی۔ اس نے شیردل کے کندھے کو ہولے سے چھوتے ہوئے کہا۔ ”تم بس کر دو اب… کب تک اس بے چارے کو تنگ کرتے رہو گے۔ ذرا اسے سنبھالو تو پھر پتا چلے۔” اس نے باذل کا ہاتھ شیردل کے ہاتھ میں دے دیا۔
    شیردل نے ایک نظر سات سالہ باذل کو دیکھا پھر جیسے کچھ احتجاجی انداز میں عکس سے کہا۔ ”تم ہمیشہ مجھے مشکل چیلنج دیتی ہو۔”
    ”تم ہر آسان چیلنج کو بھی مشکل بنا لیتے ہو اپنے لیے۔” وہ اطمینان سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔ آج اس آئینے کے سامنے کھڑے اس نے اس آئینے میں اپنے شوہر اور بچوں کے علاوہ کسی اور چیز کو کھوجنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ تلاش کئی سال پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔
    ”پاپا! آپ کیا مجھے اٹھا سکتے ہیں؟” شیردل کے ساتھ اندرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے باذل کے قدم تھمے اور اس نے بڑی معصومیت سے شیردل سے پوچھا۔
    ”میں اٹھا سکتا ہوں لیکن اٹھاؤں گا نہیں۔” شیردل نے جواباً ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
    ”ممی اٹھا سکتی ہیں مجھے۔” باذل نے جیسے باپ کی مردانگی کو چیلنج دیا جسے شیردل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ نظرانداز کیا۔ عکس بڑی خاموشی کے ساتھ باپ بیٹے کی گفتگو سنتے ہوئے اندر کی جانب بڑھتی رہی۔
    ”تمہاری ممی اس گھر میں dwarfs (بونے) دیکھا کرتی تھیں جب وہ چھوٹی تھیں۔” شیردل نے چلتے چلتے یک دم جیسے کچھ یاد آنے پر طغرل کو بتایا۔
    ”Really mummy?۔” طغرل چلتے چلتے بے یقینی کے عالم میں رک کر عکس کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی ٹھٹک گئی تھی اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آکر گزر گیا تھا۔
    ”dwarfs… بونے… آئینہ…” شیردل نے اسے کیا یاد دلا دیا تھا۔ اسے وہ سات ساتھی بونے بھی یاد آگئے تھے۔ اس کے تصوراتی دوست… لیکن جس برق رفتاری سے وہ یاد آئے تھے اسی برق رفتاری سے ان کے حلیے، حرکتیں اور نام یاد نہیں آئے تھے… اس میں وقت لگا تھا… اس میں اگلے دو دن لگ گئے تھے۔
    ”پاپا مذاق کر رہے تھے۔” عکس نے مدھم انداز میں طغرل کی حیران آنکھوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔ شیردل نے گردن پلٹ کر جیسے پرحیرت نظروں سے اسے دیکھا۔
    ”میں مذاق کررہا ہوں؟ تم نے خود ہی تو مجھے بتایا تھا ایک بار کہ تم نے یہاں…” عکس نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”بچپن کی بات تھی وہ اور بچپن میں انسان کو پتا نہیں کیا کیا وہم ہوتے رہتے ہیں۔” وہ بڑی سہولت سے کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ شیردل نے کچھ حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔
    ”پاپا، ممی نے really dwarfs دیکھے تھے یہاں؟” طغرل کا تجسس کم نہیں ہوا تھا۔
    ”اپنی ممی سے پوچھنا، وہ آپ کو بتائیں گی۔” شیردل بھی اسے ٹالتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
    ……٭……
    اس گھر میں عکس مراد علی کی وہ دوسری پوسٹنگ تھی۔ پورے دس سال کے بعد… لیکن اس بار وہ وہاں کمشنر کی حیثیت سے آئی تھی۔ اس شہر کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہو جانے کے بعد وہاں تعینات ہونے والی پہلی کمشنر… کمشنر کی رہائش گاہ زیرتعمیر تھی اور اس کے زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہ کو وقتی طورپر کمشنر ہاؤس کا سرکاری درجہ دے دیا گیا تھا۔ گھر میں سامان کی شفٹنگ کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا لیکن یہ کام شیردل کی نگرانی میں ہوا تھا۔ وہ آج پوسٹ ہونے کے بعد پہلی بار اس گھر میں آئی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ دس سال پہلے ہونے والی یہاں اپنی پہلی پوسٹنگ کی طرح وہ آج اس طرح جذباتی نہیں ہوئی تھی نہ ہی اتنی ایکسائیٹڈ تھی… شاید اس لیے کیونکہ اس کے نانا اس کے ساتھ نہیں تھے۔ اس بار وہ ایک قلعہ فتح کرنے وہاں نہیں آئی تھی۔
    اس گھر کے ہال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے عکس مراد علی نے عجیب سی اداسی محسوس کی۔ نانا اسے ایک بار پھر بری طرح یاد آنے لگے تھے۔ وہ آج ایک بار پھر اسے اس گھر میں کمشنر کے طور پر آتے دیکھتے تو بے حد خوش ہوتے۔ بہت سارے خواب صرف ان کے تھے اس کے حوالے سے… جو صرف وہ دیکھتے تھے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد عکس مراد علی کے نزدیک کامیابی کا مفہوم وہ نہیں رہا تھا جو نانا کی زندگی میں تھا۔
    ہال کمرے میں کھڑی ان در و دیوار کو اداسی سے دیکھتے ہوئے وہ یک دم چونکی تھی۔ شیردل نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا۔ وہ اب اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ اس لمس میں عجیب دلگیری تھی، کچھ کہے اور سنے بغیر بھی جیسے دنیا جہان کی گفتگوتھی… ہر مرہم بننے والا پھایا محسوس ہونے والا لفظ…
    ساری عمر وہ دونوں ایک دوسرے کی خاموشی کو اسی طرح پڑھتے رہے… لفظوں کے بغیر… اداسی کو بیرومیٹر کی طرح بھانپ لیتے تھے اور خفگی کو راڈار کی طرح… اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
    عکس مراد علی نے ایبک شیردل کے چہرے کو گردن موڑ کر دیکھا۔ اس نے اس کی نظریں محسوس کرتے ہی جیسے بڑی حیرانی سے اس سے کہا۔
    ”کیا ہوا؟”
    ”کچھ نہیں۔” وہ مسکرا دی۔ اس نے اس کے گال پر نظر آنے والے پلک کے ایک بال کو انگلیوں کی پوروں کی غیر محسوس حرکت سے ہٹایا تھا۔ زندگی میں ایسا جیون ساتھی بہت خوش قسمت عورتوں کے حصے میں آتا تھا۔ عکس مراد علی نے وہاں کھڑے چند لمحوں کے لیے جیسے عجیب تعجب سے سوچا۔ اس گھر میں اپنا بچپن گزارتے ہوئے اس نے جتنی بھی خواہشیں کبھی کی تھیں وہ تمام پوری ہوئی تھیں اور اس بات کا ادراک اسے عجیب وقت پر ہوا تھا۔ یہ گھر خوش قسمتی اور بدقسمتی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھا اس کے لیے۔
    ……٭……
    شرمین اور فاروق نے شہربانو کو ائرپورٹ پر ریسیو کیا تھا لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ شہربانو نے بے حد تھکے ہوئے انداز میں مثال کو ماں کو پکڑا دیا تھا۔ وہ مثال کو بہلانے پھسلانے یا ڈرانے کسی بھی چیز میں پورا راستہ کامیاب نہیں ہوئی تھی اور اب شرمین کی صورت میں اسے جیسے کچھ دیر کے لیے اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے ایک اور کندھا مل گیا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مثال شرمین سے بھی بہلنے والی نہیں تھی۔ ایک بچے کے طور پر بھی وہ صورت حال کی سنگینی کو بھانپ گئی تھی۔ وہ چند ہفتے پہلے والی مثال نہیں تھی جو خوشی خوشی امریکا اپنی نانی اور نانا کے پاس چھٹیاں گزارنے آئی تھی اور ائرپورٹ سے لے کر گھر تک شرمین کو پتا نہیں کیا کیا قصے سناتی رہی تھی۔ اس بار مثال، شرمین کی بے تحاشا کوششوں کے باوجود صرف اس ایک جملے کے سوا کچھ بولنے پر تیار نہیں تھی کہ اسے پاپا کے پاس جانا ہے۔ وہ پاپ کو مس کررہی تھی۔ فاروق خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہے تھے۔ شہربانو ان کے برابر والی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے اس خوفناک خواب کے بارے میں سوچتی رہی تھی جو اس نے حقیقت میں دیکھا تھا۔ عقبی نشست میں شرمین، مثال کو لیے بیٹھی کسی طرح اس کو بہلانے کی کوششوں میں مصروف تھیں اور ہر بار اس کے منہ سے نکلنے والے جملے شہربانو کے اعصاب پر جیسے ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ وہ مثال کو اپنی ”ساری فیملی” سمجھ کر سمیٹ لائی تھی اور مثال کی ساری فیملی سمٹ کر جیسے شیردل کی ذات پر آکر ٹھہر گئی تھی… تو وہ… خود وہ شہربانو کہاں کھڑی تھی۔
    اگلے دو دن شہربانو اور شرمین کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی لیکن شرمین اسے یہ ضرور بتاتی رہی تھیں کہ پاکستان سے کس کس کا کتنی کتنی بار فون آیا تھا اور امریکا میں ان کے کس کس رشتے دار نے شیردل کی فیملی کے دباؤ پر ان سے رابطہ کیا تھا۔ شہربانو نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کا تھا۔ وہ جیسے عجیب گم صم سی حالت میں تھی۔ عجیب سوتی جاگتی کیفیت جس میں وہ اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو بار بار رکھ کر جوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی جارہی تھی کہ شاید کسی طرح وہ اس سارے معمے کا کوئی حل، کوئی شکل نکال پاتی… ہر بار وہ ناکام رہی۔ مثال کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی صرف اب اگر کوئی فرق پڑا تھا تو یہ کہ وہ ہر وقت روتی نہیں رہتی تھی لیکن وہ بھی شہربانو کی طرح کوئی کھلونا پکڑے کسی کونے میں بیٹھی رہتی پھر یک دم کسی بات پر ضد شروع کر دیتی اور پھر کتنی کتنی دیر بیٹھ کر روتی رہتی۔ شہربانو عجیب میکانیکی انداز میں اسے روتا دیکھتی رہتی۔ اسے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ مثال کے اس طرح رونے کو اتنی سردمہری کے ساتھ نظرانداز کر سکتی تھی، اس کی چیخ و پکار کے سامنے اس طرح بے حس ہو سکتی تھی لیکن وہ ہو گئی تھی۔ انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑ جاتا ہے وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے… میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح ہو سکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں جواب نہیں… جواب بس ایک ہوتا ہے… اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا… شہربانو کو بھی نہیں مل پارہا تھا۔
    ”اب تم کیا کرنا چاہتی ہو؟” دو دن کے بعد بالآخر شرمین نے ایک رات اس سے اس موضوع پر بات کی۔ وہ کچن صاف کررہی تھیں اور وہ کچن کاؤنٹر کے سامنے پڑے اسٹول پر کافی کا مگ لیے بیٹھی تھی۔
    ”پتانہیں۔” شرمین کو پتا تھا وہ کیا کہے گی۔ وہ بھی اس کے قریب کاؤنٹر کے دوسری طرف اسٹول پر آکر بیٹھ گئیں۔
    ”تم شیردل کے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟” انہوں نے بالآخر ایک لمبی خاموشی کے بعد کہا۔
    ”نہیں۔” جواب کسی توقف کے بغیر آیا تھا۔
    ”divorce چاہتی ہو؟” شرمین نے اگلا سوال کیا۔
    ”شاید۔” جواب اس بار بھی جلدی آیا تھا لیکن الجھن لیے ہوئے تھا اور الجھن کیوں تھی، شہربانو کے پاس اس بات کا بھی جواب نہیں تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۴

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی شہربانو کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی، وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے… ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوئی ہوئی چمک، بجھی ہوئی رنگت… وقت نے ایسے ہی بہت سے نشانات اس کے اپنے وجود اور اس چہرے پربھی چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا… ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو… شیردل کو… آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں نے ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا لیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح نظریں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی… وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    شیردل اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندر چلا گیا تھا۔ شہربانو نے سر اٹھا کر ایک گہرا سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا۔
    زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی… نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی… وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی… اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ تھی جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو شہربانو اس گھر کا نام لیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود شہربانو وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی۔ کیونکہ وہ اس گھر کی ملکہ تھی۔
    ……٭……




    بختیار شیردل نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور اسے خیردین کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لیے بات کا آغاز کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈتے ہوئے انہیں بھی دانتوں پسینے آگئے تھے۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تھے اور جس چیز کی معذرت وہ کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر بھی زبان پر لاتے ہوئے وہ منوں بوجھ کے نیچے دب رہے تھے۔ وہ طبقاتی فرق پر یقین رکھتے تھے لیکن بے ضمیری پر نہیں۔ ان کے برابرمیں بیٹھی ہوئی منزہ نے ایک بار بھی خیردین کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ بس بے تاثر چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اپنی کلائی میں موجود رولیکس گھڑی پر انگلیاں پھیرتی رہی۔ بختیارشیردل کو اسے خیردین کے پاس معذرت کے لیے چلنے پر تیار کرنے کے لیے زندگی میں پہلی بار بہت سخت لفظوں کا استعمال کرنا پڑا تھا اور ان لفظوں نے منزہ کی خفگی کو جیسے بڑھا دیا تھا۔ شوہر کے غصے نے انہیں ہتھیار ڈالنے اور ان کی بات ماننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن وہ دل میں موجود کدورت کو ختم نہیں کر سکی تھی۔ بختیارشیردل جیسے ایک چور کو اس گھر میں اس مالک کے سامنے لے آئے تھے جس کے گھر میں ڈاکا ڈالا گیا تھا۔
    ”آپ کچھ لیں گے؟” غیر متوقع طور پر گفتگو کا آغاز خیردین نے کیا تھا۔ وہ شاید ان کی مشکل بھانپ گیا تھا۔
    ”نہیں کچھ نہیں… thank you۔” بختیار نے بڑی شائستگی کے ساتھ انکار کیا۔ خیردین نے ان کے انکار کے باوجود کارنر ٹیبل پر پڑا انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر ملازم سے چائے کے لیے کہا اور پھر ریسیور رکھ دیا۔ ہتک کی کوئی انتہا تھی جو منزہ اس وقت وہاں خیردین کے سامنے بیٹھے ہوئے محسوس کررہی تھی۔ وہ اسی گھر میں ایک مہینہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کرتا رہا تھا۔ اس کے کپڑوں کو استری کرنے سے لے کر اس کے جوتے صاف کرنے تک… صبح اس کو بیڈ ٹی پہنچانے سے لے کر آدھی رات کو کسی بھی وقت طلب کیے جانے پر حاضر ہو جانے تک… اور اس کی کبھی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ سکے… وہ ہاتھ باندھ کر آتا تھا، ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا تھا اور اسی طرح ہاتھ باندھے سر جھکائے چلا جایا کرتا تھا اور اب وہ ان کے لیے اس گھر کے اس صوفے پر بیٹھ کر چائے آرڈر کر رہا تھا جہاں پر میزبان بیٹھا کرتا تھا اور اب وہ ان کے ساتھ انہی برتنوں میں چائے پیے گا جن برتنوں میں وہ پئیں گے اور یہ سب اس کے اس احمق شوہر کی وجہ سے ہورہا تھا جو 21 گریڈ کا ایک سیکریٹری ہوتے ہوئے 18 گریڈ کی ایک ڈپٹی کمشنر کے گھر اپنے ضمیر کی چبھن مٹانے آیا تھا۔
    ”idiot۔” اس نے دل ہی دل میں اپنے شوہر کو کوسا۔ وہاں خیردین کے برابر بیٹھنا منزہ کے لیے جیسے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنے کے برابر تھا۔ اتنے سال اپنے بھائی کی جس عزت کو بچانے کے لیے وہ کامیاب جدوجہد کرتی آرہی تھی وہ آج بیچ چوراہے نیلام ہونے چلی تھی اور اس کا سارا کریڈٹ اس کے ”باضمیر” شوہر اور الو کے پٹھے بیٹے کو جاتا تھا۔
    ”میں اپنی فیملی کی طرف سے شہباز حسین سے ہونے والی ساری غلطیوں کے لیے معذرت کرنے آیا ہوں۔” بختیار نے بالآخر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ”شہباز اب اس دنیا میں نہیں ہے ورنہ میں اسے ساتھ لے کر آپ کے پاس آتا۔ اس نے جو کچھ بھی آپ کے اور آپ کی نواسی کے ساتھ کیا وہ کسی بھی لحاظ سے کسی اچھے انسان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔ میں اس کے طرزعمل کے لیے آپ سے کتنا شرمندہ ہوں آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔” آنسو خیردین کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک لمحہ میں امڈ آئے تھے۔ اسے بختیار شیردل سے اتنے کھلے لفظوں میں اس گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ آج کی ملاقات کس لیے ہورہی تھی۔ ایبک شیردل کے والدین اگر اس سے ملنے آرہے تھے تو کس لیے آرہے تھے… اس نے بہت سے اندازے لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے کسی اندازے میں شہباز حسین نہیں آیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد منزہ کو دیکھنے پر اور بختیار کے منہ سے اسی قصے کا ذکر سننے پر وہ جیسے بری طرح دل گرفتہ ہوا تھا۔ وہ بختیار شیردل سے اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب کے بعد بھی دو تین سرکاری فنکشنز میں ایبک شیردل کے ساتھ مل چکا تھا لیکن وہ منزہ سے پہلی بار مل رہا تھا۔ بختیار کی گفتگو سنتے ہوئے اس کا ذہن ابھی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہورہا تھا کہ چڑیا اس سے ایبک شیردل کے بارے میں اتنا بڑا راز چھپا سکتی تھی… کیا وہ بھی اسی کی طرح اس خاندان کی شناخت سے بے خبر تھی؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور تبھی بختیار نے اس کیس کا ذکر شروع کر دیا۔ خیردین کو کرنٹ لگا تھا تو اس کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا تھا وہ جانتی تھی ایبک شیردل کون تھا اور اس نے پھر بھی خیردین کو کبھی اس کے بارے میں نہیں بتایا… کیوں؟ خیردین کو زندگی میں پہلی بار اپنی چڑیا سے گلہ ہوا تھا۔
    ……٭……
    شیردل اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ وہ شہربانو سے ان دو سوالوں کی ان الفاظ میں توقع نہیں کررہا تھا۔ نہ وہ عکس کا ذکر اس انداز میں سننے کی امید رکھے ہوئے تھا۔
    شہربانو کو اس کی اس خاموشی سے خنجر کی کاٹ جیسی تکلیف ہوئی جو ان دو سوالوں کے جواب میں اسے شیردل سے ملی تھی۔ سارے خدشات، ساری بدگمانیوں، سارے گلے شکووں کے باوجود بھی کہیں نہ کہیں اسے بھی جیسے ایک عجیب سی امید تھی کہ وہ بے ساختہ انکار کرے گا، تردید کرے گا… اس نے ایسا تو کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے کہ اس کے سامنے کھائی آجاتی۔ شیردل کی خاموشی نے اس کے اندر کے شور کو یک دم اور بڑھا دیا تھا۔
    ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جواب اتنا مشکل ہے تمہارے لیے۔” شہربانو نے عجیب شکست خوردگی کے ساتھ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ شکست اس کے غصے کو عجیب طرح سے بھڑکانے لگی تھی۔
    ”احمقانہ باتوں اورسوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس۔” شیردل نے بالآخر جیسے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”احمقانہ؟” وہ تلخی سے ہنس پڑی۔ ”شیردل تم اپنے دل سے پوچھو کہ تمہیں یہ سوال احمقانہ لگا ہے؟” اس نے عجیب چیلنج کرنے والے انداز میں اس سے کہا۔
    ”ہاں مجھے لگا ہے۔ اسی لیے کہا ہے تم سے…” شیردل نے بڑی خفگی کے ساتھ اس سے کہا۔ ”ہم کیس کو ڈسکس کررہے تھے… میرے اور عکس کے حوالے سے کوئی ڈسکشن نہیں ہورہی تھی۔”
    ”یہ کیس تمہاری وجہ سے شروع ہوا ہے۔ تمہارے اورعکس کے اس تعلق کی وجہ سے شروع ہوا ہے جس پر تم بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس ساری کہانی میں یہ تیسرا اینگل نہ ہوتا تو یہ کیس بھی کورٹ میں نہ ہوتا۔” شہربانو نے بے حد تلخی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • عکس — قسط نمبر ۱۳

    چند لمحے پہلے آئینے میں نظر آنے والے اپنے عکس کو اس بار اس نے خیردین کی آنکھوں میں منعکس ہوتے دیکھا تھا۔
    ایک سرخ اور سنہرے کامدار دوپٹے کے ہالے میں دلہن کا روپ لیے چمکتا ہوا اس کا چہرہ… ماتھے کے بیچوں بیچ تاج کی طرح ٹکا اس کے لباس کے ہم رنگ سرخ پتھروں سے مرصع بیضوی شکل کا ایک ٹیکا… اس کے کانوں میں ہلکورے لیتے لمبے لمبے جھمکے جن کے نچلے حصے پر لٹکتے سرخ باریک موتی اس کی قمیص کے گہرے گول گلے سے ہمیشہ کی طرح نمایاں کالر بون کو گردن کے ذرا سے خم پر چومنے لگتے تھے اور اس کی باریک صراحی دار گردن کے گرد موجود سرخ پتھروں کا وہ نیکلس جس کا نیچے کو نکلا ہوا سنہری بیضوی حصہ اس کی سرخ قمیص کے سرے کو چھو رہا تھا۔ وہ آئینے میں اپنے شفاف اور واضح اس عکس کو دیکھ کر مبہوت نہیں ہوئی تھی۔ خیردین کی آنکھوں میں اپنے دھند لائے ہوئے عکس کو دیکھ کر ہوگئی تھی۔ وہ اپنے نانا کی آنکھوں کی نمی میں ہلکورے لے رہی تھی یا شاید وہ اس کی اپنی آنکھوں کی نمی تھی جس نے خیردین کی آنکھوں کی نمی میں دھند لاتے اس کے عکس کو کچھ اور دھند لا کر دیا تھا۔




    لیکن خیردین اور وہ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ… بے یقینی کے ایک عجیب سے جہاں میں پہنچے ہوئے۔
    اس کے چہرے سے بالا خر نظریں پہلے خیردین نے ہی ہٹائی تھیں۔ وہ اپنی چڑیا کو اپنی نظر لگنے سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وہ روپ تھا جس کو دیکھنے کے لیے وہ کئی سالوں سے متمنی تھا اور آج اس روپ میں چڑیا کو دیکھتے ہوئے اس کا دل عجیب سی خوشی اور طمانیت کے ساتھ ساتھ بڑی عجیب سی کسک محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کی چڑیا کو اپنا جیون ساتھی مل گیا تھا وہ اس کے ساتھ اب ایک نئے سفر پر اڑجانے والی تھی۔
    عکس نے خیردین کو خود سے نظریں چراتے ہوئے آگے بڑھتے اور اسے اپنے ساتھ لپٹاتے دیکھا۔ وہ جذباتی نہیں تھی لیکن وہ اس لمحے رودی تھی۔
    وہ چند منٹ پہلے بیوٹی پارلر سے نکاح کی اس سادہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھی جو اسی گھر کے لان میں منعقد کی گئی تھی اور دروازے پر اس کا استقبال خیردین نے ہی کیا تھا۔ وہ چڑیا کے چند گھنٹے پہلے پارلر جانے کے بعد سے وہاں مہمانوں کا استقبال کرتا وہاں سے ہلا نہیں تھا۔ اسے اپنی چڑیا کی واپسی کا انتظار تھا۔ دلہن کے روپ میں اس پر پہلی نظر ڈالنے کی بے قراری… خیردین کی نظریں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اور انہیں پائیں باغ کی طرف بھیجتے ہوئے بھی گیٹ پر جمی رہی تھیں۔
    اور اب جب وہ گھر کے اندرونی دروازے کے سامنے گھر کے اندر جانے کے لیے اپنی چند دوستوں کے ساتھ کھڑی تھی تو خیردین کا دل عجیب طرح سے بوجھل تھا۔ وہ عام لڑکی نہیں تھی نہ خیردین نے اسے عام طرح سے پالا تھا پھر بھی وہ ایک لڑکی تھی اور خیردین کا دل ویسے ہی اندیشوں اور خدشات سے دوچار تھا جیسے اندیشے کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو ایک انجان آدمی کے ساتھ ایک انجان سفر پر رخصت کرتے ہوئے رکھتا…چاہے وہ انجان آدمی جیون ساتھی ہی کیوں نہ ہوتا۔ چاہے وہ انجان سفر زندگی کا سفر ہی کیوں نہیں ہوتا۔
    خیردین نے اسے کندھوں سے تھامے ہوئے اس کے جھکے ہوئے سر کو پھر ماتھے کو چوما ،عکس نے ایک بار پھر سر اٹھا کر اپنے نانا کو دیکھا وہ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی اس نے خیردین کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا۔ وہ اس کے لیے کیا دعائیں کررہا تھا وہ اس کے ساکت ہونٹ سے بھی سن سکتی تھی۔ عکس مراد علی نے اپنی ساری زندگی میں ایسا مرد کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ شفیق تھا، رہبر تھا، دوست تھا، غم خوار تھا، اس پر جان چھڑکنے والا تھا اوروہ اس کے لیے اپنی انا اور عزت کو ہر بار کی طرح اس بار بھی کہیں بہت پیچھے رکھ آیا تھا۔ ایسا کون ملے گا اسے جو اسے خیردین کی طرح چاہے گا… کبھی کوئی نہیں مل سکتا، کوئی اس جیسا ہو ہی نہیں سکتا ،کوئی اس کے لیے اپنے دل میں ویسی غیر مشروط محبت رکھ ہی نہیں سکتا۔ چڑیا نے اپنے نانا کی آنکھوں میںیہ سب پڑھا تھا۔ کھلی کتاب کی طرح جس کا ایک ایک لفظ خود بول رہا تھا۔
    بنا کچھ کہے اس نے خیردین کا ہاتھ تھام لیاتھا۔ اس ہاتھ کے لمس میں وہ تشکر جھلک رہا تھاجو عکس کے دل میں تھا اور جو اس کے نرم ہاتھ کی سخت گرفت میں تھا۔
    ”میں تمہارے بغیر بہت اداس ہوجاؤں گا چڑیا۔”خیردین نے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”نانا میں آپ کی زندگی سے کہیں جاؤں گی تو اداس ہوں گے نا آپ۔ میں کہیں نہیں جارہی ، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی رہوں گی۔” خیردین رنجیدگی سے اس کی تسلی سنتے ہوئے مسکرادیا تھا۔ وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی۔
    ”رک کیوں گئیں؟” خیردین نے اسے گھر کے اندرونی دروازے میں رکتے دیکھ کر کہا۔
    ”نہیں… ایسے ہی۔” وہ چونکی تھی اور اس نے اپنے ان سات ساتھیوں سے نظریں ہٹا لی تھیں جو ایک بار پھر اس کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے اور جنہیں وہ ہمیشہ اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہیں نہ کہیں دیکھتی رہی تھی۔ وہ سات اس کی زندگی کے اس نئے سفر پر اسے رخصت کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں موجود تھے۔
    ٹوفو اس کے رو پہلی چوڑی دار پاجامے کی چوڑیوں کے ساتھ لٹکا اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدو جہد میں مصروف تھا۔ کنٹا اس کی پینسل ہیل والے جوتے کے اسٹرپ سے چپکا اس کے پیروں پر بنے مہندی کے نقش ونگار پر غور فرمانے میں مصروف تھا۔ منٹا ایک باجا پکڑے گھر کی دہلیز پر ادھر سے ادھر جاتے ہوئے اسے بجانے میں لگا تھا۔ ڈیڈو اچھل اچھل کر اس کے ٹخنوں تک پہنچتی سرخ قمیص کے سنہری کامدار دامن کو پکڑنے کی کوشش میں لگا تھا۔ ٹوکو اس کے زمین تک لٹکنے والے دوپٹے کے پلو سے لٹکا ہوا تھا اور کٹو اور ٹنٹو خوشی سے بے قابو سر پر سالگرہ والی نوکدار لمبی ٹوپیاں پہنے پھر کی کی طرح گول گول گھومتے چکراتے پھر رہے تھے۔ وہ سب اس کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کررہے تھے۔ چڑیا نے اس غیر مرئی دنیا کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو صرف اسے نظر آتی تھی اور جہاں کی ملکہ وہ تھی۔
    ایلس آج اپنے اس ونڈر لینڈ کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کے ساتھ ایک نئے ونڈر لینڈ کو آباد کرنے جارہی تھی۔
    ……٭……
    ان دونوں نے بہت دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تھا۔ شیردل چند لمحے پہلے ہی ہاسپٹل کے اس کوریڈور میں داخل ہوا تھا جہاں خیردین کا کمرا تھا اور عکس ابھی ابھی ہاسپٹل سے کسی کام کے لیے باہر نکل رہی تھی۔ شیردل کو آتے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ بہت دور سے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو ایک خیرمقدمی مسکراہٹ دی تھی۔
    ”کب آئے؟” عکس نے اس کے قریب آنے پر علیک سلیک کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ابھی، ابھی۔” شیردل نے جواب دیتے ہوئے اس کے چہرے کو جیسے کھوجنے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ کی طرح ناکام رہا تھا۔ وہاں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملا تھا۔ ایک انتہائی اطمینان بھری مسکراہٹ جس میں کسی قسم کا کوئی اضطراب نہیں تھا۔
    ”کیا ضرورت تھی اتنی جلدی یہاں آنے کی؟ ریسٹ کرتے… کل پرسوں آجاتے یا فون پر حال پوچھ لیتے۔” عکس نے اسے کہا۔
    ”انکل کیسے ہیں؟” شیردل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔
    ”اللہ کا شکر ہے پہلے سے بہت بہتر ہیں۔” عکس نے جواباً کہا۔ ”تمہاری فلائٹ کیسی رہی؟”
    ”ٹھیک تھی، تم نے مجھے اپنی suspensionکے بارے میں نہیں بتایا۔” شیردل نے چھوٹتے ہی وہ سوال کیا جو ہاسپٹل تک آنے کے پورے راستے میں اسے پریشان کرتا رہا تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی پھر اس نے اسی اطمینان سے کہا۔
    ”کیا بتاتی؟”ایک لمحے کے لیے اس کے سوال نے شیردل کو لاجواب کیا۔
    ”انفارم کرتیں مجھے، کل میری اور تمہاری بات ہوئی ہے تم نے ذکر تک نہیں کیا۔” وہ بات کرتے کرتے شکایت کرگیا۔
    ”فائدہ کیا ہوتا؟” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
    نقصان بھی کوئی نہیں تھا۔” شیردل نے جتایا۔
    ”میں نے نہیں بتایا تو بھی پتا تو چل ہی گیا نا تمہیں… ایسا کوئی راز تو نہیں تھا کہ پتا نہ چلتا۔ نانا سے ملوگے؟” اس نے اس کی شکایت کو بے پروائی سے نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” شیردل نے مختصراً کہا اور قدم آگے بڑھادیے۔ عکس بھی اس کے ساتھ واپس پلٹ گئی تھی۔
    ”suspensionکیوں ہوئی؟” شیردل نے ساتھ چلتے ہوئے اس سے پوچھا، وہ گردن موڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے مسکرائی۔
    ”پوری چارج شیٹ سناؤں یا صرف بنیادی وجہ بتاؤں؟” اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس سے شیردل پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔
    ”میں نے تمہیں منع کیا تھا۔” شیردل نے اس سے نظریں چراتے ہوئے خفگی سے کہا۔ ”اسی سب سے بچانا چاہتا تھا تمہیں، اسی سب سے بچانے کے لیے وارن کررہا تھا تمہیں۔”
    ”میں نے تم سے کوئی شکایت کی ہے؟” اس نے شیردل کی بات بڑے تحمل سے کاٹ دی تھی۔ ”اب تمہیں پتا چلا میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا تھا اپنی سسپینشن کے بارے میں۔”
    ”تم اپنا سروس ریکارڈ خراب کررہی ہو عکس۔” شیردل چلتے چلتے رک گیا تھا۔
    ”شیردل وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کے بارے میں پریشان نہ ہو۔ مجھے چارج کیا گیا ہے میں انہیں explanation دے لوں گی۔ اور میرے لیے یہ سب غیر متوقع نہیں ہے۔ جس دن میں نے کیس فائل کیا تھا مجھے اندازہ تھا کہ میں کون سا پینڈورہ باکس کھولنے جارہی ہوں۔ اس لیے تم پریشان مت ہو۔ تم اپنی فیملی اور اپنے انکل کو defend کرو… مجھے کیس لڑنے کے لیے جو کرنا پڑا میں وہ کروں گی لیکن ہم پھر بھی دوست رہیں گے۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار اسے عکس مراد علی بے وقوف لگی تھی۔
    ”تم عقل سے پیدل ہو۔” وہ کہے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔
    ”اچھا؟”وہ بے اختیار ہنس دی تھی۔
    ”تم اتنا آسان سمجھ رہی ہو یہ سب کچھ… تمہارا خیال ہے کہ تمہیں اگر suspend کیا گیا ہے تو پھر تمہاری explanationلے کرتم سے معذرت کرتے ہوئے تمہیں بحال کردیا جائے گا۔” وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”شیردل میں کیس واپس نہیں لوں گی اور اب تو بالکل بھی نہیں۔ تم نانا کی عیادت کرنا چاہتے ہو یا ویسے ہی واپس جانا چاہتے ہو؟” اس نے شیردل کی بات کاٹ کر اسے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”جہنم میں جاؤ تم۔” شیردل اس کے جملے پر بری طرح جھنجلایا… وہ دوبارہ قدم اٹھاتے ہوئے مسکرائی۔
    ”میں وہاں سے گزر کر آئی ہوں۔ دوبارہ بھی جانا پڑا تو باہر نکلنے کا راستہ جانتی ہوں۔” اس کا اطمینان قا بل داد تھا اوروہ داد دیتا اگر کیس اس کے اپنے خلاف نہ ہوا ہوتا۔
    ”اور اب نانا سے میری suspension کا قصہ لے کر مت بیٹھنا۔” اس نے ساتھ چلتے ہوئے اسے ہدایت کی۔
    ”انہیں کچھ بتانا ہوتا تو سب سے پہلے اس کیس کے بارے میں بتاتا۔” وہ ساتھ چلتے ہوئے خفگی سے بولا۔
    ”عقل مند ہوگئے ہو۔” وہ داد نہیں تھی راز کو راز رکھے رکھنے کی ترغیب تھی اور شیردل یہ بات جانتا تھا۔
    خیردین بستر پہ لیٹے ہوئے دروازے میں داخل ہوتے شیردل کو دیکھ کر مدھم انداز میں ہلکا سا مسکرایا تھا۔ شیردل بھی جواباً مسکرایا۔ وہ عکس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس سے کچھ بات کرتے کرتے وہ خیردین کے بستر کے قریب آگیا۔ خیردین پر ذرا سا جھکتے ہوئے اس نے خیردین کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے بڑی نرم آواز میں آس سے پوچھا۔
    ”آپ کی طبیعت اب کیسی ہے انکل؟” خیردین مسکرایا تھا۔




  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭




  • عکس — قسط نمبر ۱۲

    عکس نے گاڑی سے اترتے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اوراس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔وہ وہاں سے اس آئینے کو دیکھ سکتی تھی اور وہ وہاں سے بھی شیر دل اور شہر بانو کو بھی دیکھ سکتی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے دل کی دھڑکن پر قابو پایا تھا۔ دوسری گہری سانس میں اس نے اپنے دماغ سے وہ سب غائب کرنے کی کوشش کی تھی جس کی کرچیاں اس گھرکے سامنے بیرونی سڑک پر سامان کے ایک ڈھیر پر اپنی ماں کے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے یہاں اندر تک چپے چپے پر بکھری ہوئی تھیں۔




    سب کچھ غائب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ ایک عام سرکاری رہائش گاہ تھی اب اس کے لیے۔ ایسی درجنوں عمارتوں میں وہ جاچکی تھی رہ چکی تھی۔ اس گھر میں بھی اس کے لیے کچھ غیر معمولی نہیں تھا… ایک عام پرانی لیکن شاندار عمارت۔ ویسی ہی ایک تقریب جو وہ کئی دفعہ اٹینڈ کرتی آئی تھی۔ ایک پرانی طرز کا پورچ اور داخلی دروازے کے پاس ایک پرانا آئینہ… ایک سرسری نگاہ میں اس مینٹل بلاک کے ساتھ اس نے صرف یہ دیکھا تھا… کسی بھی چیز پر نظر جمائے بغیر ہر چیز سے نظریں چراتے ہوئے۔ لوگ… جگہ نہیں… باتیں… چیزیں نہیں…میں کوئی تکلیف دہ یاد ذہن میں نہیں لاؤں گی۔ میں ماضی کی کسی چیز کے بارے میں سوچ ہی نہیں رہی۔ میرا کل کا ورک شیڈول کیا ہے؟ یہاں سے ڈنر کے بعد کیا کیا کام کرنے ہیں میں نے؟ وہ اپنے ذہن کو مسلسل بھٹکارہی تھی ،بڑی کامیابی کے ساتھ۔ ایک کے بعد ایک رکاوٹ کو عبور کررہی تھی، جب تک اس نے شہر بانو اور شیر دل کو اکٹھا نہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ شہر بانو کو تصویروں میں دیکھ چکی تھی ۔وہ اسے چند فنگشنز میں شیر دل کے ساتھ دور سے دیکھ چکی تھی لیکن وہ آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھنے والی تھی، اس سے ملنے والی تھی…اس بار بی ڈول سے جو اس کے بچپن کی چندcinations faمیں سے ایک تھی اور جو اس کی زندگی میں سیاہ ترین باب کا اضافہ کرنے والے شخص سے منسلک تھی… اورجو اس شخص کی زندگی کا حصہ تھی جس سے اس نے شدید محبت کی تھی ۔
    آئینے میں نظرآتے اس عکس سے نظریں ہٹاتے ہوئے عکس مراد علی نے جیسے خود کو سنبھالنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے لمحے بھر کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی… وہ برسات جو اس کی آنکھوں سے نہیں برس پارہی تھی وہ کہیں اور سے برسنا شروع ہوگئی تھی اس نے ڈرائیور سے کچھ بات کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لیے دروازہ کھولنے کے لیے باہر آیا تھا۔ خود کو سنبھالنے کے لیے وہ ہر چیز کا سہارا لے رہی تھی۔
    پانی کی ہلکی سی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کرتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائیڈڈز ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹاڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں۔ مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا تھا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی۔ کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھ آیا تھا۔ عکس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپر ٹٹولا تھا۔ اس کی یہ بے اختیاری شہر بانو نے نوٹس کی تھی جس کے برابر سے وہ یک دم ہٹا تھا۔ اس نے کمشنر کی گاڑی کے پورچ سے ہٹ جانے اور عکس کی گاڑی کے آگے آنے کا بھی انتظار نہیں کیا تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ عکس کے گاڑی سے نکل آنے پر وہ اس کا استقبال کرنے چلا گیا تھا۔ وہ دور جاتے شیر دل سے نظریں ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ ہٹا نہیں پائی تھی۔ کمشنر کی بیوی سے بات کرتے ہوئے بھی وہ عجیب بے چین انداز میں شیر دل کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اس گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھتی رہی تھی جہاں اس کی طرف پشت کیے ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس مراد علی کو اس نے ایک عجیب سے اضطراب کے ساتھ دیکھا تھا۔
    ڈرائیور سے بات کرتے ہوئے عکس جب تک پلٹی شیر دل اس کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے ۔عکس نے اس سے نظر چرائی… خود کو سنبھالا… پھر اسے دیکھا… وہ بہت بارایک دوسرے کے اتنے ہی قریب آکر کھڑے ہوچکے تھے… بہت بارایک دوسرے کے بالمقابل اتنے ہی فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی جھانکتے بھی رہے تھے… اور عکس مراد علی نے کبھی ان آنکھوں میں پہچان کی کوئی جھلک نہیں دیکھی تھی… نہ چڑیا کے لیے… نہ اس سترہ سالہ عکس مراد علی کے لیے جو ایک انٹر کالجیٹ کے مقابلے میں ایبک شیر دل کا نام ہی سن کر بدک گئی تھی۔ جس نے اپنے کیرئیر کے بد ترین تقریری مقابلے میں اسٹیج پر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ایک ایک لمحہ اس خوف میں گزارہ تھا کہ وہ ابھی…ابھی چڑیا کو پہچان لے گا… اور وہ یہ کیوں نہ سوچتی کہ وہ اسے پہچان لے گا۔ چڑیا کی زندگی کے آٹھ سال ایبک شیر دل کے بارے میں سوچتے گزرے تھے۔ آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اگر کوئی اس سے ایبک کا حلیہ پوچھتا تو وہ سیکنڈز میں اس کے حلیے کی ڈیٹیل بتادیتی۔ اس کے نین نقش سے لے کر اس کے زیر استعمال ا سنیکرز اورا سپورٹس وئیر کے لیبلز اور برانڈز تک اسے یاد تھے۔ وہ ایبک کے ساتھ گزارے ہوئے ان چند ہفتوں کو اپنے ذہن کی ڈائری کی انٹریز کی طرح پڑھ سکتی تھی… ایبک کا ایک ایک جملہ… ایک ایک بات… پھر اگر وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی ایبک کو اسی طرح یاد ہوگی تو یہ زیادہ بڑی خوش فہمی نہیں تھی۔ آٹھ سال اتنا طویل عرصہ نہیں ہوتا کہ ایبک اس کے چہرے کے نقوش میں کوئی یاد کھوج نہیں پاتا… لیکن ایبک شیر دل اسے نہیں پہچانتا تھا۔ وہ نام سے اسے نہیں پہچان سکتا تھا کیونکہ خیر دین اسے چڑیا کہتا تھا یا پھر فاطمہ… اس کے نام کا دوسرا حصہ جس سے وہ چڑیا کے بعد جانی اور پہچانی جاتی تھی… عکس کے نام سے وہ اسکول کے علاوہ اور کہیں نہیں پکاری جاتی تھی۔ نہ گھر میں نہ خاندان میں… فاطمہ اس کے نام کا وہ حصہ تھا جس کا اضافہ اس کی پیدائش کے بعد اس کے خاندان کے افراد کے عکس نام سے اسے پکارنے میں دقت کے بعد کیا گیا تھا۔ خیر دین نے اس کا نام بڑے شوق سے رکھا تھا لیکن چند ہفتوں میں ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس نام کو اس کے خاندان اور گاؤں والے کبھی بھی صحیح تلفظ سے ادا نہیں کرسکتے تھے۔ خیر دین نے چڑیا کا نام نہیں بدلا صرف اس میں فاطمہ کا اضافہ کردیا لیکن وہ اسکول ،کالج میں عکس مراد علی کے طور پر ہی جانی جاتی رہی۔ ایبک بھی خیر دین کی طرح اسے عکس یا فاطمہ کے بجائے چڑیا ہی کہتا رہا تھا۔ چڑیا کو پھر بھی خوش فہمی تھی وہ عکس کا لفظ سنتے ہی چڑیا تک پہنچ جائے گا، وہ اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہی اسے پہچاننے لگے گا۔ یہ پہچا ن چڑیا کو کبھی خوف زدہ نہ کرتی اگر اس رات اس نے ایبک کو وہاںریلنگ کے پاس کھڑے چلاتے نہ دیکھ لیا ہوتا۔خوف اور دہشت کے عالم میں بھی ایبک کے سامنے بے لباسی کا احساس چڑیا کو گاڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ اس کی چیخوں نے چڑیا کی جان بچائی تھی مگر ان آٹھ سالوں میں بہت بار چڑیا اس ایک نظر سے نادم رہی جو اس نے ایبک کو خود پر ڈالتے دیکھی تھی… وہ جس حالت میں ایبک کے سامنے آئی تھی وہ اس حالت میں کبھی بھی اس کے سامنے آنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اسے جیسے خوف بھی یہی تھا کہ وہ اسے پہچانے گا تو اس بے لباسی کے حوالے سے اس ایک رات کے حوالے سے پہچانے گا… ان چند شاندار ہفتوں میں اکٹھے گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے نہیں۔
    اس تقریری مقابلے کے بعد بھی اسے یقین تھاایبک کو اگر فوری طور پر وہ یاد نہیں آئی ہوگی تو گھر جا کر یاد آجاتی… چند دنوں کے بعد یاد آجاتی… اور کچھ نہیں تو کم از کم چڑیا کا چہرہ اس کے نظروں میں بھی اٹک جاتا۔
    اس کی یہ خوش فہمی اکیڈمی میں دو ر ہوگئی تھی۔ عکس مراد علی کے حوالے سے ایبک شیر دل کی کسی قسم کی کوئی یادداشت نہیں تھی… اسے شروع میں یقین نہیں آیا کہ وہ واقعی اسے یاد نہیں تھی۔ کئی ہفتے وہ اسے اگنور کرتی رہی صرف اسی ایک خدشے کے تحت کہ وہ اب اسے ضرور پہچان لے گا… اگر چڑیا کا چہرہ نہ پہچان سکا تو کم از کم سات آٹھ سال پہلے ہونے والے اس تقریری مقابلے کی تو کوئی میموری ہوگئی اس کے پاس…
    اورجب عکس مراد علی کو با لا خر یہ یقین آیا کہ ایبک شیر دل کو اس کے حوالے سے” کچھ بھی” یاد نہیں تھا تو وہ ہل کر رہ گئی تھی… شاک کی ایک عجیب سی کیفیت تھی جس سے وہ دوچار ہوئی تھی۔ ایبک شیر دل کمزور یاد داشت کا مالک نہیں تھا کم از کم عکس کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا اس کے باوجود اس کا یاد نہ رہنا صرف ایک چیز کا اظہار تھا… چڑیا ایبک کے لیے ٹائم پا س تھی… وہ اس کے لیے وہ اہمیت نہیں رکھتی تھی جو ایبک اس کے لیے رکھتا تھا…اور کیوں اہمیت رکھتی آخر وہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر بچے کے لیے جس کے پاس کزنز اور دوستوں کا ایک جم غفیر تھا جو اسی کی طرح کے سوشل سیٹ اپ سے تعلق رکھتے تھے۔ چڑیا ایک چھوٹے شہر میں آکر بوریت سے بچنے کے لیے ڈھونڈی جانے والی ایک ساتھی ہوسکتی تھی لیکن وہ اس کی وہ دوست نہیں ہوسکتی تھی جسے اس نے واپس ایجی سن اپنے جیسے دوستوں میں جا کر مس کیا ہو… وہ چڑیا کے بچپن کی بہترین چیزوں میں سے ایک تھا لیکن چڑیا ایبک کے لیے ایک بہترین یاد کیسے ہوسکتی تھی۔ بڑے سالوں بعد عکس مراد علی نے بیٹھ کر جذباتیت کی گرد جھاڑ کر اپنے اور ایبک کے تعلق کو دیکھا تھا اور عجیب سی ندامت اور رنجیدگی ہوئی تھی اسے۔
    ایبک شیردل ،عکس مراد علی کو اس تقریری مقابلے کے حوالے سے بھی یاد نہیں رکھ پایا تھا… اسے اپنی شکل و صورت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی کبھی نہیں رہی تھی لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ مرد اسے اگنور نہیں کرسکتے، وہ کم از کم اتنے معمولی خدوخال کی مالک نہیں تھی کہ ایبک اسے یاد بھی نہ رکھتا… اور یہاں اسے اہم سمجھنے کا سوال بھی نہیں تھا یہاں بات صرف یاد رکھنے کی تھی… صرف اور صرف یادداشت کا حصہ رکھنے کی… عکس مراد علی وہ بھی نہیں تھی۔
    ”زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں… ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔”عکس مرادعلی نے اس گتھی کو خیر دین سے حل کروانے کی کوشش کی تھی۔
    ”میرے ساتھ اکیڈمی میں ایک لڑکا ہے نانا… سات آٹھ سال پہلے ایک انٹر کالجیٹ مقابلے میں اس نے مجھے ہر ا کر وہ مقابلہ جیتا تھا لیکن میں حیران ہوں کہ اسے میں یاد تک نہیں حالانکہ وہ مجھے یاد ہے۔” اس نے خیر دین کو ایبک شیر دل کانام لیے بغیر اپنا مسئلہ بتایا۔ مجھے لگتا ہے وہ دکھاوا کررہا ہے مجھے نہ پہچاننے کا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے میں یاد ہی نہ ہوں۔” عکس نے اپنا اندازہ بھی اس کے ساتھ شیئر کیا۔
    ”لوگ ہارنے والوں کے چہروں اور ناموں پر غور نہیں کرتے چڑیا۔ تم نے تو دوسری ،تیسری پوزیشن بھی نہیں لی اس مقابلے میں… پھر تمہیں وہ کس حوالے سے یاد رکھتا… ہارنے والے تو بہت سے ہوتے ہیں۔ ” کیا تلخ حقیقت تھی جو خیر دین نے مصری کی ڈلی کی طرح توڑ کر چڑیا کے سامنے رکھ دی تھی۔ ایبک شیر دل عام شخص تھا اس کی نفسیات بھی عام شخص جیسی ہی تھی… جیت اور جیتنے والوں کو یاد رکھنے کی کوشش …ہار اور ہارنے والوں کو بھول جانے کی… وہ اوپر دیکھنے کا عادی تھا نیچے نہیں۔
    زندگی میں ایک اور سبق عکس مراد علی نے اس دن حاصل کیا تھا۔ وہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے چہروں اور ناموں پر بھی غور کرے گی جنہیں وہ زندگی میں ہرائے گی۔ وہ زندگی میں خود کبھی عکس مراد علی جیسے حریف کا سامنا نہیں چاہتی تھی جو یک دم کسی dark horse کی طرح ایک دن اس کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اسے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہ ہوتا۔
    بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھی۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنراپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ عکس مراد علی نے اتنے سالوں کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی، اس کی ٹائی کو اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا اور وہ کبھی بھی اس کے چہرے سے اس کے دل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ وہ اسے راستے میں ہی بھٹکا دیتی تھی… ہمیشہ بڑی کامیابی کے ساتھ… عکس نے سوچا اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کے studs اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو یا سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے جھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے… پھر اس نے نظر چرائی تھی… جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں اپنا چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے اس سے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟” اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر اور لپ اسٹک کے علاوہ شاید ہی کچھ اور لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا۔ میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیاز ی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب بھی ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا گیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ اس کی اس حس مزاح کی عادی تھی۔ اسے دیکھ کر شیر دل کے لیے خاموش رہنا اور کسی نہ کسی بات پر کوئی کوئی نہ کوئی پھڑکتا ہوا تبصرہ نہ کرنا ناممکن تھا۔ وہ بچپن سے اس کی عادی تھی۔ ایبک شیر دل کے پاس بچپن میں بھی احمقانہ باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا اور ڈھیر کا مطلب ڈھیر ہی ہوتا تھا اور وہ ہر احمقانہ بات بے حد سنجیدگی سے کرتا تھا۔ چڑیا اس کے ان چند قریبی ساتھیوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی جو بہت جلد ہی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ساری باتیں کم از کم ایبک کے لیے احمقانہ نہیں تھیں۔ وہ انہیں بڑی سنجیدگی سے کرتا تھا… اور چڑیا دوسرے بچوں کے بر عکس بڑی سنجیدگی سے انہیں سن لیا کرتی تھی… اس کی یہ عادت اب بھی قائم تھی۔
    وہ اب باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے۔ شیر دل اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کمشنر کی بیوی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
    ”شہر بانو …عکس مراد علی۔” چند لفظوں میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق وسباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کا تعارف کروایا تھا۔سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔ عکس اس کے لیے کوئی اور تشبیہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی۔ وہ آج بھی اس کی بار بی ڈول تھی۔ ڈاکٹر فرح کی بیٹی کے پاس موجود وہ گڑیا جو اسے ہمیشہ للچایا کرتی تھی اور اس جیسی گڑیا خرید نے کے لیے اس نے خیر دین سے بہت اصرار کیا تھا۔
    خیر دین اسے لے لے کر بازاروں میں کھلونوں کی دکانوں پر باربی ڈول کی تلاش میں پھرتا رہا تھا۔ جو سستی نقل دکانوں پر مل رہی تھی وہ چڑیا کو پسند نہیں آرہی تھی وہ اصل اور نقل کا فرق بتا نہیں سکتی تھی لیکن سمجھتی ضرور تھی اور جو اصلی باربی ڈول اسے چند دکانوں میں نظر آئی تھی اس کی قیمت اتنی تھی کہ خیر دین اسے چڑیا کو دکھا سکتا تھا دلوا نہیں سکتا تھا ۔کئی دن بازاروں کی خاک چھاننے کے بعد با لآخر چڑیا کو پتا چل گیا تھا کہ باربی ڈول اس کی استطاعت اور اوقات سے باہر کی چیز تھی اور اس کے لیے ضد یا اصرار کرنا خیر دین کو تکلیف اور شرمندگی کے علاوہ کچھ نہ دیتا۔ اس نے باربی ڈول کی فرمائش ختم کردی تھی مگر وہ اس کے حواس پر سوار رہی تھی۔ تین سالہ شہر بانو پر پہلی نظر میں بھی اسے خوب صورت ایوننگ گاؤن والی وہ باربی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ اس کے صرف بال سنہری نہیں تھے مگرا س کی خوب صورتی ،ناز نخرہ ،لباس سب اسی باربی ڈول جیسا تھا جو اس کے لیے untouchable تھی۔
    اتنے سالوں بعد شہر بانو کو دیکھتے ہوئے عکس مراد علی کو آج بھی بار بی ڈول ہی یاد آئی تھی۔ دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار آنکھیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ… عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر… اسے آج بھی اس پر ویسا ہی پیار آیا تھا جیسا اس کو پہلی بار دیکھ کر آیا تھا۔ اس کا دل آج بھی اس کی طرف سے اسی طرح ہمکا تھا جس طرح پہلی بار اسے دیکھ کر ہمک کر اس کی طرف گیا تھا۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔ شیر دل کے ذہن میں سب سے پہلے شہر بانو کے حوالے سے اس طرح کا خیال ڈالنے والی بھی وہی تھی۔
    ”میرا خیال ہے وہ تم سے محبت کرتی ہے۔” اس نے فون پر شیر دل سے شہر بانو کے حوالے سے کوئی قصہ سننے کے بعد کہا تھا۔ وہ جواباً ہنسا تھا۔
    ”یہ کون سی نئی بات ہے جو تم مجھے بتارہی ہو، میں جانتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… مجھ پر مرتی ہے۔” اس نے آخری جملہ بڑے اعتماد سے بڑے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔”کوئی پہلی لڑکی تو نہیں ہے وہ جسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو…”
    مسٹر شیخ چلی تم اگر شیخیاں بگھارنا بند کرو تو میں کچھ کہوں۔” عکس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے ٹوکا۔”تم سے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھی لڑکی محبت کررہی ہے۔”
    ” now that’s not fair ” شیر دل نے اس کی بات کاٹ کر احتجاج کیا۔”تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو… تمہیں کیا پتا مجھ پر کون کون مرتا…” عکس نے اس کی بات کاٹی۔
    ”تم تقریر کرنے کے بجائے ان لڑکیوں کے ناموں کی ایک لسٹ بنالو جو تم پر مرنے کا شرف حاصل کرچکی ہیں… ہوسکے تو تصویریں بھی لگالینا ساتھ… تصویریں تو ہوں گی نا ہر لڑکی کی تمہارے پاس؟ عکس نے اسے بظاہر بڑی سنجیدگی سے مشورہ دیتے ہوئے کہا یوں جیسے دونوں اکیڈمی میں کوئی سینڈ پکیٹ رپورٹ تیار کرنے کے بارے میں suggestion پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔




  • عکس — قسط نمبر ۹

    اس آئینے نے کئی سال پہلے کی طرح آج بھی اس کی نظر کو خود سے ہٹنے نہیں دیا… گزر جانے نہیں دیا۔ وہ آئینے کے سامنے رک گئی۔ وقت نے اس آئینے پر اپنے نشانات بڑھا دیے تھے۔ ہلکی سی بوسیدگی، چند داغ، کئی نئی لکیریں، آب و تاب کھوتی چمک، بجھی ہوئی رنگت۔ وقت نے ایسے ہی بہت سارے نشان اس کے اپنے وجود اور اس کے چہرے پر چھوڑے تھے جس کا عکس آئینے میں دیکھنے پر شناخت کرتے ہوئے اسے چند لمحے لگے تھے۔
    وہ آئینے میں خود کو دن میں کئی بار دیکھتی تھی… لیکن اس آئینے میں نظر آنے والا عکس اس نے کئی سال بعد دیکھا تھا۔ ایک نظر اس نے خود کو دیکھا پھر اپنے عقب میں نمودار ہونے والے مرد کو۔ آئینے میں دونوں کی نظریں لمحے بھر کے لیے ایک دوسرے سے ملی تھیں پھر دونوں ہی نے ایک دوسرے سے آنکھیں چرا لی تھیں۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے سے اسی طرح آنکھیں چراتے ہوئے ہی پھر رہے تھے۔ آئینے میں ایک لمحے کے لیے جیسے ان کی زندگی جھلکی تھی۔وہ زندگی جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے… کئی سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ… اور ایک دوسرے سے کئی صدیوں کے فاصلے پر… ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار… اور اس محبت کو کائی کی طرح اپنے وجود سے نوچتے ہوئے۔
    وہ اس کے پاس سے گزر کر کھلے ہوئے اندرونی دروازے سے اندرچلا گیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک گہری سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر اس آئینے کو اور اس گھر کو دیکھا… زندگی میں اس گھر سے زیادہ نفرت اسے کبھی کسی دوسری جگہ سے نہیں ہوئی تھی۔ نفرت شاید ایک بہت معمولی لفظ تھا اپنے ان احساسات کو بیان کرنے کے لیے جو وہ اس گھر کے لیے رکھتی تھی، وہاں کی ایک ایک چیز کے لیے رکھتی تھی، اگر کوئی اسے کبھی کہتا کہ دنیا میں وہ کون سی ایک جگہ ہے جسے وہ آگ لگا کر بھسم کر دینا چاہتی تھی تو وہ اس گھر کا نام دیتی… اور اس تمام نفرت کے باوجود وہ وہاں آنے اور وہاں رہنے پر مجبور تھی کیونکہ وہ اس گھر کی ”ملکہ” تھی۔
    ……٭……




    ”ایک گھر میں صرف ایک ملکہ ہوتی ہے۔ بادشاہ کے محل میں ایک سے زیادہ ہوتی ہوں گی اور تم بادشاہ نہیں ہو۔” شہربانو نے اطمینان سے شیردل سے کہا۔
    ”تم imagine کرو۔” شیردل اس کی بات پر مسکرایا لیکن اس نے پھر بھی اپنے سوال کے جواب کے لیے اصرار کیا تھا۔
    ”تم اپنے گھر میں میری جگہ ایک اور عورت لے آؤ گے؟ اپنی زندگی میں سے مجھے نکال کر کسی دوسری عورت کو شامل کر لو گے؟ یہimpossible ہے۔” شہربانو نے اسی انداز میں کہا۔ شیردل اسی انداز میں مسکرا دیا تھا۔ شہربانو اب بھی اس کے سینے پر بچوں کی طرح سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ شیردل نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کے حصار کو توڑتے ہوئے ایک ہاتھ سے بہت نرمی سے اس کے بالوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔
    ”ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔” شہربانو نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یک دم اس سے کہا۔ شیردل ٹھٹکا۔
    ”کس بات کی؟” اس نے شہربانو کے بالوں کو سمیٹنا جاری رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ مردوں کو بیویوں سے آخر یہ سوال کرنے کا شوق کیوں ہوتا ہے۔” شیردل بے اختیار ہنسا تھا۔
    ”اپنے آپشنز چیک کرتے رہنا کوئی غلط بات تو نہیں۔” اس نے برجستگی سے کہا۔
    ”مذاق نہیں کر رہی میں۔” شہربانو سنجیدہ تھی۔ ”ویسے اگر تم شادی کرتے دوسری… تو کس سے کرتے؟” شہربانو کو پتا نہیں کیا خیال آیا تھا۔
    ”Hmm…” شیردل نے بے اختیار گہری سانس لی۔
    ‘‘Interesting question”۔وہ ایک لمحے کے لیے سوچنے لگا تھا یا کم از کم شہربانو کو لگا۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ شیردل کو اس سوال کا جواب سوچنے کی ضرورت تک نہیں تھی۔
    ”عکس سے؟” شیردل کے ذہن کی اسکرین پر اس کا چہرہ آیا اور شہربانو کی زبان پر اس کا نام۔
    شیردل اس عجیب اور بے وقت کی غیر متوقع ٹیلی پیتھی پر جیسے دم بخود ہوا تھا اور اس کی خاموشی نے شہربانو کو عجیب انداز میں مضطرب کیا تھا۔ شیردل کے سینے پر سر ٹکائے اس نے یک دم چہرہ سیدھا کر لیا تھا۔ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز شیردل جانتا تھا وہ کیا کرنے والی تھی۔
    ”That’s quite a silly statement” اس نے شہربانو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔
    Statement”نہیں ہے it’s just a wild guess۔” شہربانو نے شیردل کی آنکھوں اور چہرے کو پھر کسی مائیکرو اسکوپ کی طرح پڑھنے کی کوشش کی۔
    ”تم کو سونا نہیں ہے؟” شیردل نے اسی طرح اس کو موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی تھی جس طرح وہ ہمیشہ کرتا تھا لیکن آج وہ ہمیشہ کی طرح کامیاب نہیں ہوا تھا۔
    ”تم بتاؤنا۔” شہربانو نے اصرار کیا۔ وہ اب شیردل کے سینے پر اپنی کہنیاں ٹکائے ہوئے تھی۔
    ”دنیا کے سمجھدار مرد ایک شادی کرتے ہیں… بے وقوف دو کرتے ہیں… اور خوش قسمت ایک بھی نہیں۔” اس نے اطمینان سے کہا۔
    ”تم سمجھدار ہو لیکن خوش قسمت نہیں لیکن…” شیردل نے اس کو بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”یار میں نے بہت غلط سوال کر لیا تم سے… چھوڑو اب اسے… ہر مرد کو بڑی fantasy ہوتی ہے دوسری شادی کی… اور کوئی بات نہیں۔” شیردل ایک بار پھر اسے الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”تم ویسے عکس کو بہت پسند کرتے ہو۔” شہربانو نے اس کی کوشش پر پانی ڈالا۔
    ”کوئی بھی کر سکتا ہے۔” شیردل نے نظر ملائے بغیر وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کوئی بھی مرد۔” شہربانو نے جیسے اسے کچھ جتایا۔
    ”ہاں کوئی بھی مرد۔” شیردل نے اس کے اندازے اور مشاہدے کو جھٹلایا نہیں تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ شیردل نے جیسے اس کی سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ کامیاب نہیں ہوا۔ وہ ایک عورت کی سوچ تھی۔ شہربانو نے مزید بحث کیے بغیر اس کے سینے پر دوبارہ سر ٹکا دیا۔ شیردل نے اس مائیکرو اسکوپ کے سامنے سے ہٹ جانے پر جیسے شکر ادا کیا تھا۔
    جہاز کی سیٹ پر بیٹھے ایک فلم دیکھتے ہوئے پتا نہیں شہربانو کو شیردل اور اپنی یہ گفتگو کیوں یاد آئی تھی۔ کوئی خدشہ… کوئی خوف… کوئی سائرن نہیں بجا تھا۔ شیردل پر اسے ایسا ہی اندھا اعتماد تھا۔ ان دونوں کو دور ہوئے صرف چندگھنٹے گزرے تھے۔ اور وہ ان تمام گھنٹوں میں شیردل کے علاوہ اور کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی۔ وہ اس وقت کیا کر رہا ہو گا؟ کہاں ہو گا؟ کچھ کھا رہا ہو گا۔ شیردل کی روٹین اس کی فنگر ٹپس پر تھی اور سیکڑوں میل دور اور ہزاروں فٹ کی بلندی پر بھی شیردل جیسے اس کے سامنے چل پھر رہا تھا۔ وہ شادی کے اتنے سالوں بعد بھی شیردل کے بارے میں جیسے جاگتے میں خواب دیکھنے کی عادی تھی بالکل اسی طرح جیسے وہ شیردل سے شادی سے پہلے اس کے بارے میں سوچتی تھی۔
    ”ممی، پاپا کہاں ہیں؟” اس کی سوچوں کاتسلسل مثال کے سوال پر ٹوٹا تھا۔ اس کے برابر کی سیٹ پر وہ ابھی ابھی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور اس نے آنکھیں کھولتے ہی شیردل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ شہربانو نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ مثال کی پرانی عادت تھی، وہ نیند سے جاگتے ہی سب سے پہلے شیردل کو ڈھونڈتی تھی۔ یہ اس کی بھی عادت تھی، وہ بھی اپنے باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہتے ہوئے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلا سوال اپنے باپ کے بارے میں ہی کرتی تھی۔ مثال کو تھپکتے ہوئے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں بلاشبہ کوئی دسویں بار مثال کو شیردل کا محل وقوع بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی اور یہ بھی کہ وہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آسکا۔
    ”Can you tell him that Misal is missing her?” ۔مثال نے اس کی بات سننے کے بعد یک دم اس سے کہا۔
    ”I would definitely do that”شہربانو نے اسے مزید تھپکا۔
    ”Mummy is also missing him”۔ شہربانو نے بھی اس کے ساتھ شیئرنگ کی۔
    ”لیکن آپ میرے جتنا تو miss نہیں کرتیں انہیں۔” مثال نے فوراً اعتراض کیا۔ شہربانو مسکرا دی۔ وہ جانتی تھی مثال باپ کے بارے میں اسی طرح پوزیسو تھی جس طرح باپ اس کے بارے میں تھا۔
    ”ہاں تمہارے جتنا تو miss نہیں کرتی میں تمہارے پاپا کو۔” شہربانو نے جیسے اسے یقین دلایا۔ مثال بے اختیار کچھ مطمئن ہو گئی۔
    ”سو جاؤ۔” شہربانو نے اسے دوبارہ سلانے کے لیے سیٹ کی پشت سے ٹکایا۔ مثال نے مطمئن انداز میں اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ شہربانو اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ اب تک اس کی اور شیردل کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا… واحد اثاثہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہوتا۔ چار سال سے وہ ان دونوں کی زندگی کو بانٹنے والا واحد ساتھی تھا… لیکن اس سال وہ اپنی فیملی میں مزید اضافہ کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ مثال کے بہن یا بھائی کے دنیا میں آنے کا اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
    ……٭……




    عکس مراد علی کے لیے ٹی وی اسکرین پر بار بار گزرنے والے اس ticker کے چلنے کا اس سے زیادہ غیر موزوں، تکلیف دہ اور خطرناک وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ شیردل کو بیڈ روم میں صوفے پر بیٹھے برق رفتاری سے ایک کے بعد ایک کال ملاتے اور متعلقہ افراد سے بات کرتے ہوئے بھی اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اور احساس تھا۔ رات کے پچھلے پہر بھی ٹی وی پر آنے والی ایک ایسی خبر کا حصہ ہونا ذاتی حیثیت میں جتنا تکلیف دہ تھا پروفیشنلی عکس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے tickers میں سے صرف عکس مراد علی کے حوالے سے چلنے والی خبر غائب ہو گئی تھی… لیکن شیردل کو اندازہ تھا کہ تب تک بھی عکس کے لیے خفت اور رسوائی کا کافی سامان اکٹھا ہو چکا تھا۔
    ”Thank you۔” شیردل کی کال ریسیو کرتے ہی اس نے ہیلوکے بجائے اسے کہا۔
    ”جواد سے بات ہوئی ہے تمہاری؟” شیردل نے اس کے Thank you کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں… فون بند ہے اس کا۔” شیردل کواس کی آواز تھکی ہوئی اور بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگلا سوال کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔ پتا نہیں اسے کیوں یہ احساس ہوا کہ وہ شاید روئی تھی… یا پھر رو رہی تھی۔
    ”تم تو ٹھیک ہو؟” شیردل بے اختیار ٹینس ہوا تھا۔
    ”ہاں۔” وہ کوئی سوال کرنا چاہتا تھا کہ مگر نہیں کر سکا۔
    ”تم اب سو جاؤ۔” اس نے بے اختیار عکس سے کہا۔