Tag: Ary digital

  • حاصل — قسط نمبر ۱

    حاصل — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ…!

    ”حاصِل” میری زندگی کی چند اہم تحریروں میں سے ایک ہے… میرے خیال میں میری ابتدائی تحریروں میں سے سب سے میچور اور بہتر… اور یہی تحریر ہے جو بعد میں آنے والے میرے ناول لاحاصِل کی بنیاد بنی… دونوں تحریروں میں کیا تعلق ہے یہ آپ پڑھنے کے بعد طے کریں…
    انسان ساری زندگی حاصِل سے لا حاصلِ اور لاحاصلِ سے حاصِل کی طرف سفر کرتا رہتا ہے… اور یہی سفر انسان کی اپنی زندگی کا حاصِل بھی ہے…
    ”حاصِل” اسی”سفر” کا آغاز ہے۔ آئیے”سفر” شروع کرتے ہیں۔

    عمیرہ احمد




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    ”پھر تم نے کیا طے کیا ہے؟” اس رات ڈنر پر سبل نے پیٹرک سے پوچھا۔
    ”کیا طے کرنا ہے… میرا خیال ہے، جو تم کہہ رہی ہو وہی ٹھیک ہے۔ اس کا فیصلہ ڈینی کو ہی کرنا چاہیے۔” پیٹرک نے بڑے مطمئن انداز میں کہا۔
    اس کی بات پر سبل مسکرائی۔ ”ڈینی جب بڑا ہوگا تو وہ ہم دونوں کے مذہب کا مطالعہ کرے گا جس مذہب میں اسے زیادہ دلچسپی محسوس ہوگی اسے وہی اختیار کرنا چاہیے کم از کم اس طرح اس کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ میں نے اسی لیے تمہیں یہ مشورہ دیا تھا۔”
    ”ہاں ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
    ”میرا خیال تھا، شاید تمہیں کوئی اعتراض ہوگا۔ کیونکہ مجھ سے زیادہ مذہبی ہو۔”
    ”نہیں خیر، اتنا مذہبی نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ مذہب اصل میں بہت وقت مانگتا ہے اور میرے پاس وقت کی کمی ہے۔”
    ”پھر بھی ہر ہفتے تم عبادت کے لیے تو باقاعدگی سے جاتے ہو۔” سبل نے اسے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”ہاں جاتا ہوں۔ میرے لیے وہاں جانے کی اہمیت عبادت سے زیادہ ایک روایت کی حیثیت سے ہے۔ ماں باپ نے ایک عادت بنا دی ہے۔ مگر مجھے اس روٹین سے الجھن نہیں ہوتی۔ جہاں دوسرے بہت سے کام ہوتے ہیں، چلو یہ بھی سہی۔” وہ کھانا کھاتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔
    ”اتنی مصروف زندگی میں مذہب کے لیے وقت نکالنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ مجھے تمہاری اس روٹین پر بہت حیرت ہوتی ہے۔ خود مجھے تو ہفتے بلکہ مہینے میں ایک بار بھی چرچ جانا بہت مشکل لگتا ہے۔” سبل نے کندھے اچکا کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے کہا نا، مجھے عادت ہو چکی ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں۔” پیٹرک کھانے سے تقریباً فارغ ہو چکا تھا۔
    پیٹرک ایڈگر جرمنی کے ایک اچھے یہودی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا خاندان بہت کٹر قسم کے یہودیوں پر مشتمل تھا۔ پیٹرک کے ماں باپ بھی بہت زیادہ مذہبی تھے۔ اپنی ساری اولاد کو انھوں نے ا سی راستے پر چلانے کی کوشش کی۔ ہٹلر کے زمانے میں جرمنی میں یہودیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے کے بعد باقی یہودیوں کو جِلا وطن کر دیا گیا۔
    پیٹرک کی فیملی بھی اس زمانے میں امریکہ آ گئی تھی مگر جرمنی کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد جب یہودیوں نے آہستہ آہستہ واپس جرمنی جانا شروع کیا تو پیٹرک کی فیملی بھی واپس چلی گئی۔ مگر پیٹرک نے اپنے ماں باپ کے ساتھ واپس جانے کے بجائے امریکہ میں ہی سیٹل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ماں باپ کی مخالفت اور ناراضگی کے باوجود وہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہا۔ امریکہ میں اس کو اپنے لیے سب کچھ خود ہی کرنا پڑا کیونکہ اس کی فیملی واپس جا چکی تھی اور واپس جانے کے بعد وہ نئے سرے سے وہاں سیٹل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس لیے ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ پیٹرک کی کسی بھی طرح سے مالی مدد کرتے۔
    پیٹرک نے مکینیکل انجینئرنگ کرنے کے کچھ عرصے بعد ایک بہت اچھی امریکن کمپنی میں ملازمت کر لی۔ اس ملازمت کے کچھ عرصے کے بعد جب وہ اپنے والدین کے پاس دو ہفتے کی چھٹیاں گزارنے جرمنی آیا ہوا تھا تو اس کی ملاقات سبل سے ہوئی۔
    سبل ایک ٹرکش عیسائی تھی۔ پیٹرک کی طرح وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ جرمنی میں آ کر سیٹل ہو گئی تھی۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ تھا کہ پیٹرک کا آبائی وطن جرمنی ہی تھا اور سبل کا آبائی وطن ترکی تھا۔ دونوں کے درمیان بڑی تیزی سے روابط بڑھے اور پھر یہ روابط شادی کے پرپوزل تک آ گئے۔
    شادی کے اس پرپوزل پر دونوں کے خاندانوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ پیٹرک کے والدین چونکہ کٹر یہودی تھے، اس لیے وہ پیٹرک کی شادی بھی اپنی کمیونٹی کی کسی لڑکی سے کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سبل ایک کیتھولک گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور یہودیوں کے بارے میں اس کے ماں باپ کو بہت زیادہ اعتراضات تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ کسی عیسائی فیملی میں ہی شادی کرے مگر دونوں نے اپنے خاندان کے اختلافات کے باوجود شادی کر لی۔
    *…*…*





    شادی کے بعد سبل پیٹرک کے ساتھ امریکہ آ گئی اور وہاں اس نے ایک معروف ادارے میں جرمن ٹرانسلیٹر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ کافی عرصے تک دونوں کے خاندان اس شادی پر ناراض ہی رہے مگر پھر آہستہ آہستہ دونوں کے خاندانوں نے اس شادی کو قبول کر لیا۔
    پیٹرک اور سبل میں بہت سی باتیں مشترکہ تھیں۔ دونوں کے خاندان مذہبی اور کٹر تھے۔ ان کی تربیت ایک مخصوص ماحول میں ہوئی تھی جہاں اخلاقیات کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ دونوں ہی بہت سوشل نہیں تھے۔ شاید اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کے خاندان میں ہر کسی سے میل جول بڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ بہت سے معاملات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر خاصا قدامت پرست تھا۔ سبل کی پیدائش اور پرورش ترکی میں ہوئی تھی اور اس پر اس معاشرے کا خاصا اثر تھا جس میں اس نے پرورش پائی تھی۔
    لباس کے معاملے میں وہ لاشعوری طور پر بہت محتاط ہو گئی تھی۔ مغربی معاشرے میں رہنے کے باوجود وہ ایسے لباس کو پسند نہیں کرتی تھی جو اس کے جسم کو پوری طرح سے ڈھانپ نہ سکتا ہو اور ایسا لباس پہننے سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتی تھی۔ پیٹرک بھی اس معاملے میں خاصا قدامت پرست تھا۔ وہ خود بھی سبل کو اس طرح کے کپڑوں میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ دونوں شراب پیتے تھے مگر اس کا استعمال صرف کسی فنکشن میں ہی کرتے تھے۔ سبل کے ذہن پر اس معاملے میں اپنے والدین کے بچپن سے دیے جانے والے وعظ کا خاصا اثر تھا اور یہی وجہ تھی کہ جب پیٹرک بعض دفعہ گھر میں بھی شراب پینے کی کوشش کرتا تو وہ اسے روک دیا کرتی تھی۔ دونوں کا حلقہ احباب محدود تھا اور وہ بھی ان ہی لوگوں پر مشتمل تھا جو ان ہی کی طرح کچھ اخلاقی قدریں رکھتے تھے۔ دونوں کی زندگی میں کسی نہ کسی حد تک مذہب کا عمل دخل رہا تھا اور امریکہ میں رہنے کے باوجود یہ عمل دخل کم نہیں ہوا تھا۔
    شاید اگر وہ امریکہ میں کچھ زیادہ عرصہ گزارتے تو ان کے طرزِ زندگی میں اور خیالات میں نمایاں تبدیلیاں آ جاتیں مگر امریکہ میں آنے کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی پیٹرک کی کمپنی نے اسے اردن میں بھجوا دیا جہاں وہ کچھ بہت بڑے تعمیراتی پروجیکٹس کے لیے تین سال رہا۔ تین سال کے بعد اسے مڈل ایسٹ کے ہی ایک اور ملک مراکش میں بھیج دیا گیا۔ وہاں اس کا قیام دو سال رہا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ان دونوں کو مڈل ایسٹ اور ایشیا کے بہت سے ملکوں میں رہنے کا اتفاق ہوا اور ان میں سے زیادہ تر ممالک مسلم تھے۔ یورپ یا امریکہ میں لمبے قیام کا انھیں موقع نہیں ملا۔ اس لیے ان کی قدامت پرستی نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس میں کسی حد تک اضافہ بھی ہوا۔
    سبل مختلف ممالک میں قیام کے دوران مختلف سفارت خانوں کے تحت چلنے والے اسکولز میں پڑھاتی رہی۔ وہ ایک بہت مہربان اور فیاض قسم کی لڑکی تھی۔ پیٹرک کے ساتھ اس کی بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی اور مذہب کے فرق کے باوجود وہ اس کے ساتھ ایک بہت اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ مذہب کے بارے میں دونوں بہت زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ مذہبی روایات کی پیروی کرنے کے باوجود مذہبی رسومات پر عمل کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ مذہب ان کی زندگی میں ثانوی حیثیت اختیار کر گیا۔
    *…*…*
    ڈینیل کی پیدائش مراکش میں ہوئی اور اس کی پیدائش پر پہلی بار پیٹرک اور سبل اس الجھن کا شکار ہوئے کہ ڈینیل کو کس مذہب کو ا ختیار کرنا چاہیے۔ دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ان کے مذہب کو اختیار کرے مگر دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے اس خواہش کا اظہار کرنے سے جھجکتے تھے اور اس کشمکش میں ڈینیل کسی مذہب کو اختیار کیے بغیر ہی پرورش پانے لگا۔
    پہلی بار دونوں کے درمیان ڈینیل کے مذہب کے بارے میں تب بات ہوئی جب پیٹرک سبل کے ساتھ چھٹیوں میں جرمنی گیا تھا۔ پیٹرک اور سبل کے ماں باپ نے ڈینیل کو پہلی بار دیکھا تھا۔ ڈینیل اس وقت دو سال کا تھا۔
    پیٹرک کے والدین کو اتفاقاً یہ پتا چل گیا پیٹرک نے ڈینیل کے مذہب کے حوالے سے ابھی کچھ طے نہیں کیا۔ اس بات نے انھیں بھڑکا دیا تھا۔
    ”وہ تمہارا بیٹا ہے، اسے یہودی ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں کسی دوسری سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” اس کے باپ نے سختی سے پیٹرک سے کہا۔
    ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ سبل کیتھولک ہے اور اس طرح میں ڈینیل کے مذہب کے بارے میں اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا تو اسے اعتراض ہوگا۔” پیٹرک نے وضاحت پیش کی۔
    ”میں اسی لیے چاہتا تھا کہ تم سبل سے شادی نہ کرو۔” اس کے باپ کے اشتعال میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔
    ”بہرحال سبل کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اولاد ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتی ہے جو باپ کا مذہب ہوتا ہے۔”
    ”یہ ضروری نہیں ہے ڈیڈی! اولاد کو وہی مذہب اختیار کرنا چاہیے جو اس کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ جس میں اسے دلچسپی محسوس ہو۔”
    پیٹرک نے ان کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی مگر اس کوشش نے الٹا اثر کیا تھا۔ ایڈگر کچھ اور بھڑک گیا۔
    ”مجھے عقل سکھانے کی کوشش مت کرو۔ تمہارے دماغ میں یہ خناس بٹھانے والی تمہاری بیوی ہے۔ تم اپنے بیٹے کو یہودی نہیں بناؤ گے تو کیا کیتھولک بناؤ گے؟”
    ”اس بارے میں ابھی ہم دونوں نے کچھ طے نہیں کیا۔”
    ”تم دونوں کو کچھ طے کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ ایک پیدائشی یہودی ہے اور یہودی ہی رہے گا۔” ایڈگر نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔
    پیٹرک نے ان سے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموش ہو گیا۔ مگر جرمنی سے واپس آنے کے فوراً بعد اس نے سبل سے اس سلسلے میں بات کی۔
    ”ہمیں ڈینیل کے بارے میں کچھ طے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کون سا مذہب اختیار کرتا ہے یہ اس کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے۔ بہت ممکن ہے کہ ابھی ہم اس کے لیے جس مذہب کا انتخاب کریں۔ بڑا ہو کر وہ اس کے بجائے دوسرے مذہب کی طرف راغب ہو جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں اس کو اپنے اپنے مذہب کے بارے میں ساری معلومات دیتے رہیں۔ اسے اپنے ساتھ عبادت اور دوسری رسوم میں بھی شریک کرتے رہیں مگر باقاعدہ طور پر اسے یہودی یا عیسائی بنانے کی کوشش نہ کریں۔” سبل نے جیسے ایک تجویز اس کے سامنے رکھ دی تھی۔
    ”مگر سبل! میری فیملی کو اس پر اعتراضات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچہ ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے باپ کا ہو اس لیے ڈینیل کو بھی یہودی مذہب کو اختیار کرنا چاہیے۔”
    سبل نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی بات سنی۔ ”میرے خاندان والوں کو بھی اس پر بہت سے اعتراضات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچے کی ماں میں ہوں اور میں اس کے لیے اچھے اور برے راستے کا تعین بہتر طور پر کر سکتی ہوں، کیونکہ بچہ باپ کی نسبت ماں سے زیادہ قریب ہوتا ہے اس لیے اسے میرا مذہب اختیار کرنا چاہیے لیکن میں نے ان کے اس اعتراض کو رد کر دیا۔ میں نے اپنے والدین سے یہی کہا کہ ڈینیل اپنی مرضی سے اپنے لیے مذہب کا انتخاب کرے گا اور اپنی مرضی سے کیا جانے والا یہ انتخاب ہمارے باہمی رشتے پر اثر انداز نہیں ہوگا مگر اس طرح صرف خاندان کے دباؤ پر کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ہمارے باہمی تعلق اور اعتماد کو بری طرح متاثر کرے گا۔”
    پیٹرک خاموش ہو گیا۔ وہ واقعی اتنا مذہبی نہیں تھا کہ صرف مذہب کی خاطر اپنے اور سبل کے رشتے کی قربانی دے دیتا۔ یا باہمی تعلقات میں آنے والی کوئی دراڑ قبول کر لیتا۔ مذہب ویسے بھی ان کے لیے ایک اضافی چیز تھی، روٹین میں شامل، کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی جسے پورا کرنے کے لیے وہ باہمی اختلافات کو بھی برداشت کر لیتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب سبل نے دوبارہ اس کا فیصلہ پوچھا تو اس نے بھی اس کی تجویز سے اتفاق کر لیا کہ ڈینیل کے لیے اپنی مرضی سے مذہب کا انتخاب ہی بہتر رہے گا۔
    ڈینیل اسی ماحول میں پرورش پاتا رہا۔ ماں اسے اپنے مذہب کے بارے میں بنیادی باتوں سے آگاہ کرتی رہتی۔ باپ اسے اپنے مذہب کے بارے میں بتاتا رہتا۔ جب بھی سبل اور پیٹرک عبادت کے لیے اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاتے وہ ڈینیل کو بھی ساتھ لے جاتے۔ وہ بڑی دلچسپی سے یہودیوں اور کیتھولکس کی مذہبی رسومات دیکھتا۔ اس کے لیے یہ سب ایسا ہی تھا جیسے مہینے میں کبھی تھیٹر چلے جانا یا پارک میں تفریح کے لیے جانا۔ وہ دونوں جگہ جا کر انجوائے کرتا تھا۔
    شروع میں پیٹرک ہر ہفتے اپنی عبادت گاہ باقاعدگی سے جایا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ روٹین تبدیل ہوتی گئی۔ ویسے بھی دوسرے ممالک میں یہودیوں کی عبادت گاہوں کی تعداد کم تھی اور اس کا زیادہ تر قیام ایسے علاقوں میں ہوتا تھا جہاں پر اکثر ان کی عبادت گاہ نہیں ہوتی تھی۔ اس کے برعکس سبل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے چرچ جانے لگی۔ پیٹرک کے برعکس اسے ہمیشہ ہی عبادت کے لیے ہر جگہ کوئی نہ کوئی چرچ مل ہی جایا کرتا تھا۔ امریکہ میں قیام کے دوران اس کی سرگرمیوں کی نوعیت دوسرے ممالک میں قیام سے مختلف ہوتی تھی۔ ان ممالک میں اس کی سرگرمیاں زیادہ محدود ہوتی تھیں۔ ایمبیسی کے اسکول میں پڑھانے کے بعد اس کا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزرتا تھا اور ڈینیل پر ماں کے خیالات و نظریات کا اثر گہرا ہوتا گیا۔
    اس نے ماں سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ کچھ لاشعوری طور پر اور کچھ شعوری طور پر۔ سبل عیسائی ہونے کے باوجود مشرقی روایات کو نہ صرف پسند کرتی تھی بلکہ بہت سی مشرقی روایات اس نے اپنائی بھی تھیں۔ مشرق کے لیے یہ پسندیدگی ڈینیل میں بھی منتقل ہوئی تھی اس نے اپنی ابتدائی زندگی ایسے ماحول میں گزاری تھی جہاں مغرب کی آزادی کا نہ صرف کوئی تصور نہیں تھا بلکہ اس آزادی کو ناپسند بھی کیا جاتا تھا۔ اسکولز میں بھی وہ زیادہ تر مسلمان اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہی پڑھتا رہا اور وہاں بھی آزادی کے کسی نئے تصور سے وہ آشنا نہیں ہو سکا۔ گھر آنے کے بعد وہ سارا وقت سبل کے ساتھ ہی گزارا کرتا تھا کیونکہ غیر ملکی ہونے کی حیثیت سے سبل اور پیٹرک باہر آمد و رفت میں خاصے محتاط تھے۔ ان کا آنا جانا مخصوص فیملیز میں تھا۔ ڈینیل اگر کبھی سیر و تفریح کے لیے کہیں جاتا بھی تو سبل اور پیٹرک کے ساتھ ہی۔
    *…*…*
    پندرہ سال کی عمر میں وہ واپس امریکہ آیا تھا اور امریکہ آ کر وہ ایڈجسٹمنٹ کے پرابلمز سے دوچار ہونے لگا تھا۔ امریکہ میں آ کر ملنے والی آزادی کو پسند کرنے کے بجائے وہ ناپسند کرنے لگا تھا۔ اس کے لیے یہ ایک ایسی دنیا تھی جو اس کے نظریات سے میچ نہیں کرتی تھی۔ ماں باپ کی طرح وہ بھی خاصا ریزرو تھا اور اس کی یہ عادت خوبی کے بجائے ایک خامی کی طرح اسے ہر جگہ بہت زیادہ نمایاں کرنے لگی۔
    ”پاپا! میں واپس انڈیا جانا چاہتا ہوں۔” اس نے امریکہ آنے کے بعد ایک دن پیٹرک سے کہا تھا۔ پیٹرک کی آخری پوسٹنگ انڈیا میں ہوئی جہاں دو سال قیام کے دوران وہ دارجلنگ کے ایک بورڈنگ میں پڑھتا رہا تھا۔ پیٹرک نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا۔
    ”کیوں ڈینیل؟”
    ”میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ یہاں سب کچھ بہت عجیب ہے۔ اسکول میں میرے کلاس فیلوز ڈرگز استعمال کرتے ہیں اور…” وہ کہتے کہتے رک گیا۔ ”مجھے ان کی عادتیں اور حرکتیں پسند نہیں ہیں۔”
    پیٹرک نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ بہت بے چین اور مایوس نظر آ رہا تھا۔
    ”میں جانتا ہوں ڈینیل! یہاں کا ماحول کچھ اور طرح کا ہے مگر تمہیں خود کو اس کا عادی بنانا چاہیے کیونکہ اب تمہیں اعلیٰ تعلیم یہیں حاصل کرنی ہے۔”
    ”پاپا! مجھے اسکول کا ماحول پسند نہیں ہے۔”
    ”میں تمہیں کسی دوسرے بہتر اسکول میں داخل کروا دیتا ہوں۔”
    ”پاپا! مجھے یہاں کی زندگی پسند نہیں ہے۔ میں یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتا۔ مجھے لگتا ہے میں کسی ایلین کی طرح غلط جگہ پر آ گیا ہوں۔ میرے کلاس فیلوز میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ بے ہودہ باتیں کرتے ہیں۔”
    ”تم انھیں نظر انداز کر دیا کرو… ہر جگہ کا اپنا ایک مخصوص کلچر ہوتا ہے۔ یہاں کا طرز زندگی یہی ہے۔” سبل نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۱

    ”اِیمان، اُمید اور محبت” ذاتی طور پر میری اپنی پسندیدہ تحریروں میں سے ایک ہے… اسے ملنے والے فیڈ بیک سے آپ لوگ مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔
    میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کو زندگی کے کچھ اور رنگ دکھاؤں یا زندگی کو اس اینگل سے دکھاؤں جہاں سے میں اسے دیکھتی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ رنگ بہت پھیکے یا ضرورت سے زیادہ گہرے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرا اینگل چیزوں کو یا زندگی کو اس طرح آپ کے سامنے پیش نہ کر سکے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔ پھر بھی دنیا پر موجود چھ ارب انسانوں میں کم از کم ایک انسان زندگی کو اسی اینگل سے دیکھتا ہے اور وہی رنگ دنیا کے کینوس پر بکھیرنا چاہتا ہے، جو اس کہانی میں آپ کو نظر آئیں گے… اور وہ انسان میں ہوں۔
    بہت سے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کچھ لکھنا یا کہنا انسان کو بہت خوشی دیتا ہے۔ مگر صرف اپنی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا یا لکھنا اس سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔ اس تحریر میں، میں نے اپنی بات کہی ہے اسے پڑھتے ہوئے شاید آپ اسے ”اپنی بات” سمجھیں۔

    عمیرہ احمد




  • دربارِ دل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    میں نے اسے پہلی بار لبرٹی بکس پر دیکھا تھا۔ باربی کیو ٹونائٹ پر کھانا کھانے کے لیے بیٹھے بیٹھے بیٹھے مجھے اچانک کسی کتاب کا خیال آیا۔ اپنے دوست کو میں اس کی ٹیبل پر چھوڑ کر خود لبرٹی بکس کے اندر چلا آیا۔ اور وہیں پہلی بار میں نے مہر کو دیکھا۔ وہ سیاہ سلیولیس شرٹ پہنے ہوئے تھی اور میں نے سیاہ اور سفید کا اتنا خوبصورت Combination یا کنٹراسٹ جو بھی کہہ لیں… پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کے تراشیدہ بال اس کے کندھوں اور پشت پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ میگزین کی ورق گردانی کرتے ہوئے بار بار انھیں جھٹک رہی تھی اور ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی مخروطی گردن کسی Swan کی طرح چند لمحوں کے لیے لمبی ہوتی پھر دوبارہ پہلے والی پوزیشن پر آ جاتی۔ اس کے ہونٹوں پر سرخ لپ اَسٹک لگی ہوئی تھی اور میگزین دیکھتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اپنے ہونٹ سکوڑ رہی تھی اور اس کے ہونٹوں کی ہر حرکت مجھے اس کی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور اس کا فگر… کمال کا تھا… وہ ایک خوبصورت Painting تھی جو اس وقت لبرٹی بکس کے اندر ایستادہ تھی… Perfect… میں نے بے اختیار کہا… اگر وہ کہیں سڑک پر ہوتی تو میں پاس سے گزرتے ہوئے سیٹی بھی بجا دیتا… وہ سیٹی Deserve کرتی تھی…
    تین سال بعد پاکستان واپس آنے کے بعد یہ کسی لڑکی سے میرا اس طرح کا پہلا ”آمنا سامنا” تھا۔ تین سال پہلے پاکستان میں قیام کے دوران تو خیر روز ہی میں کئی لڑکیوں کو دیکھ کر اس طرح کے احساسات سے دوچار ہوتا تھا جس طرح کے احساسات سے مجھے اس لڑکی نے دوچار کیا تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں حسن پرست تھا بلکہ میں تو فخریہ طور پر اس بات کو کہتا ہوں کہ میں حسن پرست تھا… حسن کا مداح تھا اور خوبصورتی کو سراہتا تھا اور خوبصورتی اگر ایک عورت کی شکل میں ہو تو پھر تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے۔
    خیر میں سیاہ لباس والی لڑکی کی بات کر رہا تھا جو اس وقت مجھے لبرٹی بکس پر نظر آئی تھی اور جس نے چند لمحوں کے اندر مجھے اپنا معمول بنا دیا تھا۔ میں اس وقت اسے دیکھتے ہوئے یہ قطعاً بھول چکا تھا کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاں کھانا کھانے آیا تھا اور میرا وہ دوست آرڈر دینے کے بعد میرے انتظار میں باہر بیٹھا ہوگا اور اگر ویٹر نے کھانا سرو کر دیا تو… شاید مجھے کوس بھی رہا ہوگا۔
    یہ نہیں تھا کہ اس شاپ میں اور لڑکیاں نہیں تھیں… تھیں… یہ بھی نہیں تھا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار کوئی خوبصورت لڑکی دیکھی تھی… میں روز درجنوں خوبصورت لڑکیاں دیکھتا تھا… مگر بعض چہرے پتہ نہیں آپ کے وجود کے کس حصے پر نقش ہوتے ہیں کہ آپ ان کو چاہنے کے باوجود اپنے اندر سے نکال نہیں پاتے۔ میں نے بھی مہر کے لیے ایسا ہی کچھ محسوس کیا تھا۔





    دنیا میں تین قسم کے مرد ہوتے ہیں ایک وہ جو خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتے ہیں دوسرے وہ جو ہر لڑکی کو دیکھتے ہیں اور تیسرے وہ جو کسی لڑکی کو نہیں دیکھتے… اور یہ تیسری قسم کے مرد پاگل خانے میں ہوتے ہیں۔ میں خود پہلی قسم کے مردوں میں شامل تھا… صرف خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتا تھا… خوبصورت اور فیشن ایبل… یا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ… "Presentable” لڑکیاں… اور مہر ایسی ہی ایک لڑکی تھی… اس کو دیکھا جا سکتا تھا، غور کیا جا سکتا تھا، چاہا جا سکتا تھا۔ ”کچھ اور” بھی کیا جا سکتا تھا مگر وہاں لبرٹی پر میں نے اس کو صرف دیکھا… اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھا… لڑکیوں کو کوئی دیکھ رہا ہو تو انھیں فوراً پتہ چل جاتا ہے اور میں تو اسے گھور رہا تھا مگر مجال ہے اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا ہو… ہو سکتا ہے وہ ساری عمر اسی طرح دیکھی جاتی رہی ہو اور اس کے اندر سے یہ احساس ہی ختم ہو گیا ہو کہ کوئی اسے معیوب انداز میں دیکھ رہا ہے… مگر میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی مجھے ایک نظر دیکھے… میں خوبصورت مرد تھا کوئی بھی لڑکی مجھ پر دوسری نظر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھی… اور میں وہاں کھڑا تھا کہ دوسری نظر تو ایک طرف وہ پہلی بار تو دیکھے مجھے۔
    میں کتاب واپس شیلف میں رکھ کر میگزینز کے سیکشن کے پاس چلا گیا۔ اس سے بمشکل دو قدم کے فاصلے پر کھڑے ہو کر میں نے ایک میگزین ہاتھ میں لیا… کم از کم اب تو گردن موڑ کر دیکھ لیتی… نہیں وہ اسی انداز میں میگزین ”پڑھ” رہی تھی… یقینا پڑھ رہی تھی صرف دیکھنے والے تو اتنے محو نہیں ہوتے۔
    اور میں اس کے اتنا پاس کھڑا تھا کہ اس کے پرفیوم کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا اس کے برہنہ دودھیا بازو پر کندھے سے کلائی تک مختلف جگہوں پر تین تِل تھے۔ میرا دل چاہا میں اس کے بازو کو چھو کر دیکھوں۔ اس کی شرٹ کے Slits اتنے لمبے تھے کہ اس کی ٹراؤزرز نما پاجامہ سے اوپر سفید کمر کا ایک انچ کے برابر جسم بھی نظر آ رہا تھا… وہ دور سے حسین لگی تھی پاس آ کر میں سحر زدہ ہو گیا تھا۔ اس کی سیاہ مہین شرٹ اس کے دودھیا جسم کو چھپانے میں مکمل طور پر ناکام ہو رہی تھی اور میرے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھی۔ گردن کے ہر جھٹکے کے ساتھ کچھ دیر کے لیے اس کے تراشیدہ بال اس کی ہیئت سے ہٹتے اور میری نظریں جسم کے اس حصے پر جم جاتیں جو شرٹ کے پچھلی طرف کھلے گلے کی وجہ سے عیاں تھا… بے اختیار میرا دل چاہا میں اس سے بات کروں۔
    ”کیا میں یہ میگزین دیکھ سکتا ہوں؟” مہر نے گردن کو ہلکا سا ترچھا کر کے مجھے دیکھا پھر انگلی کے اشارے سے ریک میں لگے اسی میگزین کی دوسری کاپیز کی طرف اشارہ کیا۔ میں بے ساختہ شرمندہ ہوا۔ ”سوری میں نے دیکھا نہیں تھا۔” میں نے کہا۔ ”اس سے بات کرنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی مگر چلو اس نے ایک بار دیکھا تو سہی… میں نے دل کو تسلی دی بات تو پھر بھی کی جا… اس سے پہلے کہ میں ایک اور کوشش کرتا مہر میگزین ہاتھ میں لیے کاؤنٹر پر چلی گئی۔ میں منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔ دو منٹ لگے ہوں گے اسے میگزین کی ادائیگی اور پھر لبرٹی بکس سے باہر نکلنے میں… اور میں اگلے دس منٹ اسی ہونق انداز میں منہ کھولے لبرٹی بکس کے گلاس ڈور سے باہر پارکنگ کو دیکھتا رہا جہاں وہ لبرٹی سے نکل کر ایک گاڑی میں بیٹھ کر گئی تھی۔ تو یہ مہر سے میری پہلی ملاقات تھی۔
    وہاں باہر اوپن ائیر میں بیٹھے اپنے دوست کے ساتھ اس رات میں کسی چٹنی کے بغیر Vegetable سیخ کباب کھاتا رہا… اور خود بولنے کی بجائے اپنے دوست کی باتیں سنتا رہا اور آس پاس بیٹھی خوبصورت لڑکیوں کو زندگی میں پہلی بار نظر انداز کرتا رہا۔ میرا ذہن صرف اس ایک لڑکی پر جماہوا تھا جو لبرٹی بکس سے باہر گئی تھی۔اس کے برہنہ دودھیا بازو کی پشت کا خوبصورت خم جو اس کے بالوں کے ہٹتے ہی نظر آتا، اس کے لمبے Slits سے نظر آنے والی کمر، اس کی مہین شرٹ سے نظر آنے والا جسم، اس کی لمبی گردن، اس کے ریشمی بال، سرخ لپ اَسٹک میں چھپے خوبصورت ہونٹ، اس کی گھنی پلکوں والی سیاہ آنکھیں… اور اس کے تین تِل… میرے خدا وہ مرد کتنا خوش قسمت ہوگا جو اس کا شوہر بنے گا۔
    ”مراد یار ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو وہ سیاہ کپڑوں والی لڑکی کو۔” میرے دوست نے کھانا کھاتے ہوئے ٹیبل پر آگے جھک کر میرے کانوں میں جیسے سرگوشی کی۔ میں کرنٹ کھا کر پیچھے مڑا۔ وہ مہر نہیںتھی ایک اور لڑکی تھی ایک گہرا سانس لے کر میں نے گردن سیدھی کی… ”دیکھا؟” میرے دوست نے مجھ سے پوچھا۔ ”ہاں۔” میں نے پانی کا گھونٹ لیا۔ سیاہ لباس کی جو ”تباہ کاریاں” میں لبرٹی بکس پر دیکھ چکا تھا وہ ہر جگہ نظر نہیں آتی تھیں۔ ”اچھی ہے نا؟” میرے دوست نے رائے لی۔ ”اچھی ہے… ہر لڑکی اچھی ہے۔” میں لاپرواہی سے بڑبڑایا۔
    ……***……
    ”اگر ہر لڑکی اچھی ہے تو آخر پھر تم میری بات کیوں نہیں سنتے؟” ممی نے بہت غصے سے مجھ سے کہا۔ میں ناشتہ کرنے میں مصروف تھا اور وہ میرا سر کھانے میں…
    ”آپ کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میں آپ کی بات پر عمل کیوں نہیں کرتا؟” میں نے لاپرواہی سے ان کی تصحیح کی۔
    ”مجھے زہر لگتی ہے تمہاری ہر بات کو مذاق میں اڑا دینے کی عادت۔”
    ”وہ تپیں… اچھا چلیں میں اب سنجیدہ ہو جاتا ہوں اور۔” میں نے یک دم اپنی مسکراہٹ غائب کرتے ہوئے کہا۔
    ”تمھیں اب شادی کر لینی چاہیے۔” ممی نے تحمل سے کہا۔
    ”کیونکہ میری شادی کی عمر ہو چکی ہے اور اس لیے بھی کیونکہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں اور اس لیے بھی کیونکہ آپ گھر میں تنہا ہوتی ہیں… دیکھ لیں مجھے آپ کا پورا سکرپٹ یاد ہے۔” میں نے ان کی بات کاٹ کر بڑے اطمینان سے فخریہ انداز میں کہا۔
    ممی کچھ لمحے خاموشی سے میرا چہرہ دیکھتی ہیں پھر انھوں نے صبر و تحمل کے سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ میرے ساتھ سعیدہ کے گھر چلو گے یا نہیں؟” انھوں نے ایک بار پھر اپنی اسی دوست کا نام لیا جن کی اکلوتی بیٹی کے وجود نے پچھلے تین سال سے میری زندگی حرام کر رکھی تھی۔ Canada ایم بی اے کرنے جانے سے پہلے ممی کئی سالوں بعد اپنی اس دوست سے ملی تھیں اور وہ میری زندگی کا تاریک ترین دن تھا کیونکہ انھیں اپنی دوست کی باحیا، پارسا اور شریف بیٹی بے حد پسند آ گئی تھی۔ مجھے ان کی اس پسند پر بالکل اعتراض نہ ہوتا مگر بدقسمتی سے انھیں وہ لڑکی میرے لیے پسند آ گئی تھی۔
    ”ممی جب مجھے آپ کی فرینڈ کی بیٹی سے شادی ہی نہیں کرنی تو ان کے گھر جانے کا کیا فائدہ؟” میں نے بے حد سکون سے کہا۔
    ”تم ایک بار وہاں چلو تو… تم دیکھ لینا وہ لڑکی تمھیں بھی اتنی ہی پسند آئے گی۔ میں نے تین سال پہلے اسے دیکھا تھا اور تب سے آج تک اسے اپنے ذہن سے نہیں نکال سکی۔” ممی نے مجھ سے کہا۔
    ”جو نقشہ آپ اس لڑکی کا میرے سامنے کھینچتی ہیں وہ میری بیوی والا نہیں ہے۔” میں نے انھیں صاف صاف لفظوںمیں بلاشبہ 250 ویں بار بتایا۔ ”ایک بار دیکھنے میں تو کوئی ہرج نہیں۔” ممی نے کہا۔
    ”آپ اسے یہاں منگوا لیں میں دیکھ لوں گا۔” میں جملہ بول کر پچھتایا۔ ممی کا پارہ آسمان سے چھونے لگا تھا۔
    ”یہاں منگوا لوں؟ کوئی چیز ہے… جانور ہے… کیا ہے کہ یہاں منگوا لوں؟ خدا کسی کو اگر اکلوتی اولاد دے تو فرمانبردار دے…” میں نے ان کی بات کاٹی۔
    ”ورنہ زیادہ بچے دے اور سارے نافرمان دے تاکہ ایک اولاد کو بار بار نافرمانی کے طعنے دے دے کر اس کی زندگی اجیرن نہ کی جا سکے۔” میں نے چائے کا آخری گھونٹ اطمینان سے لیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ممی ناراضگی سے وہیں بیٹھی رہیں۔
    تین سال پہلے Canada جانے سے پہلے میری شادی یا منگنی ٹائپ کی کسی چیز کا مسئلہ پہلی بار زیر غور آیا تھا۔ ماؤں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ بیوی کی صورت میں کوئی نکیل لا کر اپنے بیٹوں کے ناک اور منہ میں ڈال دیں گی اور اس کے بعد جدھر چاہے انھیں دوڑاتی پھریں گی… میری ممی بھی مختلف نہیں تھیں: پاپا اور وہ اپنی سوچ اور طور طریقوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ پاپا جتنے لبرل اور ماڈرن تھے۔ ممی اتنی ہی کنزرویٹو… بلکہ Rigid کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مجھ پر ددھیال کا زیادہ اثر تھا اور ممی کو میرے ددھیال والے ایک آنکھ نہ بھاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میرے ویسٹرنائزڈ ہونے کی بنیادی وجہ میرے ددھیالی کزنز اور ان کی فیملیز ہی تھیں جو میرے ساتھ سکول کالج میں پڑھتے رہے اور جن کے گھر میرا بہت آنا جانا تھا۔
    اور بہت شروع سے ہی وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئیں کہ اگر میں اپنے جیسی ہی کوئی آزاد خیال لڑکی پسند کر بیٹھا تو ان کا اور ان کی آنے والی نسل کا کیا ہوگا۔ وہ پہلے دبے لفظوں میں… پھر کھلم کھلا… اور پھر دو ٹوک الفاظ میں میری ہر گرل فرینڈ کا فون ریسیو کرنے کے بعد مجھے بتا دیتیں کہ انھیں ”کیسی” بہو چاہیے تھی۔ میں ہر بار ان کی ٹینشن کو کم کرنے کی کوشش کرتا اب گرل فرینڈز کے اس ہجوم میں میں بالآخر عمر کے اس حصے میں بیوی کی تلاش میں مصروف نہیں تھا جب سب کیرئیر بنا رہے ہوتے ہیں اور میں بھی تب سنجیدگی سے اگر کسی چیز کے بارے میں سوچتا تھا تو وہ کیرئیر ہی تھا… گرل فرینڈز پارٹیز، پھرنا پھرانا تو صرف شوق اور دلچسپی کی بات تھی۔
    ممی کے برعکس پاپا نے مجھے Free hand دے رکھا تھا۔ انھیں پرواہ نہیں تھی کہ میں گھر سے باہر کیا کرتا تھا اور کس کے ساتھ پھرتا تھا انھیں اگر کسی چیز میں دلچسپی تھی تو وہ میرے گریڈز تھے اور میرے گریڈز ہمیشہ شاندار رہتے تھے۔ ”تمہاری ممی کو خوامخواہ عادت ہے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ٹینشن لینے کی… تم پرواہ مت کیا کرو۔” وہ ممی کے ہر ”ایمان افروز” لیکچر کے بعد مجھے کہتے اور ممی کے لیکچر کا جو رتی برابراثر ہوتا وہ بھی زائل کر دیتے۔
    ”میں تمھیں منگنی کیے بغیر Canada نہیں جانے دوں گی۔” میرے گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہی انھوں نے میرے سر پر ایٹم بم پھوڑا تھا۔ میں لو میرج کرنا چاہتا تھا مکمل لو میرج… اپنی مرضی سے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی اور ممی… وہ میرے راستے میں کانٹے بچھا رہی تھیں یا کنواں کھود رہی تھیں میں جان نہیں سکا۔
    ”یہ نری جہالت ہے صفیہ… سو سال پہلے لوگ اس طرح کرتے ہوں گے اب کون منگنیاں کر کے بیٹوں کو پڑھنے کے لیے باہر بھجواتا ہے۔” پاپا نے بے حد ناراضگی کے ساتھ میری حمایت میں ممی سے کہا۔
    ”آپ کا بیٹا اگر منگنی کے بغیر باہر گیا تو شادی کر کے واپس آئے گا۔” ممی نے جیسے پاپا کو خبردار کیا۔
    ”اگر میرا ایسا ارادہ ہوا تو وہ تو میں منگنی کے بعد بھی باہر سے شادی کر کے ہی واپس آؤں گا۔ آپ سمجھتی ہیں منگیتر نام کی چیز کوئی امام ضامن ہے جو باہر مجھے ہر لڑکی سے دور رکھے گی۔” میں نے خاصی بدلحاظی سے کہا اور یہ بدلحاظی مجھے خاصی مہنگی پڑی۔ پاپا نے خاصی درشتی سے مجھے ڈانٹا۔
    ”ہاں ڈھونڈو اس کے لیے کوئی لڑکی… بہتر ہے یہ منگنی کروا کر ہی باہر جائے۔” انھوں نے اعلان کیا اور میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔




  • دربارِدل — قسط نمبر ۱

    میرے سامنے ڈائننگ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں موجود مشروب یک دم اور سیاہ ہو گیا تھا۔ گلاس کے کناروں پر میری لپ اسٹک کے نشان تھے۔ کوئی اُن نشانوں پر انگلی پھیر کر یا محض ایک نظر ڈال لینے پر یہ اندازہ کر سکتا تھا کہ میرے ہونٹ خوبصورت تھے۔ مشروب میں موجود برف کے کیوبز اب بہت ننھے ننھے سے رہ گئے تھے… چند لمحوںمیں وہ بھی تحلیل ہو جاتے… اس سیاہ مشروب میں غائب ہو جاتے بالکل اسی طرح جس طرح میں ہو رہی تھی… ابھی… اس وقت…
    میرے بائیں طرف ٹیبل کے سرے پر بیٹھا قہقہے لگانے والا مرد میرا شوہر تھا… اور ”وہ” تھا جیسے میں نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا تھا… ہنستے ہوئے اس کا ”سفید چہرہ” سرخ ہو رہا تھا… اور وہ ”سفید شرٹ” پہنے ہوئے تھا اور "D&G” کا آفٹر شیو اس کے وجود کو مہکا رہا تھا اور اس کی کلائی میں "Gucci” کی گھڑی تھی اور اس کی پلیٹ میں ”فرائیڈ چکن” کا ایک ٹکڑا اور اس کے گلاس میں ”لیمن سپرائٹ”… اور میں… میں… میں… دربارِ دل میں تھی… کسی نے میری آنکھوں سے پٹی اتار دی تھی مجھے ٹھیک طرح سے دیکھنے کے لیے آنکھیں جھپکنی بھی نہیں پڑیں… سب کچھ نظر آ رہا تھا… صاف نظر آ رہا تھا۔
    مگر میری بینائی کو واپس آنے میں بہت دیر لگ گئی تھی اتنی دیر کہ اب سامنے نظر آنے والے منظر پر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا… خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لینے پر بھی میرا ذہن یہ سب کچھ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا… ذہن جو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا آنکھیں اور دل نہیں مان رہا تھا… اور آنکھیں جو کچھ دکھانے کی کوشش کر رہی تھیں… ذہن اس پر یقین نہیں لا رہا تھا۔
    مجھے اپنا وجود یک دم برف کا بت بنتا محسوس ہوا تھا یا پھر کانچ کا مجسمہ… جو انگلی کی ہلکی سی ضرب سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا… یوں ڈھے جاتا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں… میں نے اپنے ہونٹ بھینچنے کی کوشش کی… اور میرے ہونٹوں نے میرا ساتھ نہیں دیا ایک عجیب Defiance تھی جو میرے وجود کے ہر عضو میں اتر آئی تھی… مہر سمیع کا اپنا جسم اس کو Own کرنے سے انکار کر رہا تھا… وہ کسی اور کے اشارے پر چل رہا تھا… کسی اور کے اشارے پر؟… میں، میں پِس رہی تھی… مہر سمیع… میرا ذہن سب کچھ تسلیم کرنے کی سعی میں مصروف تھا۔
    اور مراد… وہ ہنس رہا تھا… میرا شوہر… وہ شخص جسے میں نے سب سے بڑھ کر چاہا تھا… وہ ہنس رہا تھا۔ اس کی ہنسی میں کانٹوں جیسی چبھن تھی… وہ مجھ پر ہنس رہا تھا… اور پھر میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چھری اور کانٹے کو بھی یک دم ہنستے دیکھا… پھر ٹیبل پر میرے سامنے پڑی میری ڈنر پلیٹ… پھر میرا گلاس… باری باری سب ہنسنے لگے تھے اور پھر میز پر پڑی ہر شے… ہر چیز… ڈشز، پلیٹیں، چمچ، کانٹے، چھریاں، ڈونگے، گلاسز… سب اس کورس میں شامل ہو گئے تھے… پھر ٹیبل، کرسیاں، ڈیکوریشن پیسز، دیوار پر لگی Paintings، لائٹس، پردے، فرنیچر، ڈرائنگ روم اور ڈائننگ کی ہر شے قہقہے لگانے لگی تھی۔ ان سب کی نظریں مجھ پر تھیں اور ان سب کی انگلیاں بھی مجھی پر اٹھی ہوئی تھیں… وہاں کمرے میں موجود ہر شے کا جیسے ایک چہرہ اُگ آیا تھا اور ہر چہرے کی نظریں مجھ پر تھیں… اور میں… میں انھیں دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
    میرے ہاتھ سے کانٹا پلیٹ میں گرا… مراد نے مجھے چونک کر دیکھا۔ ”کیا ہوا؟”… ”تم نے کھانا کیوں چھوڑ دیا؟” مراد نے مجھ سے پوچھا۔ اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
    ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر کو بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔” سورة بنی اسرائیل پارہ 15۔
    ”بھابھی کیا ہوا؟” یہ مونس تھا… میرے شوہر کا بہترین دوست… ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟” وہ بھی مراد کی تشویش میں شامل تھا۔ میں نے اس کے چہرے کو دیکھا… اس کے نام کو دل میں دہرایا… مونس… مومی… بے یقینی تھی کہ بھنور کی طرح مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی اور میں بے بسی سے اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”پریکٹیکل جوک” کسی نے میرے سر پر کچھ مارا۔ ”500 روپے” ایک دوسری آواز نے سرگوشی کی۔ ”1000 روپے” آوازیں تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ میں نے سانس لینے کی کوشش کی… میں نے آوازوں کی بازگشت سے فرار ہونے کے لیے کوشش کی۔





    ”کیا بات ہے مہر؟” وہ پھر مراد تھا۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا مگر میرے ہاتھ نے اس کے ہاتھ کا لمس محسوس نہیں کیا۔ میں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا… وہ لمس محسوس کیوں نہیں کر رہا تھا… کیا ”وہ” نہیں تھا؟… ”یا میں” نہیں تھی؟
    ”کھانا کھانا کیوں بند کر دیا؟” وہ پوچھ رہا تھا… ”میں کیوں کھا رہی تھی؟” میں سوچ رہی تھی۔ ”اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟” اسے میری نظریں عجیب لگیں۔ ”اس طرح کیا دیکھ رہی تھی؟” میں نے سوچا… وہ تو کبھی بھی چہرہ نہیں تھا میرے لیے… صرف آواز تھی… پھر میں چہرے کو کیوں دیکھ رہی تھی؟… کیا دیکھ رہی تھی؟… جب آوازیں چہروں میں تبدیل ہوتی ہیں تو کیا وہ سب کو اسی طرح بھیانک لگتی ہیں جیسے مجھے لگ رہی تھیں… یا پھر یہ سب صرف میرے ساتھ ہی ہوا تھا…؟ میرے ساتھ ہی ہونا تھا؟…
    ”مہر کیا سوچ رہی ہو؟” آواز نے ایک بار پھر کہا… نہیں چہرے نے ایک بار پھر کہا… ہاں۔ یہ وہی تو تھا… وہی آواز… پھر آخر میں نے اسے Illusion کیوں سمجھا؟… کیوں جانا؟… میں نے اس کے ہاتھ کے نیچے سے اپنے ہاتھ کو کھینچا… میں اس کی نہیں تھی۔ میں کسی اور کی تھی… کس کی؟… میں نے دل کو ٹٹولا۔
    ”آئیے مہر سمیع… آپ بھی آئیے۔” دل نے مجھے خوش آمدید کہا۔ ”دیکھئے آپ نے کیا پایا ہے؟” وہ مسکرا رہا تھا ”جو پایا ہے… وہ کھرا ہے یا کھوٹا؟” وہ پوچھ رہا تھا۔ ”کھرا ہے تو کیا دام دیے ہیں؟” اس کا لہجہ عجیب تھا۔ ”کھوٹا ہے… تو کیا کھویا ہے؟” میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
    میں دربارِ دل میں تھی… دل بادشاہ کے حضور… ”دیکھئے انجام محبت… اور کہیے آپ کہاں ہیں؟” وہ تمسخر سے کہہ رہا تھا۔ ”کیا محسوس کر رہی ہیں؟… کیا کہنا چاہتی ہیں؟”… کچھ کہہ پائیں گی؟… اب بھی؟… ابھی بھی…؟ دل نے ہنس کر مجھ سے کہا تھا… اور پھر میرے وجود سے اپنی زنجیریں ہٹا دی تھیں میں دل کی گرفت سے آزاد ہو گئی تھی… اتنے سالوں میں پہلی بار بوجھ ہٹا تھا… یا بوجھ بڑھا تھا؟
    ”جائیے آپ کو آزاد کرتے ہیں… انجام محبت دیکھ لینے والے دربارِ دل میں کیا ٹھہریں گے؟ وہ کہہ رہا تھا۔ ”جائیے۔” مگر میں کہاں جاتی… اب… اب… کہاں؟ اتنا بڑا دھوکہ کھا کے؟ ”میں نے دھوکہ نہیں دیا آپ کو… میں نے تو صرف فریب دیا تھا۔” وہ ہنسا۔ ”دھوکہ تو آپ نے خود کھایا ہے۔” اس کے ماتھے پر یک دم بل آئے… میں نے خود کو دربارِ دل سے باہر پایا۔
    ”آئی ایم سوری بھابھی…” یہ مونس تھا۔ ”اگر میری باتوں سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو۔” مونس نے جیسے میری حالت کو Assess کرتے ہوئے نتیجہ نکالا تھا۔
    ”تکلیف پہنچی ہو تو؟” میں نے سوچا۔ ”کیا مجھے تکلیف پہنچی تھی؟” میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تکلیف؟… یہ تکلیف کیا ہوتی ہے؟… کیا یہ تکلیف تھی جو میں محسوس کر رہی تھی؟… یا پھر بے عزتی تھی؟… یا پھر یہ پچھتاوا تھا؟… یا کوئی احساسِ زیاں تھا؟… یا یہ کچھ اور تھا؟… کچھ اور جس کو میں نام نہیں دے پا رہی تھی۔ جس کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ ”مجھے اس موضوع پر بات کرنی نہیں چاہیے تھی۔” مونس وضاحت کر رہا تھا۔ ”مجھے اصل میں اندازہ نہیں تھا کہ آپ کو اتنا برا لگے گا ورنہ میں بات کرتے ہوئے محتاط رہتا۔” ”نہیں نہیں یار تم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ تمھیں ایکسکیوز کرنی پڑے۔” مراد نے مونس کو ٹوکا تھا، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ معذرت مونس کو نہیں کرنی چاہیے تھی… وہ کسی اور کو کرنی چاہیے تھی… میرے شوہر کو… مراد کو… مومی کو… یا پھر شاید مجھے۔
    ”مہر سمجھ دار لڑکی ہے وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتی ہے نہ برا مانتی ہے۔” مراد مونس کو تسلی دے رہا تھا۔ ”چھوٹی چھوٹی باتیں؟” میں نے اس کے الفاظ سنے۔ اس کے نزدیک ہر بات ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ہوتی ہے… ہر بار… ہر بات… اور میں… میں کہاں کی سمجھ دار تھی… میں تو…
    میں نے کرسی چھوڑ دی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی… مراد کے چہرے سے نظریں ہٹائے بغیر… چپ چاپ… میں نے ایک بار بھی اسے دیکھتے ہوئے پلک نہیں جھپکی تھی… میں نے دیکھا ہی پہلی بار تھا اسے… ایک سال میں پہلی بار میں نے اس چہرے کو دیکھا تھا… اس سے جس سے مجھے عشق تھا… نہیں عشق نہیں تھا کچھ اور تھا… عشق انسان سے خدا نہیں چھڑواتا… میں نے چھوڑا تھا… تو پھر کیا یہ عشق تھا؟… اگر عشق نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟ ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جیسے خیر کو… اور بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔”
    ”مہر… مہر… رکو… کہاں جا رہی ہو؟” وہ مجھے پیچھے سے آوازیں دے رہا تھا… وہ جو میرا کچھ بھی نہیں تھا… اور میں… میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھ لیتی تو ایک بار پھر پتھر کی ہو جاتی جیسے چار سال سے پتھر کی ہو گئی تھی۔
    ”بھابھی ناراض ہو گئی ہیں مراد… ہمیں یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔” مونس کہہ رہا تھا۔ ”وہ ناراض نہیں ہوتی… تم کھانا کھاؤ… میری اور اس کی بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے میں اسے منا لوں گا۔”
    وہ آخری جملہ تھا جو میں نے سنا تھا اس کے بعد میں ڈائننگ روم سے باہر نکل آئی… اور میں نے پہلی بار لاؤنج کو دیکھا… میں اس گھر میں پچھلے ایک سال سے رہ رہی تھی مگر میں نے ایک سال میں پہلی بار اس جگہ کو دیکھنے کی کوشش کی جو میرا گھر تھی اور میں اسے پہچان نہیں پائی… میں وہاں کیوں تھی؟… کیا تعلق تھا میرا اس گھر سے؟ میرا ذہن جیسے ماؤف ہو گیا تھا… کسی سوال کا جواب نہیں دے پا رہا تھا اور میں… میں چہروں کی شناخت کھو رہی تھی… یا پھر شاید پہلی بار کر رہی تھی۔
    پھر لاؤنج سے گزرتے ہوئے میں نے اپنے عکس کو آئینے میں دیکھا اور میں اسے بھی پہچان نہیں پائی… وہ کون تھی جو آئینے میں تھی… وہ میں تو نہیں ہو سکتی تھی۔ میں… مہر سمیع تو کوئی اور تھی… اور جو وہاں میرے سامنے آئینے میں تھی وہ کون تھی… ساڑھی میں ملبوس… کٹے ہوئے Streaked بال… زیورات سے لدا پھندا وجود میک اَپ سے لتھڑا چہرہ… کیوٹکس لگے لمبے ناخن… سلیولیس بلاؤز سے جھلکتے عُریاں بازو… مہر سمیع تو… میں نے بے یقینی سے آئینے کو دیکھا…پھر اپنے ناخنوں کو… پھر اپنے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کو پوروں سے چھوا… یہ سب کچھ کس وقت ہو گیا تھا؟… بے یقینی سی بے یقینی تھی… میں مہر سمیع تھی؟… مگر آئینے میں نظر آنے والا وجود کسی اور کا تھا… مگر آئینے کے سامنے میں تھی… مہر سمیع… تو پھر آئینے کے اندر کون تھا؟… کیا مہر سمیع؟… کوئی بھیانک خواب تھا جو ختم ہو گیا تھا یا پھر خواب شروع ہوا تھا؟

    **…**…**




  • شہرِذات — عمیرہ احمد

    ”خدا کا خوف کرو فلک! اتنی دیر میں لوگ چاند پر جا کر واپس آجاتے ہیں جتنی دیر میں تم صرف اپنی آنکھوں کا میک اپ کررہی ہو۔ میں تمہیں ایک بار پھر یقین دلاتی ہوں، وہاں سلمان انصر کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے اتنے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
    رشنا کی بیزاری اب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور وہ سیدھا سیدھا طنز کرنے پر اتر آئی تھی۔ مگر اس کی کسی بات کا فلک پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اسی سکون و اطمینان سے اپنی پلکوں پر مسکارا کی ایک اور کوٹنگ کرتی رہی۔
    ”اٹھ جاؤ فلک! اٹھ جاؤ ہم کنسرٹ پر جارہے ہیں کسی فیشن شو میں نہیں اب بس کرو۔” اس کی خاموشی نے رشنا کو کچھ اور تپایا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر اس کے سامنے پڑی میک اپ کٹ کو اٹھا کر بند کر دیا۔
    ”تمہیں کیا تکلیف ہے یار! چند منٹ انتظار نہیں کرسکتیں؟” فلک نے اس کے ہاتھ سے میک اپ کٹ چھینتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہے مگر یار جتنی جانفشانی سے تم میک اپ میں مصروف ہو، اس سے تمہیں ضرور کوئی تکلیف ہو جائے گی۔”
    فلک اس کی بات کا جواب دئیے بغیر ایک بار پھر مسکارا لگانے میں مصروف ہو گئی۔ رشنا ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ کر ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی فلک اپنے چہرے پر جمی اس کی آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میک اپ میں مصروف رہی۔
    ”فلک! تمہیں آخر میک اپ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمہیں تو خدا نے پہلے ہی بہت مکمل بنایا ہے۔ میک اپ کی ضرورت تو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن میں کوئی خامی کوئی کمی رہ گئی ہو۔ تم میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔” چند لمحے اس کے چہرے پر نظر جمائے رکھنے کے بعد رشنا نے کہا۔
    ایک دلکش مسکراہٹ فلک کے چہرے پر لہرائی۔ ایک خاص ادا سے دایاں ابرو اچکاتے ہوئے اس نے کہا۔





    ”جانتی ہوں مجھے میک اپ کی ضرورت نہیں ہے مگر سلمان کو میک اپ پسند ہے اور جو چیز اسے پسند ہے، وہ فلک کو کیسے ناپسند ہوسکتی ہے۔ مس رشنا کمال! یہ سب سنگھار صرف اسی ایک شخص کے لیے کر رہی ہوں تاکہ اس کی نظر کہیں اور نہ جاسکے۔ اگر کوئی چہرہ اس کے خیالوں میں رہے تو وہ یہی چہرہ ہو اگر کوئی وجود اس کی نظر کو اسیر کرے تو وہ یہی وجود ہو۔”
    فلک نے میک اپ کٹ بند کرکے دراز میں رکھ دی۔
    ”دل تو اس بندے کا پہلے ہی جیت چکی ہو اب باقی کیا رہا جسے حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ وہ بندہ تمہارے پیچھے اس قدر دیوانہ ہے کہ اس سب سنگھار کے بغیر بھی اس کی نظر تمہارے علاوہ کسی اور چہرے پر نہیں ٹکے گی۔”
    رشنا نے رشک آمیز حسرت سے کہا تھا۔ ایک تفاخر آمیز مسکراہٹ سے فلک اپنے تراشیدہ بالوں میں برش کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    خوبصورتی کی اگر کوئی حد ہوتی تو وہ حد فلک شیرافگن تھی۔ وہ مجسم حسن تھی جو نظر ایک بار اس چہرے کو دیکھ لیتی وہ دوبارہ کچھ اور دیکھنے کے قابل نہیں رہتی تھی۔ اسے نظروں کا اسیر کرنے کا ہنر آتا تھا۔ بعض دفعہ وہ اپنے وجود کو آئینے میں دیکھتی اور خود اپنے سحر میں گرفتار ہو جاتی اور پھر سوچتی۔
    ”اگر میں ایک عورت ہوتے ہوئے خود اپنے ہی عکس سے نظر ہٹا نہیں سکتی تو کسی مرد کے لیے یہ کتنا مشکل ہو گا۔”
    یہ احساس اسے بیٹھے بٹھائے قلوپطرہ بنا جاتا پھر وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے بیٹھی سنگھار میں مصروف رہتی۔ بہت سے لوگوں کو دنیا میں صرف ایک چیز ملتی ہے اور بس ایک ہی چیز ملتی ہے۔ بعض لوگوں کو دنیا میں سب کچھ ملتا ہے اور سب کچھ ہی ملتا ہے، فلک شیرافگن دوسری فہرست میں آتی تھی۔ وہ شیرافگن جلیل کی اکلوتی بیٹی تھی اور شیرافگن جلیل ملک کے نامور انڈسٹریلسٹ تھے۔ اسے چاہا نہیں گیا تھا۔ بے تحاشا چاہا گیا تھا اگر اس کے ماں باپ کا بس چلتا تو وہ واقعی اسے اپنی پلکوں پر بٹھا لیتے۔ وہ خود پسند بھی تھی اور خود پرست بھی مگر کوئی اور خامی اس میں نہیں تھی یا شاید اس کا حسن کسی دوسرے کو اتنی جرأت ہی نہیں دیتا تھا کہ وہ فلک شیرافگن کی کوئی خامی ڈھونڈ پاتا۔
    اس نے ہر جگہ سے ستائش پائی تھی چاہے وہ گھر ہو یا سکول، کالج ہو یا یونیورسٹی۔ وہ لڑکیاں بھی جو اس سے حسد کرتی تھیں۔ کہیں نہ کہیں ان کے دل میں بھی اس سے دوستی کی خواہش ضرور دبی رہتی تھی۔ بعض دفعہ کوئی دل ہی دل میں اس سے سخت بدگمان ہوتا اسے ناپسند کرتا اس کے بارے میں دوسروں سے غلط باتیں کہتا اور پھر وہ ایک بار ہی اس سے مخاطب ہوتی، حال احوال پوچھتی، مسکراتی اور اگلا چاروں شانے چت ہو جاتا پھر اس میں کوئی مزاحمت ہی باقی نہیں رہتی تھی۔ اگلے کتنے دن وہ اسی احساس کے ساتھ ساتویں آسمان پر رہتا کہ فلک شیرافگن نے اس سے بات کی ہے اس کا حال احوال دریافت کیا ہے اسے دیکھ کر مسکرائی ہے۔ پھر وہ دوبارہ کبھی اس کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ کر پاتا۔ وہ اکثر اپنے مخالفین کو اسی طرح چت کیا کرتی تھی۔
    وہ یونیورسٹی میں ایم ایف اے کر رہی تھی مگر اس کا حلقہ احباب لمبا چوڑا نہیں تھا۔ اس کے دوستوں کی تعداد محدود تھی۔ اس کی چند دوستیں وہی تھیں جن کے ساتھ اسکول کے زمانے سے اس کی دوستی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق نہ صرف مضبوط ہوا تھا بلکہ اس کی دوستوں میں کوئی اضافہ بھی نہیں ہوا تھا۔ رشنا بھی اس کی ان ہی گہری دوستوں میں سے ایک تھی اور اس سے اور مریم سے ہی اس کا سب سے زیادہ میل جول تھا۔
    فلک کے لیے رشتے تب سے آنے شروع ہو گئے تھے جب وہ اسکول میں تھی۔ مگر شیرافگن نے بڑی خوبصورتی سے سب کو ٹال دیا تھا وہ چھوٹی عمر میں اس کی شادی کرنا نہیں چاہتے تھے ویسے بھی وہ جانتے تھے کہ فلک کے لیے کبھی بھی رشتوں کی کمی نہیں ہو گی۔ وہ نہ صرف بے پناہ خوبصورت تھی بلکہ ان کی ساری دولت کی بھی مالک تھی پھر ایسی سونے کی چڑیا کو پھانسنے کے لیے شکاریوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ کیوں نہ ہوتا۔
    وہ شروع سے کو ایجوکیشن میں پڑھی تھی اور شروع سے ہی اس کے پیچھے بھاگنے والوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ مگر فلک نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی تھی یا پھر شاید اس کو کسی میں اتنی کشش ہی محسوس نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے بارے میں سوچتی بلکہ وہ اکثر اپنی فرینڈز کے ساتھ مل کر ایسے عشاق کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔ رشنا اکثر اس سے کہا کرتی تھی۔ ”جو لوگ خود خوبصورت ہوتے ہیں، انہیں کسی دوسرے سے محبت ذرا کم ہی ہوتی ہے اور عشق تو دور کی بات ہے۔” وہ ہر بار اس کی باتوں پر قہقہہ لگایا کرتی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی ملاقات اپنی ایک دوست کی بہن کی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ آواری میں سوئمنگ پول کے کنارے ایک ٹیبل پر وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی حسب معمول بہت سی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی اور اس بات سے آگاہ بھی تھی اور بے پرواہ بھی اپنی دوستوں کے کسی بات پر قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی نظر سوئمنگ پول کے دوسرے کنارے پر موجود ایک ٹیبل پر پڑی تھی۔ سیاہ جینز اور اسی رنگ کی لیدر کی جیکٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہ بندہ اس ٹیبل کی سب سے خاص چیز تھا۔ وہ اتنی دور سے بھی اس کے چہرے کے نقوش کی خوبصورتی کو محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے کی بات سن رہا تھا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس سے کوک کے سپ لے رہا تھا۔ فلک چاہتے ہوئے بھی اس سے نظر ہٹا نہیں پائی۔ اپنی فرینڈ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی تھی اور کچھ دیر بعد اچانک اسے احساس ہوا تھا کہ وہ صرف فلک کی توجہ کا مرکز نہیں تھا۔ کچھ اور نظریں بھی بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ اور اس احساس نے پہلی بار اسے حسد سے روشناس کروایا تھا۔ اس کے دل میں بڑی شدت سے اس کے پاس جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔
    ”رشنا! یہ سوئمنگ پول کے دوسری طرف ٹیبل پر بلیک آؤٹ فٹ میں جو بندہ ہے، اسے جانتی ہو؟”
    اس نے اچانک رشنا سے سرگوشی میں پوچھا جو اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی رشنا نے نظر دوڑائی تھی۔ ”نہیں یار یہ کوئی نیا بندہ ہے کم ازکم میں واقف نہیں ہوں۔” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا۔
    پھر فلک نے یہی سوال ٹیبل کے گرد بیٹھی ہوئی اپنی دوسری دوستوں سے کیا تھا۔ سب کا جواب نفی میں تھا۔
    ”رمشہ سے پوچھو، میرا خیال ہے، یہ اس کے بہنوئی کا کوئی دوست ہو گا۔” رشنا نے اس سے کہا تھا۔ وہ رشنا کے ساتھ اٹھ کر اسٹیج کی طرف آگئی تھی۔ وہاں رمشہ، دولہا دلہن کے ساتھ بیٹھی تصویریں بنوا رہی تھی۔ فلک نے اسے ایک طرف بلوایا اور اس بندے کے بارے میں پوچھا تھا وہ اپنے بھائی سے اس کے بارے میں پوچھنے گئی تھی۔
    ”یہ سلمان انصر ہے، اسد بھائی کا کزن ہے۔” اس نے آکر اپنے بہنوئی کا نام لیا تھا۔ فلک نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے اس سے ملوائے۔
    ”اچھا چلو ٹھیک ہے۔ اسد بھائی کا چھوٹا بھائی جمشید بھی اسی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس کے پاس تمہیں لے جاتی ہوں ظاہر ہے وہ خود ہی ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعارف کروا دے گا۔ ” رمشہ نے اس ٹیبل پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
    فلک دھڑکتے دل کے ساتھ رمشہ کے ساتھ اس ٹیبل کی طرف آگئی تھی۔ وہ دور سے جتنا خوبصورت نظر آرہا تھا پاس آکر اس سے زیادہ اچھا لگا تھا اسے۔ رمشہ کے ساتھ جب وہ اس ٹیبل کے پاس پہنچی تو رمشہ نے جمشید سے اس کا تعارف کروایا تھا پھر جمشید نے باری باری ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے لڑکوں کا تعارف ان سے کروایا تھا۔
    سلمان انصر نے اپنے تعارف پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہیلو کہا تھا۔ پھر وہ پہلے کی طرح ارد گرد نظر دوڑانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ فلک کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔ وہ اس ٹیبل پر بیٹھے ہوئے دوسرے لڑکوں کی طرح اسے ستائشی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل کو کچھ ٹھیس لگی تھی، کچھ دل گرفتہ سی وہ واپس اپنی میز پر آگئی تھی۔ فنکشن کے اختتام تک اس کی توجہ اسی پر مرکوز رہی تھی مگر اس نے سلمان انصر کو ایک بار بھی اپنی طرف متوجہ نہیں دیکھا۔
    اگلے کئی دن وہ اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ چہرہ جیسے اس کے دماغ میں کہیں فیڈ ہو گیا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پارہی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی دوسری ملاقات Pace میں ہوئی تھی۔ وہ ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگز تھامے باہر کی طرف آرہا تھا۔ جبکہ وہ اندر جارہی تھی۔ اسے سامنے سے آتے دیکھ کر فلک کے قدم رُک گئے۔
    ”ہیلو!” پاس آنے پر فلک نے بے تابی سے اسے مخاطب کیا وہ کچھ حیران ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک نہیں تھی۔
    فلک کو شاک لگا۔ ”کیا مجھ میں ایسی کوئی بات بھی اسے نظر نہیں آئی کہ یہ مجھے یاد رکھتا۔” اس نے سوچا تھا۔
    ”سوری، میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔”
    فلک نے کچھ دل گرفتہ ہو کر دو ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔
    وہ ایک دم مسکرایا۔ ”مجھے یاد آگیا کیسی ہیں آپ؟”
    اس کی مسکراہٹ نے فلک کی ساری سنجیدگی دور کر دی تھی ”میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”
    ”فائن۔”
    ”اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا میں آپ کو لنچ کی آفر کر سکتی ہوں؟” اس نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس سے کہا تھا۔
    وہ اس اچانک آفر پر کچھ حیران ہوا تھا۔
    ”لنچ آل رائٹ چلیں۔” چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے کہا تھا۔
    دونوں باہر نکل آئے۔ فلک نے اپنے ڈرائیور کو واپس بھجوا دیا۔ سلمان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اسکا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
    ”کہاں چلیں؟” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”فیوجی یاما۔” وہ گاڑی کو ریورس کرتے ہوئے سڑک پر لے آیا تھا۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس بوڑھے بھکاری کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ہاتھ میں پکڑا آدھا برگر اس نے اس کے سامنے رکھ دیا۔ بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ وہ تاش کے پتوں سے گھر بنا رہا تھا… بے حد انہماک بے حد محویت سے یوں جیسے وہ واقعی اصلی گھر تھا… بلاکس سے بننے والا… وہ یوں بیٹھی انہماک سے اس گھر کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسی کام سے وہاں آئی تھی… 52 پتوں سے بننے والا گھر… وہ سانس روکے پلکیں جھپکائے بغیر پتوں کے اس گھر کو مکمل ہوتے ہوئے دیکھے جا رہی تھی… بوڑھا کپکپاتے ہاتھوں سے آخری دو پتے… رکھنے جا رہا تھا… آخری دو پتے… پھرگھر مکمل ہو جاتا… وہ اب پتے رکھ رہا تھا… اب… اب… ہوا کا ایک جھونکا آیا… یا شاید اس کا ہاتھ کانپا… یا شاید پتے ٹھیک سے رکھے نہیں جا سکے… کچھ ہوا تھا… پورا گھر زمین بوس ہوگیاتھا… بوڑھے نے ایک گالی دی… زینی نے گہرا سانس لیا… آج بھی گھر نہیں بن سکا تھا… ہرروز ان ہی آخری دو پتوں کو رکھتے رکھتے گھر ٹوٹ جاتا… وہ روز یونہی اسی انہماک سے بیٹھ کر گھر دیکھتی جیسے کسی دن تو وہ معجزہ ہو ہی جانا تھا… لیکن وہ معجزہ اب تک نہیں ہوا تھا۔
    ”Hard luck” اس نے بوڑھے سے افسوس کیا اور پانی کی آدھی بوتل بھی اس کے پاس ہی چھوڑ دی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اس کا راستہ تھا وہ روز وہاں کام پر جاتے اور آتے ہوئے گزرتی تھی۔ جاتے ہوئے وہ جلدی میں ہوتی رکنے کا وقت نہیں ملتا تھا لیکن آتے ہوئے یہ فٹ پاتھ اور اس پر بیٹھے ہوئے یہ پانچ بھکاری اس کے لیے جیسے amusement parkمیں تبدیل ہوجاتے تھے۔ وہ انہیں تقریباً روزانہ ہی کچھ نہ کچھ دیتی تھی… کبھی چند سکے کبھی چند ڈالر… کبھی کھانے پینے کی چیزیں… اور کبھی آنسو… جو وہ وہاں کسی نہ کسی کے سامنے بیٹھ کر بہاتی تھی… وہاں کون اسے جانتا یا پہچانتا تھا کہ حیرت زدہ ہوتا یا اس پر ترس کھاتا یا اس سے پوچھتا… نہ وہ ان میں سے کسی سے کچھ پوچھتی تھی نہ ان میں سے کوئی اس سے کچھ پوچھتا تھا… جو واحد جملے ان کے درمیان کبھی کبھار exchange ہوتے وہ موسم کے بارے میں تھے… یا greetings یا شکریے کا اظہار… یا پھر وہی۔۔۔۔” bad luck” ،”hard luck” ، ”nice effort”، ”good show”… جو وہ ان میں سے کسی نہ کسی سے کہتی تھی۔
    اگلا سیاہ فام گٹارسٹ اس دن پتہ نہیں کونسا گانا اپنے گٹار پر بجا رہا تھا وہ پہچان نہیں پائی ورنہ اتنے عرصے سے وہ ان پانچ چھ ٹیونز کو پہچاننے لگی تھی جو تقریباً وہ ہر روز بجاتا تھا… اور اس نے باری باری اس سے ان میں سے ہر گانے کے lyrics اور سنگر کے بارے میں پوچھا تھا۔
    لانگ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بے مقصد اس کے سامنے کھڑی اس کو سنتی رہی… اسے لگتا اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ بڑی محنت اور زیادہ توجہ سے بجاتا تھا… وہ اسی کے پاس کھڑے گٹار کو سنتے سنتے بعض دفعہ رونے لگتی تھی… اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا تھا… جیسے آج بھی نہیں ہوا تھا۔ گانا ختم ہونے کے بعد لانگ کوٹ کی جیب میں موجود سکوں میں سے ایک سکہ نکال کر اس نے اس کے سامنے پڑے ہیٹ میں ڈالا تھا اور پھراپنے گیلے گالوں کو صاف کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔




    وہ Spanish ہپی آج نہ گیندوں کو ہوا میں آچھال رہا تھا نہ گلاسز کو… وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا… اور ایسا تب ہوتا جب وہ بہت زیادہ نشے میں ہوتا… اور ہفتے میں ایک دو بار ایسا ضرور ہوتا جب وہ بالکل کسی مردہ جانور کی طرح فٹ پاتھ پر اپنی مخصوص جگہ پر پڑا رہتا… کوئی اسے کچھ دے کر جاتا یا اس کے سامنے پڑے سکے لے جاتا اس کو پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ وہ کرتب دکھا رہا ہوتا تو وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑی رہتی… ہوا میں اچھالی جانے والی چیزوں میں کوئی دلچسپی لیے بغیر… وہ صرف اس کی انگلیوں، کلائیوں اور گلے میں پڑے عجیب عجیب پتھروں والے بینڈز اور زیورات کو دیکھتی رہتی تھی… ان میں سے کون سا پتھر اس نے کس مقصد کے تحت پہنا تھا یہ شاید وہ اب خود بھی نہیں بتا سکتا تھا… جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک سکہ اس نے اس کے سامنے پڑے گلاس میں ڈال دیا وہ اس دن کا پہلا سکہ تھا جو کسی نے اس ہپی کے گلاس میں ڈالا تھا۔
    اگلا بھکاری ایک سیاہ فام نوجوان تھا… اور یہ واحد بھکاری تھا جس کے پا س وہ سب سے کم وقت گزارتی تھی… وہ فلوٹ بجاتا تھا اور اسے بے حد عجیب لگتا تھا… اس نے کسی کو اتنا برا فلوٹ بجاتے زندگی میں نہیں سنا تھا اور وہ شاید یہ سمجھتا تھا کہ وہ بہت اچھا بجاتا تھا اس لیے وہ اپنے پاس رکنے پر ہر شخص کے لیے پہلے سے بھی کوئی خراب دھن بجاتا تھا… زینی کو بعض دفعہ اس کی ”محنت” پر ہنسی آتی… اسنے اپنے سامنے ڈرمز اور سکسا فون بھی رکھے ہوئے تھے لیکن ایسا بہت کم ہوا کہ زینی نے اسے ان میں سے کسی انسٹرومنٹ کو بجاتے دیکھا ہو… وہ صرف فلوٹ ہی بجاتا تھا… کم از کم زینی کے آنے پر… اور آہستہ آہستہ زینی کو احساس ہو نے لگا کہ وہ اسے asian سمجھ کر صرف اس کے لیے فلوٹ بجا رہا تھا… اسے pleaseکرنے کے لیے اسے یقین تھا وہ اسے انڈین سمجھ رہا ہو گا… بعض دفعہ وہ اسے بھکاری نہیں لگتا تھا… چند ایک بار وہ کچھ دنوں کے لیے وہ وہاں سے غائب بھی ہوا… لیکن پھرواپس آگیا… زینی کو وہ کبھی نشے میں محسوس نہیں ہوا تھا اس کے باوجود اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ وہاں اس فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھا رہتا تھا… بھیک کیوں مانگتا تھا… اور ہر وقت فلوٹ کیوں بجاتا تھا… جیب سے ایک سکہ نکال کر اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے پاس پڑے ایک ڈبے میں اچھال دیا… پھر ہمیشہ کی طرح چلتی ہوئی فٹ پاتھ کے آخر میں بیٹھی اس میکسیکن عورت کے پاس پہنچ گئی جو پھر وہی سکیچ بنا رہی تھی جو وہ ہمیشہ بناتی تھی… ہمیشہ… وہی مرد… وہی خوبصورت مرد… زینی آنکھیں بند کیے بھی اس مرد کے نقوش بتا سکتی تھی… وہ میکسیکن عورت کاغذ پر اس مرد کا چہرہ سکیچ کرتی تھی اور اس کے ہاتھ کی ہر حرکت کے ساتھ زینی کے ذہن پر کسی ”اور” مرد کے نقوش ابھرنے لگتے تھے… اس عورت نے اس مرد کا چہرہ بناتے ہوئے کبھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا… بس پاگلوں کی طرح وہ اپنے کام میں لگی رہتی تھی… اور بعض دفعہ تو وہ زینی کو پاگل ہی لگتی تھی… بعض دفعہ ہر کوئی کسی دوسرے کو پاگل ہی لگتا ہے… وہ ادھیڑعمر عورت تھی… وہ نوجوان مرد تھا… پتہ نہیں وہ کتنے سالوں سے اسی ایک چہرے کو بناتی آرہی تھی… یا ہو سکتا ہے وہ ابھی کچھ عرصہ پہلے سے… اندازہ لگانا مشکل تھا… لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس مرد کے ساتھ عورت کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا… اس کے نقوش میں اس عورت کے نقوش نہیں تھے۔
    وہ بہت دیر اس عورت کے پاس کھڑی اس چہرے کو کاغذ پر ابھرتے دیکھتی جب سکیچ مکمل ہو جاتا تو عورت بہت سارے دوسرے سکیچز کے ساتھ اس کاغذ کو رکھ کر ایک نیا سکیچ بنانے لگتی تھی… زینی کو کبھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ان پرانے سکیچز کو کیا کرتی تھی… پھینکتی تھی… پھاڑتی تھی یا کہیں رکھ آتی تھی۔
    اس نے اپنی جیب میں موجود آخری سکہ اس عورت کے سامنے رکھا اور فٹ پاتھ کا موڑ مڑ آئی… اداسی آج بھی اتنی ہی گہری تھی جتنی روز ہوتی تھی… اور صرف سڑک کا یہ وہ حصہ تھا جس سے گزر کر چند لمحوں کے لیے کم ہو جاتی تھی… پھروہ اس فٹ پاتھ کو پیچھے چھوڑ آتی… آگے وہ بلڈنگ تھی جہاں 23 ویں منزل پر اس کا اپارٹمنٹ تھا… اور جہاں کی حالت اتنی ہی ڈپریسنگ تھی جتنا باہر سڑک کا ماحول تھا۔
    وہ کینیڈا آنے کے بعد شروع میں ایک بہتر علاقے میں تھی… بہتر لیکن مہنگے… اور چند ماہ میں کام حاصل نہ کر پانے پر اسے وہ علاقہ چھوڑنا پڑا تھا… جہاں بالآخر اسے کام ملا اس کے قریب ترین یہی علاقہ تھا… یہاں وہ لوگ رہتے تھے جو کینیڈا میں آجانے کے بعد struggle کرنے کے دور سے گزر رہے تھے… جو اپنے اپنے ملکوں اور اپنی اپنی سوسائٹیز کے outcast تھے اور وہ اس خواب کے ساتھ وہاں آئے تھے کہ ایک دن وہ کسی نہ کسی فیلڈ میں کسی نہ کسی طرح excel کریں گے… وہ علاقہ کسی کا بھی ”انتخاب” نہیں تھا… ”مجبوری” تھی… سیڑھی کا پہلا پائیدان… صرف وہ تھی جو سیڑھی کے آخری پائیدان سے اتر کر پہلے پائیدان پر آکر کھڑی ہوئی تھی… کامیابی کو ”چکھ ” لینے کے بعد کامیابی کی خواہش یا خواب کے بغیر… ایک ایک پائی بچانے کی جدوجہد کے بغیر وہ وہاں شاید اپنی زندگی گزارنے نہیں آئی تھی… زندگی ضائع کرنے آئی تھی۔
    اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلی آئی۔ ہمیشہ کی طرح بے حد ”سرد خاموشی” نے اس کا استقبال کیا تھا۔ دن ڈوب رہا تھا۔ سٹنگ ایریا کی کھڑکیاں اب روشنی اندر لانے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ اس نے لائٹ آن کر دی۔ اپنا لانگ کوٹ اور جوتے اتارتے ہوئے وہ آگے بڑھ آئی۔ ہاتھ میں پکڑا پرس کچن کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے وہ کھڑکیوں کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی… یہ اس کا روز کا معمول تھا کام سے واپس آنے کے بعد ان کھڑکیوں کے سامنے کھڑے ہو کر باہر دیکھنا… گزری ہوئی زندگی کو کسی فلم کی طرح ان کھڑکیوں کے شیشوں پر دیکھنا… تکلیف دہ مناظر سے بچنے کی کوشش کرنا… چبھنے والے جملوں کو سماعتوں سے غائب کرنے کی جستجو کرنا… اور پھر پچھتاوا… وہ جیسے روز خود احتسابی کے عمل سے گزرتی تھی… وہ جیسے روز بے یقینی کا شکار ہوتی تھی… جو کچھ ”پری زاد” کرتی رہی تھی… وہ ”زینب ضیائ” کیسے کر سکتی تھی… کیسے؟ اس کے اندر اتنی نفرت، اتنا غصہ، انتقام کا ایسا جذبہ کہاں سے آگیا تھا… یہ عفریت اس نے کس طرح پال لیا تھا… وہ تو زینی تھی اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر اس کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہہ دینے والی سیدھی سادھی لڑکی… پھر اسے کیا ہو گیا تھا؟
    وہ کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آئی… ہر بار اس سوال کے آتے ہی وہ شکست خوردہ انداز میں کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آتی تھی… فریج میں کل کا پکایا ہوا کھانا ابھی بھی پڑا تھا… وہ اسے نکال کر گرم کرنے لگی… کئی سالوں کے بعد وہ یہاں آکر کھانا پکانے لگی تھی… اور جب پکانے لگی تو اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ بھی نہیں بھولی تھی… ہر کھانے کی ترکیب وہ جیسے مشینی انداز میں ذہن میں لاتی… لیکن کسی بھی کھانے کا ذائقہ ویسا نہیں تھا جیسا پہلے تھا… جیسا اس کے گھر میں ”زینی” پکاتی تھی کوئی بھی چیز لاکھ جدوجہد کے بعد اب ویسی نہیں بنتی تھی… اسے پہلے بے بسی کا احساس ہوتا تھا… رونا بھی آتا تھا پھر جیسے اس نے اس بدلے ہوئے ذائقے کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا… یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے ہاتھ کی تاثیر میں کمی آگئی تھی…
    وہ اب رزق حلال کماتی تھی… رزق حلال کھاتی تھی… وہ یہاں آنے سے پہلے ہر وہ چیز کسی نہ کسی کو دے آئی تھی یا چھوڑ آئی تھی جسے اس نے رزق حرام سے پایا تھا… جو چند لاکھ روپے وہ یہاں لے کر آئی تھی وہ اس گھر کو بیچ کر لائی تھی جو ضیاء کا تھا وہ واحد اثاثہ تھا جو اس نے اپنی فیملی سے مانگ کر لیا تھا… کہیں نہ کہیں وہ اپنے ذہن میں آج بھی اپنے باپ کی بات پر یقین رکھے ہوئے تھی کہ رزق حلال میں برکت ہوتی ہے… وہ اس برکت کا اثر اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی تھی… کہیں نہ کہیں وہ آج بھی اپنے باپ کی بات کی آزمائش چاہتی تھی… اور وہ پیسے واقعی ابھی تک ختم نہیں ہوئے تھے… کسی نہ کسی طرح سے چل رہے تھے… اس کی زندگی میں ویسا سکون نہیں تھا جیسا وہ چاہتی تھی لیکن سکون تھا… وہ مقابلے کی دوڑ سے نکل کر جیسے اطمینان سے تماشائیوں میں جا کھڑی ہوئی تھی۔
    سٹر فرائیڈ، ویجیٹیبلز اوربوائلڈ رائس، وہ یہاں آکر کئی سالوں کے بعد ”کھانا” کھانے لگی تھی… ڈائیٹنگ کے نام پر چھوڑی جانے والی تمام چیزیں… وہ انگلیوں کی پوروں کے ساتھ لقمے بنا کر چاول کھاتی رہی… اسے کینیڈا میں آئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے لگا تھا… پیچھے پاکستان میں کیا ہو رہا تھا… شوبزمیں کیا ہو رہا تھا… وہ جیسے بھول گئی تھی۔
    واحد رابطہ جو اس کا کسی کے ساتھ تھا وہ نفیسہ تھیں… جنہیں وہ کبھی کبھار فون کرتی… ان کی شادی کر لینے کی ہدایت اور تشویش سنتی… اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں جانتی اور فون رکھ دیتی… وہ اس کے لیے روٹین کی باتیں ہوتی تھیں… وہ سب اب امریکہ میں اکٹھے تھے… ایک سٹیٹ میں… تھوڑے سے فاصلے پر… اور اپنی اپنی زندگی میں settled اور خوش تھے… ان میں سے کسی کی زندگی میں زینی نام کا کوئی خلا نہیں تھا جسے وہ جا کر پر کرتی… ان سب کے لیے وہ اب ایک outsider تھی اور زینی نے اپنے اس سٹیٹس کو قبول کر لیا تھا۔
    دس منٹ میں کھانا ختم کرنے کے بعد اس نے ان چند برتنوں کو صاف کیا اور کچن سے باہر آگئی۔
    مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد عشاء کی نماز تک وہ قرآن پاک پڑھتی رہی… یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ یہ وہ قرآن پاک تھا جسے کبھی ضیاء پڑھا کرتے تھے اور اسے پڑھتے ہوئے بہت بار وہ اپنے ارد گرد ضیاء کی مہک محسوس کرنے لگتی تھی… بہت بار اسے لگتا وہ وہیں کہیں ہیں اس کے آس پاس بہت قریب… لیکن بہت دور… بہت دفعہ اسے قرآن پاک کے صفحات پر اپنے باپ کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہونے لگتا… وہ ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرتے تھے… وہ بھی ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرا کرتی تھی… کبھی کبھار بھول جاتی… اور پھر احساس ہونے پر دوبارہ اسی طرح انگلی پھیرنے لگتی تھی۔
    ضیاء کو اتنے سالوں میں اس نے کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا… کبھی نہیں… لیکن ان کی خوشبو کو بھی اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا جس طرح وہ اب کرنے لگی تھی… اس ایک سال میں بہت بار تہجدمیں روتے ہوئے اسے لگتا ضیاء اس کے پاس آبیٹھے تھے… ناراض لیکن بے چین… خفا لیکن اس کے پاس… سارا قصور اس کا قصور تھا… ساری غلطی اس کی غلطی تھی… وہ ہمیشہ روتی تھی لیکن کچھ کہے بغیر… کوئی گلہ کوئی شکایت کیے بغیر… سب نے اس سے بہت کچھ کہا تھا صرف ایک ضیا نے ہی کچھ نہیں کہا تھا… وہ اب سننا چاہتی تھی باپ سے… یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے ضیاء سے کیا کہا تھا… وہ جیسے چاہتی تھی کہ باپ بھی ملامت کرے… سب کچھ کہہ دے… پر بات کرے اس سے… لیکن وہاں خاموشی تھی… اور خاموشی اسے رلاتی تھی… باپ کی خفگی اتنے سالوں میں اس طرح پہلی بار چبھی تھی اسے… تب جب وہ ”میں جو کچھ کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں” کے زعم سے باہر آگئی تھی۔
    ”اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑارحیم ہوتا ہے زینی۔” وہ شاید پانچ چھ سال کی تھی جب اس نے پہلی بار اپنے باپ کے منہ سے سنا تھا۔ وہ رات کو ان کے ساتھ سوتی تھی اور سوال پوچھ پوچھ کر ان کا کتنا وقت ضائع کرتی تھی اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ”سب کو معاف کر دیتا ہے؟” اس نے باپ کے سینے سے سر اٹھا کر ضیاء کا چہرہ دیکھا۔
    ”ہاں سب کو” ضیاء نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” وہ اس کی بات پر بے اختیار ہنسے۔
    ”کیونکہ وہ ہمارا رب ہے۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ وہ ہم سے بڑی محبت کرتا ہے۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا۔
    ”کتنی محبت کرتا ہے؟” وہ بے حد سنجیدہ تھی۔
    ”ستر ماؤں جتنی۔”
    ”آپ جتنی نہیں۔” وہ جیسے بے حد مایوس ہوئی۔
    ضیاء کھلکھلا کر ہنستے رہے۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا تھا۔
    ”ہاں میرے جتنی بھی بلکہ مجھ سے بہت زیادہ۔”




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۹

    سعید نواز نے زینی اور شیرازکے تعلق کے بارے میں پتا کروایا یا نہیں لیکن بہر حال انہوں نے دوبارہ شیراز سے اس سلسلے میں بات نہیں کی تھی اور یہ شیراز کے لیے جیسے معجزے سے کم نہیں تھا اور اس نے اس معجزے کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں، یہ صرف وہی جانتا تھا۔ اگلے چھ ماہ وہ بے حد محتاط رہا تھا۔
    زینی سے رابطے کا تو فی الحال سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ زینی اس کے خلاف اپنے دل میں کتنا غصہ رکھتی تھی۔ شیراز نے ان چند ”گرل فرینڈز” کے ساتھ بھی ہر طرح کا رابطہ منقطع کر دیا جن کے ساتھ وہ پچھلے کچھ عرصہ سے انوالوڈ تھا۔
    شینا کی زبان پر کچھ عرصہ تک پری زاد کا ذکر اور اس کے حوالے سے طعنے رہے تھے مگر پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا پری زاد جیسے قصہ پارینہ بنتی گئی۔
    شیراز اس عرصہ میں آیک فرمانبردار شوہر بن کر دکھانے کے لیے جتنی کوشش کر سکتا تھا وہ کرتا رہا تھا۔ دفتر اور گھر کے علاوہ اپنی سوشل لائف مکمل طور پر کاٹ دی تھی۔ دوبارہ سے شینا اور سعیدنواز کا اعتماد جیتنے کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ اتنا ہی بے ضرر تھا جتنا وہ سمجھتے تھے اور پری زاد والا قصہ ایک اتفاق کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
    یہاں تک کہ شیراز نے شینا کے بیٹے پر بھی اس طرح توجہ دینی شروع کر دی جیسے وہ اس کا اپنا بچہ ہو۔ اس کے دل میں ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اس بچے پر دی جانے والی توجہ ہی کے بدلے میں شینا اسے معاف کر دے اور اس کے رویے میں کچھ بہتری آئے۔
    لیکن شینا کے رویے میں بہتری کے لیے کی جانے والی ہر کوشش ڈھاک کے تین پات ثابت ہوئی۔ سہیل کے ساتھ اس کے تعلقات اسی طرح عروج پر تھے اور اب وہ کھلے عام ان کے گھر آنے لگا تھا اور شیراز نے زہر کا یہ گھونٹ بھی پی لیا تھا۔
    اس نے جیسے اس بات پر سمجھوتہ کر لیا تھا کہ سہیل کو شینا کی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ساری زندگی رہنا ہے۔ وہ بعض دفعہ شینا کی سہیل کے لیے محبت دیکھ کر حیران بھی ہوتا تھا۔ حسد کرنا تو خیر اب اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا۔
    سہیل سے شینا کا تعلق اور محبت اب سعید نواز کے علاوہ اور کسی کو اپ سیٹ نہیں کرتی تھی۔ صرف سعید نواز تھا جسے سہیل اور شینا کا یہ میل جول ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ سہیل کو گولی مار دیتا لیکن اس جذبے میں شیراز سے ہمدردی کا کوئی عنصر نہیں تھا بلکہ سعید نواز کو سہیل اور اس کے گھر والوں سے ذاتی مخاصمت تھی اور بیٹی ایسی تھی کہ وہ اس پر جان چھڑکتا تھا اور وہ اسی طرح سہیل پر مرتی تھی۔
    باپ کی ناپسندیدگی ناراضی یا مخاصمت جیسے اس کے لیے کوئی معنی نہیں ر کھتے تھے۔




    شیراز کو کبھی تو سعید نواز پر غصہ آتا، کبھی ترس اور کبھی اسے خوشی ہوتی۔ شینا وہ پہاڑ تھی جس کے سامنے سعید نواز آگیا تھا۔
    شیرا ز کی باقی دونوں بہنوں کی شادی بھی اب ہو چکی تھی۔ اکبر اور نسیم اب بالکل اکیلے تھے۔ شیراز کوشش کے باوجود ان کے پاس جانے اور بیٹھنے پر بھی خود کو آمادہ نہیں کر پاتا تھا۔ اکبر اور نسیم کے پاس بات کرنے والے جو موضوعات تھے ان پر بات کرنے سے شیراز کو بری طرح غصہ آتا تھا۔
    وہ اس بات پر صدمے سے بے حال ہوتے کہ ان کے بیٹے کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی اولاد کا امکان نظرآتا ہے۔ اپنی اگلی نسل انہیں دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہی تھی اور صرف یہی سوچ کہ ان کی نسل ان کے بیٹے کے ساتھ ہی ختم ہونے والی ہے۔ اکبر اور نسیم کو بے حال نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔
    وقتاً فوقتاً وہ اب شیراز کو خفیہ طور پردوسری شادی کا مشورہ بھی دینے لگے تھے۔ یہ صرف شیراز جانتا تھا کہ وہ اسے دوسری شادی کا نہیں،خود کشی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سعید نواز یا شینا سے دوسری شادی کا چھپا رہنا ناممکن تھا اور اس کے بعد پتا چلنے پر وہ اس کا جو حشر کرتے وہ شیراز کو ایسے کسی ارادے سے باز رکھنے کے لیے کافی تھا۔
    جبکہ اکبر اور نسیم کا اصرار تھا کہ وہ دوسری شادی کر کے اپنی دوسری بیوی کو ان کے پاس رکھے۔ انہیں یقین تھا کہ شینا یا اس کے باپ کو اس کی شادی کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ انہیں آب اپنے بڑھاپے اور تنہائی کا خیال بھی پریشان کرتا تھا۔
    بعض دفعہ شیراز واقعی دوسری شادی کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ کچھ دیر کے لیے وہ واقعی فرض کر لیتا تھا کہ شینا اور سعید نواز کو اس کی شادی کے بارے میں پتا نہیں چلے گا۔ وہ اپنی بیوی کو یہاں اپنے ماں باپ کے پاس رکھے گا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہو گی۔ اور پھر اسے خیال آتا۔ لیکن اگر ہو گئی تو؟ اور اس تو کے بعد نظر آنے والی تصویر اتنی ہولناک تھی کہ اس کے سارے ارادے لمحہ بھر میں غائب ہوجاتے۔
    وہ ایک دلدل میں پھنس چکا تھا جس میں وہ ہاتھ پاؤں مار سکتا تھا لیکن باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ کسی لڑکی کے ساتھ کوئی افیر چلانا اور کچھ وقت گزارنا دوسری بات تھی لیکن کسی کو مستقل طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنا ایسا قدم تھا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھا اسے اپنے آس پاس ملنے جلنے والے افراد میں اب بہت سارے ایسے مرد نظر آنے لگے تھے جو اس جیسی ہی دوہری تہری زندگیاں گزار رہے تھے۔ بہت سارے ایسے مرد جنہوں نے کامیابی کے زینے چڑھنے کے لیے امیر سسرال کا سہارا لیا تھا۔اور ان میں سے بظاہر کوئی ناخوش نظر نہیں آتا تھا ہر ایک کامیاب زندگی گزارتا نظر آرہا تھا۔ ہر ایک کی زندگی میں وہ معجزے ہو چکے تھے جس کے لیے انہوں نے کامیابی کی یہ سیڑھی ڈھونڈی تھی۔ لیکن ہر ایک کی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں وہ شگاف بھی نظر آتے تھے جو صرف شیراز یا شیراز جیسے دوسرے لوگ ہی دیکھ سکتے تھے۔ جو ویسی زندگیاں گزار رہے تھے اور جو ان ماسک کو پہچان سکتے تھے جو وہ سب پہن کر ایک دوسرے کے سامنے آتے تھے۔
    ٭٭٭
    ”کرم علی کو فون کرنا چاہیے آپ کو۔” سلطان نے اس سے کہا۔ وہ دو دن پہلے کرم علی کی فلم کی شوٹنگ کے لیے اوٹوا آئی تھی اور یہاں آتے ہی سلطان نے اسے بار بار کرم علی سے رابطے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اسے رابطے کا نہ بھی کہتا تب بھی زینی کو اوٹوا میں اس کے ساتھ گزرے ہوئے وہ دو ہفتے بری طرح یادآنے لگے تھے اور اس کے ساتھ ہی کرم علی بھی۔
    کیوں یاد آرہا تھا یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
    ”کیوں فون کرنا چاہیے مجھے؟” زینی نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”آپ کواچھا لگا تھا وہ پری جی۔” سلطان نے اس کے کسی زخم کو چھیڑا تھا۔
    ”اس سے کیا ہوتا ہے؟” زینی نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”کچھ نہیں ہوتا کیا؟” سلطان نے بے حد چبھتے ہوئے اندازمیں پوچھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔
    ”نہیں کچھ نہیں ہوتا۔”
    ”چلیں میں پراچہ صاحب سے کہوں گا وہی ملاقات کا انتظام کروا دیں۔ کھانا وانا تو کریں گے کرم علی صاحب… ہر پروڈیوسر کرتا ہے۔” سلطان نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”خبر دار تم نے پراچہ سے اس سلسلے میں کوئی بات کی میں نے کہا نا مجھے کرم علی سے نہیں ملنا، نہ ہی بات کرنی ہے۔” زینی نے بے حد سنجیدگی سے کہا اسے سلطان کی بات سے زیادہ اس کے انداز پر غصہ آیا تھا۔ سلطان اس وقت اسے غصے میں دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
    اسے منع کرنے کے باوجود زینی کو جیسے کوئی موہوم سی امید تھی کہ وہ اتنے ہفتے کے قیام میں کبھی نہ کبھی اس سے رابطے کی کوشش کرے گا۔ وہ لاشعوری طور پر منتظر تھی کہ وہ کسی نہ کسی دن سیٹ پر شوٹنگ دیکھنے سہی آئے گا تو… کرم علی نہیں آیا تھا۔
    ”آپ کو پتہ ہے کرم علی کی شادی ہو گئی ہے۔”دو ہفتے کے بعد ایک دن سلطان نے منہ لٹکا کر زینی کو بتایا۔ وہ اس وقت سین کے دوران آنکھوں کے میک اپ کی ری ٹچنگ کر رہی تھی چند لمحوں کے لیے زینی کو ہاتھ میں پکڑے آئی شیڈز کے کلرز کو پہچاننا اور یہ طے کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ کون سا کلر استعمال کر رہی تھی۔ اس کا کوئی تعلق تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے اس طرح سکتے میں آئی تھی۔
    ”اچھا ہوا، تمہیں کس نے بتایا؟”
    چند لمحوں کے بعد جیسے اس نے اس شاک سے خود کو آزاد کرتے ہوئے کہا۔ وہ ایک بار پھر آئی شیڈز پر نظریں جمائے ہوئے ان کو پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔
    ”کیااچھا ہوا پری جی؟ مجھے توذرا خوشی نہیں ہوئی اس کی شادی کا سن کر۔” سلطان نے منہ بسورتے ہوئے کہا تھا۔
    ”تمہاری خوشی یا نا خوشی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سلطان… کرم علی خوش ہے اپنی شادی سے۔ یہ کافی ہے۔”
    اس نے بالآخر شیڈز پہچاننے شروع کر دیے تھے لیکن آوازکی لرزش پر قابو پانے میں اسے ابھی بھی دقت ہو رہی تھی۔
    ”آپ بھی صحیح کہتی ہیں پری جی۔” سلطان نے گہرا سانس لیا۔
    ”پراچھا آدمی تھا اگر آپ۔۔۔۔” سلطان نے بات ادھوری چھوڑ دی زینی نے سر اٹھا کر سامنے کوریوگرافر کو ایکٹرز کو ڈانس کی ریہرسل کرواتے ہوئے دیکھا آج اسے ایک ڈانس کی شوٹنگ کروانی تھی۔ زینی کا دل یک دم اچاٹ ہو گیا تھا۔
    ”سلطان اگر میں آج شوٹنگ نہ کرواؤں تو؟ پیک اپ ہو سکتا ہے کیا؟”
    زینی نے سامنے لوگوں کو سین کی تیاری کرتے ہوئے سلطان سے کہا۔
    سلطان نے چونک کر اس کاچہرہ دیکھا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے سیٹ پر اسے کرم علی کی شادی کے بارے میں بتا کر غلطی کی تھی لیکن غلطی ہو چکی تھی۔
    ٭٭٭




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    ”یہ کس نے بھیجے ہیں؟” زینی نے اس بے نام پیلے گلابوں کے گلدستے پر نظر ڈالتے ہوئے مڑکر سلطان سے پوچھا۔
    آج تک اسے کسی نے پیلے گلاب نہیں بھیجے تھے۔ اسے ہمیشہ سرخ گلاب ہی ملتے تھے۔ خون کی طرح سرخ گلاب یہ شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ زینی کو صرف پیلے گلاب پسند تھے اس کو کبھی بھی گلاب کا سرخ پھول اچھا نہیں لگا تھا اور اب اس کے گھر پر بھجوائے جانے والے پھولوں میں سرخ گلابوں کی بھر مار ہوتی تھی زینی ایک نظر بھی ان میں سے کسی بکے پر نہیں ڈالتی تھی۔ صرف یہ ایک بکے تھا جس پر اس کی نہ صرف نظر ٹکی ہوئی تھی بلکہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا تھا۔
    ”پتا نہیں، ساتھ یہ لفافہ آیا تھا۔”
    سلطان نے ایک بند لفافہ اس کی طرف بڑھایا زینی نے پھول رکھتے ہوئے بے حد دلچسپی سے اس لفافے کو کھولا۔ اندر ایک چھوٹے سے کارڈ پر صرف دو لفظ لکھے تھے۔
    ”For Zaini”
    ایک لمحہ کے لئے زینی کا ہاتھ کپکپایا۔ یہ زینی کو پھول بھیجنے والا کون تھا؟ کون تھا جو نہ صرف اس کا نام جانتا تھا، بلکہ اس کی پسند سے بھی واقف تھا۔ ذہن کی اسکرین پر ابھرنے والا چہرہ ایک ہی تھا، شیراز کا چہرہ مگر وہ ہینڈ رائٹنگ شیراز کی ہینڈ رائٹنگ نہیں تھی۔
    وہ چند لمحے خالی خالی نظروں سے اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کارڈ کو دوبارہ لفافے کے اندر رکھ دیا اور اسے ایک طرف پھینک دیا۔ وہ خوش فہمیوں کے جال سے آزاد ہو چکی تھی۔
    اپنے جوتے اتار کر وہ صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگی۔ سلطان اسے اخبارات میں آنے والے ریویوز پڑھ کر سنا رہا تھا جو اس کی فلم کے متعلق تھے۔ زینی بے حد سنجیدگی سے ان ریویوز کو سنتی رہی۔ اسے کسی تنقید یا تعریف میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن سلطان کو تھی وہ باقاعدگی سے اس کے بارے میں کسی بھی اخبار میں آنے والی ہر خبر ہر تبصرے کو اس تک پہنچاتا۔
    اور زینی کا رد عمل اسے حیران کرتا یہ فلم انڈسٹری کی پہلی ہیروئن تھی جسے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ لوگ اور اخبار والے اس کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے۔
    زینی کے ساتھ گزرنے والا ہر دن اسے زینی کے کسی نئے رخ سے آشنا کرتا تھا وہ اس کے گھر کے افراد سے واقف تھا۔ ان کی زندگیوں کے بارے میں جانتا تھا مگر جس ایک لڑکی کے ساتھ وہ دن رات گزار رہا تھا وہ کسی بھید کی طرح تھی اس کے لئے، فلم انڈسٹری میں وہ کیوں آئی تھی؟ یہ سلطان جانتا تھا۔
    پیسہ کمانے کے لئے۔




    مگر وہ پیسہ کس لیے کما رہی تھی۔ یہ سلطان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اس نے زینی کو کبھی اپنے پیسے اپنے زیورات اپنی قیمتی چیزوں کو کسی لاکر کسی تالے میں رکھتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ باہر پڑی ہوتیں۔ ڈریسنگ ٹیبل پر، بیڈ کی درازوں میں۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز پر، لیکن باہر… سامنے دعوت عام دیتے ہوئے… سلطان اس کے زیورات اور پیسے کو سنبھالتے سنبھالتے تنگ آجاتا۔ لیکن ہر روز اس کا کسی نہ کسی سیٹ کا کچھ نہ کچھ گم ہوتا رہتا۔ اور یہ صرف اور صرف زینی کی لاپروائی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ لیکن سلطان کو حیرت ہوتی تھی کبھی کسی رقم، کسی زیور، کسی قیمتی چیز کے گم ہونے پر اس نے زینی کو پریشان نہیں دیکھا تھا، مجال تھی کہ اس کے ماتھے پر ایک سلوٹ تک آجاتی، یوں لگتا جیسے اسے پروا ہی نہیں تھی اس کی کیا چیز کھو رہی ہے۔
    ”جب پیسے کو حفاظت سے نہیں رکھنا تو اسے حاصل کرنے کے لئے ہلکان کیوں ہو رہی ہیں پری جی؟”
    سلطان نے اس دن جھنجھلا کر اس کے ایک سیٹ پر شوٹنگ کے دوران کہا تھا زینی کا پرس گم ہو گیا تھا اور اس میں صبح ہی سلطان نے بینک سے ایک چیک کیش کروا کر پچاس ہزار رکھے تھے۔
    ”پیسے کی ضرورت ہے مجھے، اس سے محبت نہیں۔” وہ زینی کے جواب پر بول نہیں سکا تھا۔
    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی چیزیں کھوتا پھرے؟” سلطان نے کچھ دیر کے بعد خفگی سے کہا۔
    ”جو کھویا ہے میں نے، وہ اگر گنوا دوں تمہیں تو ان کے سامنے یہ ساری چیزیں کچھ لگیں ہی نا۔”
    اس نے ہنس کر سلطان سے کہا تھا۔
    سلطان کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔ وہ سننے اور سمجھنے والی شے نہیں تھی۔ وہ پری زاد تھی۔ اور وہ، وہ کرتی تھی جو اس کے دل میں آتا تھا۔
    پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اس کے سامنے آفرز کے انبار لگ گئے تھے اور زینی نے وہی کیا تھا جو اس صورت حال میں کوئی بھی ایکٹریس کرتی اس نے 25 فلمیں سائن کر لی تھیں۔ فلم انڈسٹری کے ہر بڑے چھوٹے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی فلم اس نے سائن کی تھی۔
    تبریز پاشا اس پر بڑا جزبز ہوا تھا۔ وہ اگلے پانچ سالوں تک زینی کو صرف اپنی فلموں میں کام کرتے دیکھنا چاہتا تھا اور وہ بار بار زینی کو یہ بات جتانا نہیں بھولتا تھا کہ زینی کو فلم انڈسٹری میں اس کی فلم کی وجہ سے کامیابی ملی تھی۔ اس پر سب سے زیادہ ”حق” اس کا تھا۔ مگر وہ بہر حال زینی پر پہرے نہیں لگا سکتا تھا۔
    اس نے فلم انڈسٹری کی ہر ہیروئن کو ایک ہٹ فلم کے بعد ایگریمنٹ توڑتے پایا تھا اور و ہ جانتا تھا کہ زینی بھی یہی کرے گی، کامیابی سیلاب کی مانند ہوتی ہے اس کے سامنے بند باندھنے والا احمق ہوتا ہے اور تبریز پاشا بہر حال احمق نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسے ٹھوکر مارنے کے لئے زینی کو کوئی اور زینہ مل جائے اور وہ جانتا تھا کہ اس وقت انڈسٹری کا ہر پروڈیوسر زینی کے لئے سیڑھی کا پائیدان بننے کا خواہش مند تھا۔
    اور زینی کے اس طرح دھڑا دھڑ فلمیں سائن کرنے پر جزبز ہونے والا وہ اکیلا نہیں تھا۔ سلطان نے بھی زینی کو بے حد روکنے کی کوشش کی تھی۔
    اس چھوٹی فلم انڈسٹری میں سال میں دو چار فلموں سے زیادہ فلموں کے ہٹ ہونے کا امکان کم تھا اور پچیس فلموں میں سے بیس فلموں کے فلاپ ہونے کا مطلب ایک نئی ہیروئن کے لئے کیا تھا۔ یہ سلطان جانتا تھا زینی نہیں۔ لیکن زینی اس معاملے میں اس کی بات سننے پر تیار نہیں تھی۔ مجبوراً سلطان نے اسے ان فلموں کو سائن کرنے دیا مگر زینی کو ڈیٹس دینے کے سلسلے میں اس نے بے حد ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے بہت سے پروڈیوسرز کو دوسرے اور تیسرے سال کی ڈیٹس دیں۔
    ان میں سے کچھ پرانے پروڈیوسرز نے اس پر کچھ ہنگامہ ضرور کیا۔ مگر نئے پروڈیوسر جو صرف ایک فلم کے پروڈیوسر کے طور پر اپنا نام اور ہیروئن کے ساتھ تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تھوڑی سی چوں چرا کے بعد ان ڈیٹس پر رضا مند ہو گئے تھے۔
    پہلے سال میں پری زاد کی صرف دس فلمیں سیٹ پر تھیں اور ان میں سے کسی فلم میں سفیر اس کے ساتھ نہیں تھا۔ پہلے سفیر لوگوں کو پری زاد کو اپنے ساتھ کاسٹ کرنے سے منع کرتا تھا۔ اب یہ کام پری زاد نے کیا تھا۔ اس نے ہر پروڈیوسر سے ہیرو کا نام تبدیل کروا کر فلم سائن کی تھی۔ اور سلطان اس پر بھی خوش نہیں تھا۔
    سفیر کے علاوہ باقی سارے ہیرو سیکنڈ لیڈ سمجھے جاتے تھے اور سیکنڈ لیڈ ایکٹرز کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلم کرنا سلطان کے نزدیک پروفیشنل خود کشی تھی اور سلطان خائف تھا کہ جیسے ہی اس کی ابتدائی کچھ فلمیں فلاپ ہوئیں پروڈیوسر نام کے پرندے اس کی دیواروں سے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت اس کو سفیر کے ساتھ فلم کی ضرورت پڑتی اور سلطان جانتا تھا کہ سفیر جیسا منتقم مزاج آدمی اس وقت پری زاد کے ساتھ کبھی فلم نہ کرتا۔
    پری زاد اس وقت گرتی ہوئی دیوار ہوتی اور سفیر گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کی شہرت نہیں رکھتا تھا۔ خاص طور پر اس صورت حال میں جب ہر پروڈیوسر سفیر کو یہ بتاتا کہ وہ اسے فلم سے اس لیے کٹ کر رہا تھا کہ پری زاد اس کے ساتھ اس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی۔ سفیر یہ سب کچھ بھولنے والا نہیں تھا اور سفیر ہی کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ سب کچھ نہیں بھولتا۔ مگر پری زاد کو سفیر سے کتنی چڑ تھی۔ یہ سلطان کو پتہ نہیں تھا اس کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے کیرئیر کی دو بڑی غلطیاں ایک ہی وقت میں کر رہی تھی اور ایک ہی وقت میں دو غلطیاں بہت تھیں، سلطان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ”بہت” زینی کے لئے ”بہت” نہیں تھیں۔
    ”میں انور حبیب کی ڈائریکشن میں کام نہیں کروں گی۔ تم صبح اخبار میں میرا بیان لگوا دو۔”
    وہ اس وقت گاڑی میں تبریز پاشا کے گھر ہونے والی ایک فلمی پارٹی سے واپس آرہے تھے جب راستے میں زینی نے سلطان کے سر پر بے حد آرام سے ایک اور بم پھوڑا۔
    ****




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۴

    سر جھکائے اس نے فرش پر نظر آنے والے پیروں کو باری باری دیکھنا شروع کیا۔ نکاح خواں، ایجاب وقبول کی عبارت سے پہلے کے چند جملے ادا کر رہا تھا۔ اس کے اندر جیسے لاوا ابل پڑنے کو تیار تھا۔ وہ سارے ان لوگوں کے پاؤں تھے جو اس کے وجود کو سیڑھی بنا کر اوپر جانا چاہتے تھے۔ اس کا باپ، ماں، بہنیں۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا وہ سارے پیر اس کے جسم کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ ہاتھیوں کے کسی جھنڈ کی طرح اسے روندتے رگیدتے ہوئے، چند لمحوں کے لیے اسے واقعی اپنا وجود بے حد کچلا اور مسلا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے جیسے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
    آخر وہ کیوں ان لوگوں کے لیے سیڑھی بنے، انہیں اپنے اوپر سے گزرنے دے؟ اس نے سوچا۔ لیکن وہ کر کیا سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔
    پھر اسے یک دم کسی کا خیال آیا۔ خوف کی ایک لہر سی اس کے جسم کے اندر سے گزری۔
    ”تم نے اگر ہاں کی تو میں خود کو گالی مار لوں گا۔ تمہارے گھر سے تمہاری بارات جائے گی تو میرے گھر سے میرا جنازہ۔”
    اس کے کانوں میں اس کی دھمکی گونجی، اسے یقین تھا، وہ جو کہتا تھا کر گزرتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتی تھی۔ وہ اس وقت ریوالور لے کر وہیں کہیں آس پاس ہو گا۔ وہ ”ہاں” کہتی، نکاح خواں باہر جا کر اعلان کرتا اور اس کے بعد…
    میک اپ سے لپے پُتے چہرے پر بھی اسے پسینے کے قطرے نمودار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اسے باہر بیٹھے اپنے سے بائیس سال بڑے بوڑھے بے حد معمولی صورت کے اس ”امیر آدمی” سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ جوشادی کے نام پر اس کا ”سودا” کرنے آیا تھا۔ اسے اتنی ہی نفرت اس کمرے میں موجود اپنے ”خونی رشتوں” سے ہوئی جن کی مرضی اور خوشی سے وہ سودا طے پایا تھا۔
    ساری دنیا میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس سے محبت کرتا تھا اور وہ شخص اس شادی کی صورت میں آ پنی جان دینے کو تیار تھا۔ اسے وہ سارے وعدے یاد آئے جو وہ چار سال سے ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے تھے۔ سارے منصوبے، سارے خواب۔ اور اب نئی بھیانک تعبیر ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ کہ وہ اسے بھی ایک خواب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک ڈراؤنا خواب۔
    مووی کیمرے کی تیز روشنی جیسے اس کے چہرے کو جلا رہی تھی۔ کمرہ اس وقت لوگوں سے بری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے چچا،ماموں، چچیاں، ممانیاں، محلے کی چند دوسری عورتیں ہر ایک وہاں جیسے کوئی تماشا دیکھنے کے لیے کھڑا تھا یا کم از کم وہ جس ذہنی حالت میں تھی اس کو ایسا ہی لگ رہاتھا۔
    نکاح خواں اب بالآخر اس سے وہ سوال کررہا تھا جس کے جواب کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتہ سے کر رہی تھی، کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی تھی۔
    ٭٭٭





    ”آج بہت جلدی گھر آگئیں… کالج تو اتنی جلدی بند نہیں ہوتا۔” ربیعہ نے دروازہ کھولتے ہوئے زینی سے کہا۔
    ”ہاں، بس آگئی۔” اس نے بے حد مبہم جواب دیا اور پھر اندر کمرے کی طرف جانے کے بجائے صحن میں بچھی چار پائی کی طرف آگئی۔
    ”سونے لگی ہو؟” ربیعہ نے اسے چار پائی پر لیٹتے ہوئے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” زینی نے اس بار بھی اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ پھر چار پائی پر چت لیٹ گئی۔ ربیعہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اس کو دیکھتی رہی۔ زینی چار پائی پر چت لیٹی دیوار پر چڑھی انگور کی بیل کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا سوچ رہی ہو؟” ربیعہ اس کے پاس آگئی۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے ربیعہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
    ”رمشہ سے ملیں؟” ربیعہ اس کے پاس چار پائی پر بیٹھ گئی۔
    ”ہاں!” وہ بد ستور انگور کی بیل کو دیکھتے ہوئے ربیعہ کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
    ”تمہاری اتنی لمبی غیر حاضری سے تو بہت پریشان ہوئی ہو گی وہ۔”
    ”نہیں۔ وہ خود بھی چھٹی پر تھی۔ اسلام آباد گئی ہوئی تھی ایک ہفتہ پہلے دوبارہ کالج جوائن کیا ہے اس نے ویسے بھی اب تو فارغ کرنے والے ہیں ایک دو دن میں۔ ساری کلاسز نہیں ہو رہی ہیں اب۔”
    ”اس کو پتا ہے تمہارے اور شیراز کے بارے میں؟” ربیعہ نے کچھ تامل کے بعد اس سے پوچھا۔
    ”پورے کالج کو پتا ہے میری منگنی ٹوٹنے کے بارے میں۔ محلے کی جو لڑکیاں کالج پڑھتی ہیں، انہوں نے سب کچھ بتایا ہوا ہے وہاں۔ رمشہ کو بھی کسی نے بتا دیا تھا۔”
    ”کیا بتا دیا تھا؟”
    ”یہی کہ میرے منگیتر نے مجھے رنگے ہاتھوں کسی لڑکے کے ساتھ گلی میں پکڑا ہے۔”
    ربیعہ کا دل کٹا۔ اس نے ایسی لاتعلقی سے کہا تھا جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی دوسرے کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
    ”کسی کو یقین نہیں آیا ہو گا کالج میں ان سب باتوں پر اور رمشہ کو تو بالکل بھی نہیں۔ میں جانتی ہوں سب وہاں تمہیں کتنا پسند کرتے ہیں اور چار سال سے دیکھ رہے ہیں سب تمہیں وہاں، اس بکواس پر تو کسی نے یقین ہی نہیں کیا ہو گا۔”
    ربیعہ کے لہجے میں بے حد اعتماد تھا۔ زینی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح خاموشی سے انگور کی بیل کی کو دیکھتی رہی جس پر صحن سے ایک چڑیا اڑ کر جا بیٹھی تھی۔ شاید اسے وہاں کوئی کیڑا نظر آیا تھا اور اب وہ پتوں میں اس کیڑے کو تلاش کرنے کے لئے چونچیں مارنے میں مصروف تھی۔ ربیعہ کچھ دیر اس کے جواب کی منتظر رہی۔ لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو ربیعہ نے جیسے قدرے بے صبری کے ساتھ اس سے دوبارہ پوچھا۔
    ”کیا کہا سب نے؟”
    ”کچھ نہیں۔” اس نے اسی لاتعلقی سے کہا۔
    ربیعہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ”کچھ بھی نہیں؟ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا؟”
    زینی کبھی پریشان کالج چلی جاتی تھی تو سو لوگ اس کو تسلیاں دیتے پھرتے تھے۔ وہ بھی جو اس کو جانتے تک نہیں ہوتے تھے اور وہ گھر آکر بڑے فخریہ انداز میں ربیعہ کو یہ سب بتاتی تھی اور اب اس کی منگنی ٹوٹ گئی تھی اور کسی نے کچھ نہیں کہا۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ ان چار سالوں کے دوران پورے کالج کو زینی کی صرف منگنی کے بارے میں ہی نہیں یہ تک پتا تھا کہ اس کا منگیتر بے حد قابل ہے اور سول سروس کے امتحان میں بیٹھنے سے لے کر اسے کوالیفائی کرنے تک سب کچھ کالج میں پہنچتا رہا تھا۔ ان ساری معلومات کو پہنچانے میں زینی کا نہیں محلے کی لڑکیوں کا ہاتھ تھا جو زینی کے کالج میں ہی اس کی جونیئر یا سینئر تھیں… اس کی منگنی کا کالج کی لڑکیوں کو پتا نہ ہوتا تو بہت سے رشتے زینی کے لیے کالج سے ہی آتے۔ لڑکیاں اس کے حسن پر کچھ اسی طرح فریفتہ تھیں وہاں۔
    ”زبان سے تو مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا… نظروں سے بہت کچھ کہا۔” زینی ابھی بھی اس چڑیا کو دیکھ رہی تھی ”لڑکیاں مجھے دیکھ کر سرگوشیوں میں باتیں کرتی رہیں، کچھ ہنستی رہیں، کچھ گھورتی رہیں یوں جیسے منگنی ٹوٹنے کے بعد میرے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔”
    وہ اب بھی اس طرح بات کر رہی تھی جیسے کسی اور کی بات کر رہی ہو۔ ربیعہ کو دھچکا لگا۔
    ”رمشہ نے توکچھ کہا ہو گا تم سے؟” ربیعہ نے جیسے کسی آس میں پوچھا۔
    ”ہاں… وہ پریشان تھی۔ لڑکیاں میری عدم موجودگی میں اس سے آکر اس لڑکے کے بارے میں پوچھتی رہیں، جس کے ساتھ شیراز نے مجھے پکڑا تھا۔ ان میں سے کچھ رمشہ کو کالج کے گیٹ پر کھڑے ہونے والے کچھ لڑکوں کے نام اور حلیے بتاتی رہیں جو میرے لیے وہاں کھڑے ہوتے تھے۔ ان کا خیال تھا میں ان ہی میں سے کسی لڑکے کے ساتھ انوالوڈ تھی۔
    کسی گاڑی والے امیر لڑکے کے ساتھ اس کے پیسے کے لئے، کیونکہ سب کو پتا ہے کہ میں غریب ہوں، غربت کی وجہ سے میں لالچ میں آگئی تھی۔”
    چڑیا کو ابھی تک وہ کیڑا نہیں ملا تھا وہ ایک پتے سے دوسرے پر پھدک رہی تھی۔ اس کی ہر حرکت کے ساتھ زینب کی نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔
    ”بس سب نے یہی کہا، کسی نے کچھ اور نہیں کہا؟” ربیعہ کو جیسے شاک لگا۔
    ”نہیں۔ اور بھی بہت کچھ پوچھتی رہی تھیں لڑکیاں… یہ کہ شیراز نے مجھے اس لڑکے کے ساتھ کس حالت میں پکڑا تھا؟ کیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ یا ہم کوئی اور قابل اعتراض حرکت کر رہے تھے گلی میں؟ کچھ لڑکیوں نے رمشہ کو بتایا کہ شیراز نے مجھے گلی میں نہیں پکڑا، کسی لڑکے کے ساتھ اس کی گاڑی میں پکڑا تھا۔ کچھ نے رمشہ سے کہا کہ شیراز نے دراصل مجھے کسی لڑکے کے ساتھ کالج کے پاس کسی چھوٹے ہوٹل کے کمرے میں پکڑا تھا۔ وہ ہوٹل کا نام جاننا چاہتی تھیں۔ کچھ نے کہا کہ شیراز کو اکیڈمی میں اس لڑکے نے اپنے ساتھ میرے کچھ بلو پرنٹس بھیجے تھے۔ جن کو صرف شیراز نے نہیں وہاں پوری اکیڈمی نے دیکھا اور شیراز کی بے حد رسوائی ہوئی۔ کچھ نے رمشہ کو قسم کھا کر بتایا کہ انہوں نے خود کئی بار مجھے کالج کے باہر مختلف لڑکوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تھا بعض نے بتایا کہ میں گیٹ پر کسی لڑکے کو دیکھ کر مسکراتی تھی اور اشارے کرتی تھی۔”
    ربیعہ کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اس کا جسم کانپنے لگا تھا۔ وہ پچھتا رہی تھی۔ اس نے کیوں صبح اسے کالج جانے سے نہیں روکا تھا۔
    ”اللہ ان لوگوں کو، ان بہتان لگانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔” ربیعہ کو بے اختیار رونا آگیا۔
    ”اللہ سب کا رب ہے۔ وہ سب کو معاف کر دیتا ہے۔” زینی کے لہجے کی سرد مہری نے ربیعہ کو اور رلایا۔
    زینی ابھی بھی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔ ربیعہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ زینی کو دیکھا۔ وہ چارپائی کے سرہانے والی لکڑی کے فریم پر سر ٹکائے لیٹی ہوئی تھی۔ صحن میں اترتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور اس دھوپ نے اس کے رنگ کو سنہری مائل سرخ کر دیا تھا۔ اس کے گلے اور کانوں میں کچھ نہیں تھا۔ البتہ بالوں کی بہت سی چھوٹی بڑی لٹیں اس کی گردن، پیشانی اور چہرے کے اطراف چپکی ہوئی تھیں۔ کالج کے سفید یونیفارم کی شرٹ کے کالر پر بھی اس کے بالوں کی چند چھوٹی چھوٹی لٹیں چپکی ہوئی تھیں۔ ربیعہ نے سفید رنگ کسی پر زینی سے زیادہ سجتا نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر سوال یہ تھا کہ اس پر کیا نہیں سجتا تھا۔ اس کی بے حد تیکھی ناک کے اطراف میں پسینے کے بہت سے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ وہ قطرے اس کے ماتھے، پیشانی اور گردن پر بھی نمودار ہو رہے تھے۔ چار پائی پر اس حالت میں لیٹی وہ ربیعہ کو کوئی مومی مجسمہ لگی تھی جسے دھوپ آہستہ آہستہ پگھلا رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس سے نظر ہٹانا مشکل تھا۔ وہ فنا ”ہو جانے” والا حسن تھا اور وہ فنا ”کر دینے والا” حسن تھا۔
    اس کی خوب صورتی دیکھ کر ربیعہ کو اور رونا آیا مگر زینی ارد گرد سے بے خبر اس بیل پر اسی چڑیا کو دیکھنے میں محو تھی۔ آخر اسے رزق کیوں نہیں مل رہا تھا؟