Tag: قرنطینہ ڈائری

  • شاہ ماران ۔ افسانہ

    شاہ ماران
    پراسرار کہانی
    علینہ عرفان

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ آشفتہ سر انسانوں نے ہر زمانے میں محبت کو ایک نئی معراج پر پہنچایا ہے۔ محبت ایک ایسا الوہی جذبہ ہے جو کسی کسی پر اپنا رنگ جماتا ہے اور جس پر یہ رنگ چڑھ جائے وہ اپنی ایک الگ ہی دنیا میں قیام کر لیتا ہے۔ جہاں اس کے چاروں جانب رنگ و روشنی کی برسات ہوتی ہے یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کبھی کبھی محبت نامی یہ جذبہ انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ محبت کی ایسی ہی ایک مثال ”شاہ ماران“ نے بھی قائم کی۔ شاہ ماران…… جو کہنے کو تو ”سانپوں کی ملکہ“ تھی لیکن اس کے دل میں موجزن محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر  ایک اجنبی انسان کو تاعمر اس کا قرض دار بنا گیا۔
    صدیوں پہلے کی بات ہے، ترکی کے جنوبی شہر ترسس میں زیرِ زمین سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں وہ سب امن و آشتی سے رہتے تھے۔ ان کی ملکہ”شاہ ماران“ ایک نہایت ہی سمجھ بوجھ والی ملکہ تھی۔ اس کے بنائے قاعدے ساری رعایا دل و جان سے تسلیم کرتی تھی کیونکہ ان میں حکمت و دانش  پوشیدہ ہوتی تھی۔ جتنا خیال وہ اپنی رعایا کا رکھتی تھی اتنا ہی اس کی رعایا اس پر جان چھڑکتی تھی۔ شاہ ماران کا اوپری دھڑ عورت سے مشابہ تھا جبکہ اس کا زیریں حصہ ناگن جیسا ہی تھا۔ وہ اپنی خوبصورتی میں بھی یکتا تھی۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے پاس ہزاروں قصے ہیں جن میں عقل و دانش کی باتیں چھپی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی اس کے یہ قصہ سنتا، اس کا گرویدہ ہو جاتا۔ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ سب اس کے علم و حکمت کے بھی معترف تھے۔ الغرض ان کی دنیا میں چین ہی چین تھا۔
    مگر شاہ ماران نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں یہ چین اب کچھ ہی دنوں کا مہمان ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ آنے والے دنوں میں اس کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ اس کی روانی سے بہتی زندگی کا رُخ ہی موڑ دیں گے۔
    ان زیرِ زمین سانپوں کو آج تک کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا۔ یہ سانپ اپنی دنیا میں ہی مگن تھے لیکن پھر جمش نامی لکڑیوں کے ایک بیوپاری نے ان سانپوں کی موجود گی کا راز پا لیا۔
    ہوا کچھ یو ں کہ جمش اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ترسس کے علاقے میں شہد کی تلاش میں پہنچا جہاں انہیں ایک غار میں اصلی شہد کی موجودگی کا علم ہوا۔ وہ اس غار کے پاس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں شہد کا ایک بڑا ذخیرہ واقعی موجود تھا۔ تب جمش کے دوستوں کے دل میں بے ایمانی نے سر ابھارا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ جمش کو اسی غار میں تنِ تنہا چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ شہد جمع ہی نہ کر پائے اور وہ اس کے حصے کا شہد بھی لے جائیں۔
    اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ کچھ دور چل کر دانستہ جمش سے الگ ہو گئے اور اسے یہاں اکیلا چھوڑ دیا۔ پہلے تو جمش کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کے دوستوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے لیکن جب تک سمجھ آیاتب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اب اسے یہاں اکیلا ہی رہنا تھا تاوقتیکہ اسے واپسی کا راستہ مل جائے اور تب اچانک ہی اس کی نظر غار کے عقب سے چھن کر آنے والی روشنی کی جانب گئی۔ تجسس نے اسے اس روشنی کا پتہ لگانے پر مجبور کیا۔ جمش غار کے پیچھے گیا اور روشنی کا منبع تلاش کیا وہ روشنی اسی غار کے عقب سے آ رہی تھی۔ غار کے پچھلے حصے میں پڑے پتھر اس روشنی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔
    جمش نے ان پتھروں کو ہٹایا اور غار کے اندر داخل ہوا۔ کافی اندر جانے کے بعد اس نے جو دیکھا اسے اس پر یقین ہی نہ آیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک نہایت ہی خوبصورت باغ موجود تھا۔ وہ اس باغ میں جانے سے خود کو روک نہیں پایا اور گھٹنوں کے بل چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔ باغ روشنیوں، پھولوں اور سانپوں سے بھرا ہوا تھا۔ انواع و اقسام کے سانپ وہاں موجود تھے۔ جمش کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے اور تب ہی اس کی نظر ایک تخت پر بیٹھی ”شاہ ماران“ پر پڑی۔ دودھیا رنگت کی حامل یہ سانپ اپنی خوبصورتی کے باعث باقی سب سے منفرد دکھائی دے رہی تھی۔ جمش آگے بڑھا اور اچانک ”شاہ ماران“ کی نگاہ اس کی جانب گئی اور اس ایک نگاہ نے ہی ایک آدم زاد اور ایک سانپ کو لازوال محبت میں باندھ دیا۔ وہ دونوں پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو گئے۔
    شاہ ماران نے جمش کی جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا، تب جمش آگے آیا اور اپنی ساتھ گزری ساری روداد ملکہ کو کہہ سنائی۔ شاہ ماران کو اس کے ساتھ ہونے والے دھوکے کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ تب شاہ ماران نے اسے اپنا مہمان بننے کی دعوت دی کہ وہ جب تک چاہے یہاں رہ سکتا ہے۔
    ”اے اجنبی! تمہاری داستان سن کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے، اگر تم چاہو تو کچھ دن ہمارے ساتھ قیام کر سکتے ہو۔ یہاں تمہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ تم جب چاہو اپنے وطن واپس جا سکتے ہو۔“شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا:
    ”اے ملکہ! میں یہاں رہنے کو اپنی خوش نصیبی تصور کروں گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں یہاں ہو آپ کا وفادار بن کر رہوں گا۔“
    جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری اور اس نے اپنے خدام کوجمش کو مہمان خانے میں لے جانے کا اشارہ کیا۔ اس غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی جہاں ان کی سہولت کا ہر سامان بدرجہ اتم موجود تھا۔ جمش نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ اس نے شاہ ماران کا اعتماد جیت لیا۔ اس کا دل یہاں ایسا لگا کہ اس نے واپس جانے کا خیال ہی اپنے ذہن سے نکال دیا۔ ایک دن یونہی شاہ ماران نے جمش سے کہا:
    ”جمش، تمہیں پتہ ہے۔ تم نے ہمیں کیسے ڈھونڈ نکالا؟ کیسے تم ہماری دنیا دریافت کر پائے؟“ شاہ ماران کے اس سوال پر جمش نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
    ”شاہ ماران میں نہیں جانتا، لیکن جاننا چاہتا ہوں۔۔“ تب شاہ ماران گویا ہوئی:
    ”تمہارے پاس جو سچا دل ہے، اس کی بدولت تم ہماری دنیا دیکھ پائے اور ہم تک پہنچ پائے تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں خداوند نے ”اجنہ“(تیسری آنکھ) سے نوازا ہے۔ اسی لیے انسانوں میں سے صرف تم ہی ہم تک آئے۔ اسی اجنہ کی بدولت تم اس مادی اور فانی دنیا سے پرے جو ایک اور دنیا ہے، اسے دیکھ سکتے ہو۔ اس دنیا میں حقیقی خوشیاں اور راحتیں پنہاں ہیں۔“
    شاہ ماران کی یہ باتیں سن کر جمش کی محبت اور عقیدت میں اور اضافہ ہو جاتا۔ اسے اس کے جیسے انسانوں نے دھوکہ دیا تھا جبکہ ان سانپوں کے بیچ رہتے ہوئے اسے ذرہ برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ جمش کئی سال تک شاہ ماران کے ساتھ اسی غار میں رہا۔
    لیکن کئی سال بعد ایک روز اسے اپنی دنیا اور اپنے لوگوں کی یاد ستائی اور اس نے اپنی دنیا میں لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ گو شاہ ماران دل سے ایسا نہیں چاہتی تھی لیکن اس نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنی محبت کے باعث جمش کو روک لے۔ وہ محبت میں اپنے محبوب کی خوشی چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے جمش کو خوش دلی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی لیکن اس نے جمش سے ایک وعدہ لیا۔
    ”جمش! آج تمہیں کو مجھ سے ایک عہدکرنا ہوگا  اگر تمہاری نظر میں میری کوئی اہمیت ہے تواسی اہمیت کے پیشِ نظر تم وعدہ کرو کہ یہاں سے جانے کے بعد تم کبھی بھی کسی کو بھی اس جگہ اور سانپوں کی اس دنیا کے بارے میں نہیں بتاؤ گے اور کسی بھی حال میں اپنا وعدہ نہیں توڑو گے۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے کہا تھا:
    ”شاہ ماران! میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو کبھی بھی تمہارے بارے میں پتہ نہیں چلے گا اور میں صدقِ دل سے اپنے اس وعدے کو نبھاؤں گا۔“ یہ کہہ کر جمش نے شاہ ماران سے رخصت لی۔ شاہ ماران کا دل کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور جمش کو الوداع کہا۔ دوسری جانب اپنی دنیا میں واپس جانے کے بعد بھی کئی سال تک جمش نے شاہ ماران سے کیا اپنا وعدہ نبھایا، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ ابھی قسمت کاایک اور کاری وار اس پر ہونا باقی ہے۔
    جمش کو اپنی دنیا میں واپس آئے کئی سال گزر چکے تھے کہ انہی دنوں ترکی کے بادشاہ کی طبعیت ناساز ہو گئی۔ قرب و جوار کے سارے طبیبوں اور جادوگروں کو بلا یا گیا لیکن بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی طبیعت کسی طور صحیح ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ اب تو بادشاہ کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ سارے ملک پر سوگ کی فضا قائم تھی۔ بظاہر کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود بھی بادشاہ روز بہ روز موت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ بالآخر ملک کی سب سے برگزیدہ شخصیت نے کئی روز کی محنت اور مختلف عملیات کے بعد بادشاہ کے لیے علاج تجویز کر ہی لیا۔
    بادشاہ کو ایک بار پھر صحت مند اور اس بیماری سے چھٹکارہ دلانے کے لیے جو علاج تجویز کیا گیا وہ یہ تھا کہ کہیں سے بھی اور کیسے بھی کر کے سانپوں کی ملکہ ”شاہ ماران“ کو تلاش کیا جائے۔ شاہ ماران حکمت اور لازوال خوبصورتی کا استعارہ ہے۔ اسی لیے شاہ ماران کو ہلاک کر کے بادشاہ کو اس کا گوشت کھلانے سے ہی بادشاہ کو اپنی پرسرار بیماری سے چھٹکارہ ملے گا۔ جب بادشاہ کے علاج کا یہ طریقہ زبان زدِ عام ہوا تو کسی نہ کسی طرح یہ بات بھی نکلی کہ جمش اس بات سے واقف ہے کہ شاہ ماران کو کہاں تلاش کیا جائے۔
    جمش کے کانوں میں بھی اس بات کی بھنک پڑ رہی تھی لیکن وہ خاموش تھا۔ پھر ایک دن اسے محل کی جانب سے بلاوا آیا۔ وہ محل پہنچا تو اسے وزیرِ سلطنت کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس کو سامنے دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوئے: 
    ”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔“
    جمش:”عالی جاہ میں حاضر ہوں۔۔“
    وزیر:”جیسا کہ تم جانتے ہو بادشاہ سلامت کی طبیعت پچھلے کئی دنوں سے ناساز ہے۔ اب رعایا کے سب سے بر گزیدہ طبیب نے ان کے علاج کے لیے جو تجویز پیش کی ہے اس کے سلسلے میں محل میں تمہارے نام کی گونج سنائی دی ہے۔ ایسی شنید ملی ہے کہ تم شاہ ماران کا پتہ جانتے ہو لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ تم بادشاہ سلامت کی بیماری کو ختم کرنے میں مدد کرو گے۔۔“
    جمش:”یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں اپنی سلطنت کے کچھ کام آ سکوں لیکن میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میرے بارے میں آپ نے جو بھی سنا ہے وہ افواہ ہے۔ میں شاہ ماران کے ٹھکانے سے واقف نہیں ہوں۔ میں تو خود اتنے برس سے نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھانتا پھر رہا ہوں۔ میرا علم اس بارے میں محدود ہے۔“
    ”جمش تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ وزیر نے سخت لہجے میں کہا۔
    ”عالی جاہ! میں تو آپ سے حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ میں واقعی شاہ ماران کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ جمش کی یہ بات سن کر وزیر جلال میں آگیا اور آگ اگلتے ہوئے لہجے میں بولا:
    ”جمش تمہیں اپنی یہ ہوشیاری بہت مہنگی پڑے گی۔ تمہارے پاس صرف آج کی رات ہے، اچھی طرح سوچ لو کہ تم شاہ ماران کا ٹھکانے بتاؤ گے یا ہم دوسرے طریقے اپنائیں۔ تم بہت اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر تم نے اس سلسلے میں ہوشیاری دکھائی تو اپنے پیاروں کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن اپنوں کی یاد تمہیں برسوں بعد واپس لے آئی۔ تم انہی اپنوں کی موت کی وجہ بن جاؤ۔“ 
    وزیر کی یہ بات سن کر جمش کا چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سلطنت کے عمائدین سے دشمنی مول نہیں لے سکتا، لیکن یہ تو اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے اپنوں کی جان کے دشمن بن جائیں گے۔ اس کو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر وزیر گویا ہوا۔
    ”اب تم جاؤ اور آج کی رات خو ب سوچو۔ صبح اپنے فیصلے کے ساتھ محل پہنچ جانا۔ اگر تم نہ آئے تو تمہارے خاندان کا نام صفحہئ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔“
    جمش کو محل سے جانے کی اجازت تو مل گئی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے پر کتر دیے گئے ہیں۔ اس کے پاس راستے محدود تھے اور سوچیں لا محدود۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ شاہ ماران سے کیا وعدہ نبھائے یا اپنے خاندان کو بچائے۔
    اسی ادھیڑ بن میں وہ اپنے گھر پہنچا۔ گھر والے بھی اس کی غائب دماغی محسوس کر رہے تھے۔ سب نے وجہ جاننے کی کوشش کی، لیکن جمش نے کسی کو بھی کچھ نہ بتایا بتاتا بھی کیا بتانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ سلطنت نے اسے عجیب مخمصے میں الجھا دیا تھا۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وقت تھا کہ اس کے ہاتھوں سے پھسلے جا رہا تھا اور یہ ہی سوچتے سوچتے سو گیا۔ صبح جمش اٹھا تو قدرے مطمئن تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کہیں سے اطمینان کی دولت ہاتھ لگ گئی ہو۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہ ہی جمش ہے جو کل سے انتہائی پریشان تھا۔ اپنے گھر والوں کو اپنی طرف سے اطمینان دلا کر جمش محل کی جانب روانہ ہوا۔
    محل میں اسے وزیر کے سامنے پیش کیا گیا۔
    ”آؤ جمش! ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے“ جمش کو دیکھ کر وزیرِ سلطنت گویا ہوا۔
    ”میں وزیرِ باتدبیر کے حکم سے روگردانی نہیں کرسکتا۔“ جمش نے ادب سے جھک کر کہا۔
    ”اس کا مطلب تم ہمیں شاہ ماران کے ٹھکانے کی جانب لے کر جانے کے لیے تیار ہو۔۔“ وزیر نے جمش سے پوچھا۔
    ”جی ہاں بالکل! آپ کے حکم سے انحراف نہیں کیا جا سکتا جبکہ بادشاہ سلامت کی صحت سے زیادہ بھی مجھے کوئی چیز عزیز نہیں۔“ جمش کے جواب سے وزیر کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی اور اس نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ وہ فوج کا کچھ دستہ جمش اور اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرے۔ وہ لوگ شاہ ماران کا کھوج لگانے ابھی اسی وقت نکلیں گے وزیر کے حکم پر فوری عمل ہوا اور آٹھ لوگوں پر مشتمل یہ ایک چھوٹا سا دستہ جنگل کی جانب روانہ ہوا۔
    کچھ ہی دیر میں جمش کے بتائے راستے پر چلتے ہوئے یہ دستہ اسی غار کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ وزیر کو ابھی بھی جمش پر شک تھا۔ اسے لگ رہاتھا کہ جمش صرف ان لوگوں کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس لیے وزیر نے پہلے اپنے آدمیوں سے کہا کہ وہ غار کے آس پاس کا جائزہ لیں کہ یہاں کہیں سانپوں کی موجودگی کے نشانات ہیں بھی یا نہیں۔ وزیر کے ساتھ آئے دستے نے چاروں جانب کا جائزہ لیا اورواپس آ کر وزیر سے کہا کہ یہاں دور و نزدیک کہیں بھی سانپوں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔
    یہ بات سن کر وزیر نے ایک قہر آلود نظر جمش پر ڈالی اور زہر خند لہجے میں بولا:
    ”جمش! ایک بات کا خیال رکھنا، اگر تم نے ہم سے جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔یہاں اگر شاہ ماران نہ ملی توتم بھی یہاں سے زندہ واپس نہ جا پاؤ گے۔“
     وزیر کی بات سن کر جمش مضبوط لہجے میں گویا ہوا۔
    ”میں وزیرِ با تدبیر کو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ شاہ ماران کا ٹھکانہ  یہ ہی ہے۔ اگرچہ میرا دل یہ سوچ کر ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا ہے کہ میں شاہ ماران کی موت کا ذمہ دار بن رہا ہوں، لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں یہ سب اپنی خوشی سے نہیں کر رہا بلکہ مجھ پر زبردستی اس سب کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ میں بہت مجبور ہو کر یہاں تک آیا ہوں۔ مجھ پر شک کرکے مجھے مزید رسوا نہ کیا جائے۔“
    جمش کی یہ بات سن کر وزیر گرج کر بولا:
    ”اگر ایسا ہے تو تم جاؤ اور اپنے ساتھ میرے دو آدمی بھی لیکر جاؤ اور شاہ ماران کو ہمارے سامنے حاضر کرو۔ اب ہم شاہ ماران کو اپنے سامنے دیکھنے کے لیے لمحہ بھر کی بھی دیر برداشت نہیں کریں گے۔“
    وزیر کی یہ بات سن کر جمش اپنے گھوڑے سے اترا اور جنگل میں اس جانب چل پڑا جہاں غار میں سانپوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ غار کے پچھلے حصے کی جانب پہنچ کر جمش نے شاہ ماران کو آواز دی۔ ایسا نہیں تھا کہ صرف جمش کے دل کی دنیا ہی تہہ و بالا تھی بلکہ اندر غار میں موجود سانپوں کی دنیا میں بھی ایک زلزلہ سا آیا ہوا تھا۔ شاہ ماران نے رات ہی اپنی ساری رعایا کو جمع کر کے انہیں اپنے فیصلے سے متعلق بتا دیا تھا۔ یہ سنتے ہی رعایا میں سوگ کی سی فضا قائم ہو گئی تھی۔ اب تک سانپوں کی اس دنیا میں شاہ ماران کا حکم سر آنکھوں پر لیا جاتا تھا۔ سب جانتے تھے کہ شاہ ماران کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے، لیکن اس بار ان سب کو شاہ ماران کے اس فیصلے سے  اختلاف تھا۔ سب جانتے تھے کہ اس فیصلے سے شاہ ماران نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ پوری رعایا کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے انہوں نے شاہ ماران کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن شاہ ماران اپنے اس فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ابھی بھی سانپوں کی اس دنیا میں اسی بات کو لیکر بحث چل رہی تھی کہ شاہ ماران اپنے تخت کی طرف بڑھتی نظر آئی۔ شاہ ماران کو دیکھتے ہی تمام رعایا ادب سے خاموش ہو گئی۔ سوگوار سی شاہ ماران اپنے تخت پر براجمان ہوئی اور اپنی رعایا سے مخاطب ہوئی:
    ”میں آپ سب کی بے چینی اور تذبذب کو جانتی ہوں لیکن میرا یقین کریں، میری جانب سے اٹھایا جانے والا قدم آپ سب کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر اس کا معتمد ِ خاص آگے بڑھااور ادب سے گویا ہوا:
    ”ملکہ! ساری رعایا یہ بات جانتی ہے کہ آپ نے آج تک ہمارے لیے جو بھی فیصلے کیے ہیں ان میں ہماری بھلائی پوشیدہ رہی ہے، لیکن آپ کا یہ فیصلہ ہم سب پر گراں گزر رہا ہے۔“
    اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک پھیکی سی ہنسی نظر آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی معتمدِ خاص بولا:
    ”ہم آج تک آپ کا ہر حکم مانتے آئے ہیں، لیکن آپ کو یاد ہو گا کہ جب آپ اس آدم زاد کو یہاں مہمان بنا رہی تھیں تب بھی رعایا میں بے چینی پھیل گئی تھی کہ یہ انسان کسی کے دوست نہیں ہوتے اور آج آپ گواہ ہیں کہ کس طرح اتنے سال یہاں رہنے کے باوجود وہ آدم زاد آپ کی جان کے درپے ہے۔ یہ انسان کسی کے نہیں ہوتے۔ وہ آپ کی محبت، عزت،صلہ رحمی اورخدمت سب بھول کر آپ کو نقصان پہنچانے آپ کے ٹھکانے پر چلا آیاہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اسے اس غداری کا مزہ چکھائیں۔“
    اس کی یہ بات سن کر شاہ ماران متانت سے بولی:
    ”نہیں نہیں! ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں۔ جمش نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ اسے معتوب ٹھہرایا جائے۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے میری ہی ایما پر کر رہا ہے۔ تم سب کومیری حکمت پر بھروسہ ہے تو یہ یاد رکھو کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا کہ میں نے جمش سے بہت محبت کی تھی۔ ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم صرف بدلہ لیتے ہیں لیکن اس دنیا میں جب تک ایک انسان بھی زندہ رہے گا میری اور جمش کی کہانی امر رہے گی۔ دنیا میری محبت کی مثالیں دے گی۔“
    ابھی یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ باہر سے جمش کی آواز سنائی دی جو شاہ ماران کو آوازیں دے رہا تھا۔ جمش کی آواز سن کر شاہ ماران نے اپنی رعایا سے رخصت کی اجازت مانگی۔
    ”اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ میری نصیحتوں پر عمل کرنا۔ آپس میں اسی طرح رہنا جیسے میرے سامنے رہتے آئے تھے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، جب تک باہر سے آدم بو آتی رہے تم میں سے کسی نے بھی باہر نہیں آنا ہے۔ انسانوں کے بعد باہر جا کرتم مجھے واپس یہاں لانے کے مجاز ہو۔ بس اتنا یاد رکھنا کہ میں اپنی آنے والی نسلوں اور اپنی رعایا کو قتلِ عام سے بچانے کے لیے اپنی قربانی پیش کر رہی ہوں اور یہ ہی ایک مخلص ملکہ کا فرض ہوتا ہے۔“
    شاہ مارا ن نے ابھی اتنا کہا ہی تھا کہا پھرسے جمش کی آواز سنائی دی جو اسے ہی پکار رہا تھا۔ شاہ ماران نے اپنی سلطنت اور رعایا پر ایک آخری اور الوداعی نظر ڈالی اور پھر غار کے دہانے کی جانب بڑھ گئی۔ اندر اتنے سانپوں کی موجودگی کے باوجود سکوت طاری تھا۔ ساری رعایا اپنی رحم دل ملکہ کی آخری شبیہ اپنی آنکھوں میں اتار رہے تھے۔
    جمش جیسے ہی شاہ ماران کو ڈھونڈنے کے لیے وزیر سے الگ ہوا۔ وزیر نے اپنے ساتھ آئے بقیہ گھڑسواروں کو طلب کیا اور کہا:
    ”مجھے جمش پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے و ہ ہم سے جھوٹ بول رہا ہو۔ اسی لیے میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ چاہے جمش شاہ ماران کو حاضر کرے یا نہ کرے، دونوں صورتوں میں موت ہی اس کا مقدر بننی چاہیے۔ اگر تو وہ شاہ ماران کو حاضر کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے سلطنت کو گمراہ کرنے کے جرم میں موت ملے گی اور اگر وہ شاہ ماران کو لے بھی آتا ہے توبھی بادشاہ کو یہ بات کبھی پتا نہیں چلنی چاہیے کہ انہیں صحت یاب کرنے میں میرے علاوہ کوئی اور شامل تھا۔“ 
    وزیر کی یہ بات سن کر فوجیوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا اور وزیر کے چہرے پر ایک شیطانی ہنسی کھیلنے لگی۔
    جمش کی آواز پر شاہ ماران اپنی زیرِ زمین دنیا سے باہر چلی آئی۔ دونوں کچھ دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا دونوں کے درمیان ایسی گفتگو ہو رہی ہے جو صرف ان دونوں تک ہی محدود ہے کوئی اور اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔
    جمش کی نگاہیں شاہ ماران سے شکوہ کر رہی تھیں۔
    ”شاہ ماران تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ میں کبھی بھی وعدہ خلاف نہیں بننا چاہتا تھا، لیکن رات میں نے تمہیں خواب میں دیکھا اور پھر وہ ہی کر رہا ہوں جو تم نے کہا۔“ جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرانے لگی اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گویا ہوئی۔ 
    ”تمہیں اپنا خواب یاد ہے ناں۔“ 
    ”بالکل یاد ہے۔۔تم کل رات میرے خواب میں آئی تھیں اور تم نے ہی مجھے ہدایت دی تھی کہ میں کسی سے کچھ بھی کہے بغیر محل جاؤں اور وزیر کو تمہارے ٹھکانے تک لے آؤں لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا کہ تم ایسا کیوں کر رہی ہو۔ کیوں خود کو قربان کر رہی ہو؟“
    جمش کی یہ بات سن کر شاہ ماران مسکرائی اور کھوئے کھوئے لہجے میں بولی: 
    ”جمش! ہم سانپوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ہم فطرتاً ایذا پسند، ظالم اور بدلے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، لیکن تمہاری شاہ ماران ایسی نہیں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ تمہاری روح پاک ہے۔ تمہیں اس خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے۔ میں اپنی حکمت سے دیکھ چکی ہوں کہ یہ وزیر تمہاری جان کے درپے ہے۔ چاہے تم مجھے اس کے سامنے لیکر جاؤ یا نہ لیکر جاؤ، اس نے تمہیں مارنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ تمہیں مار کر وہ میری کھوج میں اس سارے جنگل کو آگ لگا دیتا۔ میری رعایا جل کر بھسم ہو جاتی۔ میں نہ تمہیں مرتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں اور نہ اپنی رعایا کو۔ اس لیے وزیر کے سامنے جانے کے بعد بھی جیسا میں کہوں تم ویسا ہی کرنا۔ امید ہے تم میری یہ آخری گزارش ضرور مانو گے۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر جمش نے انتہائی عقیدت اور محبت سے اس پیار و ایثار کی دیوی کو دیکھا جو اپنی محبت اور اپنے فرض کے لیے اپنی جان تک دینے سے گریز نہیں کر رہی تھی۔ اس لمحے جمش کو شاہ ماران سے ایک بار پھر محبت ہو گئی۔ جمش کے ساتھ آئے گھڑ سوار بھی شاہ ماران کو دیکھ کر مبہوت رہ گئے۔ اس کاحسن ایسے ہی سب کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتا تھا۔بالاخر جمش اور شاہ ماران کے درمیان ساری باتیں ختم ہوئیں اور جمش شاہ ماران کو لیکر اس سمت بڑھا جہاں وزیر ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔
    شاہ ماران کو دیکھ کر وزیر بھی ایک لمحے کے لیے گنگ رہ گیا۔ اتنا مکمل حسن کسی نے کہاں دیکھا تھا۔ وزیر کو اپنی جانب متوجہ پاکر شاہ ماران ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی:
    ”کیا بات ہے وزیرِ باتدبیر، مجھ سے ملنے کی اتنی بے تابی کیوں تھی تمہیں۔“
    شاہ ماران کی آواز پر وزیر اپنے حواسوں میں واپس آیا اور کہا:
    ”ہمارے بادشاہ بے حد بیمار ہیں اورسلطنت کے طبیب نے تمہاری ہلاکت میں ہی ان کی صحت مندی بیان کی ہے۔ اب یا تو تم خود رضاکارانہ طور مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ ہمارے پاس اور بھی کئی حربے ہیں۔“
    وزیر کی یہ بات سن کر شاہ ماران کے چہرے پر ایک طنزیہ ہنسی نظر آئی۔
    ”وزیر میرا نام شاہ ماران ہے میں سانپوں کی ملکہ ہوں اور ملکہ تو ہمیشہ ہی بادشاہ پر قربان ہوتی آئی ہے۔میں اس سلطنت کے لیے جان دینے پر تیار ہوں۔  مجھے مارنے کے بعد ایک برتن میں پانی ڈال کر میرے گوشت کو اس میں پکایا جائے۔ میرا گوشت کھانے سے بادشاہ کو ان کی بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی، لیکن میری ایک گزارش ہے اس برتن کا پانی جمش کو پلایاجائے کیونکہ جو شخص یہ پانی پیے گا اسے حکمت اور دانائی کی لا زوال قوتیں مل جائیں گی اور وہ شخص درازی عمر پائے گا جبکہ کوئی بیماری اسے چھو کر بھی نہیں گزرے گی۔ میں چاہتی ہوں میرے مرنے کے بعد جمش کو یہ تمام فوائد حاصل ہوں۔“
    شاہ ماران کی یہ بات سن کر وزیر کے چہرے پر ایک کمینی سی ہنسی دکھائی دی اور اس نے شاہ ماران سے وعدہ کر لیا کہ جیسا وہ چاہتی ہے ویسا ہی ہوگا۔
    اور پھر سب نے دیکھا کہ حسن و خوبصورتی کا استعارہ وہ ملکہ جو ایک آدم زاد سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی۔ اس کی محبت میں خود کو فنا کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ وزیر کے ساتھ آئے گھڑسوار شاہ ماران کو باندھنے کے لیے آگے بڑھے تو شاہ ماران نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں منع کیا اور اپنے ساتھ لائے خنجر سے پلک جھپکتے میں اپنی نس کاٹ لی۔ شاہ ماران غش کھا کر گرنے لگی تو جمش نے اسے سنبھال لیا۔ جمش کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر شاہ ماران کے چہرے کو عقیدت سے دھو رہے تھے اور شاہ ماران کی بند آنکھوں میں آخری شبیہ جمش کی ہی لہرا رہی تھی اور پھر شاہ ماران نے دم توڑ دیا۔
        وزیر نے یہ دیکھا تو اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ جمش کو شاہ ماران سے الگ کر دیا جائے۔ جمش جو شاہ ماران کو چھوڑنے کے لیے راضی نہیں تھا۔ اسے کھینچ کر شاہ ماران سے الگ کیا گیا اور شاہ ماران کے جسم کے ٹکڑے کر کے اسے ایک بڑے سے برتن میں ڈال کر پکایا جانے لگا۔ شاہ ماران کی ہدایت کے مطابق جب اس برتن کا پانی جمش کو دینے کے لیے سپاہی وزیر کے پاس اس کی اجازت لینے گئے تو وزیر نے ان کے ہاتھ سے برتن لے کر ایک ہی سانس میں پورے کا پورا پانی اپنے حلق میں اتار لیا۔
    لیکن یہ کیا، پانی پیتے ہی وزیر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔وہ اپنے حلق پر ہاتھ رکھے چیختا ہوا زمین پر گرا اور خون کا ایک فوارا سا اس کے حلق سے بر آمد ہوا۔بس ایک لمحہ ہی لگا تھا کہ اس لالچی وزیر کا خاتمہ ہونے میں۔شاہ ماران جانتی تھی کہ اس پانی کی تاثیر کا سنتے ہی وزیر جمش کو یہ پانی پینے نہیں دے گا اور وہ یہ ہی چاہتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ یہ پانی وزیر کی ہلاکت کا کام کرے گا اوریہ پانی پیتے ہی مکار وزیر کا خاتمہ ہو جائے گا اور ویسا ہی ہوا۔ محض ایک لمحے میں ہی وزیر کا تڑپتا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کے ساتھ آئے فوجی بھی حیران و پریشان کھڑے صورتحال کو سمجھنے کو کوشش کر رہے تھے جبکہ جمش کے دل میں شاہ ماران کی عقیدت کئی گنا اور بڑھ گئی تھی۔
    شاہ ماران جانتی تھی کہ وزیر جمش کو مارنے کے درپے ہے۔ وہ خود اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی جمش کی حفاظت کا انتظام کر گئی تھی۔ وہ وزیر کی فطرت پہچان گئی تھی۔۔جانتی تھی کہ اس پانی کی خوبیوں کے بارے میں سنتے ہی وزیر وہ پانی پی جائے گا اور مر جائے گا۔یوں وہ مر کر بھی اپنی محبت کو امر کر گئی۔
    جمش کو اس صورتحال کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی اور پھر وہ اپنے ساتھ آئے سپاہیوں سے گویا ہوا: 
    ”تم سب نے دیکھا کہ ابھی کیا ہوا۔ وزیر باتدبیر نے لالچ کیا اور اپنے انجام کو پہنچا اگر تم لوگ بھی اپنی عافیت چاہتے ہو تو وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔ تم سب دیکھ ہی چکے ہو کہ میری نیت بالکل صاف تھی۔ میں ایک وفادار رعایا کی طرح بادشاہ کو ان کی بیماری سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ اب اگر تم سب بھی اپنی خیریت چاہتے ہو تو شاہ ماران کی قربانی کو ضائع ہونے سے بچاؤ اورمحل کی جانب کوچ کرو۔ ہمیں جلد از جلد یہ گوشت بادشاہ کو کھلا کر انہیں اس موذی مرض سے نجات دلانی ہے۔“
    سپاہیوں پر جمش کی باتوں کا اثر ہوا وہ اپنی آنکھوں سے ہی دیکھ چکے تھے کہ یہ شخص مخلص ہے، چنانچہ فوراً ہی خیمے سمیٹے گئے اور محل کی جانب کوچ کیا گیا۔ محل پہنچتے ہی جمش بادشاہ کے روبرو پیش ہوا۔ بادشاہ کے سامنے شاہ ماران کا گوشت پیش کیا گیا۔ جیسے جیسے بادشاہ گوشت کھاتا گیا اس کے جسم میں نئی زندگی دوڑتی گئی اور آخری لقمہ لینے تک بادشاہ بالکل بھلا چنگا ہو چکا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہ ہی بادشاہ ہے جو پچھلے کئی مہینوں سے صاحبِ فراش تھا۔
      جمش نے جنگل میں پیش آئے واقعہ کی تفصیلات بادشاہ کے گوش گزار کیں۔ بادشاہ جہاں شاہ ماران کی محبت اور قربانی کا سن کر حیران ہوا وہیں وزیر کی مکاری اور اپنی بے خبری پر افسوس کا اظہار کیا۔ تمام سچائی سننے کے بعد بادشاہ نے جمش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سلطنت کا وزیر مقرر کر دیا۔
    ”میں اپنی صحت یابی کے لیے شاہ ماران اور جمش کا شکرگزارہوں جمش کو خداوند نے ”اجنہ“ سے نوازا ہے اور اسی لیے میں اپنی سلطنت کی فلاح کے لیے جمش کو آپ سب کا نیا وزیر مقرر کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جمش اپنے فرائض بخوبی انجام دیں گے۔“ 
    یوں سب نے جمش کو اپنا نیا وزیر مان لیا اور جمش نے بھی انتہائی ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
    سانپ جو ہمیشہ ہی نفرت اور سراسیمگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس واقعے کے بعد سلطنت میں ان کے بارے میں سب کی رائے یکایک بدل گئی۔ ایک سانپ کی ایک آدم زاد سے ایسی محبت پر سب انگشت بدنداں تھے۔
    کہتے ہیں کہ جب جمش کی وفات ہوئی تو اس کے جنازے میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سانپوں کو بھی دیکھا گیا۔یہ سانپ سب سے الگ تھلگ ایک قطار میں چلے جا رہے تھے۔ ہو سکتا ہے یہ سانپ اپنی ملکہ کے محبوب کے آخری دیدار کو آئے ہوں۔
    عین ممکن ہے کہ اس دنیا میں نہ سہی لیکن ہماری دنیا سے متوازی جو ایک اور دنیا موجود ہے اس میں ”اجنہ“ کے باعث ”جمش“ اور ”شاہ ماران“ پھر ایک ہو گئے ہوں۔ کیا پتا شاہ ماران جس نے اپنی محبت میں خود کو فنا کر دیا۔۔دوسری دنیا میں اپنے محبوب کو پا کر اپنی محبت کی طرح امر ہو گئی ہو۔
    ____________________________________________________________________

  • آشنا ۔ افسانہ

    آشنا ۔ افسانہ

    آشنا
    شاہ رخ نذیر

    رات کی سیاہ چادر سے نکل کر صبح کی پہلی کرن نمودار ہوئی، فجر کی نماز کے بعد وہ معمول کے مطابق لان مےں آگئی تھی۔ گھاس پر گری اوس کو محسوس کرنے کے لےے چپل لال اےنٹوں کی روش پر اتار کر ننگے پاﺅں گھاس پر چلنے لگی۔ لان مےں چہار سو خاموشی تھی مگر اس کے اندر اےک عجےب سی ہلچل مچی تھی۔ وہ خالی نظروں سے آسمان کو دےکھنے لگی۔ بھوری شربتی آنکھوں کے کٹورے گرم پانی سے بھرنے لگے اور پلک جھپکتے ہی گوہرِناےاب سےپ سے نکل کر گال پر بہ گئے۔ لفظوں کی مےخےں کانوں مےں پےوست ہونے لگےں ۔ چڑےوں کی چہچہاہٹ نے خاموشی کا طلسم توڑاتو ہاتھوں کی پشت سے آنکھےں رگڑتے ہوئے سےنے مےں قےد سانس آہ کی صورت خنک ہوا کے سپرد کی اور واپس گھر کے اندر چلی گئی۔
    صبح ناشتے کی مےز پر ہاشم کے سوا سب ہی موجود تھے۔ افق ناشتا ٹےبل پر لگوانے کے بعد سےدھی ہاشم کے کمرے کی طرف آگئی۔ دروازے پر دستک دےنے کے ساتھ وہ ہاشم کو آواز بھی دے رہی تھی۔ کھٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلاتو سامنے کھڑے شخص کو دےکھ کر وہ تقرےباً چلّا اٹھی۔
    ”تم“؟
    ”تم کب آئے“؟ آواز مےں خوشی نماےاں تھی۔
    ”رات چار بجے۔“ وہ دروازے سے ہٹا اور اونگھتاہوا واپس کمرے مےں چلا گےا۔ پھر بےڈ پر گرتے ہوئے تقرےباًنےم دراز ہوگےا۔
    ”مےں تائی امی کو بتاتی ہوں ، تم اور ہاشم بھائی جلدی سے ناشتے کے لےے آجاﺅ“۔ وہ کہتی ہوئی دروازے ہی سے پلٹ گئی ۔ کمرے مےں ہاشم کے علاوہ حسّان بھی موجود تھا۔ وہ آج صبح ہی اسلام آباد سے آےا تھا۔ پچھلے اےک سال سے وہ بزنس کے سلسلے مےں اسلام آباد مےں مقےم تھا۔ آج ناشتے کی مےز پر خوشی کا سماں تھا، حسّان اتنے دنوں بعد جو آےا تھا۔
    ٭….٭….٭
    فاخرہ اور افق بہت چھوٹی تھےں جب ان کے والدےن کا انتقال ہوا۔ عبےد حےدر، افق کے تاےااسے اپنے ساتھ لے آئے تھے جب کہ فاخرہ کو صائمہ پھوپھو نے پالا تھا۔ ہاشم، حسّان ردا اور وردہ عبےد حےدر کے بچے تھے۔ حسّان اور افق بہت اچھے دوست تھے۔ دونوں اےک دوسرے کی ہر بات بنا کہے ہی سمجھ جاتے ۔ بچپن مےں وہ اپنی ہر بات اےک دوسرے سے شےئر کرتے، پر جوانی کی دہلےز پر قدم رکھتے ہی بہت کچھ بدل گےا تھا۔ وہ اب بھی بہت اچھے دوست تھے مگر اب افق اپنی باتےں حسّان سے شےئر نہیں کرتی تھی۔
    لان مےں بکھری سرما کی نرم دھوپ مےں وہ لوگ بےٹھے کارڈز کھےل رہے تھے۔ جب ہاشم اور ردا مےں جھگڑا شروع ہوگےا۔ ہاشم مسلسل کارڈز مےں ہےرا پھےری کر رہاتھا۔ ردا اس حرکت سے بری طرح زچ ہوگئی تو کارڈز پھےنکتے ہوئے چلی گئی۔ ہاشم نے سر جھکا کر گرے ہوئے کارڈز کی جانب دےکھا اور کسی فاتح کی سی مسکراہٹ سجائے کہنے لگا:
    ”واہ جی …. اب خود ہار رہی ہے تو مجھے چےٹر کہہ رہی ہے۔“
    ”آپ اگر اےسے ہی کرتے رہے نا تو ہاشم بھائی اگلی بار کوئی آپ کے ساتھ کھےلے گا نہےں۔“ افق نے مصنوعی رعب دکھاےا تو ہاشم کھل کر ہنس دیا۔
    ”کےا ہورہا ہے بھئی؟ لگتا ہے کوئی محفل جمی ہے ےہاں تو“ حسّان داخلی دروازے سے اندر آےا تو ان سب کو وہاں موجود پا کر سےدھا ان کے پا س چلا آےا۔
    ”کچھ نہےں ، ہاشم بھائی بھر پور طرےقے سے چےٹنگ کر رہے ہےں۔“ وردہ بھی ردا کی زبان بولی۔
    ”ارے ےہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے ےہ ہاشم تو پےدائشی چےٹر ہے۔“
    ”افق اچھی سی کافی تو بنا دو پلےز۔“ حسّان کرسی کھےنچ کر ہاشم کے مقابل بےٹھ گےا تو وردہ اور افق اٹھ کر اندر چلی گئےں۔ ہاشم حسّان سے کتنی دےر بزنس کے بارے مےں باتےں کرتا رہا۔ پھر اچانک ہی کچھ ےاد آنے پر وہ توقف کے بعد بولا۔
    ”افق کے لےے رشتہ آےا تھا پچھلے دنوں۔“ حسّان جو مصروفےت سے موبائل دےکھ رہا تھا، ہاشم کی آواز پر اسکرےن پر چلتا اس کا ہاتھ رُک گےا اور وہ ذرا سےدھا ہوکر بےٹھ گےا۔
    ”اس بار بھی…. اس با ر بھی انکار ہوگےا۔ وجہ وہ ہی تھی۔“ ہاشم نے کچھ جھجکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تو حسّان کی سپاٹ پےشانی پر سلوٹےں نمودار ہوگئےں۔ افق کے لےے پچھلے اےک سال مےں کئی رشتے آئے تھے مگر ہر جگہ سے ےکے بعد دےگرے انکار سُن کر گھر مےں تقرےباً سب ہی پرےشان تھے۔ ہاشم جب بھی اسے رشتوں کے انکار کی وجہ بتاتا تو وہ اےک دم ہی بھڑک اٹھتا۔ ان سب باتوں کے درمےان اسے سب سے پہلے افق کا خےال آتا، وہ جانتا تھاکہ وہ اپنی تکلےف اور دکھ کسی سے شےئر نہےں کرے گی۔ وہ افق کی عادات سے بہت اچھی طرح واقف تھا، اسے معلوم تھا کہ وہ ان لوگوں مےں سے نہےں ہے جو اپنے دکھوں کا اشتہار لگائے گھومتے ہےں۔
    ٭….٭….٭
    وہ کچن مےں اپنے لےے چائے بنا رہا تھا جب لاﺅنج سے آتی آوازےں اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔ وہ قدم قدم چلتا ہوا کچن کے دروازے تک آےا تو آوازوں نے لفظوں کاسہارا لے کر مفہوم دماغ تک پہنچاےا تھا۔ باہر سلمیٰ عبےد کی دوست ان پر بگڑ رہی تھےں۔
    ”نہےں بھئی، مجھے معاف کرو سلمیٰ ، اس بار مےں کوئی رشتہ نہےں لانے والی۔ پچھلی بار مجھ سے باتےں چھپا کر تم نے اچھا نہےں کےا ان باتوں کی وجہ سے مےری اتنی بے عزّتی ہوئی لڑکے والوں کے سامنے۔ وہ تو اچھا ہوا پہلے ہی پتا چل گےا سب ، ورنہ بعد مےں پتاچلتا تو سارا الزام مےرے سر آتا۔ وےسے اےک بات ہے سلمیٰ جب سب کہہ رہے ہےں تو کچھ تو سچائی ہوگی ان باتوں مےں۔ تمہیں مجھ سے ےہ سب چھپانا نہےں چاہیے تھا۔“
    سلمیٰ عبےد خاموشی سے سر جھکائے ان کی باتےں سُن رہی تھی۔ حسّان جو کچن کے دروازے میں کھڑا سب سن رہا تھا ، ےک لخت ہی غصّے مےں آگیا۔ تےزی سے چلتا ہوا لاﺅنج مےں آےا اور کچھ کہنے کے ارادے سے لب وا ہی کیے تھے کہ سلمیٰ نے آنکھ کے اشارے سے روک دےا۔ وہ مٹھی بھنچتے اور دانت پےستے ہوئے وہاں سے چلا گےا۔ سلمیٰ بھی اپنی دوست کے جانے کے بعد افق کے کمرے مےں آگئی۔ وہ اس وقت اسٹڈی سے چند کتابےں لا کر پڑھنے بےٹھی تھی۔سلمیٰ خاموشی سے اس کے پاس آکر بےٹھ گئےں۔
    ”کچھ کہنا چاہتی ہےں تائی امّی؟“ وہ سلمیٰ کے چہرے پر پرےشانی کے تاثرات بآسانی دےکھ سکتی تھی۔
    ”کل تم اچھے سے تےار ہو جانا اور وردہ، ردا کے ساتھ مل کر کھانے کے انتظامات بھی دےکھ لےنا۔“ وہ جانتی تھی سلمیٰ کس بارے مےں بات کر رہی ہےں۔ پھر بھی وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز مےں سلمیٰ کی طرف دےکھنے لگی۔ صحےح تو ہے، تکلےف سے بچنے کے لےے کچھ باتےں نہ ہی سمجھی جائےں تو اس مےں مضائقہ ہی کےا ہے۔ اگلے دن ساری تےارےاں مکمل کر کے تاےا ابّو اور تائی امّی لڑکے والوں کا انتظار کر رہے تھے۔ جب لڑکے والوں نے فون کر کے آنے سے انکار کردےا تو سلمیٰ تائی کے سارے خدشات ےک لخت ہی ےقےن مےں بدل گئے۔ ان کو یہی ڈر تھا کہ اس بار بھی انکار نہ ہوجائے اور پھر اےسا ہی ہوا تھا۔ لاﺅنج مےں عجےب سا سکوت طاری تھا، کبھی کبھار کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے پر لگتا ہے لفظ ہم سے روٹھ کر کہےں دور جا بےٹھے ہےں۔ اےک طوےل خاموشی کے بعد سلمیٰ عبےد نے کہنا شروع کےا۔
    ”آخر اور کتنی جگہ سے اےسے ہی انکار سننا پڑے گا۔ صرف افق کا ہی تو گھر نہےں بسانا ہمےں، وردہ اور ردا کا بھی تو سوچنا ہے۔ خےر اےک رشتہ آےا تھا پر مےں نے انہےں کچھ وقت سوچنے کا کہا تھا۔ اگر آپ کو ٹھےک لگے تو ان کو بلا لےں؟“سلمیٰ عبےد حےدر سے مخاطب تھیں۔
    ”کون سا رشتہ؟ آپ نے پہلے کےوں نہےں بتاےا؟“ عبےد حےدر نے انھےں کچھ اچنبھے سے دےکھا۔
    ”وہ دراصل۔ لڑکا…. مےرا مطلب …. آدمی کی پہلی بےوی کا انتقال ہوچکا ہے۔ پےنتالےس سال عمر ہے اور…. وردہ کی عُمر کی اےک بیٹی اور بےٹا ہے۔ مجھے اس وقت لگا کہ کوئی بہتر رشتہ مل جائے گا مگر اب جب سارے راستے بند لگنے لگے ہےں تو مجھے لگتا ہے ےہ ہی رشتہ ٹھےک ہے۔“ سلمیٰ عبےد نے تفصےلاً ساری بات بتائی تو عبےد حےدر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے۔
    ”ٹھےک ہے آپ ان لوگوں کو بلا لےں، پھر دےکھتے ہےں۔“
    ”نہےں بابا، مجھے لگتا ہے ہمےں کوئی اور اچھا رشتہ دےکھنا چاہےے۔“ حسّان نے تحمل سے کہا۔
    ”ےہ رشتہ بھی بہت اچھا ہے اس مےں کےا برائی ہے؟“سلمیٰ عبےد نے حسّان کو ٹوکا۔
    ”افق سے دُگنی عمر ہے اس آدمی کی، جوان بچے بھی ہےں اور آپ کہہ رہی ہےں….“ حسّان نے لفظوں کو چباتے ہوئے بات ادھوری چھوڑدی۔
    ”تو کےا ہوا، ہاشم کی منکوحہ بھی تو اس سے عمر مےں چھوٹی ہے۔“ حسّان کے لب استہزائےہ ٹےڑھے ہوئے، سلمیٰ نے کتنی کمزور دلےل دی تھی۔
    ”عافےہ بھابھی صرف دو سال چھوٹی ہےں ہاشم سے اور ہاشم کے جوان بچے بھی نہےں ہیں۔“
    ”کتنی ہی جگہ سے تو انکار ہوچکا ہے اور اب اتنی مشکل سے تو ےہ اےک رشتہ آےا ہے، اسے بھی تم لوگ ٹھکرا رہے ہو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہوکہ ہر جگہ سے انکار کےوں ہو رہا ہے۔“ سلمیٰ کچھ جھجکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    ”بہت بوگس وجہ ہے لوگوں کے انکار کی۔ اگر وہ طلاق ےافتہ ہے تو اس مےں افق کی کےا غلطی ہے، اور پلےز بابا اےک بار تو آپ اس پر ظلم کر چکے ہےں اس فےضی سے شادی کروا کر خدارا اب کی بار کچھ اےسا مت کےجئے گا جس سے اس کی تکلےف مےں مزےد اضافہ ہو۔“ حسّان غصّے مےں کہتا ہوا لاﺅنج سے باہر نکل گےا اور پےچھے سب اےک دوسرے کا منہ تکتے رہے۔
    ٭….٭….٭

  • گھر سے مکان تک ۔ افسانہ

     

    گھر سے مکان تک
    افسانہ
    زارا باجوہ

    کبھی کبھی خود سے کیے گئے عہد یوں چکنا چور ہوتے ہیں کہ انسان خود سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ وہ یہ سمجھی تھی کہ اپنی قسمت کا فیصلہ وہ خود کرے گی۔ اپنی ضد سے وہ اپنی کھوئی ہوئی عزتِ نفس  حاصل کر لے گی۔ مگر زندگی……آہ! زندگی بڑی استاد ہے۔ ایسے ایسے سبق سکھا جاتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہم وہی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو نہ کرنے کی قسم کھا چکے ہوں۔ آج یہی منال اکبر کے ساتھ ہوا تھا اور اس ناکامی کو ہضم کرنے میں شاید اس کی ساری عمر کٹ جانی تھی۔
    ٭……٭……٭
    ”امی! مجھے نہیں جانا بس۔“ منال عجیب سے لہجے میں کہتی ہوئی بیڈ پر لیٹے ہلکی سپیڈ پر چلتے پنکھے کی جانب یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔
    ”بیٹا! کیسی باتیں کررہی ہو؟“ امی نے فکرمندی سے کہا۔
    ”میرا دل پِھر گیا ہے اُس سے۔ میں اس کے گھر میں کبھی واپس نہیں جاؤں گی۔“ اس نے آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے کہا۔ جیسے مزید بات کرنانہ  چاہ رہی ہو۔
    ”کیا مطلب ہے تمہارا دل پِھر گیا ہے؟ ہر میاں بیوی میں اَن بن ہو جایا کرتی ہے۔ مگر اس طرح دل اچاٹ کر لینے سے گھر تھوڑی بستے ہیں؟ بات ختم کرو اور اپنے گھر جاؤ۔“ اب کی بار امی نے قدرے سختی سے کہا تھا۔
    ”میں تھک گئی ہوں امی! مجھے لگتا ہے میری روح تک فنا ہوگئی ہے۔“
    وہ جانتی تھیں کہ وہ اس وقت اذیت میں ہے۔ مگر ماں ہونے کے ناطے اسے غلط فیصلہ بھی کرنے نہیں دے سکتی تھیں۔ انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ پکڑا اور نرمی سے سمجھانے لگیں۔
    ”منال! غلطی کسی کی بھی ہو۔ جھکنا ہر حال میں عورت کو ہی پڑتا ہے۔ اٹھو میرا بیٹا، منہ ہاتھ دھو، کپڑے بدلو، میں کسی رکشے کا پتا کرتی ہوں۔“ وہ اٹھنے لگیں تو منال نے سختی سے ان کا بازو پکڑا۔
    ”امی! آپ کو میری بات کیوں سمجھ میں نہیں آرہی۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔“ ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا گیا۔ اب کی بار آنکھوں میں رضیہ بیگم کوضد اور ہٹ دھرمی نظر آئی تھی۔
    ”تو کیا ساری زندگی یہیں رہو گی؟ عورت جتنی جلدی واپسی کا سفر کر لے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ دیر ہو جائے تو انا کو مارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ باتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی عورت احساسِ ندامت اور شرمندگی کی چکی میں پسنے لگتی ہے اور بیٹا! یہ نہ ہو کہ ایک وقت آئے کہ تمہارا دل آمادہ ہو جائے واپسی کے لیے اور وہاں کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے ہوں۔“ انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
    ”امی! وہ دروازے میرے لیے کبھی نہیں کھلے۔ میں دستک دیتی رہی۔ میرے ہاتھ زخمی ہوگئے مگر اس شخص کے دل پر ایسا قفل لگا تھا کہ میں اپنا سب کچھ ہار کر بھی اُسے جیت نہ پائی۔ اس کے مکان کو گھر بناتے بناتے میں نے خود کی ذات کو ختم کردیا۔ اس کے نزدیک میں غلط ہی رہی۔ بیوقوف ہی رہی۔“ اس کی آنکھیں خشک تھیں مگر لہجہ بھیگا ہوا تھا۔
    ”سائبان سر پر نہ رہے تو اس کے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔“ وہ اس کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے کہنے لگیں۔
    ”دل بغاوت پر اُتر آیا ہے امی۔“ وہ انہیں تکلیف سے کراہتی ہوئی محسوس ہوئی۔
    ”عورت ذات ہو اور دل کی سن رہی ہو؟ یہ معاشرہ عورت کو دل سے سوچنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں زندگیاں گزر جاتی ہیں اور عورت کی زندگی سے بے قدری کی دھند نہیں چھٹ پاتی۔ یہاں تو دماغ کی سننی پڑتی ہے تب کہیں جا کر زمانے کی سہنے کے قابل ہو پاتی ہے ایک عورت دل کے راستے چلنے والے اکثر پچھتاتے ہیں منال۔“ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے پیار سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”تو؟ اب تک دماغ کی ہی تو سنتی آئی ہوں میں۔ کون سے میڈل مل گئے مجھے؟“ اب لہجے میں مایوسی نہیں غصہ تھا۔
    ”ایک بات کہوں؟ سننے کی ہمت ہے؟“ امی نے کہا۔
    ”سب سہہ سکتی ہوں میں!“ وہ تلخی سے مسکرائی۔
    ”گھر کی چار دیواری میں کسی ایک مرد سے ذلیل ہونا بہتر ہے۔ یہاں گھر سے قدم نکلا اور اَن گنت مردوں کے ذلالت بھرے تیر عورت کی آبرو پر اس طرح لگتے ہیں کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اُسی گھر میں بھلی تھی۔ وہاں ایک تھا اور باہر ہزاروں۔“
    آج منال کو محسوس ہورہا تھا کہ اس کی ماں بھی نہ جانے کیا کیا سہتی آئی تھی۔ ابا کا انتقال جب وہ میٹرک میں تھی، ہوگیا تھا۔ ہاشم، اس کا چھوٹا بھائی اس وقت چوتھی کلاس میں تھا مگر اماں آج جس طرح اسے سمجھا رہی تھیں۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے ابا بھی بالکل کوئی عام مرد ہی تھے۔
    ”امی! یہ پرانے دور کی باتیں ہیں۔ آج کے دور کی عورت اتنی کمزور نہیں کہ مرد کی محتاج ہو۔ پڑھی لکھی ہوں، نوکری کروں گی، اتنی بھی کیا بے بسی۔“ وہ شاید اب خود کو سمجھا رہی تھی۔ امی تلخی سے مسکرائیں۔ بیڈ سے اُٹھتے ہوئے کہنے لگیں۔
    ”زمانہ عورت کے لیے ایک سا ہے۔ کل بھی یہی کِل کِل تھی اور آج بھی۔“
    امی کمرے سے جا چکی تھیں اور منال ہاتھوں کی انگلیوں سے بیڈ شیٹ پر بنے ڈیزائن پر کوئی محل بنا رہی تھی اور پھر ہتھیلی سے مٹا رہی تھی۔
    ٭……٭……٭

    اسے آئے ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ ہوچکا تھا اور وہ اپنی ضد پر ویسے ہی قائم تھی۔ رضیہ بیگم کو اب فکر ستانے لگی تھی۔ ہاشم ابھی چھوٹا تھا کہ وہ اس سے کوئی مشورہ کرتیں اور منال سے کوئی بات کرنا فضول تھا۔ اسی لیے آج ہمت کرکے انہوں نے اسجد کو فون کیا۔
    ”السلام علیکم بیٹے!“ انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔
    ”جی!“ اس نے سلام کا جواب بھی نہ دیا تھا۔
    ”اسجد بیٹا! میں جانتی ہوں منال ناسمجھ ہے۔ جانے انجانے میں اس سے غلطی ہوگئی۔ بیٹے مگر تم میچور ہو۔ اسے معاف کردو اور آج آفس سے واپسی پر اسے لیتے ہوئے جاؤ۔“
    ”آنٹی! اس کا دماغ سدا کا خراب ہے۔ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے۔ میں نے اسے نہیں نکالا۔ آنا ہوگا تو خود آجائے گی۔ میں نہیں آؤں گا۔“ وہ بے اعتنائی  سے کہہ رہا تھا۔
    ”چلیں بیٹا میں معافی مانگتی ہوں اس کی جگہ۔“ ان کے لہجے میں التجا تھی اور چہرے سے ایک مجبور ماں کی طرح بے بسی جھلک رہی تھی۔ منال کچن میں چائے بنانے جارہی تھی جب اس نے یہ گفتگو سنی۔ وہ غصے سے چلتی ہوئی آئی اور فون ان کے ہاتھ سے پکڑ کر کاٹ دیا۔
    ”دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟ میں بات کررہی تھی اس سے۔ منا رہی تھی اسے۔“ انہیں غصہ آگیا۔
    ”امی! اب ہی تو دماغ ٹھیک ہوا ہے میرا۔ آپ نے خواہ مخواہ اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔“ وہ اپنی ضد پرقائم تھی۔
    ”کوسو گی اس وقت کو تم۔ کون سے خزانے دھرے ہیں یہاں جن کی آڑ میں اتنا اکڑ رہی ہو۔ ساری جمع پونجی لگا کر تمہیں بیاہا تھا۔ سوچا تھا اب سکون ہی سکون ہوگا، مگر نہیں۔ یہاں تو مزاج ہیں کہ سیدھے ہی نہیں ہورہے تمہارے۔“
    ”امی میں بوجھ ہوں آپ پر؟ کیا بیاہ دینے کے بعد بیٹی کا اپنے گھر سے ہر حق ختم ہو جاتا ہے؟“ اب وہ رونے لگی تھی۔
    ”ہاں یہی سمجھ لو۔ بوجھ ہو تم اور تمہارا کوئی حق نہیں یہاں پر۔ اپنی کمزور اور بے بس ماں کی مجبوری نہیں سمجھ رہیں تم۔ آج میں ہوں۔ کل کلاں کو جب میں مر گئی تو دیکھو گی ہاشم کی بیوی تمہیں کتنے دن ٹکنے دیتی ہے۔ مجھے ظالم سمجھنا ہے سمجھو۔ دشمن سمجھنا ہے سمجھو، مگر خدا کے لیے اپنا گھر بچا لو۔“ وہ روتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگیں۔
    ”امی! میری کوئی عزت نفس نہیں؟ میرا کوئی گھر بھی نہیں؟ کون ہوں میں؟ نہ کسی کی بیٹی، نہ بہن، نہ بیوی، آخر کون ہوں میں؟ اوقات کیا ہے میری؟ دو سال۔ دو سال میں نے کبھی کوئی شکایت کی؟ کبھی آپ کو اپنے دل پر بیتنے والی تکلیف بتائی۔ نہیں ناں؟“
    ”دو سال؟ منال دو سال میں تو مرد کا صرف مزاج ہی سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے بعد عورت خود کو اس کے مطابق بدلنے لگتی ہے۔ ایک بار ڈھے کر پھر سے بننا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر مرد کے دل میں جگہ بنتی ہے۔“
    ”بس کردیں امی! آپ جتنا مجھے سمجھاتی ہیں میں اتنی ہی باغی ہوجاتی ہوں۔“ وہ غصے میں وہاں سے چلی گئی۔
    ٭……٭……٭

  • صبح سویرے آئے چڑیا

    صبح سویرے آئے چڑیا

    محمد اکرام انجم میواتی

    صبح سویرے آئے چڑیا

    آکے شور مچائے چڑیا

    چُو چُو چوں، چُو چُو چوں

    سوتے بچے جگائے چڑیا

    منہ جو کھولے اللہ بولے

    گُن خدا کے گائے چڑیا

    جلدی اُٹھ کے باہر جاکے

    دن میں راحت پائے چڑیا

    دانہ دانہ ڈھونڈے کھانا

    دانہ دُنکا کھائے چڑیا

    تنکے جوڑے اُلٹے موڑے

    اپنا گھر بنائے چڑیا

    محنت کرتی دامن بھرتی

    سب کے من کو بھائے چڑیا

    صبح سویرے آئے چڑیا

    آکے شور مچائے چڑیا

    ٭…٭…٭

  • موسم ۔ نظیر فاطمہ

    موسم 

    نظیر فاطمہ

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    سردی آئے، مالٹے لائے

    ہر طرف سردی پھیلائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی ، خزاں، بہار

    گرمی آئے، آم لائے

    ہر طرف گرمی پھیلائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    خزاں آئے،درخت سُلائے

    اور ان کے پتّے گرائے

     

    ایک سال کے موسم چار

    سردی، گرمی، خزاں، بہار

    بہار آئے، درخت جگائے

    ہر طرف سبزا بچھائے

    ٭…٭…٭

     
  • جنگل میں دعوت

    جنگل میں دعوت

    ارسلان اللہ خان

     

    مسٹر بھالو نے کی یہ وِش

    رکھّیں جنگل میں ہم وَن ڈِش

     

    جوں ہی آیا طوطا قاضی

    ہوگیا سارا جنگل راضی

     

    دال کا دانہ چڑیا لائی

    بلّی حلوا لے کر آئی

     

    بندر آیا ناچتا گاتا

    لیکن گینڈا ہے شرماتا

     

    سارس کو یوں ہوئی ہے دیر

    لایا ہے وہ ڈھیروں بیر

     

    اچھی طرح سے کرکے بیک 

    ہرنی لائی ہے اک کیک

     

    شیر بھی آیا ، لومڑ بھی

    ساتھ ہیں بِلّا ، گیدڑ بھی

     

    لو جی بی بطّخ بھی آئیں

    چونچ میں اپنی بسکٹ لائیں

     

    کود کہ آیا ہے لنگور

    ہاتھ میں اُس کے ہے انگور

     

    میگی لایا ہے خرگوش

    کچھوا دیکھ کے ہے مدہوش

     

    آکر بولے مسٹر بھالو 

    دیکھو ہم لائے ہیں آلو

     

    آلو کے تُم چپس بنائو 

    سب کو فنگر چپس کھلائو

     

    مزے مزے کے کھانے آئے

    جو سب نے مِل جُل کر کھائے

     

    خود پر قابو نہ رکھ پائے

    مسٹر بھالو ناچے گائے

     

    سب نے دی پھر اُن کو داد 

    یہ تھی وَن ڈِش کی رُوداد

    ٭…٭…٭

     
  • روزے دار کو افطار کروانا – نیکی سیریز

    روزے دار کو افطار کروانا – نیکی سیریز

    نیکی سیریز

    روزے دار کو افطار کروانا

    عائشہ طاہر

    آج فاتح کا پہلا روزہ تھا اور امی نے افطار میں اسکی پسند کی ڈھیر ساری ڈشز بنائی تھیں،وہ بے صبری سے روزہ کھلنے کا منتظر تھا کہ اچانک اس کو درس حدیث میں سنی گئی روزے دار کو افطار کرانے کی فضیلت والی حدیث یادآگئی۔ وہ دسترخوان چھوڑ کر بھاگتا ہوا گھر سے نکل کر اپنے پڑوسی دوست خرم کے گھر پہنچا جو چھوٹے سے دسترخوان پر پانی کا گلاس سامنے رکھے پہلا روزہ کھولنے والا تھا، اس کا ہاتھ پکڑ کر فاتح حیران پریشان خرم کو اپنے گھر لے آیا اور برابر میں دسترخوان پر بٹھادیا تھا۔

    ٭…٭…٭

  • بن مانگے ۔ گل رانا

    بن مانگے ۔ گل رانا

    بن مانگے

    گل رانا

    "نی ماں اٹھ آج فیر جانا نی” رانی نے چڑھتے سورج کی دھوپ سے خود کو بچاتی اپنی ماں کو آواز دی۔ "جا تو چلی جا.. آج تاپ چڑھ گیا نی مینوں۔”

    اپنے الجھتے بالوں کو اس نے گچھا بناتے رانی سے کہا اور جھگی نما "کمرے” کا کپڑا گرا دیا۔

    رانو نے اپنا پیالا اٹھایاور چل پڑی۔ اسے مانگنا برُا لگتا تھا۔ ماں تو پھر بھی منتیں ترلوں سے دو چار جمع کر لیتی تھی وہ ایسے ہی بیٹھی رہتی۔ پیالا رکھ کے وہ آج بھی بیٹھی تھی۔ مانگے بنا کون دیتا ہے۔ اس نے خالی پیالے کو دیکھتے ہوئے سوچا..

    "پر ماں بیمار ہے۔ مجھے اس بابو سے مانگنا چاہیے وہ بھلا لگتا ہے دو چار پیسے دے گا۔”

    اس نے سامنے گاڑی کے پاس کھڑے بابو اور اس کے پیارے سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

    اس کا بھائی بھی بڑا پیارا تھا۔ تین دن کھانے کو کچھ نہ ملا تو چل بسا۔ سر جھٹکا اور بابو کے پاس آئی۔

    بنا کچھ کہے پیالہ آگے کیا اور اس نے نظر اٹھا کے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو مانگنے والی نہ لگتی تھی۔ پھر دوسری نظر اس کے پرانے کپڑے، گھسے جوتے اور الجھتے بالوں پہ، تیسری نظر میں حقارت جھلکنے لگی۔

    ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا پر وہ ٹھہری رہی۔ بابو کو غصہ آنے لگا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتا، رانو بھاگی اور سڑک سے اس کے پیارے سے بچے کو پکڑ کے پیچھے کی طرف دھکیلا اور پھرتی سے ہٹنے ہی لگی تھی کہ ایک اور بابو کی گاڑی نے اس کے وجود کو اٹھا کے پٹخ دیا۔

    اماں کہتی تھی اسے مانگنا نہیں آتا تھا۔ ایسے کوئی کچھ نہیں دیتا۔ وہ سوچتی تھی کہ کوئی تو ایسا ہو گا اللہ کا بندہ جو بن مانگے بھی دیتا ہوگا۔

    وہ وہی اللہ کی بندی تھی۔ جو خون میں لت پت ساکت پڑی تھی۔ گاڑی والا بابو اپنے بچے کی چوٹ کا اندازہ لگا رہا تھا اور اماں ابھی تک بخار میں پڑی سوچ رہی تھی۔

    جھلّی آج خالی ہاتھ ہی آئے گی۔

    ٭….٭….٭

  • اچھا اخلاق – نیکی سیریز

    اچھا اخلاق – نیکی سیریز

    نیکی سیریز

    اچھا اخلاق

    آئمہ بخاری (ڈیرہ غازی خان)

    "اگر تم مجھے مارو گی تو میں تمہیں زیادہ ماروں گی اس لیے آج نہ لڑنا مجھ سے”

    اریبہ اپنی دوست اقرا کو وارننگ دے رہی تھی۔

    "میں اپنی دوست سے کبھی نہیں لڑوں گی”

    اقرا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

    "تم ایک دن میں اتنی اچھی کیسے بن گئی؟”

    اریبہ نے شکی نگاہوں سے گھورتے ہوئے سوال کیا۔

    "ہمارے پیارے نبی حضرت محمدۖ نے فرمایا

    "البِر حسن الخلقِ”

    ترجمہ: "نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے”

    اقرا نے رسول اللہۖ کی حدیث سنائی تو اریبہ نے بھی اس  سے صلح کر لی۔

    ٭…٭…٭

  • سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے ۔ کمرشل رائٹنگ

    سکرپٹ لکھنے کے سات طریقے

    سکرپٹ جو ناول سے مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے

    -1 ساخت یا ڈھانچہ

    میں ابھی بچہ ہی تھا جب میرے انکل نے مجھے کاسابلانکا کا سکرپٹ دکھایا ۔ حتی کہ کچھ بڑا ہونے کے بعد میں مطالعہ کا شوقین ہو چکا تھا، تب میرا خیال ہے کہ میں نے کچھ غیر ملکی دستاویزات دیکھیں جو ان سب تحریروں سے مختلف تھیںجو اب تک میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ وہ دستاویزات بھی میری سمجھ سے باہر تھیں۔ جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میں نے کئی سکرین پلے پڑھے۔ تب وہ کچھ کچھ میری سمجھ میں آنے لگے تھے یوں کہیں کہ یا اب مجھے تحریر کی اونچ نیچ سمجھ آنے لگی تھی۔

    میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہمیں سکھایا گیا کہ سکرپٹ رائٹنگ کے دوران بہت سے کردار کھڑکی سے باہر چلے جاتے ہیں یعنی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ یہ کرو، وہ نہ کرو اس چکر میں تقریباً سارے کردار گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان سب مشکلات سے بچنے کے کچھ گُر ہیں، جو آج آپ کی رہنمائی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

    ایکشن لائنز سے متعلق تفصیلات زیادہ سے زیادہ تین سطروں پر مشتمل ہونی چاہئیں، تین سے کم ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ پورے سکرپٹ میں غیر ضروری تفصیلات سے قطعی اجتناب برتیں۔ بالکل اس طرح جیسے نظموں میں الفاظ محدود اور مطلب وسیع ہوتا ہے اسی اصول کے تحت کم سے کم الفاظ میں جامع تحریر لکھیں۔ تحریر کی وضاحت کے لیے ایکشن یا اس سین کی سیٹنگ میں وقت ضائع نہ کریں۔ کہانی کے کرداروں کو غیر واضح اور مبہم نہ چھوڑیں لیکن غیر ضروری تفصیلات سے پرہیز کریں۔ بیک سٹوری کے کردار اور فلم بینوں کو متوجہ کرنے کے لیے اضافی کوشش سود مند ثابت نہ ہو گی۔ کرداروں کے ایکشن اور مکالمے یہ کام بہتر طور پر کر سکیں گے۔

    تحریر کا ہر جملہ فعل حال میں لکھیں، اس سے کہانی متحرک اور جان دار ہونے کا تاثر دیتی ہے۔ یہی گُر تحریر کی حقیقی رُوح ہے۔ بہترین سکرین رائٹر، ایکشن کی تفصیلات ایک پیرا گراف میں دو لائنوں سے زیادہ نہیں لکھتا۔ اسی مختصر نویسی میں بہت سی تفصیلات بصری انداز میں لکھئے مثلاً جنگ زوروں پر تھی۔ اس جملے میں جنگ کی پوری شدت خود بہ خود آپ کے تصور میں آجاتی ہے۔

    یاد رکھئے کہ آپ صرف اُن اہم چیزوں کے بارے میں تفصیل سے لکھیں کہ جنہیں ہم اصل میں سکرین پر دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی غیر اہم چیزوں کو چھوڑ دیں اور انہیں کم سے کم الفاظ اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں ہی واضح کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی چیزوں کے لیے آپ تمثیلی الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں مختصر انداز میں ہی واضح کر سکتے ہیں۔

    سکرین پلے کے ابتدائیہ کے حوالے سے کچھ مثالیں درج ذیل ہیں جن کی مدد سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ تاثر کس طرح اُبھارا جا سکتا ہے:

    ”نیوی کے مضبوط اور پختہ بیراج سے زبردست گھن گرج کی آوازیں سنائی دیں۔ اتنی خوف ناک آوازیں تھیں کہ پورا جسم لرز کر رہ گیا اور کانوں کے پردے جیسے پھٹ گئے ہوں۔“

    ”جرمن تو پ خانہ کی طرف سے دھواں دھار بم باری تباہی مچا رہی ہے، سینکڑوں جرمن مشین گنیں شعلے اُگل رہی ہیں۔“

    ”درد اور بھوک کا مارا مفلوک الحال شخص، بھری پُری سڑک پر جا رہا تھا۔“

    ان سب مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح تمثیلی انداز میں پورا منظر واضح کیا گیا ہے۔

    ان میں سے بہت سے فقرے گرائمر کے لحاظ سے اگرچہ نامکمل اور ادھورے محسوس ہوں گے مگر سکرین پلے کے لحاظ سے یہ مکمل ہوتے ہیں کیوں کہ ان جملوں کے بعد جو تصویر ہمارے ذہن میں بنتی ہے، وہی اصل نکتہ ہے۔

    -2 مکالمہ

    مکالمہ نگاری کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔

    طویل مکالمے

    آپ کا سکرپٹ آپ کی تحریر ہے مکالمہ بازی کا مقابلہ نہیں۔ اس میں آپ بہت بڑے اور طویل مکالمے نہیں لکھ سکتے۔

    طویل مکالمے گفت گو سے زیادہ خود کلامی کا تاثر دیتے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے سکرپٹ کے 95 فی صد مکالمے تین سطروں سے کم ہی ہوں۔

    ثانوی تحریر

    ثانوی تحریر سے مراد وہ سب دکھانا یا بتانا مقصود ہے، جو مکالمے سے ہٹ کر ہو، مثلاً ہیرو جو ہیروئن کی بے وفائی پر دُکھی ہے اور سڑک پر بے اختیار اُس کے پیچھے چلنے لگتا ہے۔ 

    کرداروں کے مختلف لہجے یاد رکھئے کہ کیوں کہ آپ کی تحریر کا ہر کردار ایک جیتا جاگتا بولتا ہوا انسان ہے۔ اس کا ایک اپنا مزاج اور پسند و نا پسند ہے۔ اپنی الگ شخصیت ہے۔ کرداروں کی اس رنگا رنگی کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ان کا اندازِ گفت گو ۔ ہر کردار اپنے بات کرنے کے انداز اور لہجے سے پہچانا جائے گا۔

    تاثرات سے اظہار

    بعض اوقات کردار کے مکالمے اتنے اہم نہیں جتنا اُن کے تاثرات یا باڈی لینگوئج، جو اس کردار کا بہترین تعارف ہوتے ہیں۔

    -3 White Space

    اس سے مراد چھوٹے چھوٹے مکالمات میں اپنا مطلب بہتر انداز میں واضح کرنا۔ بھاری بھر کم تحریر نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے میں بھی بوجھل لگتی ہے۔ سکرین رائٹنگ کی یہ نئی تکنیک مقبول عام ہے جس میں مختصر انداز میں لکھا گیا سکرپٹ نہ صرف دیکھنے والوں پر اچھا تاثر ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والوں کے لیے بھی دل کشی کا حامل ہوتا ہے۔

    -4 داخلے میں دیر، نکلنے میں جلدی (Enter late leave early)

    ناول نگاری میں آپ تمہید باندھتے ہوئے قاری کو ماحول کی جزئیات سے روشناس کراتے کسی منظر میں داخل کرتے ہیں اور دیر تک اسی منظر میں رہتے ہیں لیکن فلم اور ٹی وی میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں آپ سین میں داخل ہونے میں دیر تو لگا سکتے ہیں لیکن سین سے جلد نکلنا بہت ضروری ہے کیوں کہ اس طرح آپ بہت سی غیر ضروری تفصیلات سے بچ جاتے ہیں اور فلم بین بھی لمبے مناظر سے اُکتاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سین کا مختصر اور پاور فل ہونا بے حد ضروری ہے۔

    -5 کہانی کو سادہ سے سادہ رکھئے

    ناول نگاری میں آپ کے پاس خاصاوقت ہوتا ہے کہ پہلے آپ کہانی کو کرداروں سمیت خوب پھیلائیں اور پھر آخر میں الجھی ہوئی کہانی کو سمیٹ دیں۔ یہاں قاری اس بات کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے جب کہ فلم یا ڈرامہ اس کے برعکس ہو گا۔

    سکرپٹ میں بہت سارے کردار اور واقعات تخلیق نہیں کئے جا سکتے کیوں کہ سب سے انصاف کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے لہٰذا گنے چنے، چند بہت ضروری کردار ہی کہانی میں اس طرح رکھیں کہ آپ انہیں خوش اسلوبی سے ایک اچھا سا انجام دے سکیں۔ یوں جب آپ کی کہانی کلائمکس تک پہنچے تو دیکھنے والے اس میں پوری طرح شامل ہوں۔

    -6 30,000 فٹ ویو (30,000 Footview)

    ایک بات جو کسی بھی لکھاری کو قلم پکڑنے سے یا کی بورڈ پر انگلی رکھنے سے پہلے یاد رکھنی ہے وہ یہ کہ آپ زندگی کے کس طبقے کے لیے لکھ رہے ہیں؟

    مثال کے طور پرآپ ایک گھریلو فلم بنا رہے ہیں تو اسے خواتین زیادہ پسند کریں گی۔ رومانی فلم نوجوان کی پسندیدہ، کھیل سے متعلق، کھیلوں کے دلدادہ لوگ دیکھنا پسند کریں گے۔

    لیکن اگر یہ بھی بورنگ کا ٹائٹل پائیں گی تو ان موضوعات پر پسندیدگی کی نظر رکھنے والا مخصوص طبقہ بھی انہیں دیکھنے نہیں آئے گا۔ کسی بھی کہانی میں اس کے موضوع کے حوالے سے بھرپور اور دل چسپ مواد ہی اسے کامیاب بنا سکتا ہے۔

    آپ جس طبقے کے لیے بھی لکھ رہے ہیں کہانی کو تھرلنگ اور جان دار ہونا چاہیے۔ دل چسپ کہانی دیکھنے والوں کو اپنی طرف خود متوجہ کرے گی۔

    -7 مقصد (Aim Big)

    اگرچہ ہم مووی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں لیکن سٹوڈیو موویز میں ایک اوربات اہم ہوتی ہے اور وہ ہے set pieces۔ اس سے مراد ہے مناظر کا تسلسل اور ربط۔ واقعاتی تسلسل فلم کی خوب صورتی اور کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے۔کچھ لوگ اس اصطلاح کی جگہ ایک اور اصطلاح trailer moments بھی استعمال کرتے ہیں۔

    سکرین پلے کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ سیٹ پیس خوب صورت اور جکڑ لینے والا ہو مگر اس میں جنگ و جدل، خونی مناظر کم سے کم ہوں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ سوشل موضوعات پر، مار دھاڑ کے بغیر بنی فلموں نے زیادہ بزنس کیا ہے۔

    جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی اور CGi سے سیٹ پیسز زیادہ خوب صورت، واضح اور دل چسپ انداز میں آرہے ہیں۔ا س میں حقیقی اور ماورائی، دونوں طرح کے افی©کٹس استعمال ہو رہے ہیں۔