Tag: سو لفظی کہانی

  • زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس
    تنزیلہ احمد

    کافی دیر سے اپنی جگہ ساکت وہ آنکھوں میں افسردگی سموئے ہوئے تھی۔
    فراک کے کونے مسلتی وہ اپنے باپ کو شکست خوردہ حالت میں کیاری کے پاس بیٹھے دیکھ رہی تھی۔ ان کی زندگیوں کا آج ناخوش گوار ترین دن تھا۔
    دوپہر کو اس کا نومولود بھائی ہمیشہ کے لیے ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ اس کا معصوم سا دل سناٹوں کے زیر اثر تھا۔
    ننھا دماغ یہ سمجھانے میں ناکام رہا کہ کیسے وہ اپنے باپ کی دلجوئی کرے۔
    اچانک باپ کی نظر اس کی جانب اُٹھی۔ افسردہ آنکھوں میں چمک کوندی۔
    یہاں زندگی اب بھی سانس لے رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی
    عشوارانا

    ”سلام صاحب…” صاحب نے سرسری سا سر ہلایا۔
    ”وہ… صاحب… تنخواہ…” مالی بابا بات کرنے کو آگے بڑھے۔
    صاحب نے ہاتھ ہلایا کہ دے دیں گے۔
    مالی بابا کہہ نہ سکے کہ شدید ضرورت ہے، پہلے ہی ہفتہ بھر دیر ہو گئی ہے۔
    ”ہاں سنو! پودوں کو وقت پہ پانی دے دینا،
    ان کی حفاظت اور دیکھ بھال نہ ہو تو زندہ نہیں رہتے۔”
    صاحب دروازہ کھول کرگاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولے۔
    ”غریب کو بھی خوراک کا پیسہ نہ ملے یا بھوکا سوئے تو وہ بھی زندہ نہیں رہتا۔”
    مالی بابا نے باہر نکلتی گاڑی کو دیکھتے ہوئے حسرت سے سوچا۔
    ٭…٭…٭

  • تضاد | سو لفظی کہانی

    تضاد | سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    تضاد
    مدثرہ عندلیب
    باہر صحن میں کھیلتے اور شور مچاتے بچے کھانے پینے کی چیزوں کے ریپر بھی خوب بکھیر رہے تھے…
    دس سالہ نعمان چیختی آواز کے ساتھ… باہر صحن میں کھیلتے بچوں کو ڈانٹ رہا تھا۔
    برا بھلا کہہ رہا تھا… اتنا گند کیوں مچا رکھا ہے… اتنا شور کیوں کررہے ہو؟
    نعمان کی اونچی آواز سن کر… اس کے ابو کمرے سے باہرنکلے…
    نعمان کے بازو کوزور سے مروڑا… اور بری طرح اسے جھنجھوڑتے ہوئے چیخے:
    ”کیا شور مچا رکھا ہے نعمان تم نے… کیابچوں کو اس طرح ڈانٹتے ہیں؟”

    ٭…٭…٭