Tag: شریکِ حیات

  • شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات . قسط ۲

    باب دوم

    جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

    کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

    اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

    ”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

    سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

    ”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

    ”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

    ”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

    سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

    اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

    چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

    دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

    ”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

    حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

    ”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

    ”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

    ”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

    ”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

    ”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

    سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

    مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

  • شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    باب اوّل

    خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

    سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

    جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

    مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

    ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

    کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

    تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

    ”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

  • سوئ بار

    سوئ بار

    سوئِ بار
    (افسانہ)
    میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں کے رشک خان کی پوتی گاو ¿ں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟“ اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔“
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭….٭….٭
    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاو ¿ں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاو ¿ں کیا آس پاس کے گاو ¿ں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔“ اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔“
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاو ¿ں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوںسے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ “ زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟“
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟“ زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔“ وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟“ شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مو ¿دب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔“
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔“
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔“
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟“ زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔“ وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مو ¿دب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟“
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔“
    ”سب غلط ہیں کیا؟“ اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔“
    ”ایک تو سچا ہے؟“ نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔“ ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔“ زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟“ سب گاو ¿ں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ﷺ کہتے ہیں ۔“
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟“ بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔“ وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔

  • بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلنس شیٹ
    (novelette)
    نشاءوقار
    ”ایکسکیوزمی آر یو کھنک؟“ امتیاز سپر مارکیٹ میں مہینہ بھر کی گروسری کی شاپنگ کرکے میں بل کی ادائیگی کرنے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والی کچھ اجنبی کچھ شناسا آواز پر میں نے چونک کر دیکھا۔
    ”یس آئی ایم!“ میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑی کالے عبایہ اور کالے ہی اسکارف کا نقاب پہنے خاتون سے پوچھا جو ہاتھوں میں کالے دستانے اور پاو ¿ں میں کالے موزے پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھنے سے صاف لگ رہا تھا کہ خاتون شرعی پردہ کرتی ہیں۔
    ”میں شبی فاطمہ! سر شاہ خالد کے کوچنگ سینٹر میں بی۔ کام کی کلاسز میں ہم ساتھ ہوتے تھے شریف آباد والے کیمپس میں۔ یاد آیا کچھ؟“ خاتون نے تفصیل سے اپنا تعارف کرایا اور میں نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی ٹرالی آگے بڑھائی۔
    ”کیا ہوا؟ پہچانا نہیں؟“ میری حیرانی کو اجنبیت سمجھتے ہوئے وہ ایک دم سے نارمل ہوگئی۔
    ”ارے نہیں یار پہچان لیا؟ “ میرے اتنا کہنے پر اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگالیا۔
    ”بس تمہاری ظاہری حالت کی وجہ سے تمہیں پہچاننے میں مجھے تھوڑی دقت ہوئی۔“ میں چاہ کر بھی اپنی حیرانی اس سے چھپا نہ پائی جسے اس نے کمال مہارت سے نظر انداز کر دیا ۔اس دوران ہم دونوں اپنے بل ادا کرکے سپر مارکیٹ کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں علی جو گاڑی میں بچوں کے ساتھ بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر گاڑی میرے نزدیک لے آئے۔
    ”علی! ان سے ملیں، یہ میری کوچنگ فرینڈ شبی فاطمہ ہیں اور فاطمہ، یہ میرے شوہر علی مرتضیٰ ہیں۔“ میں نے علی اور فاطمہ کا تعارف کرایا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد فاطمہ گاڑی میں میرے بچوں کی طرف اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
    ”یہ تمہارے بچے ہیں کھنک ؟“



    ”جی جناب الحمدللہ! چلو بچو خالہ سے شیک ہینڈ کرو۔ ماشاءاللہ سے اللہ نے مجھے چار بچوں سے نوازا ہے۔ بڑے دونوں اپنی دادی کے پاس ہیں۔ چھوٹوں کو لے کر ہم لوگ شاپنگ پر آگئے۔“ میں نے بچوں کا تعارف کراتے ہوئے فاطمہ کو جواب دیا۔ اس دوران علی ٹرالی کا سارا سامان گاڑی میں منتقل کرچکے تھے اور خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھور رہے تھے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں مسلسل ہارن دے رہی تھیں۔ ایک تو اتوار اوپر سے مہینے کی شروع تاریخیں جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ آنے والوں کا ہجوم اپنے عروج پر تھا۔
    ”یہ میرا موبائل نمبر ہے مجھ سے رابطے میں رہنا۔“ فاطمہ نے مجھے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر جلدی سے مارکیٹ کے اداشدہ بل پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھ سے کہا اور تیزی سے پیچھے ہٹ گئی تاکہ علی گاڑی آگے بڑھالے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے ہارن مسلسل بج رہے تھے۔ گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھی تو میں نے بیک مرر سے دیکھا کے سفید کلر کی نیو ماڈل کرولا میں ایک آدمی اس کی ٹرالی کا سامان رکھ رہا تھا۔ حلیے سے وہ ادھیڑ عمر کا شخص ڈرائیور لگ رہا تھا جب تک وہ میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی میں تب تک بیک مرر سے اسے دیکھتی رہی۔ اس دوران وہ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ چکی تھی۔ اس کی ظاہری اور مالی حالت کے علاوہ اس کا بات کرنے کا انداز اور لب و لہجہ اس فاطمہ سے یکسر مختلف تھا جسے میں جانتی تھی۔
    ”مما! دیکھیے بھائی جان مجھے ٹیبلیٹ نہیں دے رہے۔ کب سے اکیلے اکیلے گیم کھیل رہے ہیں اب میری ٹرن ہے۔ مجھے دلوائیے بھائی جان سے ٹیبلیٹ۔“ میری سب سے چھوٹی بیٹی مناہل نے روتے ہوئے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا تو میں جو ابھی تک فاطمہ کے بارے میں سوچ رہی تھی، اُس کیفیت سے نکل کر سب سے پہلے اس پیپر کو اپنے پرس کی پاکٹ میں سنبھال کر رکھا۔
    ”یحییٰ! نہیں تنگ کرو چھوٹی بہن کو اب اس کی ٹرن ہے اسے دو ٹیبلیٹ۔“ میں نے دونوں بچوں میں جھگڑا نمٹایا اور علی کی طرف متوجہ ہوگئی جو حسب عادت کراچی کے بے ہنگم ٹریفک اور غیر ذمہ داری سے گاڑی ڈرائیو کرتے لوگوں کی وجہ سے غصّے میں لال پیلے ہورہے تھے۔” کراچی میں اگر آپ کو ڈرائیونگ کرنی ہے تو اپنی گاڑی احتیاط سے چلانے کے ساتھ ساتھ آس پاس چلتی گاڑیوں کو بھی بچانا ہے۔ سارے جہاں میں لوگ ڈرائیونگ کے دوران اپنی جان کی فکر کرتے ہیں اور یہاں اپنے علاوہ آس پاس کے لوگوں کی جان کی فکربھی آپ کو ہی کرنا پڑتی ہے ۔“ علی حسب عادت جب تک گھر نہیں
    آگئے مستقل بڑبڑاتے رہے۔ باپ کو غصّے میں دیکھ کر بچے دبک کر بیٹھے رہے اور میرے دماغ سے بھی فاطمہ وقتی طور پر محو ہوگئی۔

  • فیصلہ

    فیصلہ

    قتل کیس پر مبنی ایک سبق آموز سچ بیانی
    فیصلہ
    محمد ظہیر شیخ
    راج نگرکے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاﺅں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭….٭….٭
    راج نگر یوں تو گاﺅں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاﺅں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاﺅں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاﺅں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاﺅں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ”دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔“
    ”ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ”اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔“
    ”ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آﺅ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ”دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔“وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭….٭….٭