Day: جولائی 30، 2024

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    انوکھی محبت (انٹرنیٹ والا لو) — مہک شاہ

    ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لوگ نہ جانے کب کے سو چکے تھے۔ روہاب نے لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نظریں ہٹا کے دیواری گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔ معمول کے مطابق اس کے سونے کا وقت ہوا چلا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی اس نے ثانیہ ، وشمہ اور تمام آن لائن دوستوں کو گڈ نائٹ کہا اور سونے کے لیے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
    ابھی اسے سوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ فون کی گھنٹی کی آواز پورے کمرے میں گونجنے لگی۔
    آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی شب بیداری کے گواہ تھے۔ اس نے غصے سی بنا دیکھے ہی کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ دوبارہ بیل بجنے لگی۔
    زوہیب کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ کسی اور کی کال ہوتی تو وہ فون بند کرکے سو جاتا، مگر یہ اس کے قریبی دوست کی کال تھی اِس لیے بلاتاخیر اٹینڈ کر لی تھی۔نہ جانے فون پر کیا کہا گیا تھا کہ روہاب جھٹ سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔ جب وہ باہر آیا تو چہرے سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے کار کی چابی اٹھائی اور باہِر چل دیا۔
    اسپتال کے اندر گہری خاموشی کا راج تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا آج وہ یہاں تیسری بار لایا گیا تھا.. اس کی سوشل میڈیا پر بنی تیسری گرل فرینڈ بھی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔
    ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا تھا۔ روہاب اور اس کے باقی دوستوں نے کئی بار اسے سمجھایا تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ پھر بھی وقار ہر بار سنجیدہ ہو جاتا تھا۔
    زوہیب کو اسپتال کے کاریڈور میں چکر لگاتا دیکھ روہاب بھی بھاگتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
    ”کیا ہوا وقار کو؟”
    ”وہی جو ہر بارہوتا ہے۔” زوہیب نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا۔
    ”بریک اپ! پھر سے؟” روہاب نے اس کے تاثرات کو سمجھتے ہوئے خود ہی اندازہ لگایا۔

    ”یار کیا کریں اس کا؟ ہرچار پانچ مہینے بعد اس کا یہی رولا ہوتا ہے۔”
    ”اس بار کون سا طریقہ آزمایا ہے جان دینے کا؟”روہاب نے استفسار کیا۔
    ”خود ہی چل کر دیکھ لے ۔” زوہیب نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور دونوں وارڈ کی جانب چل پڑے۔
    وقار کے قریب ایک نرس کھڑی چیک اپ کے ساتھ اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
    وقار چہرے پر بے زاری سجائے اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔
    ”اوکے! بٹ یو ہیو ٹو بی کئیرفل نیکسٹ ٹائم ۔ اس بار ڈوز کم تھی توجان بچ گئی۔ اگر ڈوز زیادہ ہوتی تو جان جا بھی سکتی تھی۔” یہ کہہ کر نرس باہر چلی گئی۔
    ”جینا بھی کون چاہتا ہے۔”وقار نے نرس کے جاتے ہی دیوداسی انداز میں کہا۔
    ”یار ایک لڑکی کی خاطر تو ہمیں بھول گیا۔ ایک بار بھی نہ سوچا تیرے گھر والوں اور تیسرے معصوم دوستوں کا کیا ہو گا؟ ”روہاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے معصومیت سے کہا۔
    ”چل بھول جا کوئی یمنیٰ بھی تھی تیری لائف میں ۔ دیکھنا اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی اب۔” فیس بک تو بھری پڑی ہے خوب صورت لڑکیوں سے۔” زوہیب نے اسے تسلی دینے کو ایک نیا شوشہ چھوڑا۔
    ”شٹ اپ یار! اس بار میں سیریس ہوں۔ مجھے سچ میں یمنیٰ سے پیار ہو گیا ہے۔” وقار نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ ہر بار یہی کہتا تھا۔
    روہاب کا سیب منہ تک لے جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
    ”اچھا ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو بعد میں اس موضوع پر بات کرتے دیکھتے ہیں۔”
    ”ویسے اس موقع پر سیلفی تو بنتی ہے نا؟ ”
    کہتے ساتھ ہی روہاب نے موبائل کا فرنٹ کیمرا کھولا اور تینوں نے سیلفیاں بنوائیں۔ وقار نے اس لیے سیلفی بنوائی تھی کہ یمنیٰ ان کے ”Matual” میں تھی اور وقار کی تصویر دیکھ کر اس سے رابطہ ضرور کرتی۔
    روہاب نے فوراً سیلفی کے ساتھ سٹیٹس اپڈیٹ کر دیا تھا۔
    ”می اینڈ زوہیب ود وقار ایٹ ہاسپٹل۔ ”
    ”with zohaib and waqar at hospital”
    ٭…٭…٭
    اُف اللہ! میں کیا کروں، میں کس سے کہوں؟ماما جانی کدھر ہیں آپ؟ اتنی زوروں کی بھوک لگی ہے۔”
    ”آآآ میرا بچہ! بس آ گیا کھانا۔” نازش نے خود نوالہ بنا کر اپنی نازوں پلی بیٹی پلوشہ کے منہ میں ڈالا۔
    ”ماما جانی بہت مزے کا بنا ہے۔” نازش نے پیار سے اپنی بیٹی کو ساتھ لگایا۔
    ”ماما! میں نے آج یونی میں بھی کچھ نہیں کھایا۔ آپ کی بھتیجی نے کچھ کھانے نہیں دیا۔” پلوشہ نے یمنیٰ کی طرف برا سا منہ بنا کر اسے گھورا۔ نازش نے ایک نظر یمنیٰ کو دیکھا جو گھر جانے کے بجائے سیدھا یہاں چلی آئی تھی اور مسلسل پلوشہ کی ڈراما بازی دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔ پلوشہ نے مزے سے کھاتے ہوئے اسے آنکھ ماری۔ یمنیٰ نے برا سا منہ بنا کر سر جھکا لیا۔
    پلوشہ اٹھ کر واش بیسن پر ہاتھ دھونے چلی گئی۔
    ”توکب آ رہے ہیں ہادی لوگ؟” پلوشہ کے جانے کے بعد نازش نے یمنیٰ سے پوچھا۔
    ”جی پھپھو کل آنا ہے۔”
    پلوشہ نے سیڑھیاں چڑھتے یمنیٰ کو اشارہ کیا۔ یمنیٰ بیگ اور موبائل اٹھائے اس کے پیچھے چلی آئی۔
    ”ہاں جی اب بتائیں کیوں صبح سے سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل بنا رکھی ہے محترمہ نے؟”
    ”مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔” یمنیٰ بے چارگی سے بولی۔
    ”کیسی مدد؟”
    ”میں ہادی سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
    ”وہاااااااٹ؟” پلوشہ جھٹکے سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”لیکن کیوں؟ ہادی میں کیا خرابی ہے؟ تمہارا فرسٹ کزن ہے۔ اسمارٹ ہے، ہینڈسم ہے، اچھا بزنس ہے اس کا دبئی میں اور کیا چاہیے؟ تم بس جلدی سے شادی کروائو تو میرا نمبر آئے گا نا۔ میں نے تو سوچ بھی لیا ہے میرا پرنس چارمنگ کیسا ہوگا۔”
    ”بکواس نہیں کرو۔ میں مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔” پلوشہ اب خاموشی سے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔
    ”اچھا ٹھیک ہے بتا کیا مسئلہ ہے؟” یمنیٰ نے اپنا موبائل اٹھا کر وقار کی اسپتال والی تصویر دکھائی۔
    ”ارے! یہ تو وہی چمپو ہے نا جو روز کینٹین میں ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ کر گھورتا رہتا تھا۔”
    ”ہاں! وہی ہے اور ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ اب جب میں نے اسے کہا کہ میری شادی ہو رہی ہے اور اب بات نہیں کروں گی تو اس نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کرنے کی کوشش کی اور اب اسپتال میں ہے۔” اس نے افسردہ سا منہ بنا کر بتایا۔
    پلوشہ تو شاک کے مارے گنگ رہ گئی۔
    ”بولو بھی کچھ۔” یمنیٰ نے اسے جھنجھوڑا۔
    ”اب کیا کر سکتے ہیں۔” پلوشہ کو اپنی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
    ”تم اس سے پیار کرتی ہو؟” پلوشہ نے رازداری سے اس کے قریب آکر پوچھا۔
    ”پیار کا تو پتا نہیں لیکن اس کے لیے برا لگ رہا ہے۔ پانچ ماہ سے ہم دوست ہیں۔”
    ”ہیں؟ ابھی تو کہہ رہی تھی پیار کرتی ہو۔ یہ کیسا پیار ہے؟اور ایک بات بتائو، 5ماہ تو یونی جاتے بھی نہیں ہوئے ابھی، تو یہ سب؟” پلوشہ نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”ہماری دوستی فیس بکپر ہوئی تھی، یونی تو بعد میں جوائن کی تھی۔”
    ”افففف! تم لوگ بھی کن چکروں میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے دیکھو فیس بک بس DP کور بدلنے کو آن لائن جاتی ہوں۔
    ”اچھا اب اپنی تعریفوں کے پل بعد میں باندھ لینا، ابھی بتائو کیا کرنا ہے؟
    ”ہممم! تم ٹینشن نہ لو اِس کو میں سمجھا دوں گی۔ آرام سے ہادی بھائی کے ساتھ شادی کی تیاری کرو ۔” پلوِشہ نے اسے تسلی دی، یمنیٰ کو بھی کچھ حوصلہ ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ ڈر تھا کہ وقار کی وجہ سے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑ جائے۔
    اب مسئلہ پلوِشہ کا تھا اور اسے پلوِشہ پر پورا یقین تھا۔
    ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھتے ہوئے وقفے وقفے سے فیس بک پر سکورز کی کمنٹری چل رہی تھی اور میچ دیکھنے سے زیادہ اس کا دھیان ان پوسٹس پر آنے والے کمنٹس پر تھا۔
    روہاب اسپتال سے آتے ہی ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تھا۔ فین فالوئنگ کے چکر میں زیادہ پوسٹس ڈالنا اس کی عادت کے ساتھ مجبوری بھی تھی۔
    وقار کی ٹینشن اسے بالکل بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ جانتا تھا اس کا یہ پیار کا بھوت دو دن میں ہوا ہو جائے گا۔
    ”آگئے جناب! کہاں غائب تھے صبح سے؟”
    ”جی بس فرینڈز کے ساتھ تھا۔”
    ”کس فرینڈ کے ساتھ اور وقار کی طبیعت اب کیسی ہے؟”تیمور صاحب اس کی پوسٹ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
    ”جی ڈیڈ بس ایسے ہی طبیعت ذرا خراب تھی، اب بہتر ہے۔”
    روہاب اگر انہیں بتا دیتا کہ وقار نے پھر سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے تو تیمور صاحب کا لمبا چوڑا لیکچر سننا پڑنا تھا جسے سننے کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔
    صبح بھی جلدی جاگ گیا تھا۔ اِس لیے فوراً اٹھ کے کمرے میں چلا گیا اور خلافِ معمول جلدی سو گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ”وقار کا روم کون سا ہے؟” پلوِشہ نے ریسیپشن پر موجود لڑکی سے پوچھا۔
    ”میم انہیں آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے، آپ سیکنڈ فلور پر روم نمبر5 میں چلی جائیں۔”
    ”اوکے تھینک یو۔”
    پلوِشہ جیسے ہی وقار کے کمرے میں پہنچی، وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    ”آپ؟”
    ”جی میں؟ کیسے ہیں اب آپ؟”
    ”جی میں ٹھیک ہوں اب۔” وقار نے اچنبھے سے اسے دیکھ کر جواب دیا۔
    ”کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ؟ ہاں؟ بہت شوق ہے آپ کو جان دینے کا، تو بارڈر پر چلے جائیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کی اِس چیپ حرکت سے میری کزن اِمپریس ہو جائے گی؟ بہت ہی فضول سوچ ہے آپ کی۔” پلوشہ نے تمہید باندھے بغیر اسے سنانا شروع کردیا۔ وقار اس کے بدلتے رویے پر حیران سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
    ”لڑکیاں کبھی بھی آپ جیسے کم ہمت اور بزدِل لڑکوں سے محبت نہیں کرتیں اور نہ اِمپریس ہوتی ہیں، سمجھے آپ ؟” پلوشہ اب اسے آئینہ دکھا رہی تھی۔
    ”میں بس آپ کو یہی بتانے آئی ہوں کہ یمنیٰ آپ کو صرف دوست مانتی تھی، اِس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ مہربانی فرما کہ ایسی فضول پوسٹس میں آئندہ اسے ٹیگ مت کیجیے گا۔”
    ”She`s gonna engaged tomorrow.”
    روہاب گنگ کھڑا پلوشہ کی اِک اِک بات سن رہا تھا۔ وقار بھی اسے چپ چاپ خاموشی سے کھڑے دیکھ کہ حیران ہو رہا تھا اور پلوِشہ کی باتوں سے اس کا دماغ بھی صاف ہو رہا تھا۔ اس کی ساری دیوداسی جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔
    ”اِیکسکیوز می پلیز۔” پلوشہ جانے کے لیے مڑی تو روہاب کو دروازے پر کھڑا پا کر اِس سے کہا، لیکن وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔
    ”کیا آپ یہاں سے ہٹنے کی زحمت کریں گے؟” روہاب دروازے کے بیچ و بیچ ہوش و حواس سے بے گانہ کھڑا تھا۔
    ”بہرے ہو؟ ہٹو سامنے سے۔” پلوِشہ نے ذرا چیخ کر کہا تو روہاب نے کسی روبوٹ کی طرح فوراًدروازہ چھوڑ دیا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔ اس کے نظروںسے اوجھل ہوتے ہی فوراً وقار کے سر پر آن پہنچا۔
    ”کون تھی یہ لڑکی؟” وقار نے بہت مان سے اسے دیکھا۔
    ”یہ یمنیٰ کی کزن ہے میرے ساتھ یونی میں پڑھتی ہے ۔”
    ”آج تک مجھے تو نہیں ملوایا؟” وہ پتا نہیں کیا معلوم کرنا چاہ رہا تھا۔
    ابھی چند سیکنڈ پہلے جو امید اس کے دل میں جاگی تھی کہ اس کا دوست اس کو حوصلہ دے گا وہ لمحہ بھر میں چکنا چور ہو گئی تھی، مگر وہ جواب دینے پر مجبور تھا۔
    ”عجیب انسان ہو، چلو خیر اِس کی آئی ڈی بتا مجھے۔ آج ہی ریکویسٹ سینڈ کرتا ہوں۔” روہاب نے جیب سے موبائل نکالتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں! کیا ضرورت ہے اس لڑکی کو ریکویسٹ سینڈ کرنے کی؟”وقار نے گھور کر پوچھا۔
    ”کیوں؟ اسے ریکویسٹ سینڈ کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ایسی حوصلے والی لڑکی آج تک نہیں دیکھی یار۔” روحاب نے ستائشی انداز میں کہا۔
    ”پلوِشہ شاہ ! یمنیٰ کی میوچل میں ایڈ ہے۔” وقار نے بیڈ سے اُٹھتے ہوئے غضب ناک نگاہوں سے گھور کر کہا جسے روہاب نے جان بوجھ کر ان دیکھا کر دیا۔
    ”تھینک یو!”
    ”بہت ہی کمینے ہو، وہ میری اِتنی انسلٹ کر کے گئی ہے اور تمہیں ریکویسٹ سینڈ کرنے کی سوجھ رہی ہے۔” وقار نے آخر خود ہی خفگی کا اظہار کیا۔
    اِسی وقت زوہیب کمرے میں داخل ہوا ۔
    ”ایک گڈنیوز ہے۔”
    ”کون سی گڈنیوز؟”دونوں نے ایک ساتھ پوچھا ۔
    ”ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو اور گھر جا سکتے ہو۔” وقار اور روہاب دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
    ”کیا ہوا تم دونوں کو خوشی نہیں ہوئی؟”زوہیب نے حیرت سے پوچھا۔
    روہاب نے اسے ساری داستان مزے لے کر سنائی۔
    ”اوہ! یہ تو بہت برا ہوا۔” زوہیب نے وقار کے تاثرات پر غور کرتے ہوئے روہاب کی امید کے بر عکس جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہوا جو بھی ہوا۔”
    ”تم لوگوں سے زیادہ مجھے اس لڑکی کی باتوں سے سمجھ آئی ہے۔ میں ہی غلط سمجھ رہا تھا۔ جب میری اپنی دوست ہی بے وفا ہے تو اِس سے کیا گِلہ۔”
    یہ کہنے کے ساتھ ہی وقار نے موبائل فون نکال کر ایف بی آن کی اور فرینڈلسٹ سے یمنیٰ کو ڈیلیٹ کر دیا۔
    ”آج سے یہ ٹاپِک بند۔” روہاب اور زوہیب نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا۔
    ”شکر ہے پیار کا بھوت تو سر سے اُترا۔” روہاب نے ذرا اونچی آواز میں کہا۔
    دونوں کو اپنا دوست واپس ہنستا مسکراتا مل گیا تھا۔
    ”یہ سب پلوِشہ کا کمال تھا۔” روہاب دل میں صرف اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    ادھوری کہانیاں — کوثر ناز

    دل فگار الفاظ لکھتے ہوئے میری انگلیاں کبھی نہیں تھکیں۔ میری نگاہ و دل کی گہرائی و گیرائی اپنے مکمل عروج پر تھی۔ درد لکھنے والی میںبے ساختہ قہقہے لگاتی، اپنے ارد گرد مسکراہٹ بکھیرنے کے فن میں ماہر تھی۔
    لوگ کبھی سمجھ ہی نہیں سکے کہ حقیقت کیا ہے، وہ جو درد لکھتی ہے یا وہ جو قہقہے بکھیرتی ہے اور یہی الجھی ہوئی ذات تو کہانی کار کی ہوتی ہے۔ وہ بے نام الجھنوں کو ایک اچھی تحریر لکھ کر بھول جانا چاہتا ہے۔
    میں ہمیشہ کی طرح ایک عام ڈگر پر چل رہی تھی۔ کئی کہانیوں میں گھری میں ان دنوں کسی اور زاویے پر سوچتی ہی نہ تھی۔ نہ شوشل میڈیا پر دھیان تھا نہ ہی دوسری سرگرمیوں میں شامل ہوتی تھی۔ اسی دوران مجھے فیس بک پر کسی اجنبی لڑکی کا پیغام موصول ہوا۔ لازمی جواب دینے کی گزارش تھی۔ اس پیغام میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ میں اسے نظر انداز نہیں کرسکی۔ جواب ملتے ہی اس نے اپنی درخواست میرے گوش گزار کی اور میں سوچ میں ڈوب گئی۔ اتنی ساری ادھوری کہانیاں تو میری فائلز اور لیپ ٹاپ میں موجود ہیں، میں ایک اور تحریر کا بار نہیں اٹھانا چاہتی تھی لیکن وہ بضد تھی کہ میں بس اس کی کہانی لکھوں، اس کے اصرار پر میںنے اس کی کہانی سننے کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی اور اس نے مجھے وہی کہانی سنائی جو فیس بک پر یقینا ہر تیسری نوعمر لڑکی کی کہا نی ہے۔
    کہتی رہی کہ ایسا لکھیے گا کہ پڑھنے والا دردمحسوس کرے، لفظوں میں وہ قیامت خیزی لائیے گا کہ دل فگار ہوجائیں۔ وہ چاہتی تھی کہ میں وہ درد لکھوں جو وہ محسوس کرتی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ جو اس پر بیتا ہے وہ اس دنیا سے ہٹ کر ہے اور شاید وہ ٹھیک ہی سمجھتی تھی کیوں کہ ہر کردار اپنی کہانی کا مرکزی کردار ہی ہوتا ہے۔ پھر چاہے اس کی کتاب زندگی میں اس سے بہتر درجے کے کتنے ہی لوگ کیوں نہ موجود ہوں۔
    اس نے مجھے بتایا کہ سالِ نو کے پہلے مہینے کا ذکر ہے جب وہ زمین زاد مجھے فلک زاد بن کر ملا اور ملتے ہی میری آنکھوں کو اپنے خواب دان کرگیا۔کہتی تھی کہ وہ سب سے جدا تھا، نہ بولتا تھا ، نہ ہنستا تھا اور نہ ہی بات کرتا تھا ۔ میرے فیس بک گروپ میں موجود تھا اور سب سے بالکل مختلف تھا۔ میں نے اس کی جانب کبھی توجہ دی ہی نہ تھی، وہ کافی عرصے سے میرے دوستوں میں بھی شامل تھا۔ پھر ایک روز میری بیماری کے اسٹیٹس پر اس نے سوالیہ نشان بھیجا تو جواباً ”کچھ نہیں” کہہ کر میں آگے بڑھ گئی اور وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہوگیا لیکن اس بار اس کا خاموش ہونا مجھے محسوس ہوا تو میں سلام دعا کرنے انباکس میں پہنچ گئی۔
    پہلی بار کے بعد پھر کئی بار اس سے بات کی۔ اس سے بات کرکے ہمیشہ لگتا کہ وہ تن ِ تنہا تمام عالم کا غم اٹھا رہا ہے۔ وہ اکیلا ہے جو غموں کے جھرمٹ میں سر گھٹنوں میں دیے بیٹھا کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ خاموش شخص اپنے اندر لاتعداد اسرار رکھتا ہے، وہ بھی ایسا ہی تھا لیکن وہ جب مجھ سے بات کرتا تو ہنس دیتا تھا اور مجھے اس کی ہنسی بھلی لگتی تھی ۔ اس ایک بار کی گفتگو کے بعد ہماری بات چیت کے درمیان کوئی لمبے دنوں کا وقفہ نہیں آیا ۔ ہم مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ عام سی ساری باتیں ہوتیں لیکن ہم انہی عام سی باتوں پر اپنا سارا وقت صرف کرنے لگے۔ دنیا جہاں کا کوئی موضوع نہ چھوڑتے۔ ہم مزید مانوس ہوئے تو مجھے علم ہوا کہ وہ اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اس کے والدین اس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ وہ کہتا تھا کہ
    ”مایا میں نے کبھی بچپن نہیں دیکھا۔” اور صحیح کہتا تھا جس کے پاس لاڈ اٹھانے والے ہی نہ ہوں تو وہ زندگی کا حسین چہرہ کیسے دیکھ سکتا ہے۔

    وہ عجیب و غریب باتیں کیا کرتا۔ کہتا کہ ” آپ کو پتا ہے یہ لوگ جو زندگی سے ہار مان جاتے ہیں نا دراصل یہ ان کی لفظی ہار ہوتی ہے ورنہ تو زندگی کے لیے آخری سانس تک لڑتے رہتے ہیں، ہاں خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہار مان لی ہے تاکہ زندگی اپنے امتحان آسان کردے ۔” اس کے دکھ سن کر مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی، مجھے خواہش ہوتی کہ اس کے غم چن لیے جائیں لیکن میں چپ چاپ اس کی باتیں سنے جاتی۔ پھر عجیب واقعہ ہوا جب میں ایک روز یونیورسٹی سے لوٹی تو اس کے کئی پیغامات میرے منتظر تھے۔
    ”کیا ہم بات کرسکتے ہیں پلیز؟” اس کا پیغام دیکھ کر میں نے فوراً سے پیشتر جواب دیا تھا۔
    ”کیا ہوا؟”’ اور وہ میرا ہی منتظر تھا کہنے لگا ۔
    ”بہت گھبراہٹ ہورہی ہے، کسی طور سکون نہیں ہے، کیا ہم کچھ دیر بات کرسکتے ہیں؟ بہت سے لوگوں کو میسج کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔” میں اس کی مسیحائی کے لیے تیار بیٹھی فوراً اس کی سننے لگی۔ چند دن بعد پھر اسی وقت پر اس کا وہی میسج تھا اور میں اسے پھر مختلف حیلے بہانوں سے بہلانے لگی۔ وہ کہتا تھا کہ ”مایا تم سے بات کرکے میں سکون کی کس منزل پر پہنچ جاتا ہوں میں کبھی بیان نہیں کرسکتا ۔” ہم بن کہے ایک دوسرے کے ہوگئے تھے۔ ہمارا دل ایک ساتھ دھڑکنے لگا تھا، کوئی معنی خیز سی بات ہماری سانسوں میں گرمی بھر دیا کرتی تھی۔ زندگی کب کیا رخ اختیار کرلیتی ہے، کسی کو بھنک تک نہیں پڑتی۔ ہم اب صبح سے شام اور رات سے صبح صادق تک بات کرتے کرتے نہ جانے کس راہ پر نکل آئے تھے کہ اب ایک دوسرے کے بغیر جینا تو دور سانس تک لینا محال لگنے لگا تھا۔ لیکن بات اب تک صرف اپنی ذات کے درمیان تھی ، ہم نے ابھی ایک دوسرے کو حال دل نہیں بتایا تھا، ہم منتظر تھے کہ اقرار کا کوئی لمحہ ہمارے ہاتھ لگے اور پھر ایک دن فیضان نے پوچھ ہی لیا۔
    ”اگر آپ کسی کو پسند کرتے ہوں تو کیا اسے بتا دینا چاہیے؟” اور میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا کہ ضرور بتانا چاہیے اور وہ میرے سر ہوگیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ میں اس کے غمو ں کا مداوا کرتے کرتے اس کی مسیحا بن گئی اور وہ عشق کے مدار میں چکر کاٹنے لگا تھا۔ مجھے نا خدا ماننے لگا تھا۔
    کہتا کہ اگر مجھے کسی انسان کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ میں آپ کو کرتا۔ آپ میرا ایمان بن گئی ہیں۔ کوئی ایک لمحہ آپ کے دھیان سے خالی نہیں ہوتا۔ کوئی پل آپ کی ذات کے خیال سے باہر کا نہیں ہوتا۔ آپ میرا کعبہ میرا قبلہ بن گئی ہیں۔ میں ڈر جاتی ، اس کی شدتیں عروج پر ہوتیں۔ مجھ پر گناہ گار ہونے کا خوف مسلط ہوجاتا، لیکن اس کے لیے میرے عشق کی گہرائی نہ ختم ہوتی۔ یہ سچ تھا کہ میں خود سے چار سال چھوٹے شخص کے عشق میں خود کو بھولی ہوئی تھی اور وہ… وہ تو پاگل بن بیٹھا تھا، میرے علاوہ اسے کچھ سوجھتا ہی نہ تھا، ہمیشہ ایک ہی نام اس کی زبان پر ہوتا اور وہ نام میرا ہوتا۔ کہتا کہ
    ”یقین کرو۔ میرا سارا سکون تم سے وابستہ ہے۔ تمہارا ہاتھ تھامے رکھوں، تمہارے ساتھ ہونے کے احساس کو محسوس کرتا رہوں تو اس کے آگے ساری دنیا ہیچ ہے۔” وہ اظہارِمحبت میں کنجوسی کرتا لیکن باقی جذبات وہ بہت دھڑلے سے بتایا کرتا۔ ایک دن کسی بات پر کہنے لگا۔
    ”مجھے اپنے شناختی کارڈ کی تصویر لے کر بھیجیں لیکن اپنے چہرے کو کسی چیز سے ڈھانپ دینا، مجھے وہ نہیں دیکھنا کیوں کہ مجھے آپ ہر صورت پسند ہیں۔” لیکن ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ جہاں محبت اپنی تمام تر شدتوں کے ساتھ پنپ رہی ہو وہاں کوئی پردہ، کوئی جھجک درمیان آجائے۔ میں نے اس کی بات کو معتبر جان کر اسے کہا کہ تصویر تو میں تمھیں ویسے ہی دکھا دوں گی، وہ بہت حیران ہوا۔
    ”کیا آپ مجھے واقعی تصویر بھیجیںگی؟”
    ”ہاں !کیوں نہیں۔”
    ”لیکن میں نا محرم ہوں۔”
    ”’تو کیا نہیں بھیجنی چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    جواباً وہ خاموش رہا تو میں نے اسکارف پہن کر ایک عدد تصویر لی اور اسے بھیج دی۔ وہ تادیر مبہوت سا اسے دیکھتا رہا، اس کی محبت عروج کی جانب بڑھتی رہی اور میں اس کی محبت کی شدت پر آسودہ سی مسکراتی رہی۔
    وہ میرے ساتھ پر نازاں تھا۔ میرے ہونے کا مطلب پورا ہوگیا تھا۔
    ہم خوش تھے کہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ میسر ہے۔ راتوں کو دیر تک فون پر بات کرتے۔ خدا کا شکر ادا کرتے۔ ایک دوسرے کے بغیر کھانا نہ کھاتے، میں اسے جب تک اطلاع نہ دیتی وہ بھوکا رہتا۔ اکثر مذاقاً کہتا کہ ، آپ مجھے بھوکا مار دیں گی۔ میری محبت چاہے لاکھ شدت رکھتی ہو لیکن اُس کی محبت مکمل دین، ایمان والی تھی۔ میں اسے بات کے دوران کہتی ‘ ‘رکو” اور وہ صبح سے شام تک میسنجر کھولے میرا منتظر رہتا۔ میں خدا حافظ کیے بغیر سو جاتی تو وہ صبح صادق تک میرے پیغام کا انتظار کرتا رہتا اور پھر لکھتا کہ:
    ”بہت نیند آئی ہے ، اب سوتا ہوں۔”
    دن اپنی برق رفتاری کے ساتھ گزرتے رہے کہ ایک روز کسی نے میرے گروپ میں پوسٹ لگائی کہ ” میں اور مایا دوست ہیں۔” اور اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ وہ مجھے لے کر اسی قدر جذباتی تھا۔ کہتا کہ:
    ”آپ کو خدا کا واسطہ ہے ، آپ کو میرے علاوہ کوئی اور نہ دیکھے، کوئی نہ بات کرے، آپ میرا تمام تر ایمان ہیں، میں آپ کے گرد حصار رکھنا چاہتا ہوں، پلیز میری مقدس محبت کو عام نہ کیجیے۔ ایسے میرا ایمان مجروح ہوتا ہے، میری محبت کی توہین ہوتی ہے۔” وہ روتا، گڑگڑاتا اور میں اس کی محبت میں ہر اس شخص کو گروپ سے بلاک کردیتی جس جس کی طرف وہ اشارہ کرتا۔

  • آپا — فاطمہ عبدالخالق

    آپا — فاطمہ عبدالخالق

    بچپن سے پچپن تک میں اسی شش و پنج کا شکار رہا کہ وہ میری آپا ہیں یا میں ان کا بھیا ہوں؟ کیوں کہ یوں تو آپا مجھ سے عمر میں چھوٹی تھیں، لیکن ا ن کی جسامت دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا ضرور کر دیتی تھی۔ آپا صرف جسامت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ عقل کے لحاظ سے بھی کافی موٹی تھیں۔ یہ بھی الگ قصہ ہے کہ ان کی ساری کوتاہیوں کا نزلہ مجھی پر گرتا تھا۔پہلے پہل تو میں آپا کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، لیکن جب میری ناؤ کنارے پر پہنچنے کے بجائے بیچ منجدھار میں غوطہ کھانے لگی، تو مجھے شدت سے اپنی بزدلی پر غصہ آیا اور اماں مرحومہ کی یاد نے شدت سے حملہ کیا کیوں کہ ایک اماں ہی تھیں جو آپا کو کسی نادیدہ ریموٹ سے کنٹرول کرنا جانتی تھیں۔ اماں کے علاوہ آپا اپنی زبان درازی کے باعث پورے خاندان والوں پر بھاری تھیں۔
    آپا اگر چھے بچوں کی اماں تھیں، تو میں بھی چار بچوں کا باپ تھا۔ یہ الگ داستان ہے کہ اتنا بڑا ہونے کے باوجود ان کے سامنے میری گھگی بندھ جاتی جس کا میری بیگم صائمہ منیر کو از حد قلق ہے کیوں کہ وہ اکثرہی آپا کی زیادتیوں کا شکار بنتی آئی ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جوان اولاد کا باپ طاقت ور ہوتا ہے، مگر میں محمد خضر ولد حیات علی ایسا مرد ہوں جو اپنی بیوی کے سامنے شیر اور آپا کے سامنا گیدڑ کا رول بہ خوبی نبھاتا ہے۔ میری کہانی پڑھتے ہوئے یقیناآپ کو مجھ پر بے تحاشا غصہ آ رہا ہو گا اور میری بیوی کے لیے آپ کے دل میں رحم کے لڈو پھوٹ رہے ہوں گے، حالاں کہ اگر انصاف کی عینک سے دیکھا جائے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ بیگم سے زیادہ میری حالت قابلِ رحم ہے کیوں کہ میں بچپن سے لے کر اب تک آپا کے زیر عتاب ہی رہا ہوں۔ ایک سوچ یقینا آپ کو مسلسل بے چین کر رہی ہو گی کہ آپا تو اب بال بچوں والی ہیں اور اپنے گھر جا چکی ہوں گی، توپھر میں کیوں دکھڑے رو رہا ہوں تو پیارے قارئین! آپ کی اطلاع کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہماری آپا بیاہ کر کبھی رخصت ہی نہیں ہوئیں بلکہ وہ تو ہمارے دلہا بھیا کو رخصت کروا لائی تھیں۔ یہاں تک تو زندگی کی گاڑی ٹھیک ٹھاک دوڑ رہی تھی، مگر جونہی کچھ سالوں بعد اماں محترمہ کو ہمارے سر پر سہرا سجانے کا شوق طاری ہوا، تو زندگی کی چلتی ہوئی اس گاڑی کو ایک زوردار بریک لگا اور اس بریک کے لگتے ہی ہماری آپا کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ ہمارے رشتے کی مہم شروع کیا ہوئی کہ آپا کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں آگیا۔ رنگ برنگے کھانوں کی شوقین آپا گھر گھر جا کر کھانے کھاتیں اور جب پیٹ اچھی طرح بھر جاتا، تو ایک لمبا سا ڈکار مارتے ہوئے کھانے میں نادیدہ قسم کے نقص نکال کر واپس آ جاتیں۔ لڑکی والے جو آپا کو رغبت سے کھانا کھاتا دیکھتے دل میں آس امید جگا لیتے، لیکن آپا کے نقص نکالنے پر ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا اور دل الگ کھٹا ہوتا اور یقینا دل ہی دل میں آپا کے خوب لتے لیے جاتے ہوں گے۔ اماں مرحومہ نے جب آپا کا یہ حال دیکھا، تو چپکے سے اپنے چھوٹے بھائی کے گھر میرا رشتہ پکا کر آئیں۔ اس بات کی خبر جونہی آپا کو ہوئی، انہوں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا کیوں کہ انہیں بہ خوبی علم تھا کہ میں صائمہ کو پسند کرتا ہوں اور ان کا نظریہ تھا کہ صائمہ آتے ہی میرے کان بھرنا شروع کر دے گی اور یوں میں اماں سے جدائی کا مطالبہ کروں گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دن محلے والے بھی آپا کی زبان کے جواہر سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ بالآخر اماں مرحومہ نے بھی آپا کو کسی نہ کسی طرح قابو کر ہی لیا۔ اب واللہ علم اماں نے آپا کو کیا کہا تھا کہ ایک دم سے پرسکون ہوگئیں۔ ابھی بات پکی کیے چھے ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اماں کو میرے بیاہ کی رٹ لگ گئی۔ آپا بھی نہ جانے کیسے اماں کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔ خیر جو بھی تھا، میرے سر پر سہرا سج گیا اور صائمہ منیر میری دلہن بن کر روشنی بکھیرنے آ گئی۔ چوں کہ وہ آپا کی مخالفت کے باوجود بیاہ کے اس گھر میں آئی تھیں اس لیے آپا کو صائمہ منیر کی خوشی ایک آنکھ نہ بھاتی اور جب کبھی بھی وہ صائمہ منیر کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھتیں، تو کوئی نہ کوئی زہریلا جملہ اس کے کانوں میں انڈیلنا اپنا اوّلین فرض سمجھتیں اور کڑوی گولی پلانے کے بعد ٹی وی پر چلنے والے پسندیدہ ڈرامے کی جانب متوجہ ہو جاتیں۔ یہ بھی ایک مزے دار بات ہے کہ صبح نو سے رات بارہ بجے تک مسلسل اسٹار پلس پر چلنے والے تمام ڈرامے ان کے پسندیدہ تھے۔ ادھر کبھی غلطی سے کیبل بند ہوئی نہیں کہ ادھر آپا کیبل والے کی شان میں ”شان دار قصیدہ” گوئی شروع کردیتیں۔ دُلہا بھائی کی پچاس ہزار ماہوار تنخواہ ہونے کے باوجود مہینے کی چوبیس یا پچیس تاریخ کو آپا کے پاس پیسے ختم ہو جاتے تھے۔ حالاں کہ گھر کے سارے خرچے اماں میری تنخواہ اور زمینوں سے آنے والی آمدن سے پورے کرتی تھیں۔ دراصل آپا کو کھانے پینے، دوسروں کو کھلانے پلانے اور بلاوجہ کی دعوتوں کا بہت شوق تھا جس کی بنا پر ان کے لیے پچاس ہزار بھی کم تھے۔ اماں بھی آپا کی اس عادت سے چشم پوشی اختیار کیے رکھتی تھیں کہ اُنہیںکچھ کہنا گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔اماں کی اسی چشم پوشی کی بدولت آپا کی یہ عادت خاصی پختہ ہو گئی کہ انہوں نے اماں کے دار فانی سے رخصت ہو نے کے بعد آہستہ آہستہ میری تنخواہ پر نظریں جمانا شروع کر دیں۔حالاں کہ میں خود بال بچوں والا ہوں، لیکن آپا کو اب یاد آیا کہ میں تو ان کا بڑا بھائی ہوں۔ ہمارا گھر صحیح معنوں میں جنگ کا میدان تب بنا جب میں نے اماں کے انتقال کے بعد پہلی تنخواہ اپنی بیگم صائمہ منیر کو پکڑائی۔آپا کا کہنا تھا کہ میری تنخواہ پر ان کا حق ہے اور میری بیگم صائمہ منیر کا نقطۂ نظر تھا کہ اب اماں کے گزر جانے کے بعد یہ اس کا حق بنتا ہے۔ آپ اسے میری شرافت کہہ لیں یا بزدلی کا نام دے لیں، لیکن سچ تو یہ تھا کہ میں دو خواتین کے درمیان چکی کے دو پاٹوں کی طرح پس رہا تھا۔ جب دونوں خواتین میں کوئی ہار ماننے کو تیار نہ ہوا، تو آپا نے سارے خاندان کو فون گھما کر اکٹھا کر لیا۔ سارے خاندان والوں کو بھی آپا پر ہی ترس آیا کہ ماں کے بعد اب اکلوتا بھائی بھی اس سے منہ موڑ رہا ہے، لیکن اگر انصاف کی بات کی جائے تو سب غلط تھا۔ چار و ناچار سب کے سامنے مجھے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور یوں خاصی منت سماجت کے بعد آپا اس بات پر بہ مشکل راضی ہوئیں کہ انہیں ماہوار بیس ہزار خرچ دیا جائے جب کہ اس وقت میری تنخواہ چالیس ہزار تھی۔ باقی کا بیس ہزار اور چار بچوں کا ساتھ میرے لیے انتہائی مشکل تھا۔ میری بیگم بھی مجھ سے ناراض تھیں کہ نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب میں اپنی بزدلی ختم کر پائوں گا اور اپنے فیصلے آپا کے بہ جائے خود کروں گا جب کہ میں اس بات پہ شکر منا رہا تھا کہ چاہے آدھی تنخواہ ہاتھوں سے چلی گئی، لیکن کم از کم گھر میں سکون تو ہوا کرے گا۔ یوں بھی پوری تنخواہ ان کے ہاتھوں میں تھمانے سے بہتر تھا کہ آدھی تھما دی جائے۔ کاش میری آپا جیسی عورتیں جو مرد کی کمائی کو بلاوجہ فضول کاموں میں خرچ کرتی ہیں، ایک بار مرد کی جگہ کھڑے ہو کر تو دیکھیں کہ وہ کیسے محنت و مشقت سے پیسے کما کر لاتا اور آپ کو تھماتا ہے، لیکن جب آپ اس محنت کی کمائی کو ضروریاتِ زندگی کی بہ جائے آسائشاتِ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے بلاوجہ خرچ کرنے لگتی ہیں، تو آہستہ آہستہ نئی نکور چمکتی دمکتی زندگی کی گاڑی کی باڈی کو زنگ لگنے لگتا ہے اور ہاتھ میں کباڑ کے سوا کچھ نہیں آتا۔ سیانے سچ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی چادردیکھتے ہوئے ہی پائوں پھیلانے چاہئیں، کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے تھوڑے پر گزارہ کرنا سیکھ لیا جائے ۔
    خیر، وقت کا کام بیتنا ہے، تو یہ دبے پاؤں گزرتا چلا جاتا ہے۔ ہم نے بھی جیسے تیسے بیس ہزار میں گزارہ کرنا سیکھ لیا تھا اور اب جہاں میرے بچے جوان ہوئے، وہیں آپا کی بیٹیاں بھی جوان ہوگئیں۔ آپا کی بیٹیاں، آپا سے قدرے مختلف ہیں کیوں کہ ان کی پرورش میں میری بیگم صائمہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، لیکن آپا کا اکلوتا بیٹا اُنہی کا پرتو نکلا تھا۔ بچوں کے بڑے ہونے پر گھر میں کافی سکون رہنے لگا۔آپا بھی شاید میری بیگم کے ساتھ تھوڑا بہت سمجھوتا کر چکی تھیں، لیکن سیانے سچ ہی کہتے ہیں، طویل خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے کیوں کہ اصل بھونچال تو ہمارے گھر تب آیا جب آپا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے میری لاڈلی بیٹی شائستہ کا رشتہ لے کر آئی۔ اُن کا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے پلا بڑھا تھا اور بالکل آپا کی کاربن کاپی تھا، اس لیے میں بہ خوبی جانتا تھا کہ یہ میری لاڈلی بیٹی کے لیے درست فیصلہ نہیں ہے، لیکن آپا کو انکار کرنے کی ہمت مجھ میں کب تھی؟
    مجھے وہ دن بہ خوبی یاد ہے جب سارے گھر والے بڑے ہال میں جمع تھے۔ محفل پر سکتہ طاری تھا۔ آپا بھی بڑے رعب سے رشتہ مانگ رہی تھیں کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ میں انہیں کبھی بھی انکار نہیں کر پائوں گا۔ آپا کی بڑی بیٹی مریم نے کچھ کہنا چاہا کہ آپا نے اسے بھی جھڑک کر خاموش کروا دیا۔ میرے دائیں جانب بیٹھی میری بیگم صائمہ منیر بھی بڑی بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔ اس کا سارا وجود اضطراب کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ کیوں کہ وہ بہ خوبی جانتی تھی کہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں اس رشتے سے انکار کر سکوں اور یہ سچ ہی تھا۔ میں کبھی انکار کر نہیں پاتا اگر میری بیٹی میرے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑی نہ ہوتی۔ جی ہاں اس دن میں آپا کو رشتے کے لیے ہاں کہنے ہی والا تھا کہ میری نظر اپنی لاڈلی بیٹی شائستہ کے چہرے پر پڑی جو ہال کے دروازے پر کھڑی آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔کیا نہیں تھا اس وقت اس کی آنکھوں میں؟ لاچاری، بے بسی، سوالات کا انبار، کانچ کی کرچیوں کی صدا، سمندری طوفان جو امڈنے کو بے تاب تھا، ٹوٹے خوابوں کی مسمار عمارت اور بھی بہت کچھ جس سے میں چاہتا، تو بھی نظریں نہیں چرا سکتا تھا۔
    میں، خضر حیات، جو کبھی آپا کے سامنے نہ بول پایا تھا، اپنی بیٹی کی آنکھوں کے سمندر میں تیرتے سوالوں میں ڈوب گیا۔
    آپا کی حیرت بھری نگاہیں مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں کیوں کہ وہ دن اور منظر مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔ پچپن سال تک جس لاوے کو انہوں نے دبائے رکھا تھا، وہ اس دن شعلہ بن کر جب دہکا، تو اس کی لپیٹ میں آپا کا وجود ہی جھلسا تھا۔
    اس دن سے آپا نے خاموشی کی چادر اوڑھ کر ہماری زندگی پر حکومت کرنا چھوڑ دی۔”آپا” نامی خوف ہمارے سروں سے اتر چکا تھا۔ اس دن میں نے پہلی بار اپنی اور آپا کی بیٹیوں کو خوش اور آزاد دیکھا تھا۔
    میں نے دیر سے ہی سہی، لیکن یہ ضرور جان لیا تھا کہ ظالم کا ظلم سہنا بھی گناہ ہے۔ اگر آپ ظلم کو روکنے کی ہمت نہیں رکھتے، تو ظلم سہنے سے آپ کے علاوہ کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، آپ کی ہی زندگی بدتر ہوتی چلی جاتی ہے اور دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ بیٹیوں کے باپ کو ہمیشہ مضبوط ہونا چاہیے ورنہ یہ کلیاں مرجھا جاتی ہیں اور اگر یہ کلیاں مرجھا جائیں، تو در و دیوار سے وحشت ٹپکنے لگتی ہے۔ اُداسی اپنے پر کھولے منڈیر پر ڈیرہ جما لیتی ہے، خوشیاں ان کلیوں کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی مسمار عمارتوں کے ملبے تلے دب کر سانسوں سے ناتا توڑ لیتی ہیں اور پھر آپ کے ہاتھ میں فقط پچھتاوے کی پوٹلی آتی ہے۔
    آپ قارئین میں سے بھی اگر کوئی ایسی صورت حال سے دوچار ہے، تو خدار اسے روکیے تاکہ کوئی کلی مرجھا نہ پائے۔

    ختم شد
    ٭…٭…٭