سیاہ پٹی — عرشیہ ہاشمی

”آپ اسے کسی عامل کے پاس لے کر کیوں نہیں جاتیں؟ضرور کوئی آسیب ہے اس پر ورنہ کوئی نارمل انسان بھی ایسا رویہ اختیار کرتا ہے بھلا؟”وہ آنیہ کی تیما ر داری کے لیے آئی تھیں لیکن اس کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں مشورہ دیے بغیر نہ رہ سکیں۔
”بس بہن! میں بڑی پریشان ہوں۔ کوئی درگاہ نہیں چھوڑی،ابھی کل ہی تو پردے والے پیر صاحب کے پاس لے گئی تھی۔ اتنا ہے کہ اب اسے فرق ہے تھوڑا۔” و ہ شیشے کے گلاس میں سے چمچ کے ساتھ پانی آنیہ کے منہ میں ڈالتی جا رہی تھیں جو نیم غنودگی میں کھلے صحن میں بچھی چارپائی پر چِت لیٹی تھی۔
”ابھی بھی بے ہوش تو ہے لیکن خود کو یا کسی اور کو نقصان تو نہیں پہنچا رہی۔ پیر صاحب کی دعا سے فرق ہے اب۔” انہوں نے گلاس اپنی چھوٹی بیٹی کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ میں جو کافی دیر سے آنیہ ہی کو دیکھ رہی تھی، اس بات سے بالکل متفق نہ تھی۔
مجھے وہ بے ہوشی سے زیادہ ،نیند میں لگی تھی اور یہ کوئی ابنارمل بات نہ تھی کہ سوئے ہوئے بندے کو کوئی بار بار ڈسٹرب کرے اور وہ اپنا غصہ نکالتے ہوئے اس شخص کو جوتا اٹھا مارے۔
”آپ ہی کچھ پڑھ کر پھونکیں، یہ جن ہی ہے جو بار بار میری آنیہ کو بے ہوش کر رہا ہے۔”
ساجدہ آنٹی نے دل ہی دل میں درود پاک پڑھ کر اس پر پھونکنا شروع کیا ۔ آہستہ آہستہ وہ نیند سے بے دار ہونے لگی۔ بہ قول آنیہ کی ماں کے، ہوش میں آنے لگی تھی۔ پھر اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ دھیرے دھیرے وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ماں کو ہاتھ سے پیچھے کرنے لگی۔
”دیکھا؟ دیکھا؟ میرا وجود تو برداشت ہی نہیں کرتی، ہائے میری بچی۔” وہ دوپٹا منہ پر رکھ کر رونا شروع ہوگئیں۔
٭…٭…٭
”پیر صاحب! مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے،بس میری بچی مجھے واپس لوٹا دیں۔”
وہ دونوں ہاتھ جوڑے پیر صاحب کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ان کی نظروں کے سامنے پیر صاحب نے ان کی آنیہ کو ڈنڈوں سے پیٹا تھا۔ اس کا جسم لہو لہان ہوگیا تھا، مگر فاطمہ بشیر کو اس کا کوئی دکھ نہ ہوا۔ انہیں اطمینان تھا کہ یہ مار تو دراصل جن کو پڑی ہے، ان کی آنیہ کو نہیں۔
”بی بی !آپ کی بیٹی پر جِن کا سایہ ہے۔ یہ سج سنور کر کسی سنسان جگہ پر گئی تھی جہاں سے جِن اس پر عاشق ہو گیا۔” پیر صاحب نے اونچی پونی والی آنیہ کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا جِس نے سرخ رنگ کی چھوٹی قمیص کے ساتھ جسم کے ساتھ چپکا ہوا چوڑی دار پاجامہ پہن رکھا تھا۔
آنیہ اپنے جسم کی چوٹیں سہلاتے ہوئے نہایت خوف زدہ نظروں سے پیر صاحب کر دیکھ رہی تھی۔
”اب کیا ہو گا پیر صاحب؟ جو چاہیں لے لیں آپ لیکن میری آنیہ کوجِن سے چھڑوا دیں۔ میں بڑی امید لے کر آپ کے در پر آئی ہوں۔” وہ نہایت پریشانی کے عالم میں پیر بابا کے سامنے گڑگڑانے لگیں۔
”ابھی تو آپ پانچ ہزار ہدیہ کردیں، اس جن کو قابو کرنے کے لیے میں جو عمل کروں گا، اس کے اخراجات کے لیے فی الحال یہ کافی ہیں۔ جب بٹیا رانی ٹھیک ہو جائیں گی تو اپنی خوشی سے آپ جو دیں گی وہ میں رکھ لوں گا۔” پاس ہی پڑی کٹوری میں سے الائچی کا دانہ اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے انہوں نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا۔ فاطمہ بشیر کی کچھ امید بندھی تو انہوں نے جھٹ سے پرس میں سے ہزا ر ہزار کے پانچ نوٹ نکال کر پیر صاحب کے سامنے رکھ دیے۔اس دن وہ گھر لوٹیں تو ان کے چہرے پر اطمینان تھا۔




پہلے چِلے کی ناکامی کے بعد پیر صاحب نے دو اور خاص الخاص قسم کے چِلے کاٹے۔ جن کے اخراجات پہلے کی نسبت دوگنا زیادہ تھے۔اس کام میں پورا مہینہ گزر گیا۔ آنیہ اب چپ چپ رہنے لگی تھی۔ تیمار داری کرنے والے آتے اور اس کے سامنے ہر طرح کی بات کرتے۔ وہ چپ چاپ سنتی رہتی۔ اگر بات برداشت سے باہر ہونے لگتی تو اپنا غصہ چیزیں اِدھر اُدھر پھینک کر اتار لیتی۔ نتیجتاً اس کی راتیں پریشانی میں جاگتے ہوئے گزرنے لگیں۔یوں وہ دن میں بھی اکثر غنودگی میں رہنے لگی تھی۔ ادھر فاطمہ بشیر کے پیر صاحب کی طرف پھیرے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
”آخر کب آپ کے قابو میں آئے گا یہ جِن؟میری بچی ختم ہو رہی ہے پیر صاحب۔ اب تو بے ہوشی بھی پہلے سے بہت بڑھ گئی۔” ان کا صبر اب جواب دینے لگا تھا۔ پچاس ہزار سے اوپر لگانے کے بعد بھی آنیہ کی صحت اور حالت سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی۔ آج انہوں نے دل ہی دل میں ٹھان لی تھی کہ یہ آخری پھیرا ہے۔ اگر کام نہ بنا تو وہ ان بابا کے پاس جائے گی جن کا پتا ساجدہ خالہ نے دیا تھا۔
”بی بی آپ کا کام سمجھو ہو گیا، بس اب آمنا سامنا کروانا ہے۔ پھر اس کو ایسی پھٹکار لگائوں گا کہ دوبارہ اس دنیا میں بھی آنے کی ہمت نہیں کرے گا۔بس اب آپ اس جمعرات کو بچی کو ساتھ لے کر آنا۔ اللہ کرم کرے گا۔” پیر صاحب نے ایک ہی بار میں تسبیح کے ڈھیر سارے دانے گراتے ہوئے کہا۔
”جی اچھا ! جمعرات کو میں حاضر ہو جائوں گی آنیہ کو لے کر۔”وہ جھک کر آداب بجا لاتے ہوئے باہر آگئیں۔
ٹھیک جمعرات کو زوال کے وقت وہ دونوں ماں بیٹی آستانے پر پہنچ گئیں۔
”امی میں نہیں جائوں گی اندر۔ پہلے ہی میرا جسم زخموں سے بھرا ہوا ہے، میں اور مار نہیں کھا سکتی اس شخص کی۔” وہ خوف سے کانپتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
کچھ نہیں ہوتا میری چندا، بس آج آخری بار ہے۔” ماں نے اسے پچکارتے ہوئے منانے کی کوشش کی اور زبردستی پیر صاحب کے کمرے میں دھکیل دیا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔ آنیہ کی چیخ پکار بلند سے بلند ہوتی گئی۔
”بچائو، اس خبیث سے بچائو مجھے،دروازہ کھولواماں۔” اس کی آواز فاطمہ کے کانوں میں مسلسل پڑ رہی تھی۔ وہ بھی باہر رو رہی تھیں مگر یہ سوچ کر کہ بیٹی ٹھیک ہو جائے گی، صبر کا دامن تھامے ہوئے تھی۔
آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل پر پردہ پڑ جائے تو انسان پر کوئی چیخ پکار اثر نہیں کرتی اور فاطمہ کے دل پر پیر صاحب کی کرامات کا پردہ پڑ چکا تھا۔
”آج تو پیر صاحب اس جِن کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔ دیکھیں نا ! جن کس طرح تڑپ کر چیخ پکار کر رہا ہے۔” پیر صاحب کے ایک مرید نے انہیں پریشان سا خا موش پایا تو انہیں تسلی دی۔
اللہ سے مدد مانگی ہوتی تو یوں کسی پیر کے آستانے پر انہیں بیٹھنا نہ پڑتا۔
انہوں نے تمام امیدیں پیر صاحب سے لگا رکھی تھیں، جِن تو کیا نکلتا ،عزت کا جنازہ نکل گیا۔ آنیہ مزید ڈپریشن میں چلی گئی۔ اب تو وہ کہیں بھی جانے سے انکار کر دیتی۔ فاطمہ بشیر اب اپنے اس اندھے اعتقاد پر پچھتانے لگی تھیں، مگر ان کا یہ پچھتاوا کسی کام نہیں آ سکتا تھا۔
”آنٹی آپ کیوں ا س طرح ہر کسی کے پاس لے جاتی ہیں اسے؟ کیا فائدہ ہوا؟اگر آپ کو اللہ والوں کی پہچان نہیں ہے تو کسی سے مشورہ تو کر لیا کریں۔ کوئی بندہ آپ کو کوئی بھی راہ دکھائے، آپ سوچے سمجھے بغیر اس راہ کی خاک چھاننے نکل پڑتی ہیں۔”مجھ سے آنیہ کی حالت دیکھی نہ گئی تو فاطمہ آنٹی کو کھری کھری سنا دیں۔
”توبہ استغفار! یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟ اللہ کے ولیوں کا بڑا رتبہ ہے۔ ان سے انکا ر سمجھو اللہ سے انکار ہے۔” فاطمہ آنٹی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولیں۔
” آنٹی! کیا یہ ولی تھے جنہوں نے آنیہ کی زندگی برباد کر ڈالی؟” میں نے سیدھا سا سوال کیا تو وہ ایک لمحے کو خاموش ہو گئیں۔
”آنٹی میں ولی اللہ سے انکار نہیں کر رہی ، مگر اللہ والوں کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر اللہ کی یاد آتی ہے۔ اس طرح کے پیر فقیر تو محض پیسہ کمانے کے لیے خود ساختہ دین کو ریڑھی پر لگا کر بیچتے ہیں اور آپ جیسے مرید ان کے وارے نیارے کرتے ہیں۔”
”بات تو صحیح ہے۔ اگر یہ اصلی پیر ہوتے تو کبھی بھی ڈاکا نہ ڈالتے کسی کی عزت پر۔”انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا ۔
”جو اصلی اللہ والے ہوتے ہیں، وہ اللہ سے جوڑتے ہیں بندے کو ، اللہ کی محتاجی کا احساس دلاتے ہیں، خود اپنا محتاج نہیں کرتے اور اس دن ساجدہ آنٹی نے جن پیر صاحب کا ذکر کیا تھا، وہ واقعی اللہ والے ہیں۔ نور ان کے چہرے پر نظر آتا ہے۔ ویسے تو عورتوں کو ان کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن اگر سامنا ہو جائے تو نظر اوپر نہیں اٹھاتے۔ آپ ایک بار وہاں جا کر ان سے مشورہ کریں۔ آنیہ کو ابھی نہیں لے جائیے گا۔” میں نے خلوص دل سے انہیں سمجھاتے ہوئے مشورہ دیا، تو وہ ممنون نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہیں۔
٭…٭…٭
واقعی اب انہیں آنیہ کی بیماری کا پتا چل چکا تھا۔ بہ قول پیر صاحب جادو، تعویذ، دھاگا یا غیر مرئی چیزوں کا سایہ اسی صورت انسان پر ہو سکتا ہے جب وہ ناپاکی کی حالت میں رہتا ہے اور اللہ کی یاد سے دور ہو جاتا۔ اس کے علاوہ پیر صاحب نے آنیہ کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ فاطمہ بشیر نے آنیہ کی زندگی پر ذرا غور کیا، تو انہیں اصل جڑ مل گئی۔ آنیہ کے ہاتھوں اور پائوں کے ناخنوں پر ہر وقت لگی پالش اس کی پاکی میں حائل تھی اور ہر وقت بنے سنورے رہنے سے اسے قرآن پاک تو دور، نماز پڑھے ہوئے بھی نہ جانے کتنے مہینے گزر گئے تھے۔
فاطمہ بشیر نے اس کی نیل پالش خود اچھی طرح سے اتاری تو آنیہ نے ذرا بھی مزاحمت نہ کی۔ پھر اسے غسل کے تمام تقاضے اچھی طرح سے سمجھانے کے بعد اس کا تزکیہ کیا گیا۔
آنٹی اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں تو بیماری کچھ بھی نہ نکلی۔ موسمی بخار بگڑنے کی وجہ سے کم زوری زیادہ ہوگئی تھی اور جھٹکے لگنے لگے تھے۔کچھ اثر گھر کے ماحول کا بھی تھا۔ فیشن پرستی میں دین کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتے ہی انہوں نے اپنی اور آنیہ کی زندگی کے لیے اصول بنائے۔
سب کچھ ٹھیک ہو چکا تھا۔ پیر صاحب نے انہیں اللہ سے جوڑا تھا۔ اللہ کی یاد اگر زندگی سے نکل جائے تو کچھ بھی صحیح نہیں رہتا۔ پھر انسان وہ سب کچھ کر گزرتا ہے جو اسے دائرۂ ایمان سے خارج بھی کرسکتا ہے۔

٭…٭…٭




 141 views

Read Previous

حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

Read Next

لاحاصل — قسط نمبر ۱

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!