بے شرم — انعم خان

”اری او بے شرم، بے حیا، بدلحاظ اپنے بہنوئی پر ایسا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے تجھے شرم نہ آئی، تجھے اپنی بہن سمجھتا ہے کلموہی ذرا سی غلطی سے اس کا ہاتھ تجھے چھو گیا تو ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی،کیوں اپنی بہن کا گھر برباد کرنے کے درپے ہو بے عقل۔”
کڑکتی دوپہر اور آگ برساتے سورج سے زیادہ پُرتپش لہجہ رقیہ کا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سامنے بے بس بیٹھی بیٹی کو رسید کرتے ہوئے اس کے رخسار کو لال کر ڈالا۔
”اماں میری بات کو سمجھو، عورت مرد کی نگاہ کو پرکھ سکتی ہے، اچھی اور بری نگاہ کو بھانپ سکتی ہے، میری بات کا یقین کرو، بیٹی ہوں میں تمہاری۔” مدیحہ کے الفاظ میں احتجاج مچل رہا تھا۔ اُس کی آواز میں سسکی اور آنکھ میں آنسو در آئے۔ رقیہ نے اس کی زبان کو لگام ڈالنے کے لیے دوسرا ہاتھ بھی ہوا میں لہرایا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس کی آواز حلق میں ہی کہیں دفن کر دے۔ مدیحہ سے زیادہ انہیں مریم کی فکر تھی جو شادی کے پانچ مہینے بعد ہی شوہر کے ساتھ میکے مستقل رہنے آگئی تھی۔ فہیم باپ کے دس مرلہ گھر میں باقی پانچ شادی شدہ بھائیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔سب ہی بال بچے دار تھے۔ شادی کے بعد اسے ایک کمرے دیا گیا۔ کمرہ بہت چھوٹا تھا۔ بہ مشکل اس میں دو بندے ہی رہ سکتے تھے اور یہ بات مریم کے لئے خفگی کا باعث بن گئی سو اس نے اماں سے فریاد کی کہ وہ اُن دونوں کو اپنے پاس رکھ لے۔ فہیم ابھی اس قابل نہ تھا کہ الگ گھر اتنی جلدی کرائے پر لے سکتا۔ اس کے بھائیوں نے بھی عدم تعاون کا اظہار کیا۔ بڑھتی مہنگائی ، کم آمدنی اور زائد اخراجات ان کے لیے پریشانی کا سبب تھے۔
مریم کی سرشت میں صبر ہمیشہ سے ہی بہت کم تھا سو ہر وقت نالاں رہتی اور ماں کو ہر وقت اپنی بیٹی کی حالت دُکھی کردیتی۔ اس نے بہت سوچا، بیٹی کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ ایک آدھ بار جیٹھانیوں سے بھی جھڑپ ہو گئی۔ فہیم لاچار بنا رہا۔ مریم نے ماں کو میکے آنے کا عندیہ دے دیا۔ ماں جو ابھی کچھ ماہ پہلے بہ مشکل اس کے فرض سے سبک دوش ہوئی تھی اسے بسا دیکھنے کی چاہ میں راضی ہو گئی۔ گھر میں کوئی مرد بھی نہ تھا۔ شوہرکا کچھ سال پہلے انتقال ہو چکا تھا اور اولاد میں تین بیٹیاں ہی تھیں۔
”فہیم بیٹا بن کر رہے گا۔ مدیحہ اور ہاجرہ کو لوگوں کی غلیظ نظروں سے تخفظ مل جائے گا۔” اس نے اپنے تئیں بہت مضبوط جواز پیش کیا ۔ جواز معقول لگا تو رقیہ راضی ہوگئی۔ یوں بیٹی شوہر کو لیے ماں کے گھر رہنے آگئی جب کہ فہیم کا سسرال جانا اس کے بھائی بھابھیوں کو نہال کر گیا ۔سسرال میں بھرپور آئو بھگت نے فہیم کی دلی مراد پوری کردی کہ اپنے گھر سے زیادہ اُسے یہاں عزت مل رہی تھی۔ مریم بھی بے فکر ہو گئی کہ شوہر کو بھرپور وقت دینے کے علاوہ وہ گھر کے کام کاج کی ہر ذمہ داری سے بھی مبرا ہو گئی تھی۔ اب ماں اور بہنیں اُسے تکریم سے دیکھتیں، اس کے مزاج کا خیال رکھتیں ۔ رقیہ کی طبیعت اب خراب رہنے لگی تھی۔
گھر کے چھوٹے بڑے کام مدیحہ کے ذمے لگا دیے گئے۔ صبح سے شام تک وہ ہر اونچ نیچ دیکھتی۔ کھانا بناتی، میز پر لگاتی۔ ماں اور بہنیں تو اس کی پہلی آواز پر آجاتیں مگر بہنوئی کو بلانے کے لیے اُسے اُس کے کمرے تک جانا پڑتا۔ وہ ہچکچاتی مگر مریم کی سستی کے پیش نظر اسے جانا ہی پڑتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ فہیم اب اُسے غور سے دیکھنے لگا تھا۔ فہیم کی نگاہوں میں اشتیاق کی انوکھی چمک ابھرتی تو مدیحہ کی چھٹی حس بیدار ہوجاتی۔ وہ ذہین بھی تھی اور مقابل کو پرکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی سو فہیم کے اندر چھپا بُرا مرد اور اس کی فطری سوچ واضح طور پر پہچاننے لگی تھی۔ بہن کو صرف اپنے آرام کی پروا تھی۔ میکے آنے کے بعد شوہر سے توجہ بھی رفتہ رفتہ کم ہو گئی تھی۔





”بھائی کے ساتھ بھی باتیں کیا کرو۔ کل بھی وہ سارا دن کمرے میں لیٹے رہے۔ صرف مجھ سے ہی نہیں تم سب سے بھی ان کا رشتہ ہے۔” مریم نے بہنوں کو تنبیہ کی۔ مدیحہ جل بھن کے رہ گئی۔ بہن کی لاپروائی ان کے لیے خطرہ بننے والی تھی۔
”تم کھانا اچھا بناتی ہو۔ کپڑے بھی کمال کے استری کرتی ہو۔تم بہت خوبصورت ہو مدیحہ!’ ایک دن فہیم اکیلے میں اس کے قریب چلا آیا تھا۔ وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔ یہی خوف تھا جو کئی دنوں سے اس کے اندر پنپ رہا تھا۔
”ڈر کیوں رہی ہو؟” فہیم مُسکرایا۔ وہ اس کی نظروں کی چبھن سے فرار چاہ رہی تھی۔ کمرے کے چھوٹے سے دروازے کے سامنے کھڑا لوگوں کی نظر میں بھائی اس وقت زہر لگنے لگا تھا۔ مضطرب نگاہیں جھک گئیں۔ قدم سرعت سے باہر کی طرف بڑھے تھے کہ فہیم نے مدیحہ کو بازو سے دبوچ کر اپنے قریب کر لیا۔ چہرے پر مکارانہ مسکراہٹ ذہنی پستی کو عیاں کررہی تھی۔ وہ جھٹکے سے خود کو چھڑ ا کر باہر بھاگی۔ اُس کا ذہن فہیم کی گندگی و غلاظت بھری سوچ پر احتجاجاً چلا اُٹھا تھا۔
اس پہ ستم مزید ٹوٹا جب ماں نے طمانچے سے اس کا رخسار لال کرتے ہوئے سو باتیں بھی سنا دیں۔
”بہن کو پتہ چلا تو تیرا حلیہ بگاڑ دے گی، لوگ لعنت ملامت کریں گے۔ بے غیرت اپنی غلاظت بھائی پر مت نکال، کچھ شرم کر،آیندہ اس کے متعلق بات بھی کی تو جان سے مار دوں گی۔” رقیہ نے خبردار کیا۔
پچھلے ماہ خالہ نے بھی اپنے بیٹے سے اس کا رشتہ ختم کر دیا تھا اور اس کی کی زبان کو وجہ ٹھہرایا تھا۔ ماں کو بھی وہی قصور وار لگتی تھی اور اب جبراً لبوں پر قفل ڈالنے کا حکم صادر بھی ہو چکا تھا۔ وہ چپ ہو گئی مگر اُس کے دل میں الائو بھڑک چکا تھا۔
فہیم کے چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ اب اسے مزید ہراساں کرنے لگی تھی مگر کوئی سننے اور سمجھنے والا ہی نہ تھا۔ مرد کی خصلت اب اس کے مد مقابل آن کھڑی ہوئی تھی۔ وہ خصلت جو کتے کی دم سے بھی زیادہ ٹیڑھی تھی، وہ خصلت جو فہیم کی آنکھوں میں بھوک اور ہوس بڑھانے لگی تھی، وہ خصلت جو اسے اب بے حس بناتی جا رہی تھی، وہ خصلت جسے نفس کی تسکین چاہیے تھی۔ وہ خصلت جو اب عملی جامہ پہننے کو بے تاب تھی۔
گھر بھر میں سب اندھے بس رہے تھے۔ بیوی کو شوہر پر اندھا اعتماد تھا۔ ساس کو داماد کی شکل میں بیٹا مل گیا تھا اور دو بہنوں کو ایک بھائی۔ گھر بھر کا محافظ مگر قصہ تمام ہونے والا نہ تھا۔
محافظ کے منصب سے اتر کر ایک وحشی اصل روپ میں سامنے آ چکا تھا۔ایک طرف خاموشی اور دوسری طرف خصلت کا ٹاکرا کالی رات کے گھمبیر سکوت کو خاموشی سے کچل رہا تھا۔ خاموش بھیانک اندھیرا وحشت ناک بن چکا تھا۔ وہ زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتی رہی، اس کی چپ آنسوئوں میں ڈھل گئی مگر گھر کا ہر فرد بے خبر سوتا رہا۔ اس کی آواز حلق میں ہی دم توڑ گئی۔ اسے علم تھاکہ دن کا اجالا اس کی ذات پر ہی الزام تراشی کرے گااور وہ مرد تو کب کا بھوک مٹائے سینہ چوڑا کیے اس کی آہوں اور سسکیوں سے بے خبر غفلت کی نیند سو چکا تھا۔
اگلی صبح وہ سن دماغ کے ساتھ سب کے چہرے دیکھ رہی تھی۔ اس ”بھائی” کو بھی جو نظریں شفاف کیے بیٹھا تھا۔ سب اس کی خاطر مدارات میں لگے تھے۔ ایک آگ سی اس کے سینے میں جل اُٹھی تھی مگر زبان گنگ تھی۔ کسی نے اس کی حالت پر غور نہ کیا۔کسی کو گویا اس کی پروا ہی نہیں تھی۔
عذاب راتوں اور شفاف اجالوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اسے اب سانسیں گھٹتی محسوس ہوتیں ۔ اس کی روح تک گھائل ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھیں بھی انگارہ ہونے لگی تھیں ۔
”تمہارے ہاتھ بہت پیارے ہیں۔”
فہیم کی گرفت میں اب اس کی چودہ سالہ بہن ہاجرہ کا کسمساتا ہاتھ تھا۔مدیحہ کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی اور دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔ وہ جو بھائی بن کے تخفظ کے نام پر اس گھر میں آیا تھا اسے عزتیں پامال کرنے کا روگ لگ چکا تھا۔ خود پہ جو بیتی اُسے تو وہ سہہ چکی تھی مگر اب ہاجرہ کا دامن داغ دار ہونے سے بچانا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ رقیہ اس کی ایک نہیں سنے گی اور بہن بھی مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لے گی۔ فہیم کے بہت سے ہمدرد تھے۔ اس پر انگلی اٹھانا اپنی عزت نیلام کرنے کے مترادف تھا مگر اب ملال اپنی جگہ مگر ایک انتہائی فیصلہ سب کے حق میں بہتر تھا اور اسی لمحے میں ایک فیصلہ کرچکی تھی۔ اُسے بے نقاب کرنے کا فیصلہ۔ اک رشتہ بچانے کی خاطر بہت سارے رشتوں کو قربان نہیں کیا جاسکتا اور دوسرے لمحے میں وہ ماں کو لے کر فہیم کے کمرے کے باہر کھڑی تھی اور اندر سے ہاجرہ کی چیخوں نے اماں کو حواس باختہ کردیا تھا۔
******




 217 views

Read Previous

شہرِذات — عمیرہ احمد

Read Next

لال جوڑا — علینہ ملک

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!