امربیل — قسط نمبر ۱۴ (آخری قسط)

”تم آخر کرنا کیا چاہتے ہو عمر؟ ” ایاز حیدر فون پر درشت لہجے میں کہہ رہے تھے۔ ”آخر کتنی بار مجھ تک تمہاری شکایات آئیں گی۔ اب تو مجھے بھی شرمندگی ہوتی ہے جب میں تمہارے سینئرز سے تمہارے بارے میں بات کرتا ہوں۔ ہر بار میں ان سے کہتا ہوں کہ میں تمہیں سمجھا دوں گا…اور ہر بار تم حماقت کی حد کر دیتے ہو۔” عمر خاموشی سے ان کی بات سن رہا تھا۔
ایاز حیدر نے ابھی کچھ دیر پہلے اس کو آفس میں فون کیا تھا اور وہ اسے جھڑک رہے تھے۔ معاملہ پھر کرنل حمید والا ہی تھا۔ عمر کے بارے میں ایک بار پھر اوپر شکایت کی گئی تھی اور آئی جی نے ایک بار پھر ایاز حیدر سے بات کی تھی۔ اس بار وہ بے حد ناراض تھے اور انہوں نے ایاز حیدر کو بتا دیا تھا کہ وہ اب زیادہ عرصے تک عمر کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔ وہ عمر کی ٹرانسفر کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے پاس عمر کی ٹرانسفر کے احکامات آئے تھے۔ انہوں نے اس معاملے میں ایک بار پھر عمر سے بات کرنے کے بجائے ایاز حیدر سے بات کرنا ضروری سمجھا اور اب ایاز حیدر اس سے بات کررہے تھے۔
”انکل! وہ شخص اس قدر بدتمیز تھا کہ۔۔۔” عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی، ایاز حیدر نے غصے کے عالم میں اس کی بات کاٹی۔
”وہ شخص بدتمیز تھا تو تم بڑے تمیز والے ہو۔ تم اس سے بھی بدتر ہو۔ وہ تو صرف بدتمیز تھا۔ تم تو ڈفر اور ڈل بھی ہو۔”
”اگر آپ اس سے بات کرتے تو میری طرح آپ کو بھی غصہ آتا۔”
”آتا ضرور آتا…مگر میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے کب، کہاں، کس کے سامنے اپنا غصہ دکھانا ہے اور کس سے غصہ چھپانا ہے۔ تمہاری طرح ہر آدمی کے ساتھ جھگڑا میں افورڈ نہیں کر سکتا۔”
”جو بھی ہو انکل…! میں کسی کے باپ کا ملازم نہیں ہوں کہ کوئی مجھ پر چلائے اور وہ بھی ایسا شخص جس کو میں جانتا تک نہیں۔”
”تو برداشت نہ کرنے کا نتیجہ دیکھ لیا ہے تم نے…ٹرانسفر کے آرڈرز آنے والے ہیں تمہارے۔”
”آنے دیں، میں چارج نہیں چھوڑوں گا۔” عمر کو طیش آ گیا۔
”ٹرانسفر آرڈر کے بجائے تم اپنے لیے Suspension orders (معطلی) چاہتے ہو یا پھر termination۔”
”جو مرضی ہو جائے ، میں اس طرح چارج نہیں چھوڑوں گا۔”




”تم آخر چاہتے کیا ہو عمر…کیوں کسی کے ساتھ بنا کر رکھنا نہیں آتا تمہیں۔ کسی نہ کسی کو تم نے اپنے پیچھے لگایا ہوتا ہے۔ پہلے پریس والا تماشا تھا۔ اب فوج کے ساتھ جھگڑا مول لے رہے ہو۔ پتا ہونا چاہیے تمہیں کہ آج کل ہر کام کتنی احتیاط سے کرنا چاہیے ورنہ تم خود تو ڈوبو گے، ساتھ ہمیں بھی ڈبوؤ گے۔”
”میں جتنی احتیاط کر سکتا تھا کر چکا ہوں مگر ان لوگوں کو اپنے علاوہ کوئی اچھا اور پاک صاف لگتا ہی نہیں۔ ہم بھی آفیسر ہیں، کوئی کھیل تماشے کے لیے نہیں بیٹھے ہوئے۔ کام کررہے ہوتے ہیں، ان کا جب دل چاہتا ہے منہ اٹھا کر میرے آفس میں آ جاتے ہیں۔ مجھ پر چلاتے ہیں۔ اگر وہ کرنل ہے تو اسے بھی میرے رینک کا لحاظ ہونا چاہیے۔” عمر شدید غصے میں تھا۔
”اسے پتا ہونا چاہیے کہ مجھ سے کس طرح بات کرنی چاہیے ۔ وہ کسی پولیس کانسٹیبل سے بات کر رہا تھا کہ اس طرح اس پر چلاتا اور وہ بھی اس صورت میں جب غلطی اس کی اپنی تھی اس کا بیٹا ملزم نہیں تھا بلکہ مجرم تھا۔”
”تمہیں معمولی باتوں پر اتنا مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”انکل ! مشتعل ہونے کی بات نہیں ہے۔ میں نے کس طرح اس کے بیٹے کی رہائی کے بعد وہاں مشتعل ہجوم کو کنٹرول کیا ہے۔ آپ یہاں موجود ہوتے تو آپ کو اندازہ ہوتا ہجوم کے اشتعال کا، وہ لوگ پولیس سٹیشن کو آگ لگا دینا چاہتے تھے اور بالکل صحیح کرنا چاہتے تھے۔ ان کی جگہ میں بھی ہوتا تو یہی کرتا۔ ایک بچہ شراب پی کر گاڑی کا ایکسیڈنٹ کرکے ایک آدمی کو مار دیتا ہے اور اس شخص کے لواحقین کی آنکھوں کے سامنے ایک فون آنے پر اس بچے کو کسی پوچھ گچھ کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ واقعی صرف یہاں ہی ہو سکتا ہے، اس کے باوجود میں نے اس ہجوم کے پاس خود جا کر ان سے مذاکرات کیے۔ پتا نہیں کتنے جھوٹ بول کر ان کا غصہ ٹھنڈا کیا اور اس آدمی کی لاش کو دفنانے پر مجبور کیا ورنہ وہ لوگ اسے گورنر ہاؤس کے باہر لا کر رکھ دینا چاہتے تھے۔ اس کے باوجود آپ مجھے بتا رہے ہیں کہ میرے ٹرانسفر کے آرڈر آگئے ہیں۔”
”اچھا ، میں نے تمہاری تقریریں سننے کے لیے تمہیں فون نہیں کیا، میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں تمہیں کہ تم کرنل حمید سے مصالحت کرو۔ اپنے اس مسئلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرو۔” ایاز حیدر نے ایک بار پھر اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”کمال کرتے ہیں آپ بھی۔” عمر کو ان کی بات پر جیسے پتنگے لگ گئے۔
”مصالحت اسے مجھ سے کرنی چاہیے یا مجھے اس کے ساتھ۔ اگر اس سارے معاملے میں کسی نے بدتمیزی کی ہے تو وہ میں نہیں کرنل حمید ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں اس کے ساتھ مصالحت کروں۔”
اچھا فرض کرو کہ کرنل حمید نے ہی تمہارے ساتھ بد تمیزی کی ہے …پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
”کیوں فرق نہیں پڑتا …یہ اس کی غلطی ہے وہ اسے ٹھیک کرے۔ وہ معذرت کرے۔”
”اور وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ اس کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
”تو میں بھی ایسا کبھی نہیں کروں گا کیونکہ مجھے بھی ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
”تم مجھے مجبور کر رہے ہو عمر کہ میں آئی جی سے کہوں کہ تمہیں ٹرانسفر آرڈر نہیں بلکہ سیدھا Termination لیٹر بھجوائیں۔ بلکہ تمہارے خلاف کوئی انکوائری کروائیں تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہاری مدد کی جائے۔ میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم اپنی بکواس میں مصروف ہو۔”
ایاز حیدر اس کے جواب پر یک دم بھڑک اٹھے۔ عمر نے اس بار کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ خاموش رہا۔
”تم پورے خاندان میں واحد ہو۔ جس کے لئے مجھے اتنی بار اس طرح کی وضاحتیں اور معذرتیں کرنی پڑ رہی ہیں۔ ورنہ ہر کوئی بڑی آسانی سے ہر طرح کے سیٹ اپ میں ایڈجسٹ ہو جاتاہے۔ صرف تم ہو جسے کبھی کسی سے شکایات شروع ہو جاتی ہیں اور کبھی کسی سے۔” وہ اب بلند آواز میں دھاڑ رہے تھے۔
”آخر کب تک میں تمہاری پشت پناہی کرتا رہوں گا۔ کب تک تمہیں بچاتا رہوں گا۔ تمہیں نہ صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے نہ اپنی اور فیملی کی عزت کا۔ تمہیں پروا تک نہیں ہے کہ میں تمہارے لئے اپنا کتنا وقت ضائع کر کے تمہیں فون کر رہا ہوں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں عقل دینے کی۔ جاؤ ڈوبو۔ مائی فٹ ۔۔۔”
انہوں نے دوسری طرف سے بڑے غصے کے ساتھ فون پٹخا۔ عمر بہت دیر تک ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا۔ ایاز حیدر کے اس طرح مشتعل ہونے سے اسے اس بات کا اندازہ تو اچھی طرح ہو گیا تھا کہ اس بار معاملہ خاصا خراب ہے۔ ورنہ ایاز حیدر اس سے اس طرح بات نہ کرتے۔ وہ واقعی پوری فیملی کے لئے گاڈ فادر کی طرح تھے۔ ہر معاملے میں وہ اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتے تھے اور کم از کم یہ ایسی چیز نہیں تھی جس نے انہیں کبھی پریشان کیا ہو جس کی وجہ سے وہ کبھی احساس ندامت کا شکار ہوئے ہوں اور اب اگر وہ عمر کے معاملے پر اس طرح جھنجھلا رہے تھے تو یقیناً اس بار انہیں عمر کا دفاع کرنے میں واقعی کچھ دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
عمر جہانگیر کم از کم اتنا زیرک ضرور تھا کہ اسے اس بات کا اندازہ ہو جاتا اور وہ اتنا احمق یا جذباتی بھی نہیں تھا کہ اپنی جاب کو اس طرح جذبات میں آ کر گنوا دیتا۔ فون کا ریسیور رکھ کر وہ کچھ دیر تک اس سارے معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ ایاز حیدر کا اس کی پشت سے ہاتھ اٹھا لینا اس کے لئے واقعی خاصا مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر انہیں اس وقت فوری طور پر دوبارہ فون کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ وہ غصے میں دوبارہ اس سے بات کرنا پسند نہ کرتے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ ایک بار ان سے اس سارے معاملے پر گفتگو کرتا۔
اس نے ایک گھنٹے کے بعد انہیں فون کیا۔ ان کے پی اے نے چند منٹوں کے بعد ایاز حیدر سے اس کا رابطہ کروا دیا تھا۔
”جی عمر جہانگیر صاحب ! آپ نے کیوں زحمت فرمائی ہے یہ کال کرنے کی؟” ایاز حیدر نے اس کی آواز سنتے ہی طنزاً کہا تھا مگر اس کے باوجود عمر جانتا تھا کہ وہ اس وقت غصے میں نہیں تھے۔ ان کے کال ریسیو کر لینے کا مطلب یہی تھا۔
”انکل ! آپ کیا چاہتے ہیں، میں کیا کروں؟” عمر نے بڑی سنجیدگی سے کسی تمہید کے بغیر ان سے پوچھا۔
”میں چاہتا ہوں کہ تم کرنل حمید سے ملو …اس سے معذرت کرو، پھر سارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔”
”اور اگر اس نے مجھ سے ملنے سے انکار کر دیا تو؟”
”نہیں کرے گا …میں اس پر بھی کچھ پریشر ڈلواؤں گا۔ تم بہر حال اس سے ملاقات تو کرو۔”
”ٹھیک ہے، میں اس سے مصالحت کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟”
”مجھے اس کے بارے میں جلدی انفارم کرنا اور ہاں یہ علیزہ کے سسرال والوں نے شادی کی تاریخ کو آگے کرنے کی خواہش کا اظہار کیوں کیا ہے، تمہارا تو رابطہ ہو گا ان کے ساتھ؟”
ایاز حیدر نے …موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ عمر یک دم محتاط ہو گیا۔
”میں نیوز پیپر میں نوٹس پڑھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے تو ممی سے کہا ہے کہ انہیں اس طرح نوٹس دینے سے پہلے مجھ سے بات کر لینی چاہیے تھی” وہ عمر کو بتا رہے تھے۔
”جنید کے گھر والوں کو پہلے ہی شادی کی تاریخ سوچ سمجھ کر رکھنی چاہیے تھی۔ بعد میں اس طرح تبدیلی تو بہت نامناسب بات ہے۔”
”آپ کی گرینی سے بات ہوئی ہے؟”
”ہاں بڑی لمبی بات ہوئی ہے۔ میں پریشان ہو گیا تھا نوٹس دیکھ کر…پھر انہوں نے ہی مجھے بتایا کہ جنید کے گھر والوں نے شادی کے التوا کی درخواست کی تھی۔ تمہیں پتا ہے اس بات کا؟”
”ہاں میری جنید سے بات ہوئی تھی۔” عمر نے گول مول انداز میں کہا۔




 19,083 views

Read Previous

امربیل — قسط نمبر ۱۳

Read Next

صبر بے ثمر — سحرش مصطفیٰ

One Comment

  • It says extended and editted novel. To tarmim to yeh hoti. K umer na marta…and izafa yeh. K dono ki shadi hojati…being a writer u cud ha e done it ☹️

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!