لیپ ٹاپ — ثناء سعید

اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور زور سے دھڑکتے دل کی تھی، جو شاید وہ خود ہی سن سکتی تھی… اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی رفتار مسلسل بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی… دراصل بجلی پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔ اس کا آٹھ سالہ پرانا لیپ ٹاپ اب اپنی آخری سانس لے رہا تھا… نوٹیفکیشن پینل میں بار بار ایک پیغام آرہا تھا۔
“20% available. Please replace your battery or plug in charger”
مائیکرو سافٹ آفس پر کام کرتے ہوئے وہ بہ یک وقت تین ایپلی کیشنز پر کام کر رہی تھی… اسے اپنی پریزنٹیشن تیار کرنا تھی اور ایم ایس ورڈ میں ایک ڈاکومنٹ بھی جمع کروانا تھا… کچھ ضروری اعداد و شمار کو ایکسل میں مینو پلیٹ بھی کرنا تھا۔
ابھی چند سیکنڈ پہلے اس کے لیپ ٹاپ سے اُٹھنے والی بیپ کی آواز کے ساتھ ہی سکرین خالی ہوئی اور ساری بتیاں بجھ گئیں سوائے ایک بتی کے، جو نکھرے نکھرے رنگوں کے بعد اب انتہائی سڑے ہوئے زرد شیڈ میں بدل کے جلنے بجھنے لگی تھی، وہ بھی انتہائی سست انداز میں… یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسے سانس کا مرض ہو… وہ بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی تھی۔
”اُف! اب یہ آن ہونے میں بھی وقت لگائے گا… ایک تو یہ بڈھا لیپ ٹاپ بھی چیونٹی کی رفتار سے چلتاہے۔”
انتہائی کوفت بھرے انداز میں اس نے دوبارہ پاور کا بٹن دبایا… وہ آنکھوں میں بے زاری اور بے چینی کا امتزاج لیے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ Continue with window resume کا پیغام سکرین پر نمودار ہوتے ہی اس نے پوری قوت سے Enter کا بٹن دبایا ۔ یہاں ”اولڈ از گولڈ” والا محاورہ اس کے کام آیا تھا ورنہ تو اس کا کی بورڈ کب کا خراب ہو چکا تھا…
اب سیاہ پس منظر میں “resuming window” کے الفاظ کے سانس کا اتار چڑھائو واضح تھا، جو اس کی کوفت میں اضافے کا باعث بنا۔
آخر کار اس کا سسٹم آن ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے فوراً ایگزل، پاور پوائنٹ اور ورڈ کی فائلز کھولیں اور Ctrl+S دبایا… اور اب وہ دوبارہ ورڈ کی فائل میں کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں بڑے ماہرانہ انداز میں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں، مگر وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی، اسی لئے وہ بار بار غلط بٹن دبا رہی تھی… یہ سلسلہ اس کی کوفت میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہا تھا۔





اس نے بہ مشکل اپنی کوفت پر قابو پایا، تبھی وہ پوری توجہ کام پر مرکوز کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو پائی۔ آخر کار مزید بیس منٹ چلنے کے بعد اس کا لیپ ٹاپ ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ بند ہو گیا ۔
اداس چہرے پر بے پناہ بے بسی، غصہ اور معصومیت لئے اس کا دل چاہا کہ وہ لیپ ٹاپ اٹھائے اور دیوار پر پٹخ دے۔ یہ نہیں تو وہ کم سے کم لیپ ٹاپ پر ایک زور دار مکا ہی دے مارے… ”نہیں” اس کے اندر سے ایک آواز اُبھری… اگر وہ ایسا کرے گی تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔ لیپ ٹاپ ٹوٹنے سے اس کا مالی نقصان ہی نہیں بلکہ خاصا دماغی نقصان بھی ہو گا… اس کا سارا ڈیٹا اسی لیپ ٹاپ میں ہی تھا… اس کے ٹوٹ جانے کی صورت میں وہ ڈیٹا توری کور کر سکتی تھی، لیکن اگر ہارڈ ڈسک ہی جل جاتی تو… نہیں وہ کوئی ایسا کام کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہ تھی۔ شام کے پانچ بج رہے تھے اور کل نو بجے اسے پریزینٹیشن دینا تھی۔
ہنوز اسی موڈ میں کسی بھٹکی ہوئی روح کی مانند کمرے کے اندر باہر کئی چکر لگانے کے بعد اس نے ایک کُشن اُٹھایا اور اپنی پوری قوت سے سامنے دیوار پر دے مارا، جو دیوار کے ساتھ رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے پرفیوم کی بوتل کو جا لگا… اب پرفیوم اور کشن دونوں زمین پر بے ترتیب انداز میں پڑے تھے… یہ دیکھ وہ پیچ و تاب کھا کے رہ گئی… ناچار اپنی جگہ سے اٹھی اور کشن اور پرفیوم دوبارہ اپنی جگہ پر رکھے۔ اپنے کمرے میں وہ مکمل طور پر آزاد تھی۔ جو چیز چاہتی اُٹھا کے پٹخ سکتی تھی، اس طرح کم از کم اس کے دل کا بوجھ تو ہلکا ہو جاتا، مگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی… اس طرح اس کا کمرہ درہم برہم ہو جاتا، پھر اسے واپس اپنی حالت میں بھی خود ہی لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ بکھرے کمرے سے بذاتِ خود اُسے بھی سخت اُلجھن ہوتی تھی، وجہ نمبر دو اگر وہ کمرے کو اسی حالت میں چھوڑ دیتی تو ماما… اگر وہ کمرے میں آگئیں تو اس کی کیا دُرگت بنے گی؟ یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔
٭٭٭٭
لائٹ کا انتظار کرتے کرتے دو گھنٹے گزر چکے تھے، باہر اندھیرا چھا رہا تھا۔ اسے اپنے اندر بھی سب کچھ اندھیرے میں ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ آخرکار وہ بے چارگی کے عالم میں تھک کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بے اختیار رونے کو چاہا، مگر اگلے لمحے ایک خیال آتے ہی اس نے خود کو پوری قوت سے روکا…
آپ کے خیال میں اسے کیا خیال آسکتا ہے؟… شاید اس کے دماغ میں کوئی متبادل حل نکل آیا مثلاً آس پڑوس سے یا کسی کزن وغیرہ سے لیپ ٹاپ کچھ وقت کے لئے ادھار مانگ لے، تو آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی تھی کیوںکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر اسے ادھوری پریزنٹیشن تیار کرنا تھی، وہ ڈیٹا اور ادھوری پریزنٹیشن دونوں ہی اس مرے ہوئے لیپ ٹاپ میں تھے
… دوسرا آپشن کیا ہو سکتا ہے؟… وہ یو۔پی۔ ایس والے کسی خوش نصیب گھر میں جا کر گزارش کرے… ایسا بھی بالکل نہیں تھا… وہ ضرورتاً کسی کے گھر میں قدم رکھنا بھی شدید گناہ سمجھتی تھی… تو کیا ہو سکتا ہے؟… درحقیقت اس نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا … وہ جانتی تھی بجلی آئے گی ضرور چاہے رات کے کسی پہر چور کی طرح آئے اور چپکے سے چلی جائے… اس قدر سمجھ داری اور اُمید کے پیچھے ایک خاص وجہ کار فرما تھی… رونے سے سر میں درد ہوتا ہے اور پھر کوئی بھی کام ٹھیک سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا … اسے تو صبح پریزنٹیشن ہر حال میں دینی تھی… اف اس کے سر کا درد… ایک دفعہ شروع ہو جائے تو آسانی سے جاتا نہیں… بس یہ ہی بات تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی اپنے سر درد کو … دوا کھانے سے تو اسے چڑ تھی … رہی بات بجلی کے چوروں کی طرح آنے کی، تو اس مسئلے کا حل اس کے پاس موجود تھا۔ وہ یہ کہ نومبر کے مہینے میں وہ پنکھا پوری رفتار سے چلا کے سوئے گی، وہ بھی کمبل اوڑھے بغیر، جس سے بجلی آنے پر اس کی آنکھ خود بہ خود ہی کھل جائے گی… لیکن اس کی نوبت نہ آئی۔ عصر، مغرب اور عشا کی نماز کے بعد انتہائی خشوع وخضوع سے مانگی گئی دعا قبول ہو گئی تھی… عین سات بج کے پندرہ منٹ پر بجلی آگئی… وہ مارے خوشی کے زمین سے کوئی دو فٹ اوپر اچھلی اور فوراً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی اورپھر اس نے بجلی دوبارہ نہ جانے کی دعائیں کرتے ہوئے لیپ ٹاپ آن کیا۔ حسبِ سابق لیپ ٹاپ انتہائی سست روی سے آن ہوا۔ اس دوران اس کے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے… شاید وہ کوئی ورد کررہی تھی۔ لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی اس نے ایک بار پھر اپنا کام شروع کیا، ورڈ کی فائل میں موجود آخری پیراگراف غائب تھا… مگر وہ پرواہ کئے بغیر ایک بار پھر تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی…
٭٭٭٭




 365 views

Read Previous

محرمِ دل — نفیسہ عبدالرزاق

Read Next

نیلی آنکھوں والی — عائشہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!