ستائش —ضوفشاں قریشی

حسبِ معمول کلیسا بڑی دل جمعی سے کام چوری میں مصروف تھی، لیکن ہائی وے پر تیزی سے گزرتی گاڑیوں میں بیٹھے مسافروں کے پاس وہ ساعت نہ تھی جو کلیسا کے احتساب کا سبب بنتی۔
کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہی کراچی واقع تھا، جہاں کے سب سے بڑے ریستوران سے وافر مقدار میں برآمد کیا گیا گدھے کا گوشت سوالیہ نشان بنا سوئے ہوئے مفاد پرستوں کو نئی نئی اسکیمیں سجھا رہا تھا ، کیسے کس کے نمبر گھٹا کر اپنے بڑھائے جائیں اور کِن لوگوں کو مہرہ بنایا جائے، سوچ وبچار وہاں چل رہی تھی اور حرکت میں یہ سب لوگ آئے ہوئے تھے، جو کہ ہائی وے پر دُکانیں، ریستوران اور ڈھابے چلاتے تھے۔
شہر بھر میں پھیلتی یہ خبر اب ملک میں کسی وبا کی طرح پھوٹ پڑی تھی کہ لوگوں کی شکم سیری کے ٹھیکے دار حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مخالف پکوان اور اشیاِخوردونوش انہیں پیش کرتے ہیں ، اس کے بعد سے ہی ہر طرف ایک گہما گہمی اور ہلچل مچ چکی تھی۔ شہر سے کچھ پرے ، ہائی وے کے قریب یہ چھوٹا سا قصبہ بھی اِس خبر سے غافل نہ تھا۔
یوں تو اکثریت کو یقین تھا کہ ہائی وے پر موجود اِن اِکا دُکا دکانوں ، چھوٹے موٹے ریستورانوں اور ڈھابوں کی جانچ پڑتال کرنے کوئی نہ آئے گا مگر پھر بھی :
قدسی نے دودھ میں ہر قسم کی ملاوٹ ترک کردی۔۔۔
ساجد نے حلوے میں زہریلی مٹھاس اور پوریوں کے لیے ناقص گھی کا استعمال چھوڑ دیا ۔۔
فیاض نے گلے سڑے پھلوں اور خراب ہوتی سبزیوں کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب برتا ۔۔
جب کہ سعدی نے بیمار مرغیوں کی چکن کڑاہی بنانے سے توبہ کرلی ، اور غیر معیاری تیل کی جگہ ڈالڈا کے کنستر منگوا کر اپنے ڈھابے کے کائونٹر پر سجا کر رکھ دیے۔
بہ قول کلیسا۔۔۔”جتانے کے سے انداز میں رکھ دئیے” ۔۔۔۔ یوں۔۔۔جیسے کہ وہ اِس معیاری تیل میں کھانے پکا پکا کر گویا مفت تقسیم کرتا ہو۔
اِن سب کا تعلق ہائی وے سے متصل ایک چھوٹے سے قصبے سے تھا، نجانے سادہ لوح تھے یا بے وقوف کہ اب بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہ کب احتسابی پارٹی یہاں کا رُخ کرے اور انہیں پاس کرے ، اور کب ان کی جان اِس ایمان داری سے چھوٹ جائے۔
کلیسا اور اسد وہ لوگ تھے جنہوں نے احتسابی پارٹی کی آمد کی خبر پا کر بھی اپنی روش نہ بدلی۔





راجستھانی گھاگرا چولی پہنے، بیس بائیس سالہ کلیسا ہر صبح اپنے جھاڑن اور تپڑی کے ساتھ ہنستی مسکراتی ہائی وے پہ واقع اِن دکانوں کے باسیوں کو سلام کرتی اور روڈ کے کنارے اکڑوں بیٹھ کر نجانے کتنی ہی دیر خلال کرتی۔ اس دوران کچھ فاصلے پر واقع سرکاری سکول کے بچے اسے دیکھ کر ہنستے۔۔اکثر وہ سکول کی ڈیوٹی چھوڑے نجانے کون سا مرکب یا منجن بعد از خلال استعمال کرتی کہ اس کے تمام دانت اور زبان سُرخ ہو جاتی ، پھر کبھی وہ فیاض سے اپنے آبائی صحرا کی باتیں کرتی اور کبھی سعدی کو ہر سال چوری چھپے بارڈر پار اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی داستانیں سناتی۔
اسد کو وہ سکول کے زمانے سے ہی کسی سوکھے ہوئے مگر طویل اور مضبوط تنے کی مانند لگتی۔۔۔ اسد کی اِس تشبیہ میں مبالغہ آرائی کے ساتھ ساتھ سچائی بھی نظر آتی۔ جب کبھی وہ بغیر آستینوں والی چولی پہنتی تو اس کی سانولی جِلد اور گوشت سے عاری لمبے بازو یوں دکھائی دیتے کہ جیسے اس کی ہڈیوں کے لیے چمڑا کم پڑ گیا ہو اور پھر کھینچ تان کر چڑھانے پر ڈھیروں سلوٹیں پڑ چکی ہوں ۔ اس کی چولی سے ہمہ وقت جھانکتا بالشت بھر پیٹ بھی اس کے بازوں کی طرح ماس سے عاری تھا، البتہ اس کے گھاگرے سے لٹکتی پنڈلیاں قدرے بہتر معلوم ہوتیں، وہ بھی شاید اِس لیے کہ ان پر جگہ جگہ سیاہی سے سیارے بنائے گئے تھے، ہر سیارہ کسی بچھڑے ہوئے رشتہ دار کی یاد سے جڑا ہوا تھا۔
وہ سیّارے گنتی ۔۔۔ کئی بار خیالوں کی حدود پار کرتی صحرا میں بھٹکتی۔۔۔۔ اور روز بہ روز سڑک کے کناروں پر غبار اور مردار پتوں کے ڈھیر میں اضافہ ہوتا رہتا۔
اس صبح وہ معمول سے کچھ پہلے دکانوں کی طرف آگئی، کہرے میں اس نے دیکھا کہ اسد نیلی روشنائی سا سوئیٹر پہنے بستی سے دُکانوں کی طرف اپنی سائیکل پہ آ رہا ہے، کلیسا کو محسوس ہوا جیسے وہ دوات بن جانا چاہتی ہو۔۔مگر پھر مذہب کا سوچ کر ہمیشہ کی طرح اس خیال کو نظر انداز کر گئی ۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح آج بھی جذبات سے معمور ہو کر اس نے سوچا کہ چلو یوں تو یوں ہی سہی ۔۔پر کوئی تو ایسا عمل ہوگا جس کے بعد وہ اسد کی زندگی آسان بنا دے اور اپنے سر سے محبت کا یہ بوجھ اتار پھینکے ۔۔۔
اور کچھ نہیں تو کم از کم ایسی کوئی بات ہی بنا ڈالے کہ جسے کہہ کر وہ اسد کو دنیا میں وہ مقام اور عزت دِلا سکے جس کا وہ کلیسا کے مطابق مستحق تھا۔ ۔۔۔ ہاں! یہ ممکن تھا ، کیوںکہ ایسی ایک بات کلیسا کو معلوم تھی۔۔۔۔۔۔بات کیا تھی،بس ایک طرح کا راز تھا۔
تمام بے ایمان سوداگروں کے بیچ اسد روز صبح سے شام جھوٹی ہنسی ہنستا تھا، وہ جھوٹا نہیں تھا۔۔۔۔ہاں پر۔۔۔وہ سچا بھی تو نہیں تھا— وہ کچھ کہتا بھی تو نہیں تھا، اور اگر وہ اور اسد ایک ہی بستی میں نہ رہتے ہوتے تو شاید کبھی کلیسا پر بھی یہ حقیقت ظاہر نہ ہوتی۔
بات کوئی ایسی بڑی یا اہم بھی نہ تھی۔۔۔ مگر کلیسا کو اپنے سینے پر اک بوجھ سا محسوس ہوتا، ایسا بوجھ اس نے اپنی بائیس سالہ زندگی میں پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔





کیسا بوجھ تھا یہ؟
کیا مذہب کا؟ ۔۔۔۔۔ نہیں!
کیا یہ ان کہی محبت کا وزن تھا؟۔۔۔۔۔۔۔نہیں!
کیا یہ بوجھ یک طرفہ لگائو کا تھا؟ ۔۔۔۔۔نہیں!
کیا کوئی ملال۔۔۔۔؟
نہیں۔
پھر؟
اصل میں، کلیسا یہ محسوس کرتی کہ کوئی فرض تھا جو اسے اسد سے ہوئی یک طرفہ محبت کی تکمیل کے لیے نبھانا تھا، پر وہ فرض کیا تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اسے معلوم نہ تھا۔
کلیسا روز اپنے آپ سے وعدہ لیتی تھی۔
روز رات سونے سے پہلے اور صبح گیتا کا پاٹ کرنے سے قبل ۔۔!
اسد ایمان دار انسان ہے۔۔۔
وہ تم سب سے یہ نہیں کہہ سکتا۔۔۔
بے ایمانی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اسد کو اپنی دیانت داری سے شرم آتی ہے۔۔۔
جس طرح کوئی بن بیاہی چھوری اپنی ناجائز اولاد چھپاتی ہے۔۔۔
کلیسا من ہی من آب دیدہ ہو جاتی جب کبھی قدسی ، ساجد، فیاض اور سعدی اپنی معنی خیز گفت گو کے دوران ایسا کچھ کہہ دیتے کہ جس سے اسد بھی انہی کے گروہ کا حصہ معلوم ہوتا۔۔۔۔۔بے ایمان!
وہ جانتی تھی ۔۔۔
تیل، آٹا، میدہ ، شکر ۔۔
گوشت، سبزی، دالیں ، انڈے۔۔۔
گلاس، پلیٹیں، پیالیاں، چمچ ۔۔
اسد کا سب کچھ خالص اور صاف ستھرا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے باطن کی طرح۔
کلیسا کو پرائمری کے بعد بستی کا سرکاری اسکول چھوڑنے کا کوئی غم نہ تھا کیوںکہ اسد اب بھی ویسے کا ویسا ہی تھا ۔۔۔کیا ہوا، جو وہ ہم جماعت اور ہم نشست نہ رہے ۔۔
وہ اسد سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیوں وہ اِن سب دُکان داروں کی غلط فہمی دور نہیں کرتا، کیوں وہ انہیں سچائی نہیں بتاتا اور چپ چاپ من ہی من مسکرائے جاتا ہے۔
وہ روز اپنے آپ سے وعدہ لیتی پر آٹھ ماہ میں ایک مرتبہ بھی خود سے کیا گیا عہد نہ نبھا پائی ، کسی اور کو تو کیا۔۔۔وہ تو اسد کو بھی یہ نہ بتا پائی کہ وہ سب جانتی ہے۔۔اس کی ایمان داری کو پہچانتی ہے۔
رفتہ رفتہ اس کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔





خیالوں ہی خیالوں میں وہ کتنے ہی لوگوں سے اسد کے لیے لڑ چکی تھی، کتنی ہی ناگہانی آفتوں سے اسے بچا کر کامیابی سے بازیاب کروا چکی تھی۔
کلیسا کے خیالات سچے کھرے تھے مگر حقیقت میں اسے ایسے مواقع دستیاب نہ تھے۔
جانچ پڑتال کے لیے احتسابی پارٹی کی آمد کا سن کر سب سے زیادہ خوشی اسد کو ہوئی تھی۔
وہ ہمیشہ ہائی وے پر گزرتی گاڑیوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ کیا گاڑیوں میں سوار اِن لوگوں میں سے کسی ایک شخص کو بھی یہ اندازہ ہوگا کہ ہائی وے کے کنارے واقع اس سستے سے ہوٹل میں ہر شئے خالص اور معیاری ہے، کِس لگن سے اکثر وہ رات رات بھر جاگ کر ہوٹل میں استعمال ہونے والے مٹی کے برتن اپنے ہاتھوں سے تیار کرتا۔۔ کیا انہیں اندازہ تھا کہ اِس ہوٹل کا مالک ایک دیانت دار انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کسی کو پروا ہے؟ کیا کسی کو فرق پڑتا ہے؟
یہ ہم جیسے لوگوں کی پروا کرنا اسکولوں میں کیوں نہیں سِکھایا جاتا؟
کیوں ہم تاریخی یا فرضی کرداروں کی کامیابیوں اور فتوحات کی پروا کرتے ہیں، مگر جو چھوٹے موٹے ثانوی کردار ہماری خوشی، آسانی اور سہولت کے لیے دیانت داری سے اپنی اپنی ذمہ داریاں اور نوکریاں نبھاتے ہیں ان کی پروا تو کیا۔۔۔ہم تو انہیں پہچان بھی نہیں پاتے۔۔۔۔ ایسا کون سا ادارہ یا رشتہ ہے، جس پر یہ سب سکھانے کی ذمہ داری لاگو ہوتی ہے؟
وہ دیکھتا تھا کہ کِس طرح بے ایمانی سے سب دکان داروں کا بھلا ہوتا تھا۔۔۔
لیکن وہ خود ایسا کر نہیں سکتا تھا اور ایمان داری اسے ذہنی سکون کے سِوا اب کچھ بھی دے نہیں پا رہی تھی۔۔۔اور اب تو کچھ عرصے سے وہ جان نہیں پا رہا تھا کہ ایمان داری کا سکھ ہونے کے باوجود اس کا ذہنی سکون برباد کیوں ہوتا چلا جارہا ہے۔
خبر پورے قصبے میں گرم ہو رہی تھی کہ صاحب لوگ جلد جانچ پڑتال کے لیے آنے والے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اسد اور کلیسا ۔۔دونوں احتسابی پارٹی کی آمد کے منتظر تھے۔۔۔۔۔۔اسد کی ایمان داری پر شاباشی اور داد چاہتے تھے ۔۔۔
ادھر برکت نائی کے چھوٹے سے ٹی وی پر ایک دانش ور، ڈرامہ نگار اور چند ایک مصور زور و شور سے بحث میں مشغول تھے کہ فنکار طبقہ جس داد و تحسین کا مستحق ہے وہ انہیں ملتی نہیں ۔۔۔ کلیسا یہ پروگرام دیکھ کر پھر سے پیشوں اور داد کی تقسیم کے چکر میں پڑ گئی۔۔۔اُلجھ گئی، سمجھ نہ پائی۔۔۔۔یہ بھی جان نہ پائی کہ الجھن کیا تھی۔
شام کو جب وہ اُلجھی اُلجھی اپنی بستی میں داخل ہوئی تو وجہ سمجھ میں آئی کہ اسد آج گھر جلدی کیوں چلا گیا تھا۔
احتسابی پارٹی کے بڑے صاحب کا تبادلہ دوسرے شہر ہوگیا تھا۔۔اب احتساب نہیں ہونا تھا۔
اسد کا دل نجانے کیوں ٹوٹ گیا تھا۔
کلیسا اسد کے کمرے میں گئی اور چھت کے ٹوٹے پنکھے سے لٹکتی رسی کو دیکھتی رہی۔




 226 views

Read Previous

شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

Read Next

چاند میری زمیں پھول میرا وطن —- زاہدہ عروج تاج

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!