چنبیلی کے پھول قسط نمبر 7

٭…٭…٭

عنایا یونہی شام کو چھت پر آئی تو شیراز بھی اپنی چھت پر پہلے سے ہی موجود تھا۔ دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھی ۔ دونوں گھروں میں فاصلہ ہی کتنا تھا۔
اُسے دیکھتے ہی فوراً دیوار کے پاس آگیا۔
”کیسی ہیں آپ؟”
اُس نے خوشگوار انداز میں کہا۔
”ٹھیک ہوں! آپ کیسے ہیں؟”
اس نے بھی جواباً خوشدلی کا مظاہرہ کیا۔
اب دونوں گھرانو ں کے تعلقات اتنے خوشگوار ضرور تھے کہ مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے ہی دیاجاتا۔
”میں ٹھیک ہوں… اور بہت خوش بھی ہوں۔”
وہ چونکاتے ہوئے انداز میں بولا۔
وہ ٹھٹک گئی۔ اس نے بطور خاص اپنی خوشی کا ذکر کیوں کیا تھا۔
”ہاں… انسان کو خوش ہی رہنا چاہیے مگر آپ کی اس بے پناہ خوشی کی کیا وجہ ہے!”
اس نے پوچھ ہی لیا۔
وہ رازداری سے ذرا آگے کو ہوا اور دیوار پر اپنی دونوں کہنیاں ٹکادیں۔
”میں نے جیمو ماموں سے بات کی ہے۔ وہ میری شادی کروا رہے ہیں ۔ وہ بھی بہت جلد…”
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
”مگر انہوں نے کوئی میرج بیورو تو نہیں کھولا ہوا۔”
عنایا کو اس کا انداز عجیب سا لگا۔
”ارے بھئی…وہ اپنی شادی سمیت اتنے لوگوں کے گھر آباد کروا رہے ہیں تو میری شادی بھی کروا ہی سکتے ہیں۔ اور انہوں نے حامی بھی بھرلی ہے۔ مجھے اُن کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔”
اس نے خوشگوار انداز میں کہا۔
”ہاں اچھی بات ہے۔ آپ بھی پھر دوسروں کے گھروں میں تانک جھانک نہیں کیا کریں گے۔”
اس نے کہا۔
وہ غور سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
”آپ خوش ہیں کہ میری شادی ہونے والی ہے؟”
”آپ کی شادی کے معاملے میں بھلا میری خوشی یا ناخوشی کا کیا سوال؟”
وہ حیران ہوئی۔
”میں تو سمجھتا تھا کہ آپ میرا انتظار کرتی ہیں۔”
اُس کی آواز میں مسکراہٹ تھی۔
”خوش فہمی ہے آپ کی… میں بھلا آ پ کا انتظار کیوں کروں گی؟”
وہ تو اُس سے لڑنے لگ گئی۔
اُس کی سیاہ آنکھیں یکدم ہی لو دینے لگیں۔
”کیوں! کیا میں اتنا برا ہوں کہ کوئی لڑکی میرا انتظار بھی نہیں کرسکتی!”
اُس کی آواز میں جذبات تھے ۔ آج تو اُس کا انداز ہی الگ تھا۔ آنکھوں میں محبتوں کا اک جہاں آباد تھا۔
وہ زیادہ دیر اُس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائی۔
”آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟”
وہ اُس پر غصہ کرنا چاہتی تھی مگر نہیں کرپائی۔
”میں تو خود کو آپ کا ہمسایہ ہی سمجھتا تھا مگر اب اپنی اس حیثیت کو بدلنے کا طلبگار ہوں۔”
اس نے اپنے جذبات کا اظہار کے لئے کسی مشکل غزل جیسی گاڑھی اردو استعمال کی ۔
”کیا مطلب ہے آپ کا؟”
ثمن اور ٹیپو کو اردو کی مشکل غزلیں، سیاس و سبا ق کے ساتھ پڑھانے والی لڑکی ایک جملے کا مطلب ہونقوں کی طرح اپنے ہمسائے سے پوچھ رہی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ جملہ واقعی بہت مشکل تھا۔
”مطلب یہ کہ میں جیمو ماموں سے اپنے دل کی بات کرچکا ہوں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تمہاری شادی عنایا سے کردوں گا۔”
وہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے دلکشی سے بولا۔ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
”ہیں؟”
وہ احمقوں کی طرح اُسے دیکھنے لگی۔
بھلا جیمو ماموں نے بغیر کسی کو بتائے اتنی رازداری سے کب اُس سے یہ وعدے کرلئے تھے۔
”جی ہاں میں ایک مشرقی اور شریف لڑکا ہوں۔ اب زیادہ دیر یہاں کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اس لئے چلتا ہوں۔”
وہ مسکرا کر بولا۔
پھر اپنے دروازے کی طرف چلا گیا جو بات کہنا چاہتا تھا۔ وہ کہہ چکا تھا۔ وہ حیران کھڑی رہی۔
شیراز نے دروازے سے اندر جاتے ہوئے مڑ کر اُسے دیکھا۔
عنایا کے چہرے پر بڑی بے ساختہ مسکراہٹ چمکی۔ پھر اس نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لئے رُخ پھیر لیا۔
مگر وہ اس کی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔
اور اس مسکراہٹ میں اقرار کے رنگ تھے۔
٭…٭…٭

ثمن اپنے کمرے میں بیٹھی فون پر عشنا سے باتیں کررہی تھی۔ عشنا کو یہاں کے سب حالات سے باخبر کرنا بھی تو اُس کا فرض تھا۔
”تم لوگ کیا میرے کینیڈا جانے کا انتظارکررہے تھے؟ میرے یہاں آتے ہی وہاں اتنے بڑے بڑے انقلاب آگئے۔”
عشنا نے گلہ کرتے ہوئے کہا۔
اک دوسرے براعظم میں رہنے کے باوجود اُس کی ساری دلچسپی پاکستان میں ہی تھی۔
روزانہ فون پر بات ہوتی۔ چیٹنگ ہوتی، روزانہ ڈھیروں تصویریں سینڈ کی جاتیں، پھر وہ اور ثمن خوب تبصرے کرتیں۔ ایڈونچرز کے شوق پورے ہوگئے۔
”بس انقلاب آنے کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اس انقلاب کی شروعات تو تم نے کی تھی۔ خیر تم یہ بتائو کہ کب آرہی ہو؟”
ثمن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”رانیہ باجی کی شادی سے پہلے آجائوں گی۔ اور سب سے زیادہ تو میں جیمو ماموں اور روشنی پھپھو کی شادی کے لئے ایکسائیٹڈ ہوں۔
جس نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے بہت ہی اچھا کیا ہے۔”
عشنا نے پرجوش انداز یں کہا۔
”یہ زوار بھائی کا کارنامہ ہے۔”
ثمن نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
”بڑے چھپے رستم ہیں وہ تو… مگر تم مجھے یہ بتائو کہ عنایا باجی کی شادی اُس بدتمیز neigbour سے کیوں ہورہی ہے؟ ایک دن وہ اس گھر میں مہمان رہا اور اگلے دن اپنا رشتہ بھی لے آیا!”
عشنا ذرا خفا ہوئی۔
ثمن کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا۔
”ارے وہ ہمسایہ اب کافی سدھر گیا ہے۔ پھر سب نے سوچا کہ چلو بے چارے کا گھر ہی بس جائے گا۔”
ثمن کے جواب سے عشنا کو تسلی نہ ہوئی۔
”کیا عنایا باجی مان گئیں؟”
عشنا کو وہ سب باتیں یاد تھیں جو عنایا نے نہایت خفگی اور غصے بھرے انداز میں اُس ہمسائے کو سنائی تھیں، اور اس ہمسائے کی جوابی کارروائی کو بھی وہ نہیں بھولی تھی۔
ثمن بے ساختہ ہنسی۔
”ہاں… وہ بھی چھپی رستم ہیں۔”
اس کے کھلکھلاتے ہوئے جواب نے عشنا کو حیرت زدہ کردیا۔
”مگر یہ سب کیسے ہوا؟”
”بس…شاید اس نے عنایا باجی کو ہپناٹائز کردیا ہے۔”
اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا۔
عشنا بے اختیار بولی۔
”ہپناٹائز ؟ اور تم لوگ ایسے آدمی سے ان کی شادی کررہے ہو؟”
اسے افسوس ہوا۔
ثمن ہنس ہنس کے دہری ہوگئی۔
”ہاں… کیونکہ وہ ہمسایہ عنایا باجی کے عشق میں بری طرح گرفتار ہوگیا ہے ۔پھر ہم نے بھی سوچا کہ ایک عاشق کا دل توڑ کر اس کی بد دعائیں کیوں لیں!”
یہ انکشاف نیا تھا۔
”ویسے وہ کافی معقول بندہ ہے۔ بینک میں جاب کرتا ہے۔ اُس کا گھر بھی اپنا ہے۔ گاڑی بھی ہے اس کے پاس۔ ہاں پہلے وہ بدمزاج ضرور تھا مگر اب وہ کافی سدھر گیا ہے اور خوش مزاج بھی ہوگیا ہے۔”ثمن نے کہا۔
عشنا کی خفگی ذرا کم ہوئی۔
”اچھا چلو… روشنی پھپھو کو فون کرتی ہوں کہ اتنی ساری شادیوں کے لئے میرے کپڑے بنوادیں۔ لہنگے، غرارے، شرارے…”وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف ہوگئیں۔
انہیں بہت سے کام کرنے تھے۔ عشنا اپنے ماں باپ کو قائل کرچکی تھی کہ وہ پاکستان شفٹ ہوجائیں اور عقیل نے بھی یہ فیصلہ کرلیا تھا۔
٭…٭…٭
ہر طرف شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ روشنی خاموش تھی۔ اپنا رشتہ طے ہوجانے پر اُس نے کسی قسم کے ردعمل کااظہار نہیں کیا تھا۔ مگر اُس کے رویے سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ قسمت کے لکھے کو قبول کرچکی ہے۔ آنکھوں کے آنسو خشک ہوچکے تھے۔
وہ سارا دن اپنے کمرے میں بیٹھی ٹیوب لائٹ جلائے سلائی مشین پر کپڑے سیتی رہتی ۔ رنگین دھاگے، گوٹا کناری،مختلف رنگوں کے فیتے، چمک دار بٹن ، ادھر ادھر بکھرے رہتے۔ پھر وہ بنارسی کپڑوں کی کترنیں جمع کرتی رہتی۔ محلے اور خاندا ن میں فردوسی خالہ کی بڑی عزت تھی۔ وہ لوگو کے دُکھ درد میں کام آنے والی شخصیت تھیں۔ لوگ مبارک باد دینے آتے رہتے ساتھ میں اپنی حیثیت کے مطابق چھوٹا موٹا تحفہ بھی لے آتے۔ دوسرے کمرے میں تحفوں کا اک ڈھیر جمع ہوگیا۔ پیالوں کا سیٹ، اچار کا مرتبان، رنگین دری، مصالحوں والے ڈبے، چینک اور پیالیاں ، بنارسی اور ریشیمی کپڑے ، شیشے کے گلاس وغیرہ وغیرہ ۔ فردوسی خالہ شکر ادا کرتے نہ تھکتیں۔ گوکہ جیمو ماموں کے گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی مگر بیٹی کے جہیز کی چیزیں اُس کی اپنی ملکیت ہوتی ہیں اور ا س ملکیت کے احساس میں فخر اور اطمینان ہوتا ہے۔
فردوسی خالہ نیلے رنگ کا بڑا سا شاپر ہاتھ میں لئے روشنی کے کمرے میں آئیں تو وہ حسب معمول سلائی مشین پر جھکی سلائی میں مصروف تھی اور بہت انہماک سے انگوری رنگ کے بنارسی سوٹ کے کنارے پر سنہرے رنگ کا گوٹا لگا رہی تھی۔
فردوسی خالہ نے اندر آتے ہوئے روشنی کو نرمی سے ٹوکا۔
”ارے بیٹا! کیا سارا دن سلائی مشین کے ساتھ ہی مصروف رہتی ہو ! کندھوں میں درد ہوجائے گا۔ عینک کا نمبر بڑ ھ جائے گا۔”
مگر روشنی اپنے کام میں ہی مصروف رہی۔
”عشنا کے کپڑے سی رہی ہوں ۔ اُگے گوٹے والے کپڑے پہننے کابہت شوق ہے۔ آتے ساتھ ہی کہاں بازاروں کے چکر لگا ئے گی!”
اس ایک جملے میں ڈھکا چھپا سا اقرار تھا۔ روشنی کے رویے سے انہیں تسلی ہوئی کہ وہ آہستہ آہستہ نارمل ہورہی ہے۔ اب وہ پہلے کی طرح سارا دن رونے دھونے میں مصروف نہیں رہتی تھی۔
”عشنا کے آنے میں ابھی بہت دن ہیں ۔ اس کے کپڑے میں درزن کو دے آئوں گی۔ بڑی اچھی سلائی کرتی ہے۔ ہر ڈیزائن اُسے بنانا آتا ہے۔”
وہ روشنی کے قریب بیٹھتے ہوئے بولیں۔
روشنی سرجھکائے خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔ سلائی مشین کی موٹر چلتی رہی۔
”عقیل ، عشنا اور عطیہ تو وقت پر ہی پہنچیں گے۔ مگر عطیہ نے بھلا کیا تیاری کروانی ہے۔ اُس کے تو اپنے ہی سو بکھیڑے ہوں گے۔ آج تو میں رکشہ پکڑ کر بازار چلی گئی ۔ بہت عرصہ پہلے تم نے ہیل والی جوتی پہننی چھوڑ دی تھی، مگر اب میں چار جوڑے ہیل والی جوتیوں کے لے آئی ہوں۔ موتیوں والے پرس بھی اچھے لگے تو خرید لئے۔ میک اپ کا سامان تو عشنا کینیڈا سے لارہی ہے۔ ابھی تو تمہاری سجنے سنورنے کی عمر ہے بیٹا۔ تمہیں اس سلائی مشین سے فرصت ملے تو اپنی چیزیں بھی دیکھو۔”
انہوں نے قریب پڑے شاپر کی طرف اشارہ کیا۔ ان کی آواز میں محسوس کی جانے والی خوشی تھی۔ وہ روشنی کو بات چیت میں مصروف رکھنا چاہتی تھیں۔ روشنی کی سنجیدگی میں فرق نہیں آیا۔
”دیکھ لوں گی۔ آپ لے آئی ہیں تو سب چیزیں اچھی ہی ہوں گی۔ آج ہی آپ کی پنشن آئی اور آج ہی آپ نے خرچ بھی کر دی۔ پورا مہینہ بھی تو گزارنا ہے۔ بل بھی دینے ہیں۔”
روشنی کی آواز میں فکر مندی تھی۔
وہ ماں کے اُس بھرم سے واقف تھی جو وہ بہت سالوں سے لوگوں کے سامنے رکھتی آرہی تھیں۔
”ارے تم کیوں فکر کرتی ہو بیٹا… عقیل نے خاص تمہاری شادی کے لئے رقم بھیجی ہے۔ پنشن میں کہاں ہوتی ہے ہزاروں روپے کی شاپنگ! تم کسی چیز کی فکر نہ کرو۔ جیمو میاں بھلے آدمی ہیں۔ جو پکائوگی ، چپ کرکے کھالیں گے۔ تمہاری بات سنیں گے اور تمہاری رائے کا احترام کریں گے۔ بھلے آدمی کے ساتھ قربانیاں دیئے بغیر بھی اچھی زندگی گزر سکتی ہے۔ انیسہ نے تو ہرقسم کے تردد سے منع کیا ہے مگر یہ تیاریاں تو میں اپنی خوشی سے کر رہی ہوں۔ برسوں پہلے جب تمہیں ا س گھر سے رخصت کیا تھا تو دل خوفزدہ تھا پھر ہم برسوں خوفزدہ ہی رہے۔ تم بھی ہمارے خوف کو سمجھتی تھی اسی لئے تو تم نے اپنے دکھ دل میں ہی چھپا لئے مگر اب تمہیں اس گھر سے رخصت کرتے وقت میرا دل مطمئن ہے، خوش ہے۔”
وہ اطمینان بھرے انداز میں بولیں۔
روشنی نے سراٹھا کر اُن کی طرف دیکھا ۔ سلائی مشین کی موٹر رُک گئی۔
”امی! میں جانتی ہوں کہ پنشن لینے والے لوگ اندر سے بڑے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے سامنے اپنا بھرم بھی رکھنا پڑتا ہے۔ دنیا کوبتانا پڑتا ہے کہ وہ تو اپنی ریٹائرمنٹ سے بڑے خوش ہیں۔ انہیں ریٹائرمنٹ سے کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑا، اور اُن کے اخراجات پنشن میں پورے ہوجاتے ہیں۔ میں نے اتنے سال خاموشی سے ثاقب کے ساتھ اسی لئے گزار دیئے کیونکہ میں یہ سب باتیں سمجھتی تھی۔ میں آپ کا بوجھ بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ آج میرا ضمیر مطمئن ہے ۔ آج میں ماضی کو یاد نہیں کرتی، آج میں مستقبل کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اپنے حال میں خوش رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ وقت نے مجھے بڑے سبق سکھائے ہیں۔ جو مجھے ہمیشہ یا د رہیں گے۔”
روشنی نے سنجیدگی سے کہا۔
فردوسی خالہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اُن کی بیٹی اُنہیں سمجھتی تھی۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں اور دروازے کی طرف جانے لگیں۔
”اپنی چیزیں دیکھ لینا اور الماری میں سنبھال کر رکھ لینا۔”
انہوں نے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے نم آواز میں کہا۔ انہیں اب بھی اپنا بھرم رکھنے کی عادت تھی۔
روشنی پھر سے سلائی مشین پر جھک گئی۔ اُسے ابھی بہت سے کام کرنے تھے۔
٭…٭…٭
اُدھر جیمو ماموں کے گھر بھی بہت سے کام تھے۔ زوار اور رانیہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ رانیہ کی امی اور جیمو ماموں دن رات مصروف رہتے۔ شیراز سارادن چکر لگاتا رہتا۔ بازار کے کام ہوتے تو وہ ڈرائیور بن جاتا۔ ہال کی بکنگ، کیٹرنگ کے معاملات، کارڈز کی پرنٹنگ ، اسٹیج کی ڈیکوریشن سارے کام اُس نے جیمو ماموں کے ساتھ مل کر کروائے۔
طے یہ پایا کہ رانیہ اور عنایا کی شادی کے بعد جیمو ماموں اور روشنی کا نکاح ہوگا۔
اپنی شادی کے بارے میں وہ بار بار یہی کہتے۔
”کہا بھی تھا کہ سب کچھ سادگی سے کرنا۔”
”ہاں تو سب کچھ سادگی سے ہی کررہے ہیں۔ تمہیں کون سا دھوم دھڑکا نظر آرہا ہے جیمو!”
امی کی طر ف سے جواب آیا۔
”اِسے سادگی کہتے ہیں؟”
انہوں نے گھر والوں کی تیاریوں اور جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں ٹوکتے ہوئے کہا۔
”ارے تھوڑی بہت تیاری تو کرنی ہی ہے۔ آخر دلہن لے کر آرہے ہیں۔ کہیں دلہن کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ اس کے آنے پر ہم نے کوئی اہتمام ہی نہیں کیا۔ بس تمہارے نکاح کا سوٹ لے کر آنا ہے۔”
”رہنے دیں آپا! میں تو کوئی سی بھی شلوار قمیض پہن لوں گا۔”
انہوں نے تو سادگی کی انتہا ہی کردی۔
امی کو ان کی یہ بے دلی بہت بری لگی۔ وہ خفا ہوئیں۔
”جیمو! اپنے نکاح پر کیا پرانے کپڑے پہنوگے! میری بے عزتی کروانا چاہتے ہو! لوگ کیا کہیں گے کہ اپنی بیٹیوں کی شادی تو بڑی دھوم دھام سے کی اور بے چارے بھائی نے اپنے نکاح پر پرانے کپڑے پہنے۔”
امی جذباتی ہوگئیں۔
سب نے ہی ان کی تائید کی۔
”ہاں بابا! سب لوگ نئے کپڑے پہن رہے ہیں اور جن کی شادی ہے وہ پرانے کپڑے پہن کر آجائیں، یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے۔”
ثمن نے کہا۔
”میں تو کل ہی بازار جاکر تمہارے لئے بوسکی کا سوٹ لے آئوں گی۔ یاد ہے… اپنی جوانی میں تم بڑے شوق سے بوسکی کے کُرتے پہنا کرتے تھے اور ایسے شاندار لگتے تھے کہ لڑکیاں دیکھتی ہی رہ جاتی تھیں۔”
امی نے کہا۔
جیموماموں اُس زمانے کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ پتا نہیں وہ خود بھلکڑ ہوگئے تھے یا رانیہ کی امی کی یاداشت ہی بڑی زبردست تھی۔ اکثر وہ بہت پرانی باتیں یوں دہراتیں جیسے کل ہی کی بات ہو اور ماموں سوچتے ہی رہ جاتے کہ یہ کون سے سَن کی بات تھی۔
”واہ بابا! یہ والے قصے تو آ پ نے ہمیں کبھی سنائے ہی نہیں۔”
ٹیپو شوخی سے بولا۔
”مجھے تو وہ زمانہ یاد ہی نہیں ہے ۔ نجانے یہ کب کی بات ہے۔”
جیمو ماموں نے پہلو بچانے کی کوشش کی۔
”ارے جیمو ماموں! ایسی حسین یادیں بھی کوئی بھولتا ہے کیا! خیر اب آپ یہ سارے قصے کہانیاں اپنی نصفِ بہتر کو ہی سنائیں گے!”
شیراز نے شوخی سے انہیں چھیڑا۔
”ویسے بوسکی کا سوٹ پہن کر آپ اب بھی اتنے ہی شاندار لگیں گے جتنے اپنی جوانی میں لگتے تھے۔”
رانیہ مسکراتے ہوئے بولی۔
”اندرونِ شہر میں میرے دوست کے والد کی جوتوں کی دُکان ہے ۔ میں وہاں سے آپ کے لئے سنہرے رنگ کا تِلے والے کھسہ لے آئوں گا۔”
شیراز نے اعلان کیا۔
”اور سلور رنگ کی ڈیجیٹل گھڑی میں لے آئوں گی۔”
رانیہ نے فوراً کہا۔
جیمو ماموں احتجاج کرتے رہ گئے۔
”کیا تم لوگ مجھے چوہدری بنانا چاہتے ہو؟ جوان بچوں کا باپ ہوں۔ یہ سب پہن کر عجیب ہی لگوں گا۔ لوگ مذاق اڑائیں گے۔”
”یہ سب پہن کر آپ عجیب نہیں بلکہ دولہا لگیں گے۔ اور آپ کی دلہن آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گی۔ تصویریں بھی اچھی آئیں گی۔”
شیراز نے شرارت سے کہا۔
”اور لوگ جانتے ہیں کہ آپ ایک زندہ دل شخصیت کے مالک ہیں۔ ویسے تو آپ نے لوگوں کی کبھی پروانہیں کی، اب اپنی شادی کے معاملے میں آپ کو لوگ یاد آگئے۔ جیمو ماموں!”
رانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جیمو ماموں کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ اب وہ اس چھیڑخانی کا بھلا کیا جواب دیتے۔
”روشنی کی طرف گئی تھی ، انگوٹھی کا ناپ لینے، جیولر کو کہہ دیا ہے کہ ہلکا سا سیٹ بنا دے۔ اب دلہن کے لئے سونے کا سیٹ تو ہونا چاہیے نا!”
امی نے اس میں بھی سادگی کا پہلو ڈھونڈ لیا ۔ ماموں اس سادگی کے بارے میں کچھ نہ کہہ سکے۔
”ہم نے کھانا بھی اُدھر ہی کھا لیا۔ روشنی باجی نے اتنے مزیدار قیمہ کریلے بنائے تھے کہ نا پوچھیں… اُن جیسی کوکنگ کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔”
ثمن نے کہا۔
ٹیپو بھی پیچھے نہ رہا۔
”یاد ہے عید پر انہوں نے کتنے مزیدار نرگسی کوفتے بنائے تھے۔ ساتھ میں شکر قندی کی کھیر بھی تھی۔ وہ یہاں آجائیں گی پھر تو ہمارے گھر بھی روز ہی دعوت ہو گی۔”
وہ لوگ بہانے بہانے سے جیمو ماموں کے سامنے روشنی کی تعریفیں کرتے۔ وہ ان تعریفوں کا مقصد خوب سمجھتے تھے۔
”آپ بھی کوئی تبصرہ کریں جیمو ماموں۔”
شیرازنے انہیں پھر چھیڑا۔
”میں کیا تبصرہ کروں۔”
وہ انجان بن گئے۔
”اپنی یادداشت کو کھنگالیں۔ کوئی رس ملائی، گلاب جامن جیسی ڈش یاد کریں جو آ پ نے اپنی ہونے والے نصفِ بہتر کے ہاں کھائی تھی۔”
وہ شوخی سے بولا۔
”اب کیا کیا یاد کرے بے چارہ جیمو۔”
امی کی ہنسی بڑی بے ساختہ تھی۔ واقعی یہ تو جیمو ماموں کی یاداشت کا امتحان ہی تھا۔ امی کی ہنسی میں سب کے قہقہے بھی شامل ہوگئے۔ جیمو ماموں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن سب انہیں یوں چھیڑیں گے اور خوب ریکارڈ لگائیں گے اور وہ یوں جھینپے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ اس گھر کے لوگوں نے بہت دُکھ دیکھے تھے اور اب سالوں بعد اس گھر کے درو دیوار پر خوشیوں کے رنگ اُترے تھے۔
جیمو ماموں مسکرا کر سب کی باتیں سنتے رہے۔
محفل زعفران بن گئی۔
٭…٭…٭

رات کو رانیہ تمام کاموں سے فارغ ہوکر اپنے کمرے میں آئی تو زوار کا فون آگیا۔
اب تو یہ اُس کا روزانہ کا معمول تھا۔ وہ روز رات کو سونے سے پہلے اُسے فون ضرور کرتا۔
وہ اس سے محبت کرتا تھا اور اس بات کا اظہار اس کے ہر عمل سے ہوتا۔
”صبح سے فون کررہا ہوں۔ کہاں بزی ہو؟”
اس کے فون اٹھاتے ہی وہ بڑی بے قراری سے بولا۔
”صبح سے امی کے ساتھ کاموں میں مصروف تھی۔ موبائل کمرے میں تھا۔ آج تو وقت گزرنے کا بالکل پتا نہیں چلا۔”
وہ چلتے ہوئے کھڑکی کے پاس آئی۔ آسمان پر چمکتے ستاروں کے درمیان دمکتے خوبصورت چاند پر اُس کی نگاہ ٹھہر گئی۔
”مثلاً کیا کام کررہی تھی؟”
اس نے مسکراتے ہوئے اپنائیت بھرے انداز میں پوچھا۔
”گھر میں کام تو ہوتے ہی ہیں۔ جیمو ماموں کی شادی کی تیاریاں بھی تو ہورہی ہیں۔”
وہ مسکرا کر بولی۔ ہر کام کی تفصیل بتانا مشکل کام تھا۔
”ایسی کیا تیاریاں ہورہی ہیں!”
زوار نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔ اُسے رانیہ کے گھر میں ہونے والی ہر سرگرمی سے ایسی ہی دلچسپی تھی۔
”جیموماموں اپنی شادی پر بوسکی کے سوٹ کے ساتھ سنہری کھسے اور ڈیجیٹل گھڑی پہنیں گے۔”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ساتھ نوابوں والی پگڑی بھی ہوگی؟”
وہ بے ساختہ بولا ۔ وہ ہنس دی۔
”ارے نہیں۔ بس سادگی سے نکاح ہوگا۔”
”چوہارے تو بانٹے جائیں گے نا!”
وہ بھی ہنسا۔
”ہاں… آخر ہمارے اکلوتے ماموں کی شادی ہے۔”
وہ مسکرائی ۔
”وہ میرے بھی تو ماموں ہیں۔”
زوار نے مان بھرے لہجے میں کہا۔
رانیہ سے جڑا ہر رشتہ اُسے عزیز تھا۔
”ہاں کیوں نہیں۔”
رانیہ نے فوراً کہا۔ وہ خوش تھی کہ زوار اس سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کی عزت بھی کرتا ہے۔ انہیں اپنا سمجھتا ہے۔
”کیا اب جیمو ماموں بانسری نہیں بجاتے؟ میں تو ان کے آرٹ کا بڑا قدردان ہوں۔”
اس نے خوشدلی سے کہا۔
”اب انہیں فرصت کہاں! سارا دن تو وہ کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ شاید اپنی شادی پر بانسری بجالیں۔”
وہ ہنستے ہوئے بولی۔
”مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی ہونے والی بیگم سے بہت محبت کرتے ہیں۔”
زوار نے اندازہ لگایا۔ وہ اس بات پر چونک گئی۔ پتا نہیں زوار کو یہ اندازہ کیوں ہوا تھا۔
”پتا نہیں ! ہم نے تو کبھی اس بات پر غور نہیں کیا۔ جیمو ماموں نے بھی کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔”
اُس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اسے واقعی اس بات کے بارے میں علم نہیں تھا۔
”خاموش محبت… بعض دفعہ محبت بڑی خاموشی سے ہوجاتی ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا۔ مجھے لگتا ہے کہ جیمو ماموں روشنی باجی کی qualitiesکو پسند کرتے تھے اور بعد میں یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی، مگر وہ چونکہ جوان بچوں کے باپ اور جوان بھانجیوں کے ماموں تھے، اس لئے اس بات کا اظہار نہ کرسکے۔ میں نے اپنی منگنی والے دن اس راز کا بھید پالیا تھا۔”
زوار نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
رانیہ اس کی ذہانت کی قائل ہوگئی۔
”ہاں شاید… اسی لئے تو جب سے اُن کا رشتہ طے ہواو ہے انہوں نے اُداس غزلیں پڑھنا بھی چھوڑ دی ہیں۔”
وہ سوچتے ہوئے بولی۔
”تمہارا محبت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ چاند، سورج، پھول… کس کو محبت سے تشبیہ دوگی؟ مجھے تو محبت بڑی Mysterionsلگتی ہے۔ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ کب، کیسے اور کیوں ہوجاتی ہے۔”
وہ گہرے لہجے میں بولا ، سوال قدرے رومانٹک تھا۔
وہ اُس کی بات پر کچھ دیر سوچتی رہی۔ وہ اپنی زندگی میں پرانی محبت کے تجربے کو کہیں پیچھے چھوڑ دینا چاہتی تھی ۔ فارس آسٹریلیا جاچکا تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش تھا۔ وہ ان دونوں کی آسٹریلیا کے جزیرے پر لی گئی تصویریں فیس بک پر دیکھ چکی تھی۔ رانیہ نے یہ بات سمجھ لی کہ اس کے نصیب میں فارس کا ساتھ نہیں تھا۔
پرانی محبت کے نشان مدھم پڑگئے بلکہ اب تو وہ فارس کے بارے میں سوچتی بھی نہیں تھی۔ اب تو اُسے یہی لگتا تھا کہ ٹین ایجرز کا عشق دراصل حماقت ہی ہوتی ہے۔ زندگی کے تجربات نے اُسے بہت سے سبق پڑھا دیئے تھے۔ فارس نکما اور نالائق ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہوشیار بھی تھا۔ اُس نے حویلی حاصل کرنے کے لالچ میں میٹھی میٹھی باتیں کرکے رانیہ کو اپنی محبت کے جال میں ٹریپ کرلیا تھا۔ وقت نے اس کی اصلیت ظاہر کردی پھر وہ نئی راہوں کا مسافر بن گیا۔
رانیہ نے بے اختیار گہراسانس لیا پھر ذرا سا مسکرائی ۔
”محبت مجھے چنبیلی کے پھولوں کی طرح خوبصورت اور دلکش لگتی ہے۔ ہمارے گھر کے صحن میں چنبلی کے پھولوں کا پودا لگا ہے۔ جب بھی کوئی گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کی پہلی نگاہ اُن پھولوں پر ہی پڑتی ہے اور کچھ دیر کے لئے وہ نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔”
اُس نے مسکراتے ہوئے مدھم مگر دلنشین آواز میں کہا۔
”مگر تم تو مجھ سے محبت نہیں کرتی ہو؟”
اُس نے ایک بار پھر وہی سوال کیا۔ نجانے وہ اُس سے کیا سننا چاہتا تھا۔
وہ کچھ دیر کے لئے چپ ہوگئی۔ چہرے پر اک انوکھا سا رنگ اتر آیا۔ اور یونہی پلکیں جھکائے اُس نے سوچا کہ اب اُسے اُس کو مایوس نہیں کرنا چاہیے۔
”اب کرنے لگی ہوں۔”
اُس نے لرزتی پلکوں کے ساتھ مدھم مگر محبت سے بھرپور آواز میں یہ جملہ کہا۔
دوسری طرف زوار کو تو جیسے اپنے کاموں پر یقین ہی نہ آیا ۔ رانیہ جانتی تھی کہ سننے والے کے لئے یہ جملہ بہت قیمتی تھا۔
زوار کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔
ملکہ کا دل موم ہوچکا تھا۔
اُسے یوں لگا جیسے رات کی چاندنی نکھر گئی ہو۔ اور ہر طرف اجالے ہی اجالے ہوں۔
رانیہ نے فون بند کردیا اور مسکرانے لگی پھر کھڑکی کے پار نظر آتے چاند کو دیکھنے لگی۔ صحن میں پھیلی چاندنی ہر طرف روشنی بکھیر رہی تھی اور اس چاندنی میں نظر آتے چنبیلی کے پھول اب بھی دلفریب لگ رہے تھے۔
زوار نے مسکراتے ہوئے اطمینان بھرے انداز میں موبائل میز پر رکھا۔
اُس کی آنکھوں میں نئے سورج اُتر آئے تھے۔ آج اُسے محبوب کی طرف سے اقرار کا تحفہ ملا تھا۔ وہ خوش تھا، بہت خوش… اس خوشی میں اطمینا ن بھی تھا اور سرشاری بھی… اب وہ ملکہ کے دل کا بادشاہ تھا۔
“The Queen and The King.”
وہ سرشاری کے عالم میں خوشی سے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا اور کھڑکی کے پار نظر آتے حسین چاند کو دیکھنے لگا۔
اب وہ ملکہ کے دل کا بادشاہ تھا۔

The End

 405 views

Read Previous

چنبیلی کے پھول6 :قسط نمبر

Read Next

سیاہ اور سفید کے درمیان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!