ماں کا آکاش

ماں کا آکاش

انتساب
وطن اور قوم کی خاطربہنے والے لہو کے نام

ادارتی نوٹ
اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی خاص توجہ حاصل کرلیتے ہیں اورکیپٹن آکاش آفتاب ربانی شہید کی سوانح حیات کی ادارت بھی میرے لیے ایک ایسا ہی کام تھا۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ یہ ملک و قوم کی خاطر جواں مردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے ایک دلیر فوجی کی کہانی ہے، بلکہ یہ کہانی اس ماں کی یادوں پر مشتمل ہے جو اب بھی اپنے شہید بیٹے کو دیکھتی ہے، محسوس کرتی ہے، اس سے باتیں کرتی ہے۔ جس کی کرسی آج بھی کھانے کی میز پر سجتی ہے اور جس کا کمرہ آج بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ایک بہادر فوجی کا اپنے گھر اور دوستوں کے ساتھ نہایت دوستانہ رویے کا امتزاج بھی دلنشین ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کتاب کی ادارت کے دوران تخیلات کی دنیا میں سفر کرتے ہوئے میری بھی کئی جگہ اس دوست صفت انسان سے ملاقات ہوئی۔
”شہید کبھی مرتا نہیں“ کا فلسفہ مذہبی اعتبار سے ہٹ کر ایک دنیاوی پہلو بھی رکھتا، یہ بات شاید آپ کو کیپٹن آکاش شہید کی سوانح حیات پڑھ کر معلوم ہوسکے۔

نوید احمد خان
ایڈیٹر
٭……٭……٭

پیش لفظ

15جولائی 2014ء کو میرے دل، میری روح، میرے احساسات اور میرے وجود پرجو خبر بجلی بن کر گری، اس کے صدمہ سے باہر آنا شاید ممکن ہی نہیں مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے میری کیا حیثیت۔ اس ٹوٹے ہوئے دل، اس پر سوز روح، ان بکھرے ہوئے پریشان خیالات و احساسات کو کہانی کی شکل دینے کی ایک بہت ناکام کاوش نے مجھ سے شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی کو یاد کرتے ہوئے یہ اور اق لکھوا دیے۔
ایک ماں جس کا بہت پیارا اور عزیز از جان بیٹا، بہت ہونہار، قابل اور ذمہ داربیٹا جوچوبیس سال کا ہونے سے ڈھائی ماہ پہلے شہید ہو جائے، اس کی آنکھوں اور دنیا سے روپوش ہوجائے تو یہ خیال ہی اس ماں کے لیے کتنا اذیت ناک ہوگا کہ میرے شہزادے سے بچے کی کہانی ختم…… اور اتنی جلدی ختم۔ اس کے بیٹے کی زندگی کے سارے Chapters Close۔ بس اتنی مختصر سی زندگی تھی اس کی۔

میرے پھول سے بچے کی جوانی شروع ہوئی اور ابھی ہی تو اس کے خوابوں کی تکمیل کا وقت شروع ہوا تھا۔ اس کی چھوٹی بڑی بے شمار خواہشیں، اس کے خوبصورت اور اہم plans،اس کے ارادے جو وہ وقتاً فوقتاً میرے ساتھ شیئر کرتا رہتا تھا، سب کچھ پورا کیے بغیر کوئی خوشی دیکھے بغیر کیسے جا سکتا ہے وہ۔ کیسے چلا گیاوہ۔
اور اب وہ اس دنیا میں مجھے اور کسی کو بھی دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور پھرout of sight, out of mindسب اسے بھول جائیں گے کہ آکاش نام کا لڑکا بھی ہوتا تھا۔
آکاش کی جدائی، اس کی کمی اور اُس کے بچھٹرنے کے غم کے علاوہ یہ بھی ایک بہت بڑا دکھ کہ میرے بچے کی کہانی جو میری کہانی سے بہت بعد میں شروع ہوئی تھی، وہ میری کہانی سے اتنا پہلے کیسے ختم ہو گئی۔ یہ سوچ اتنی تکلیف دہ ہے کہ اس کے ساتھ سانس لینا بھی محال لگتا ہے۔
اگرچہ شہادت آکاش کی سب سے بڑی خواہش تھی۔لیکن کاش وہ تھوڑا سا اور جی لیتا۔ کچھ سال اور رہ جاتا یا کم از کم میری زندگی سے پہلے تو نہ جاتا۔ اس دنیا سے میری آنکھوں کے سامنے یوں نہ رخصت ہوتا۔
اپنے اس دکھ کو کم کر کرنے کے لیے جب میں نے اور شہید بچوں کی ماؤں سے ملناشروع کیا اور ان شہیدوں کی کہانیاں ان کی ماؤں اور گھر والوں سے سنیں تو مجھے لگا کہ تقریباًسب شہید بچوں کی کہانیاں بہت مماثلت رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے چہرے، ان کی مسکراہٹیں، ان کی عادتیں، ان کا اپنی ماؤں سے والہانہ پیار اپنے سب گھر والوں کا بے انتہا خیال سب کچھ ایک جیسا اور بہت قابلِ رشک۔ تو میرا دل چاہا کہ میں آکاش کی کہانی لکھوں۔ آکاش سے ملتی جلتی اُن تمام شہید بچوں کی کہانی لکھوں کہ کتنے پیارے پیارے، میرے آکاش جیسے بچے، پھولوں کی مانند معصوم بچے وطن اور قوم کی خاطر بن کھلے ہی مرجھا گئے۔
یہ کہانی لکھنا میرے لیے آسان نہ تھا۔ آکاش کی زندگی کو سوچنا، پڑھنا اور لکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ ماضی کے اس حصے میں چلے جانا جب وہ میرے ساتھ ہوتا تھا اورپھر واپس حقیقت کی دنیا میں آکر اسے کہیں نہ پانا اور بار بار یہ عمل اپنے ساتھ دہرانا بہت مشکل، تکلیف دہ اور بہت اذیت ناک تھا۔ شاید ہی کوئی ایسی سطر ہوگی جو میں نے بغیر آنسوؤں کے لکھی ہو۔ یہ میرے لیے بالکل ایسے تھا جیسے اپنے زخموں کو تیز بلیڈ سے کھرچ کھرچ کر ان پر نمک ڈالنا۔ لیکن میں نے مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ میں نے یہ کرنا ہے۔ اس بیٹے کے لیے جس نے اس دکھ کے باوجود مجھے پہچان دی۔ مجھے شناخت دی۔ اپنا پاک لہو دے کر مجھے ایک شہید کی ماں ہونے کا اعزاز دیا۔
اس نے دنیا میں بھی میری تربیت، میری پرورش اور میری محبت کی لاج رکھی اور انشاء اللہ آخرت میں بھی میری شفاعت کا ذریعہ بنے گا اور مجھے میرے پروردگار کے سامنے بھی سرخرو کرے گا۔انشاء اللہ!
میں نے روتے روتے اسے سوچا اور روتے روتے ہی یہ کتاب لکھی۔ اس خیال کے ساتھ کہ کوئی نہ کوئی کبھی نہ کبھی بھولے بسرے اسے پڑھ لے گا اور آکاش کا وجود نہ سہی اس کا نام تو رہے گا۔
اس بات پر ایمان کے باوجود کہ نام زندہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس ذات نے اپنے نیک بندوں کے نام ناصرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس کے وسیلے سے وہ بہت سے ہم جیسے گناہ گاروں پر بھی اپنا کرم کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے نام دیتا ہے، عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آکاش کی شہادت کے ذریعے مجھ جیسی گناہ گار کو بہت کچھ سکھا دیا اور وہ خالقِ کائنات شہادت کو جس طرح ownکر رہا ہے، وہ نہ کرتا تو شاید شہیدوں کی ماؤں کے لیے ان کے بچوں کے بعد سانس لینا ہی مشکل ہوجاتا۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ ”شہید کو مردہ تصور نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“
میں سب لوگوں کی طرح یہ سمجھتی تھی کہ یہ کوئی ایسا phenomenanہے جو آخرت کے بارے میں ہے۔ یہ شہید کی دوسرے جہاں کی زندگی کے بارے میں آیت ہے۔ لیکن میرے اللہ نے مجھے اور میرے گھر والوں کویہ بتایا کہ نہیں، یہ آیت صرف دوسرے جہاں سے تعلق نہیں رکھتی کہ شہید سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔بلکہ وہ اس دنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت میں پائے جاتے ہیں۔
آکاش میرے ساتھ نہیں ہے۔ میں اُسے ظاہری حالت میں دیکھ نہیں سکتی چھو نہیں سکتی۔ لیکن میں ہر وقت ہر دن اُس کے کا موں کے ساتھ ایسے ہی مصروف ہوتی ہوں جیسے میں اپنے دوسرے دو بچوں کی وجہ سے ہوتی ہوں۔ بلکہ شاید حقیقت یہ ہے کہ آکاش سے relatedکام دوسرے بچوں اور گھر کے کاموں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ میں اگر ان کاموں کی تفصیل لکھوں گی تو بہت لمبا ہو جائے گا۔ مختصراً مجھے میرے رب نے دکھایا اور سکھایا ہے اور مسلسل دکھا رہاہے کہ شہید کے زندہ ہونے کا مطلب کیا ہے۔
میں اپنے رب کی بے انتہا شکرگزار ہوں کہ اُس نے میرے بچے کو شہادت کا بلند مقام بلند درجہ عطا کیا اور مجھ ناچیز کو شہید کی ماں ہونے کا اعزازدیا۔ کیونکہ وہ قادرالمطلق ہے۔ وہ اگر مجھے آکاش جیسا بیٹا نہ دیتا یا پھر اُسے دے کر کسی اور ذریعے سے واپس لے لیتا، تو بھی میرا کیا اختیار تھا۔ تو میں اُس اللہ کی ذات کا اس کے احسانات کے لیے
جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
اس کتاب کے لکھنے میں میرے ساتھ بہت سے لوگوں کا تعاون شامل ہے جن کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لیکن میں خاص طور پر اپنے ان پیاروں کا نام ضرور لکھنا چاہتی ہوں جن کے تعاون اور مدد کے بغیر یہ کتا ب لکھنا ممکن نہ ہوتا۔
(1) عبیداللہ ساہی آکاش کے سکول اور کالج کا دوست
(2) میجر احسن اقبال 48 field Regt Arty
(3) میجر عارف نیازی 47 field Regt Arty
(4) میجر محمد اسلم 2 cdo Battalian
(5) میجر ہاورن 4 cdo Battalian
(6) میجر جواد 4 cdo Battalian
(7) حوالدار اقبال 4 cdo Battalian
(8) عثمان کیانی 4 cdo Battalian
(9) سر علی رضانقوی Central Public School
خاص طور پر عمیرہ احمد صاحبہ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود میری اس کتاب کو دیکھنے اور شائع کرنے کی حامی بھرلی۔ میں کیا ہو ں؟ لیکن ایک شہید کی ماں ہونے کی وجہ سے اپنی مصروفیت کے باوجود انہوں نے مجھے انکار نہیں کیا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کی ممنون ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کس طرح سے ان کا شکریہ ادا کروں۔ بس اتنا کہوں گی عمیرہ جی آپ کے لیے بہت بہت دُعائیں ہیں۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ ہمیشہ خوش اور شادآباد رکھے۔ آپ پر کبھی کسی غم کا سایہ بھی نہ پڑے اور میرا رب آپ کی ہر ہر خواہش پوری کرے۔(آمین ثم آمین)
عمیرہ احمد کی پوری ٹیم خاص کر نوید احمد خان صاحب کی بے انتہا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا۔
میرے وہ سب محسن جن کی وجہ سے یہ کتاب ممکن ہوئی سب کے لیے بہت دُعائیں!
ساجدہ آفتاب ربانی
والدہ شہید کیپٹن آکاش آفتاب ربانی

٭……٭……٭

Amna Amna

Read Previous

بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

Read Next

چنبیلی کے پھول (قسط نمبر ۱)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!