کشمیری لوک کہانی | مہرالنسا اور سبز پری

کشمیری لوک کہانی
مہرالنسا اور سبز پری
مدیحہ شاہد

آخر کیا راز تھا کہ روز بہ روز اس میں تبدیلی آرہی تھی؟
کئی صدیاں پہلے کشمیر کی سر سبز وادی میں ایک چھوٹی سی لڑکی اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اُس کا نام مہرالنسا تھا۔ اُس کی سوتیلی ماں حاسد اور ظالم تھی۔ اُس کے والد کسان تھے اور سارا دِن کھیتوں میں کام کرتے۔ وہ بھی اُس کی سوتیلی ماں کی بدزبانی سے ڈرتے تھے۔ سوتیلی ماں مہرالنسا سے گھر کے سارے کام کرواتی اور اُسے رات کا بچا کھانا دیتی۔ بعض دفعہ تو مہرالنسا کو فاقے بھی کرنے پڑتے۔ گھر پر سوتیلی ماں کی حکومت تھی۔ مہرالنسا سارا دن خاموشی سے کاموں میں مصروف رہتی۔
ایک دن مہرالنسا بکریاں چراتے ہوئے اپنے علاقے سے ذرا دور نِکل آئی۔ دریائے نیلم کے کنارے گھنا جنگل آباد تھا جہاں سے گزرتے ہوئے اچانک اُس نے ایک نسوانی آواز سُنی۔
”سنو اچھی لڑکی! کیا تم میری مدد کرسکتی ہو؟”
مہرالنسا نے چونک کر آواز کے تعاقب میں دیکھا، تو ذرا فاصلے پر جھاڑیوں میں اُسے سبز آنکھوں والی حسین و جمیل پری نظر آئی جس کا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا تھا اور وہ کوشش کے باوجود نکال نہیں پا رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ مہرالنسا خوب صورت پری کو اِس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ بے حد رحم دل اور نیک لڑکی تھی۔ اُس نے پری کے قریب آکر پوچھا:
”آپ کون ہیں؟” پری نے اپنی سبز چمکتی آنکھیں اُٹھا کر اُسے دیکھا، اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”میں پرستان سے آئی ہوں۔ میرا نام سبز پری ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے میرا ایک پر کانٹوں میں پھنس گیا ہے۔ کیا تم میرے پَر کو کانٹوں سے نکال سکتی ہو؟”
یہ سن کر مہرالنسا احتیاط سے کانٹوں کے درمیان چلتے ہوئے سبز پری کے پاس آئی پھر اس نے نرمی سے اُس کا پَر کانٹوں سے نکالا۔ سبز پری کو کچھ آرام ملا مگر وہ تھوڑی زخمی تھی۔
مہرالنسا اُسے دریا کے کنارے بٹھا کر بھاگتے ہوئے گھر آئی۔ صَد شکر کہ اُس کی سوتیلی ماں گھر نہیں تھی۔ وہ اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ وہ مرہم اور نیم گرم پانی لے کر واپس پری کے پاس پہنچی۔ مہرالنسا نے نیم گرم پانی سے سبز پری کا زخم صاف کیا اور اُس پر مرہم لگایا۔ پری اب خود کو بہتر محسوس کرنے لگی۔ اب وہ اُڑ کر پرستان جاسکتی تھی۔ وہ مہرالنسا سے بے حد خوش ہوئی۔
اُس نے مہرالنسا سے کہا: ”تم ایک اچھی اور نیک لڑکی ہو۔ تم نے میری مدد کی، بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟”
”مجھے کھانا چاہیے۔” مہرالنسا نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
یہ سُن کر پری چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ اُس نے معصوم مہرالنسا کا دُکھ اپنے دل میں محسوس کیا۔ پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد اُس نے اپنے بالوں میں لگا گلابی پھول اُتار کر اُس کے ہاتھ پر رکھا۔

”یہ پھول میری طرف سے تحفہ ہے۔ جب تم اِس پھول کو سبزیوں پر رکھو گی تو وہ پک کر تمہارے سامنے آجائیں گی اور تم انہیں کھا کر اپنا پیٹ بھر سکو گی۔ جب تم اِسے گندم یا اناج پر رکھو گی تو تمہارے لیے پکی ہوئی روٹیاں آجائیں گی۔ جب تم اِسے پھلوں پر رکھو گی تو پھلوں کا شربت تیار ہو جائے گا اور تم سیر ہوکر پی سکو گی۔”
مہرالنسا غور سے پھول کو دیکھنے لگی۔ وہ جادو کا پھول بے حد خوب صورت تھا۔ مہرالنسا بکریاں چرانے جاتی تو واپسی پر جنگل اور کھیت سے اناج، سبزی اور پھل توڑ کر اپنی چادر میں چُھپا گھر لے آتی۔ رات کو جب سب لوگ سو جاتے تو وہ پری کی ہدایت پر عمل کرکے مزے مزے کے کھانے کھاتی پھر سو جاتی۔
اُس کی صحت روز بہ روز نکھرنے لگی۔ سوتیلی ماں حیران ہوتی کہ یہ تو سب کا بچا ہوا کھانا کھاتی ہے اور بعض دفعہ تو اسے بھوکے پیٹ ہی سونا پڑتا ہے پھر بھی یہ روز بہ روزحسِین ہوتی جارہی ہے۔ آخر راز کیا ہے؟ اُس نے اِس بات کا پتا لگانے کی بہت کوشش کی مگر اُسے کامیابی نہ ہوسکی۔ وقت گزرتا رہا یہاں تک مہرالنسا اٹھارہ برس کی ہوگئی۔ دور دور تک اُس کے حُسن کے چرچے پھیل گئے۔
ایک دن گاؤں کے زمین دار کا بیٹا گھوڑے پر سوار جنگل میں شکار کھیلنے گیا۔ اس نے دریا کے کنارے مہرالنسا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اِتنی خوب صورت لڑکی اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
وہ مہرالنسا کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچا اور اگلے ہی دن اُس کے والدین مہرالنسا کا ہاتھ مانگنے اس کے گھر چلے آئے۔
مہرالنسا کا باپ بہت خوش تھا کہ اُس کی بیٹی کا اِتنا اچھا رشتہ آیا ہے۔ اس نے فوراً ہاں کردی۔ سوتیلی ماں پیچ و تاب کھا کر رہ گئی۔ وہ اب بوڑھی ہوچکی تھی۔ وہ چاہنے کے باوجود بھی مہرالنسا کی شادی نہ رُکوا سکی۔
مہرالنسا کی شادی دھوم دھام سے زمین دار کے بیٹے سے ہوگئی۔ سارے گاؤں والوں نے جشن منایا۔ اُس کی شادی میں سبز پری نے بھی شرکت کی۔ مہرالنسا اپنے دولہا کے سنگ خوشی خوشی رخصت ہوگئی۔
٭…٭…٭

Amna Amna

Read Previous

بلتستانی لوک کہانی | ماس جنالی

Read Next

چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!