کوّا اور لالی | سنی سنائی لوک کہانی

سنی سنائی لوک کہانی
کوّا اور لالی
قیصر مشتاق

قیصر مشتاق فروری 1991ء کو اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ تاہم بچپن سے ہی خاندان کے ساتھ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ دورانِ تعلیم ادبی سفر کا آغاز کیا۔ مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی اس طرف خاص توجہ دی۔ افسانے اور کہانیاں لکھنا ان کا شوق ہے۔ الف کتاب اور الف نگر میں مستقل لکھ رہے ہیں، مختلف مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن بھی لے چکے ہیں۔
دسمبر کا مہینہ شروع ہوا تو سردی مزید بڑھ گئی۔ ہر صبح اور ہر شام دھند میں ہی لپٹی نظر آتی، اسکولز میں سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو بچوں میں تو جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اب کچھ دنوں تک وہ مزے سے لحافوں میں دُبک کر دادی جان سے ڈھیروں کہانیاں سن سکتے تھے۔
ایک شام چاروں بچے دادی جان کے کمرے میں داخل ہوئے۔ دادی انگیٹھی کے پاس ہی بیٹھی آگ سینک رہی تھیں۔ کہانی کی فرمائش کی تو دادی جان ہولے سے مسکرائیں اور سب کو پاس ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ احمد، شانی، علی اور عائشہ دادی کے ارد گرد بیٹھ گئے۔
اتنی دیر میں چھوٹی چچی ایک تھالی میں ڈھیر ساری مونگ پھلی اور گڑ لے آئیں۔ بچے مزید خوش ہو گئے اور انہوں نے مونگ پھلی سے مٹھیاں بھر لیں۔
”دیکھو بچو! مونگ پھلی کے چھلکے نیچے مت پھینکنا۔ ایک جگہ اکٹھے رکھنا۔” چچی کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا اور دادی کی طرف متوجہ ہوگئے۔
”آج میں آپ سب کو لالی اور کوّے کی کہانی سناتی ہوں۔” دادی جان نے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
”دادی! یہ لالی بھی ایک پرندہ ہے نا؟” شانی نے پوچھا۔
”ہاں بیٹا! لالی کھیتوں اور کنوؤں میں رہتی ہے۔ یہ ایشیا کا ایک عام پرندہ ہے۔” دادی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بتایا۔
”جی جی! میں نے دیکھی ہے لالی۔ اس کے نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے انڈے ہوتے ہیں نا؟” علی نے پرُ جوش انداز میں بتایا۔
”جی بالکل علی بیٹا! اب کہانی سنیں؟” چچی نے کہا تو وہ خاموش ہوگئے۔
”اچھا تو بچو! یہ کہانی ہے ایک گائوں کی جہاں ایک لالی اور کوّا رہتے تھے۔ اُن میں بڑی دوستی تھی۔ دونوں سارے کام مل جل کر کرتے لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ پانی کی تلاش میں انہیں دور جانا پڑتا تھا۔ لالی بہت مخلص اور خیال کرنے والی جب کہ کوّا کہیں نہ کہیں کاہلی دکھا جاتا تھا۔
ایک دن سمجھ دار لالی نے کوے سے کہا: ”دوست! کیوں نہ ہم کنواں کھود کر پانی نکالیں اور فصل اگائیں؟”
کوّے کو لالی کی بات اچھی لگی اور پھر دونوں نے کنواں کھودنا شروع کر دیا۔ لالی نہایت ایمان داری اور تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی جب کہ کوا تھوڑی ہی دیر میں سست پڑ گیا۔ وہ بڑی کاہلی اور بے دلی سے کھدائی کر رہا تھا۔ اچانک کوے کی چونچ ٹوٹ گئی اور وہ رک گیا۔
”کیا ہوا دوست؟” لالی نے فکرمندی سے پوچھا۔

”میری تو چونچ ہی ٹوٹ گئی، اب میں کنواں نہیں کھود سکتا۔ تم ایسا کرو کنواں کھودو، میں اپنی چونچ بنوا کر ابھی آیا۔” کوّے نے کہا تو لالی نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
کوّا پُھر سے اڑ کر چلا گیا۔ لالی اپنے کام میں لگی رہی، کئی دن تک جب کوّا نہ آیا تو لالی نے اکیلے ہی سارا کام مکمل کرلیا۔ جب اس نے کنواں کھود لیا تو کوّے کو آواز دی:
”کاں وے کاں کھوہ کھٹیا پیا۔” (اے کوّے! میں نے کنواں کھود لیا)
دادی نے مخصوص انداز میں گنگنایا تو سارے بچے خوب مسکرائے۔
”بچو! کہیں دور سے کوّے کی آواز آئی: چُنج گھڑیندا لاٹھی لیندا آیا، لالی آیا” (اپنی چونچ بنوا کر اور کنویں کی پلی لے کر میں جلد ہی آیا لالی)
لالی نے اس کا انتظار کیا۔ جب کوّا نہ آیا تو اس نے چند دوستوں کی مدد سے کنویں سے پانی نکلوایا اور کوّے کو پھر سے آواز دی:
”کاں وے کاں پانی نکلیا پیا۔” (اے کوّے! کنویں سے پانی نکل آیا) دادی کے مخصوص انداز پر بچے پھر سے کھلکھلا کے ہنس پڑے۔ دادی نے کہانی جاری رکھی، بچو! اُدھر سے کوّے نے آواز دی:
”تیں فصل بواتے پانی لا، میں آیا لالی آیا۔” (اے لالی! تم فصل بو کر پانی لگاؤ، میں آتا ہوں)
سن کر لالی نے انتظار کرنا چھوڑ دیا اور سوچا کیوں نہ میں خود ہی فصل کے لیے کیاریاں تیار کر لوں۔ اس نے کیاریاں بنا لیں اور ایک بار پھر کوّے کو آواز دی، لیکن کوے کی طرف سے پھر سے وہی جواب آیا۔
اب لالی نے کیاریوں میں بیج بویا اور انہیں پانی دے دیا۔ وہ ہر بار کوّے کو آواز دیتی اور مدد کا کہتی لیکن کوّا وہی جواب دیتا کہ تم فصل تیار کرو میں بس جلدی سے آیا۔ دادی جان ذرا دم لینے کے لیے رک گئیں۔
”کوّا کتنا نکما تھا چچی!” عائشہ جو کہ چچی سے چپکی بیٹھی تھی اچانک بولی تو چچی نے ہاں میں سر ہلایا۔
”ہاں عائشہ! اُسے چاہیے تھا کہ لالی کی مدد کرتا۔” دادی جان نے کہانی دوبارہ شروع کی۔ ”بچو! کچھ وقت گزرا تو گندم کے پودوں پر خوشے نکل آئے۔ لالی بے چاری ہر وقت فصل کی رکھوالی کرتی رہتی۔ اس نے کئی بار اپنے دوست کو آواز دی لیکن وہ نہ آیا۔ دیکھتے دیکھتے خوشے پک گئے تو لالی نے پھر آواز لگائی۔
”کاں وے کاں کنک پک جے گئی۔” (اے کوے! گندم پک چکی ہے)
لیکن ایک بار پھر کوا نہ آیا۔ لالی نے فصل کاٹی اور جب اناج کا ڈھیر لگ گیا تو اس نے ایک بار پھر کوے کو پکارا۔ اس بار کوا ایک طرف سے اڑتا ہوا آگیا اور لالی کی تیار کردہ فصل کو دیکھ کے اس کے دل میں لالچ آگیا۔
لالی نے کہا: ”بے شک تم نے میری مدد نہیں کی، لیکن تم میرے دوست ہو کیوں نہ ہم گندم آپس میں بانٹ لیں۔”
”ٹھیک ہے پیاری لالی! تم نے اتنی محنت کی، اب یہ کام میں کرتا ہوں۔” کوّے نے چالاکی سے کہا۔
یوں کوے نے گندم کے دانے بانٹنا شروع کیے۔ اُس کی نیت خراب تھی۔ چناں چہ نہایت چالاکی سے اس نے گندم کا ڈھیر اپنی طرف کِھسکا لیا جب کہ بھوسا لالی کو دے دیا۔ لالی نے یہ دیکھا تو اُسے کو شدید غصہ آیا۔ وہ ناراض ہوکر بولی:
”میں نے کنواں کھودا، پانی نکالا، زمین تیار کی، بیج بویا، فصل کی رکھوالی کی، فصل کاٹی اور اب تم نے میرے حصے میں صرف بھوسا رکھ دیا، تم غلط کر رہے ہو اور آج کے بعد تم میرے دوست نہیں ہو۔ چلے جائو یہاں سے۔” لالی نے کہا لیکن ڈھیٹ کوے پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے لالی کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
اچانک زور سے بادل گرجا اور بارش شروع ہوگئی۔ بس پھر کیا تھا، لالی جلدی سے اُڑی اور بھوسے کے ڈھیر میں جا چھپی۔ کوا بوکھلا یا ہوا گندم کے دانوں کے ڈھیر میں سر چھپانے کی کوشش کرتا رہا، آخر وہ ڈھیر میں گھس کر بیٹھ گیا۔ بارش کی وجہ سے ڈھیر سرکتا رہا۔ کوّا اس کے نیچے دب چکا تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ نکل سکے لیکن بارش کے زور اور پانی سے گندم اور بھی وزنی ہو چکی تھی۔
وہ اس کے نیچے دبا رہا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ دم گھٹنے سے مر گیا۔ بارش رکی تو لالی باہر آئی۔ اس نے سارا منظر دیکھا تو اسے کوے پر بہت دُکھ ہوا جس نے کاہلی، چالاکی اور دھوکے سے کام لے کر برا انجام پایا تھا۔
”دادی پھر کیا ہوا؟” شانی نے اونگھتے ہوئے پوچھا جب کہ باقی سب مونگ پھلی ختم کیے بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔
”میرے بچے! پھر لالی نے ساری گندم محفوظ کی اور مزے سے رہنے لگی۔ اب اس کے پاس اپنا کنواں بھی تھا اور اناج بھی۔” دادی نے کہا۔
”لالی کتنی محنتی تھی نا۔” عائشہ نے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”ہاں! محنت میں عظمت ہے اور کبھی ضائع نہیں جاتی۔” چچی نے کہا۔
”اچھا بچو! شاباش، اب سو جاؤ۔” دادی نے کہا تو سب سونے کے لیے چلے گئے۔
٭…٭…٭

 104 views

Read Previous

کپڑے کا سوداگر | سیالکوٹ کی لوک کہانی(سنی سنائی)

Read Next

لوہ پور کا شہزادہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!