مدیر سے پوچھیں | سائرہ غلام نبی

مدیر سے پوچھیں
سائرہ غلام نبی

سائرہ غلام نبی کا نام ڈائجسٹ اور ڈرامہ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین ان کے نام سے بہ خوبی واقف ہیں۔ سائرہ نے خواتین اور شعاع ڈائجسٹ سے اپنے ادارتی سفر کا آغاز کیا تھا، اور آج کل وہ MD Productions (ہم ٹی وی نیٹ ورک) میں بہ حیثیتہیڈ آف کانٹنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اس ماہ ہمارے لیے ”مدیر سے پوچھیں“ کے سیکشن کے لیے سائرہ سے بہتر انتخاب کوئی نہ تھا۔

٭ آپ اس فیلڈ میں کتنے عرصے سے ہیں؟ اور اس فیلڈ میں آپ کی آمد کس طرح ہوئی؟
سائرہ: اب تو بہت پرانی بات ہوگئی، بیس سال میں نے خواتین ڈائجسٹ میں کام کیا اور پانچ سال مجھے ایم ڈی پروڈکشن میں ہوگئے ہیں، سٹوڈنٹ لائف سے ہی میں نے کام شروع کردیا تھا،لکھنے کا سفر میرا بہت پہلے سے ہی جاری تھا، ساتویں،آٹھویں کلاس سے جب پڑھنا آیا تھوڑی سمجھ اور شعور بیدار ہونا شروع ہوا تو کتابوں سے رغبت پیدا ہوئی، اور بے تحاشہ ہوئی، کہانیوں کی دنیا بہت اچھی لگتی تھی۔ویسے بھی بچے تھے تو اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں، یہ سارا کچھ اس طرح سے نہیں تھا، بہت مختلف منظر نامہ تھا، ہماری ایک دنیا تھی چھوٹی سی بہت ہی چھوٹی سی،جس میں ایک PTV تھا اور دوسری کتابیں تھیں اور کتابیں بھی اتنی فراوانی سے نہیں ملا کرتی تھیں، کتابوں کا حصول بھی ہمارے لیے بہت مشکل تھا۔ زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں اخبار، ماہانہ ڈائجسٹ اور ہفت روزہ میگزین آیا کرتے تھے، اور ان میں سے کچھ سیاسی جرائد تھے، ہماری دوستیں،پڑوس، احباب، کزنز اور انکل سب ان رسائل اور جرائد میں دلچسپی لیا کرتے تھے،پڑھے لکھے لوگ ان جرائد میں لکھا بھی کرتے تھے، اس وقت کہانی لکھنا ایک بہت بڑی fantasy ہوا کرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے رابطے پیدا کرنے کے کوئی ذرائع نہیں تھے، ہم اس حرفوں اور کتابوں کے ذریعہ ہی اپنا رابطہ بحال کرتے تھے۔میں ماسٹرز کررہی تھی، پیپرز چل رہے تھے اور ان دنوں ریڈیو پاکستان میں پروگرام بھی کیا کرتی تھی، آنا جانا لگا رہتا تھاتو کسی نے بتایا کہ ڈان میں اشتہار آیا ہے خواتین ڈائجسٹ والوں کی طرف سے سب ایڈیٹر کی پوسٹ کے لیے، میں سن کر گھبرا گئی، میں نے دل میں سوچا کہ وہ بہت ہی قابل اور اہل لوگوں کی پوسٹ ہوگی، میں وہاں پر جانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی، لیکن میری دوست نے کہا کہ تم وہاں پر جاؤ، میں اس کے کہنے پر چلی گئی۔ وہاں پر محمود ریاض صاحب نے میرا انٹرویو کیا۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں،اس سے پہلے میں نے خواتین ڈائجسٹ کا کوئی شمارہ کبھی پڑھا ہی نہیں تھا(قہقہہ)۔ بس دیکھا تھا لیکن خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتی تھی، مجھے لگتا تھا کہ یہ بہت زیادہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس طرح کی fantasy world اور رومانس کی دنیا سے تعلق نہیں تھا، مجھے ادبی کتابوں اور ناولز پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا، ادبی افسانے پڑھا کرتی تھی اور ا ن ہی کو ادب سمجھا کرتی تھی۔مجھ سے محمود ریاض صاحب نے پوچھا آپ نے کسی افسانہ نگار کو پڑھا ہے تو میں نے اپنے پسندیدہ افسا نہ نگار غلام عباس اور بیدی وغیرہ کا نام لیا۔ پھر انہوں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کبھی ہمارا ڈائجسٹ پڑھا ہے، میں نے ان سے کہا ہاں دیکھا ہے، انٹرویو دے کر میں گھر چلی گئی تھی، اور مجھے اندازہ تھا کہ مجھے نہیں رکھا جائے گا، گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد مجھے خواتین ڈائجسٹ سے فون آیا کہ آپ کل سے جوائن کرلیں۔ میرے لیے بہت ہی سرپرائزنگ تھا۔ اس کے اگلے دن میں یونیورسٹی گئی کیوں کہ اس وقت تک میری پہلی اور آخری محبت تو یونیورسٹی ہی تھی(مسکراتے ہوئے)۔وہاں پر دوستیں تھیں، ایک ادبی سرکل تھا، ہم اخبار نکالا کرتے تھے، اس وقت مجھے وہ دنیا چھوڑنا بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن ساتھ ہی مجھے پریکٹیکل لائف میں آنے کا موقع مل رہا تھا۔میرے ذہن میں ہمیشہ سے جاب کرنے کا ارادہ تھا، کیوں کہ مجھے کتابیں اور تحقیق سے بہت دلچسپی تھی تو میرا ارادہ تھا کہ میں ایم فل کروں گی لیکن پھر میں ایم فل کر ہی نہیں سکی۔ اگلے دن سے میں نے خواتین ڈائجسٹ جوائن کرلیا اور وہاں پر میری فل ٹائم جاب تھی۔ اس کے بعد میں سوچتی رہ گئی، اس وقت میرے ٹیچرز اور دوستوں کا یہی خیال تھا کہ مجھے اپنی تعلیم کو آگے جاری رکھنا چاہیے۔

٭ آپ کے پاس ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے آجاتے ہیں؟ اور آپ لوگوں کا selection process کیا ہے؟
سائرہ: ہمارے پاس اس طرح کا کوئی حساب تو نہیں جس سے ہم یہ بات نکال سکیں کہ ہمارے پاس ایک ماہ میں اوسطاً کتنی تحریریں آتی ہیں، لیکن ہمارے پاس روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ آتا رہتا ہے، روز ہی لوگ اپنے ideas لے کر خود بھی آرہے ہوتے ہیں، اور فون پر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ مطلب صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک ہم بس کہانیاں ہی سنتے رہتے ہیں (قہقہہ)اور ایک ایک شخص تین تین، چار چار کہانیاں سنا رہا ہوتا ہے۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں سکرپٹ لکھنا بہت آسان کام ہے، یہاں پر چوکیدار، مالی اور کچن میں کام کرنے والا، سب کا یہی خیال ہے کہ وہ ڈرامہ لکھ سکتا ہے اور سب اپنی اپنی کہانیاں لے کر ہمارے پاس آجاتے ہیں (قہقہہ)۔ کوئی فریش آئیڈیا لے کر آتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ صرف آئیڈیئے پر کہانی نہیں چلتی، جب تک اس آئیڈیا کو صفحات پر منتقل نہ کیا جائے، وہ آئیڈیا کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن ہم رائٹرز کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کو لے کر چلتے ہیں۔
٭ وہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا مسودہ آپ کے پاس بھیجتے وقت رکھنا چاہیے؟
سائرہ: سب سے پہلے تو جو ڈرامہ لکھنا چاہتا ہے، وہ اگر آج فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے رائٹر بننا ہے، تو وہ فیصلے کا وقت غلط ہوتا ہے۔ جو رائٹر ہوتا ہے اس کو یہ فیصلہ بیس سال پہلے کرنا چاہیے کیوں کہ یہ صرف لکھنے کا عمل نہیں ہے، لکھنا ایک مسلسل پریکٹس کا نام ہے، اور جب تک آپ کو اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کو صفحہئ قرطاس پر منتقل کرنے کا ہنر نہیں آئے گا تو بات نہیں بنے گی۔ آپ کو بہت زیادہ پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے،الفاظ آپ کے لیے مانوس ہو، الفاظ کو برتنے کا سلیقہ آنا چاہیے، اور ہر طرح کی صورت حال میں آپ کے اند ر judgement کا ایک element ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو، چیزوں کو اور ان کے معاملات کو judge کرسکیں۔آپ کا مشاہدہ ایک عام آدمی سے بے پناہ زیادہ ہونا چاہیے، اور پھر اس کے ساتھ خدا نے اگر آپ کے اندر کہانی بننے کی صلاحیت رکھی ہے توصرف اس صلاحیت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اس ہیرے کو تراشنا ہوگا۔گائیک اگر صرف اچھی آواز لے کر پیدا ہوجائے تو وہ گائیک نہیں بن سکتا، جب تک وہ روزانہ کی بنیاد پر ریاض نہ کرے، لکھنے کا عمل بھی ایسا ہے کہ اس میں جتنی بھی محنت کی جائے، آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تاثر پیدا ہو گا۔
٭ آپ کے خیال میں جو لوگ اچانک اُٹھ کر کہتے ہیں کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں / لکھ سکتی ہوں آپ کے نزدیک یہ خام خیالی نہیں ہے؟ کیوں کہ میرے نزدیک پڑھنا ایک الگ چیز ہوتی ہے اور لکھنا الگ چیز ہوتی ہے۔اگر کسی بندے کے اندر یہ capability نہیں ہے پھر بھی وہ چاہے تو کیا اس کے اندر یہ چیز پیدا ہوسکتی ہے؟
سائرہ: یہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ لکھنے کی صلاحیت خدا کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس صلاحیت کو نکھارنا بہت ضروری ہے، صرف محض پڑھ کر یا یہ سوچ کر کہ میں نے اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہوا ہے، لکھنا شروع کردیں تو کوئی ڈگری آپ کو رائٹر نہیں بنا سکتی۔
٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتی ہیں؟
سائرہ: کوشش تو کرتے ہیں لیکن چوں کہ یہ عوامی میڈیم ہے تو ہم مختلف بات کو بھی سہل انداز میں سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم چینل نے کئی issue basedڈرامے کیے ہیں،آج کل آپ اُڈاری دیکھ رہے ہیں لیکن اس میں ہم نے دلچسپی کا عنصر ایسا رکھا ہے کہ لوگ کڑوی حقیقتوں کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔ بس بات کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

٭ نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے آپ کے خیال میں بہتر طریقے سے کون سے رائٹرز کام کررہے ہیں؟ سینئر رائٹرز یا جونیئر رائٹرز؟
سائرہ: سب سے پہلے تو میں ایک بات کہوں کہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں ہوتا، کہانی کوئی نئی نہیں ہوتی، کہانی ان ہی کرداروں کے درمیان گھوم رہی ہے جو روزِ ازل سے ہے، ایک مرکزی کردار ایک عورت ایک مرد۔ ان کے درمیان ایک تیسرا کردار جو اُن کی دنیا کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے جیسے آدم اور حوا کی جس مین ان کے پیچھے شیطان، پھر ہابیل اور قابیل کی کہانی، ایک قتل کی کہانی۔ لیکن اس کہانی کو میں کس طرح بیان کروں گی، آپ کس طرح بیان کریں گے، یہ اسلوب ہوتا ہے جو کہانی کو مختلف بناتا ہے اور جس کی زندگی پر جتنی نظر ہوتی ہے، وہ اس طرح سے زندگی کی layers سے کچھ نہ کچھ نکالتا ہے۔آپ ایک طرف سے دیکھ رہے ہیں، میں ایک طرف سے دیکھ رہی ہوں۔ زندگی تو ایک ہی ہے، سیب کی طرح، ایک قاش آپ نکال رہے ہو، ایک میں نکال رہی ہوں۔ ہوسکتا ہے جو قاش آپ نکالیں وہ سڑا ہوا ہو، ہوسکتا ہے جو میں نکال رہی ہوں، وہ بہتر ہو۔ زاویہئ نظر مختلف ہوسکتا ہے، اسلوب مختلف ہوسکتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہیں، وہ قسمت کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہیں، اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیاب ہیں۔جن کو پڑھنے والے قارئین ملے ہوئے ہیں تو وہ بھی قسمت کی وجہ سے نہیں ملے، ایک دفعہ قسمت یاوری کرے گی لیکن بار بار نہیں کرے گی۔ ان کو خدا نے صلاحیت دی، انہوں نے اپنی صلاحیت کو پالش کیا، اس کو نکھارا، اور وہ مسلسل اپنے آپ کو آگے لے کر آرہے ہیں اور اپنی کہانیاں لکھ رہے ہیں چاہے وہ ڈائجسٹ میں ہو یا ڈرامہ انڈسٹری میں، اور کام ان ہی کا اوپر آرہا ہے، جو محنت کرتے ہیں۔

admin

Read Previous

یاد کا بوڑھا شجر

Read Next

مہربان | سو لفظی کہانی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!