دَر و دیوار

دَر و دیوار

سید ممتاز علی بخاری

 

کہتے ہیں دیوار اور دروازے کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دیوار نہ ہو تو پھر دروازہ بھلا کس کام کا؟ جس طرح دیوار دیدار میں رکاوٹ کا دوسرا نام ہے اسی طرح دروازہ دیدار کے لیے ایک پُل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ سنا ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن آج تک ہمیں اُن کے کان نظر نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کانوں کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان کا سائز کیا ہے؟ ان کی طاقت کتنی ہے؟ہماری تحریر میں جا بجا آپ کو لفظ گیٹ(Gate) نظر آئے گا۔ دراصل معزز دروازوں کو انگریزی زبان میں گیٹ کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت کے سوا گھر نہیں ہو سکتا لیکن چُپ شاہ کے نزدیک دیواروں کے بغیر گھر نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کو چار دیواری کا درس دینے والے اکثر حضرات اپنی راہ میں ایک دیوار بھی برداشت نہیں کر تے۔ دیوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہاں سے راستہ نہیں بنا سکتا۔ صرف چور اور ڈاکو اپنی مرضی سے جہاں سے چاہتے ہیں راستہ بنا لیتے ہیں چاہے وہاں دیوار ہو یا بیمار۔ یار لوگ تو دار کو بڑا دروازہ کہتے ہیں بلکہ بل گیٹس کو بھی ”گیٹ“ (دروازہ) ہی سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک بھی وہ دروازہ ہی ہے بے پناہ دولت کا۔
خیر آج ہم نے سوچا کہ آپ حضرات کو مختلف قسم کی دیواروں اور دروازوں کی اقسام سے متعارف کروائیں تا کہ سند رہے اور بہ وقتِ ضرورت کا م آئے۔

۔کالج کے دَر و دیوار۱
یہ دیواریں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں۔ ان پر آئے دن نت نئے سیاسی گروہ اپنی تشہیرکے لیے چاکنگ کرتے ہیں پھر اُن پر پینٹ یا رنگ پھرجاتا ہے۔ اگلے روز ایک نئی عبارت یوں جگمگا رہی ہوتی ہے جیسے اُسی کے لیے ہی یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ بعض اوقات اوپر تلے تحریر کی گئی چاکنگ بارش وغیرہ سے دھل کر کچھ یوں بن جاتی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ اسی طرح کی وال چاکنگ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ 25 ستمبر کو ملک کے مشہور و معروف حکیم صاحب میں کرکٹ کا ایک نمائشی میوزیم ہے جس میں تھیڑ کے بڑے فنکار بھی شامل ہوں گے۔ قربانی کی کھالیں ہمیں دے کر ٹکٹ بک کروائیں ورنہ حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔ حکیم صاحب کے جسم میں کرکٹ گراؤنڈ، کرکٹ میں تھیٹر کے فنکاروں کا کھیل، اور کرکٹ کا میوزیم بڑے عجیب و غریب انکشافات تھے لیکن سب سے انوکھا انکشاف یہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کا ایک نیا مصرف بھی سامنے آگیا تھا۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش اور بادو باراں نے نصف درجن اشتہاروں کا بھرتہ بنایا ہوا ہے۔
عموماً کالج کے گیٹوں کو بھی زنانہ اور مردانہ کالج کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بوائز کالج کے گیٹ عموماً ویران ہوتے ہیں جب گرلز کالج کے گیٹوں پر زیرِ تعلیم طالبات کے علاوہ بے شمار لڑکے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض تو لڑکیوں کے خونی رشتہ دار ہوتے ہیں اور بعض جنونی رشتہ دار بننے کے لیے کوشاں۔۔۔! ہم تو یونیورسٹی کے دَر و دیوار کو بھی اسی فہرست میں رکھا کرتے ہیں۔ البتہ مخلوط تعلیم دلانے والے اداروں کے گیٹ بہت پُر رونق بنے رہتے ہیں ہمیشہ۔ یوں تو قوم کے مستقبل کے یہ ضامن روز انہ وقت مقررہ پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی آتا ہے جب گرلز اور بوائز کالجوں کے گیٹ ایک سا منظر پیش کرتے ہیں اور وہ دن ہوتا ہے اتوار کا۔ اکثر اوقات کالجز کے یہ دروازے اور دیواریں سیاسی تنظیموں کے درمیان تنازع کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھنڈے لگانے یا اکھیڑنے پہ جھگڑا، کہیں چاکنگ کرنے مٹانے کی لڑائی تو کہیں کسی سیاسی تنظیم کی ہڑتال پر گیٹ کے کھلے رہنے یا بند رہنے پر چپقلش۔۔۔۔!

۲۔ کوچہئ محبوب کے دَر و دیوار
ایک مشہور قول ہے کہ محبوب کی گلی کا کُتا بھی عشاق کو محبوب ہی ہوتا ہے کیوں کہ اس کا اُن کے محبوب کی گلی سے ایک تعلق ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے محبو ب کے گھر کے دَر و دیوار تو خصوصی اہمیت کے حامل ہوئے۔ یار لوگ تو محبوب کے گھر کی دہلیز کو اتنا متبرک سمجھتے ہیں کہ کئی ایک تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس سمت سجدوں کی اجازت مانگتے پھرتے ہیں۔ محبوب کے آشیانے کی دیواروں کی لمس کی حس بہت ہی طاقت ور ہوتی ہے۔ اس لیے عموماً عاشق اُن سے لپٹ لپٹ کر روتے ہیں۔ اگر عشق کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہو تو پھر عاشق محبوب کے دَر و دیوار کو ایک ہینظر دیکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دیوار اور دروازے میں فرق اتنا ہوتا ہے کہ دروازے پر سکیورٹی گارڈ یا گھر کے کسی نگران کی نظر ہوتی ہے جب کہ دیواروں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ اسی لیے وہ دروازوں کی بہ جائے دیواریں پھلانگنا آسان سمجھتے ہیں کیوں کہ یہ راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی۔
اگر آپ ہماری اردو شاعری کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ محبوب کے دروازے پر ایک نا دیدہ رکاوٹ لگی ہوتی ہے۔اس رکاوٹ کوعبور کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ اکثر جوشیلے مگر بزدل عاشق جو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں ان سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نادیدہ جالوں کو توڑ پائیں جو محبوب کے گھر کی دہلیز پر لگے ہوتے ہیں۔
کچھ حضرات تو محبوبہ کے بھائیوں کو بھی دیوار سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن ان دیواروں کو پھلانگنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر عاشق یہیں سے واپس ہو لیتے ہیں۔ ڈر کر یا مار کھا کر۔۔۔۔۔۔!

admin

Read Previous

دردِ دل

Read Next

جنت سے ایک خط

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!