بھول

بھول

ثوبیہ امبر

 

اب تمہاری دادی کا کیا کریں گے؟
ابا اکلوتے تھے اور اس بات کا قلق جتنا امی کوتھا اورکسی کو نہ تھا۔مسئلہ تب زیادہ شدت اختیار کر جاتا جب شادی بیاہ کا کوئی ایسا فنکشن آجاتا جہاں سب گھروالوں کو جانا ہوتا۔ابا خود توسعودی عرب بیٹھے تھے ساری ذمہ داریوں سے فارغ (بہ قول امی)۔ اردگرد جتنے بھی پرانے محلے دارتھے،وہ آہستہ آہستہ وقت اور حالات بدلتے ہی کسی نہ کسی پوش علاقے میں شفٹ ہوگئے تھے۔پہلے کبھی کہیں جانا ہوتا تو دادی کی فکر نہ ہوتی تھی۔یا تو دادی کسی کے گھر ٹھہر جاتیں یاپھر کوئی ان کے پاس چند گھنٹے کے لیے آجاتا۔پھر یوں ہوا کہ دادی کی سہیلیوں نے یا تو دنیا سے پردہ کر لیا یاپھر اس محلے کو ہی خیربادکہہ دیا۔آہستہ آہستہ امی کے اندر یہ خواہش شدت پانے لگی تھی کہ وہ بھی کسی ایسے علاقے یا ٹاؤن میں شفٹ ہو جائیں جہاں صاف ستھرا ماحول اور تحفظ ہو۔ اس موضوع کو لے کر امی خوب بولتیں اور سب چپ چاپ امی کی باتیں سنتے رہتے کہ اس طرح امی کا ذہنی دباؤ کم ہو سکے گا۔ لگتا تھا کہ اس طرح ان کے اندر کا غبار کچھ کم ہو جائے گا لیکن ان کا بی پی تھا کہ بڑھتا ہی چلا جاتا۔
”لے دے کے ایک بیٹی تھی وہ بھی اتنی دور بیاہی کہ کوئی جا نہ سکے اور نہ خود ان کا ہی دل لگتا ہے وہاں“ سبزی کی ٹوکری سامنے رکھے امی نے کسی گہری سوچ میں ڈوبی، درد بھری آواز میں کہا تھا۔
مہرو نے ذرا سی دیر کو کتاب سے سر اٹھایا تھا اور پھر پڑھائی میں مصروف دکھائی دینے گی۔ جس دن سے امی کے میکے سے کارڈ آیا تھا یہی صورتِ حال چل رہی تھی۔امی کی پھوپھی کی بیٹی کی شادی تھی اور وہ حسبِ معمول خوش ہونے کی بہ جائے پریشان اور اُلجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ دادی کبھی کبھار کہیں ساتھ چلی جاتیں ورنہ اپنی طبیعت کی وجہ سے گھر رہناپسند کرتیں۔ پھوپھو کی شادی تو دادی نے لاہور میں کی تھی لیکن پھوپھا کی جاب کے سلسلے میں وہ پچھلے دس سال سے کوئٹہ میں مقیم تھیں۔ شروع کئی سال دادی وہاں رہنے بھی گی تھیں لیکن پھر جانا چھوڑ دیا کہ ان کا دل وہاں نہیں لگتا تھا۔
”اکلوتا ہونے کے نہ جانے کن لوگوں کو فائدے ہوتے ہیں یہاں تو ذمہ داریوں کا پہاڑ ہے۔“ امی نے ٹوکری اٹھائی اور کچن کی طرف چل دیں۔
تنہائی پسند مہرو کو کبھی کبھیلگتا تھا کہ اس میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ اسے بہانہ مل جاتا تھا گھر پر رکنے کا۔ دادی کے بہانے وہ ہر اس جگہ جانے سے انکار کر دیتی جہاں جانا وہ پسند نہ کرتی۔ امی کی ڈانٹ ڈپٹ تو وہ سنی ان سنی کر ہی دیتی تھی۔
”تم دادی کے بہانے خود گھر رہنا چاہتی ہو“اس کی ماں تھیں اور جانتی تھیں۔
”نہیں امی ایسی تو کوئی بات نہیں۔دادی اکیلی رہ جائیں گی۔“ وہ انہیں دلیل دیتی۔

”احمد رہ لے گا گھر۔“وہ مشورہ دیتیں۔
”پچھلی مرتبہ بھی تو آپ چھوڑ کے گئی تھیں اُسے،اپنے دوست کو بلا کے ویڈیو گیمز کھیلتا رہا اور دادی کو کھانا تک دینا بھول گیا۔“
یہ سچ تھا کہ وہ سب دادی کا کام بہت آسانی سے بھول جاتے تھے۔کام والی ماسی ان کے کمرے کی صفائی کرنا بھول جاتی اور وہ اس لیے بھول جاتی تھی کہ اسے پتا تھا باجی اُسے کچھ نہیں کہیں گی۔ احمد دادی کی منگائی کوئی چیز کبھی لے آتا اور کبھی بھول جاتا۔امی جب بھی موسم تبدیل ہونے پر کپڑے لاتیں تو اکثر دادی کے لیے نیا جوڑا لانا ہی بھول جاتی تھیں۔ مہرو جانتی تھی کہ امی،دادی کے لئے نئے جوڑے سلوانا نہ چاہتی تھیں اس لیے کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتی تھیں۔ ابو پوچھتے تو انہیں ٹال دیتیں اور بھلا کیا فرق پڑتا تھا۔ کون سا ابو دیکھ رہے تھے یا دادی نے بڑھ چڑھ کر شکایت کرنی تھی۔
اسے دادی پر بھی حیرت ہوتی تھی۔ نہ کوئی شکایت،نہ کوئی گلہ۔ یا تو وہ واقعی اتنی صابر تھیں یا پھر سمجھ چکی تھیں کہ شکایت کا کوئی فائدہ نہیں۔شروع میں انہوں نے اگر کسی رویے کی شکایت کی بھی تو حالات بہتر ہونے کی بہ جائے مزید کشیدہ ہوئے تھے لہٰذا انہوں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا تھا۔
مہرو اس عمر میں بھی دادی کی صفائی پسند طبیعت دیکھ کر حیران ہوتی تھی۔ ہاتھ کی کڑھائی والا نفیس شیفون دوپٹہ اور صاف ستھرا لباس ان کا عمومی پہناوا تھا۔صابر و شاکر دادی اب کچھ دنوں سے کچھ زیادہ ہی گم صم رہنے اور باتیں بھولنے لگی تھیں۔
امی کو بھی فکر ہونے لگی تھی کہ یہ تمہاری دادی کو کیا ہوا؟
مہرو نے شہر کے ایک بڑے سائیکاٹرسٹ سے وقت لیا۔
ابا کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس نے بہت کم عمری میں ڈرائیونگ سیکھ لی تھی۔سو دادی کو وہ خود ہی ڈاکٹرپہ لے آئی اور پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات انہیں بتانے لگی۔
”ہم م م م“
ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لی تھی۔
”جو کچھ آپ بتا رہی ہیں یہ سب زوالِ عقل یا خرف (Dementia)کی علامات ہیں۔آپ اسے الزائمر بھی کہہ سکتی ہیں۔
”اس میں کیا ہوتا ہے؟“ اس نے پوچھا تھا۔
”دراصل ایسے مریض اپنی یادداشت وقت کے ساتھ ساتھ کھو دیتے ہیں۔ ان کے لیے کوئی حال یا ماضی نہیں بلکہ صرف لمحہئ موجود ہی ہوتا ہے۔“ڈاکٹر نے دوائیوں کا نسخہ اسے تھماتے ہوئے کہا تھا۔
جنہیں وقت بھول جاتا ہے۔۔۔ پھر ان کے لیے آسان ہوتا ہے اپنا آپ بھول جانا۔یہ بھی وقت کا احسان ہی ہے کہ انسان ان چیزوں کو بھول جائے جو اس کے لیے کسی خوشی کا باعث نہ ہوں۔ مہرو نے بڑے دُکھ سے سوچا۔
گاڑی کے اسٹیئرنگ پر ماتھا ٹکا ئے اس نے وہ تمام لمحے یاد کرنے کی کوشش کی جب وہ سب دادی کو بھول گئے تھے کہ وقت ہی نہیں تھا کسی کے پاس۔ان کے خون کے رشتے بھی انہیں بھول گئے تھے۔وہ سامنے ہوتے ہوئے ان کے لیے موجود نہ ہوتی تھیں۔
ایک احساسِ جرم کے ساتھ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔اسے اب پہلے سے زیادہ دادی سے محبت کرنا تھی اورپہلے سے زیادہ ان کا خیال رکھنا تھا۔

٭٭٭٭

admin

Read Previous

باہر کا آدمی

Read Next

بی بانہ اور زوئی ڈارلنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!