ادھورا کردار

ادھورا کردار

فہیم اسلم

 

 

 کون جانتا ہے زندگی کیا ہے۔ شائد زندگی بھی لا تعلقی کا اظہار کر دے۔ زندگی شائد سوچنے والے کی سوچ میں ہے کہ وہ کس طرح سوچتا ہے یا لکھنے والے کے قلم کی روشنائی ہے، جو تحریر کرتی ہے زندگی کے خال و خد کو یا پھر شاید زندگی بولنے والے کی زبان کا نام ہے۔ زندگی؟؟؟؟ حقیقت۔۔۔۔ خوشی۔۔۔۔ غم۔۔۔۔ مایوسی۔

یہ بھی تو اصلیت ہو سکتی ہے۔ کنویں کے مینڈک کے لیے زندگی پانی۔۔۔۔ تنکوں کی جھونپڑی میں رہنے والوں کے لیے زندگی تنکے۔۔۔۔ نہیں زندگی بجلی ہو گی،تنکوں کو جلا کر اسے روشنی دے گی۔۔۔۔ یوں تو وہ خود بھی ختم ہو جائے گا، یہ زندگی نہیں۔۔۔۔ مگر کون جانتا ہے کہ تنکوں کی جھونپڑی میں چھپا ہوا بھی وہ کس قدر ننگا ہے، اس کی زندگی وہی بجلی ہے۔۔۔۔ موت ہے۔ کہنے والے کہتے، سننے والے سنتے اور لکھنے والے لکھتے رہیں گے، زندگی کی دلیل کو۔۔۔۔ شاید زندگی سوچ کا نام ہے، جو ایک ہی لمحے پُرامید اور دوسرے لمحے مایوس کر دیتی ہے۔

کوئی نہیں جان سکا زندگی کو۔۔۔۔ حالاں کہ ہر کوئی محسوس کرتا ہے۔۔۔۔ ہوا کی طرح۔۔۔۔پھولوں کی خوشبو کی طرح۔ مگر چھو نہیں سکتا، حقیقت نہیں جان سکتا۔۔۔۔ کوئی بھی۔ مایوس کے لئے روتے رہنا زندگی، غریب کی زندگی۔۔۔ ذلت۔۔۔۔ رسوائی۔۔۔۔ موت، امیر کی زندگی۔۔۔۔ دولت۔۔۔۔ عزت۔۔۔۔ موت، شاعر کی زندگی۔۔۔۔اس کے اشعار، مسلم کی زندگی۔۔۔۔ اس کا اللہ، عاشق کی زندگی۔۔۔۔ اس کی وفا، ہندو کی زندگی۔۔۔۔ اس کا صنم، سقراط کی زندگی۔۔۔۔ اس کا علم، دیمک کی زندگی۔۔۔۔ لکڑی تو پھر اتی کی زندگی۔۔۔۔۔۔۔؟زندگی ۔۔۔۔ لکڑی تو پھر اتی کی زندگی۔۔۔۔۔۔۔؟


اتی۔۔۔۔ نوجوان۔۔۔۔ حساس۔۔۔۔ نازک۔۔۔۔ سخت۔۔۔۔ پتھر
اتی ہیئت کے اعتبار سے مضبوط اعصاب والا جوان، ریت کے ذرات جس پر چٹان سمجھ کے سوار ہوتے۔ رنگ ذرا سانولا، قد لامبا، کشادہ چھاتی، تاؤ والی مونچھیں، ہلکی ہلکی ڈاڑھی، اکثر سفید شلوار قمیص۔۔۔۔ جس پر جگہ جگہ چکنائی اور مٹی کے داغ نظر آتے۔۔۔۔ میں ملبوس نظر آتا، سیاہ بالوں پر سرسوں کے تیل کی چمک اور ہاتھ میں قلم اتی کی نام نہاد شخصیت کو اجاگر کرتے۔ شہر سے دور چھے کوس کے فاصلے پر ایک بستی تھی کھٹیانوالہ۔۔۔۔ جس میں اتی کی پیدائش ہوئی، چھوٹی سی بستی میں چند گھر تھے۔۔۔۔ کچھ کچے کچھ پکے۔ کچے گھر والوں کے دل ویسے ہی کچے گھڑے کی طرح ناپائیدار اور پکے گھر والوں کے دل آہنی غلاف میں بند تھے۔
پیار۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔ خلوص۔۔۔۔وفا۔ بستی میں اجنبی مہمان تھے، اتی سنِ پیدائش سے ہی قسمت ماں کی گود میں کھیلا کودا، پیدائش پر ماں کو قسمت اور باپ کو صدمہ لے بسا۔ برسات کی رات تھی شیر خوار بچے پر بہت بھاری گزری۔۔۔۔ قسمت ماں اتی پر ؤغضب ناک ہو گئی۔۔۔۔ زندگی نے ڈوری تان لی۔۔۔۔ طوفان کی آمد کا ڈنکا بجا، ہوا خطرناک آوازوں میں روتی اور پیٹتی آئی، بجلیاں چمک اٹھیں، بادل گرجا اور پھر قسمت کے ڈر سے رو پڑا۔۔۔۔ سب کی دوڑ ہوئی کہ کون اتی کو برباد کرے گا۔ سنا ہے چار تنکوں کو اگر سلیقے سے رکھ دیں تو بجلیاں طوافِ آشیاں کرتی ہیں، یہی رسم بجلیوں نے اس دن بھی ادا کی۔ اتی کا وجود اور جھونپڑی نما گھر قسمت ماں کی ہوس ناکیوں کی لپیٹ میں تھا اور پھر طواف کے بہانے بجلیوں نے اپنے کعبہ کومسمار کر دیا۔۔۔۔ اتی کا گھر تباہ ہو گیا۔۔۔۔ قسمت جیت گئی مگر اتی زندہ رہا۔۔


معلوم نہیں قسمت اتی پر اتنی مہربان کیوں ہوئی کہ بچپن سے ہی اپنی گود میں پرورش کی۔۔۔۔ اور یوں اتی کے سن کے دوسرے بچے بھی پرورش پانے لگے، کوئی ڈاکٹر بننے کے لئے، کوئی کلکٹری کے لئے، کوئی خواہشات کے لئے تو کوئی مذہب کے لئے اور اتی بھی جوان ہوا، اس نے بھی نشونما پائی قسمت سے حساب چکتا کرنے کے لئے، قسمت سے لڑنے کے لئے۔۔۔۔ زندگی کا مفہوم سمجھنے کے لئے۔۔۔۔ ذلت کے لئے۔۔۔۔ انجام۔۔۔۔ قسمت کی گود میں مرنے کے لئے۔
اتی کا سن چار کو آن پہنچا تو بستی والوں نے کچھ خلوص اور کچھ حقارت سے دارالامان میں لا چھوڑا۔ بن ماں باپ کے بچہ جوان ہوا، کون جانتا ہے کس طرح ہوا اور کیوں کر ہوا اس کے اتہاس کو نہ ہی کھولا جائے تو بہتر ہو گا، اتی جوان ہو گیا زندگی کے قریب ہو گیا۔۔۔۔ سن سولہ کو آن پہنچا، اس کا ذہن طرح طرح کے امور کی آماج گاہ اور کشمکش کا پرپیچ کھنڈر بن گیااب وہ بھی پریشان ہے کہ زندگی کیا ہے؟ جب اس نے دارالامان کی چھت تلے زندگی کے ابتدائی بارہ سال گزار ے تو اس وقت اس کے ہم عصر اس طرح زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے جس طرح ڈاکو راہ گیروں کو لوٹا کرتے ہیں، اس وقت بھی وہ دارالامان کی پختہ دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر نکلنے والے خون سے زندگی کا بت بنانے میں مصروف رہا۔۔۔۔ وہ دارالامان کی دیواروں کو زندگی سمجھتا رہاجو ہر طوفان سے اسے بچاتی تھیں، جب کچھ باشعور ہوا تو اینٹوں کی تائید میں بولا۔۔۔۔ یہی زندگی ہے۔ آخر کار حقیقت جان گیا اور زندگی اینٹوں کی بجائے ریت کے ذرات پر منعکس ہو گئی۔۔۔۔ خوشی کے مارے ہنسا،کودا، اچھلا اور ڈر کے مارے غڑاپ۔۔۔۔۔۔زور دار قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔ قسمت پھر جیت گئی اور اتی کو پکارنے لگی۔۔۔۔ اتی یہ زندگی نہیں۔۔۔۔ دھوکا مت کھاؤ۔۔۔۔ یہ زندگی نہیں۔۔۔۔ یہ تو دارالامان کی حقیقت ہے۔۔۔۔ زندگی خود نہیں۔۔۔۔ زندگی تو کہیں اور ہے۔۔۔۔ ادھر آؤ میرے قریب۔۔۔۔ زندگی میرے پاس ہے، اتی قسمت کو پکڑنے بھاگا اور قسمت امید کے اندھیروں میں غائب۔

admin

Read Previous

شکستہ خواب

Read Next

ایک لمحہ کمزور

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!