منّزہ سہام مرزا – گفتگو

گفتگو

منّزہ سہام مرزا

(منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

admin

Read Previous

شکیل عادل زادہ – گفتگو

Read Next

فصیح باری خان – گفتگو

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!