شکیل عادل زادہ – گفتگو

حسن عمر: ہم لوگ اردو رسم الخط کو بھولتے چلے جارہے ہیں، رومن رسم الخط کو عام کرتے جارہے ہیں، ترکش زبان اس ہی چکر میں ختم ہوکر رہ گئی تھی ۔ہم لوگوں کوکیا اقدامات کرنے چاہیے اردو رسم الخط کو زندہ رکھنے کے لیے؟

شکیل: یہ سوال نہایت اہم ہے اور ایک زمانے سے اس پر بڑی بحث اور تکرار جاری ہے۔ عصمت چغتائی قائل تھیں کہ اردو کو نستعلیق رسم الخط سے نکال کر دیوناگری رسم الخط میں رائج کیا  جائے کیوں کہ دیوناگری ایک نہایت مکمل رسم الخط ہے۔ چونکہ میں تھوڑی بہت ہندی بھی جانتا ہوں اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ اس رسم الخط میں انگریزی زبان سے بھی زیادہ و سعت ہے۔ بنیادی طور پر جو زبان آپ بول رہے ہیں، میں بول رہا ہوں، یہ تو ہندی ہے۔ اب آپ چونکیں گے اس پر کہ یہ کیسے کہا جا رہا ہے؟ بنیادی طور پر اُردو زبان میں ستر فی صد ہندی اور تیس فیصد عربی و فارسی شامل ہے۔ اب اگر میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ” آج صبح سے میں بہت تھکا ہوا ہوں، کام کرنے کو جی نہیں چاہ رہا”، تو اس میں آج ہندی، صبح عربی، سے ہندی،میں ہندی، بہت ہندی، تھکا ہوا ہوں ہندی،اور آج کام کو جی نہیں چاہتا یہ ہندی۔ ایک اور جملہ کل ایوانِ بالا میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔کل ہندی، ایوانِ بالا فارسی، میں ہندی، قرارداد عربی یا فارسی، پیش فارسی ،کی گئی ہندی۔ اگر اُردو میں سے ‘کی گئی’   نکال دیں، تو جملہ ہی مکمل نہیں ہوتا ۔ گرامر آپ کی ہندی ہے،تو زبان بنیادی طور پر ہندی ہوئی۔ غالب  جو بہت مشکل شعر کہتے تھے، زیادہ تر مفرس اور معرب شعر ہوتے تھے ان کے ، فارسی زدہ اور عربی زدہ۔

بوئے گل، نالہ دل، دودِ چراغِ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

پہلا مصرعہ پورا غیر ملکی زبان میں ہے، دوسرے مصرعے میں جو ہندی، تیری ہندی،بزم فارسی،سو ہندی، نکلاہندی ،پریشاں ہندی۔ عربی اور فار سی کی آمیزش سے ہماری ہندی زبان میں نکھار آیا اور یہ  اُردو زبان بن گئی جو بے مثال ہے۔ البتہ اس کا سکرپٹ فارسی زبان کا ہے یعنی نستعلیق،جو نسخ یعنی عربی سکرپٹ سے بہت قریب ہے۔ شروع میں کاتب جب کتاب کرتا تو اُسے  نسخ میں لکھنا زیادہ آسان رہتا تھا۔ پھر  ٹائپ رائٹر ایجاد ہوگیا تھا، تو اس پر لکھا جانے لگا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ بعد میں کمپیوٹر ایجاد ہو گا اور نوری نستعلیق کا جواز پیدا ہوجائے گا۔ یہ ترکی والوں کو بھی نہیں معلوم تھااسی چکر میں  انہوں نے اپنی پوری زبان خراب کردی۔ آپ کی جو زبان ہے، اس میں لکھنے سے زبان کا اصل ذائقہ ، اس کا essence برقرار رہتا ہے۔عصمت چغتائی کی تجویز کہ رسم  الخط دیوناگری کر دیں، پر اعتراض یہ تھا کہ رسم الخط بدل دینے سے  تو اُردو  بالکل ہی ہندی ہوجائے گی۔ کوئی تہذیب اپنی زبان کا رسم الخط بدلنا پسند نہیں کرے گی  جیسے چین اور جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستیں ہیں ملیالم ، تامل وغیرہ سب کا اپنا رسم الخط ہے۔ بہت سے ممالک ہیں جن میں بیک وقت کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، تو کیا سب بدل لیں گے اپنا رسم الخط رومن میں؟ ہماری زبان کا جو مزہ ہے، لطف ہے ،وہ رومن میں متاثر ہونے کا اندیشہ موجود ہے،ترکی زبان کی طرح۔

حسن عمر: ہمارے پاس کبھی کبھار اتنی لمبی لمبی تحریریں آجاتی ہیں جو پوری کی پوری رومن میں لکھی ہوتی ہیں، جبکہ لکھنے والے بھی پاکستان کے رہنے والے، جنہوں نے پوری زندگی اردو لکھی پڑھی ہے، افسوس ہوتا ہے ہمیں کہ لوگ رومن کو اپنا رہے ہیں۔

شکیل: اصل میں سارا مسئلہ ملکی نصاب کا ہے، جس میں اردو پیچھے جارہی ہے۔پہلے ہماری تعلیم ہوتی تھی فارسی میں، قرآن ہم لازماً پڑھتے تھے،تو سکرپٹ سے بھی ہماری جان پہچان تھی۔ تقسیم کے بعد فارسی تقریباً ختم ہوگئی ، اردو رہ گئی اور اردو کو سیاست نے ماردیا۔مشرقی پاکستان نے کہا ارے یہ کون سی زبان ہے، نکالو اسے باہریہاں اُردو کوئی نہیں جانتا۔ہندوستان میں کہا گیا کہ یہ تو مسلمان کی زبان ہے، اسے باہر نکالو۔ ہندوستان میں بھی اُردو کم کم ہے۔ محسوس اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ اردو اور ہندی ملتی جلتی زبانیں ہیں۔

حسن عمر: لیکن وہاں اردو زبان کی ترویج کے لیے ادبی میلے تو ہوتے رہتے ہیں، ابھی حال ہی میں جشنِ ریختہ ہوا تھا۔

شکیل: جھوٹ ہے!سب دھوکا ہے، مجھے بھی بلایا تھا اس سال اور میں گیا بھی تھا۔ پورے ہندوستان میں گجراتی، ملیالم، تیلگو وغیرہ خوب بولی جاتی ہیں،بنگالی بھی  چلتی ہے، ہندی یو پی، سی پی، بہار وغیرہ ملا کے کوئی چھے سات صوبوں کی زبان ہے لیکن اُردو خال خال نظر آتی ہے۔

اصل میں حکومتِ ہندوستان جتانا چاہتی ہے کہ ہمارے ہاں اُردو زندہ  ہے، جامعہ ملیہ اور جامعہ علی گڑھ جیسے اعلیٰ ادارے موجود ہے اور ہم اُردو کے بہت بڑے سرپرست ہیں جب کہ حقیقت بالکل اُلٹ ہے۔ دیکھیے وہ زبان کبھی نہیں چلے گی جس میں روزگار نہیں ہوگا۔

 772 views

Read Previous

چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

Read Next

منّزہ سہام مرزا – گفتگو

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!