جھوک عشق – ایم رضوان ملغانی – داستانِ محبت 

داستانِ محبت 

جھوک عشق

ایم رضوان ملغانی

یہ جھوک عشق ہے یہاں عشق کا پڑااتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ عشق کو بے حد تکلیف سہنی پڑی، ٹھوکریں کھانا پڑیں، رُلنا پڑا، بھٹکنا پڑا، مار پھٹکار سہنی پڑی، گالیاں سننی پڑیں، لفظوں کے نشتر جھیلنے پڑے اور جب عشق کا ڈیرا جم گیا۔ ہر زبان محبت، محبت پکارنے لگی، ہر وجود پیار کے نشے میں دھت رہنے لگا، ہر دل نے دل لگی کی حدیں پار کردیں، اس عشق میں وجود گھائل ہوگئے، پیروں تلے آبلے پڑگئے، ہر طرف سے ڈھولن ڈھولن، محبوب محبوب کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور عشق کے دشمنوں کو یہ آوازیں بالکل نہ بھاتی تھیں۔ سزاں کا اہتمام کیا گیا۔ خوش نصیب کہلائے گئے وہ جو اتنی مشقت جھیلنے کے بعد اپنی محبت پاگئے اور ان بے چاروں کا حال بد سے بد ہوتا چلا گیا، جو جیتی ہوئی بازی بھی ہار گئے، جن کے پلّے کچھ نہ پڑا جو اپنے محبوب کی دید کو ترس گئے اور خاک ہوگئے۔ کامیاب پرستاروں کے کچے آنگن اور بیری کے درخت کے نیچے میراثنوں کا ہجوم لگتا رہا۔ بیری کی چھاں تلے بیٹھ کر ذرا دیر سستالیتیں، پانی پیتیں، خشک حلق تر ہوتا، تو وہ گیت گائے جاتیں کہ پاس پڑوس کی مائیاں، جٹیاں، بالڑلیاں، بلونگڑیاں بیری تلے جمع ہوجاتیں اور میراثن کے وارے نیارے ہو جاتے۔

کملی نہ لا اکھیاں، اے خان تاں خان ہوندین

(کملی آنکھیں مت لگا، یہ خان تو خان ہوتے ہیں)

اُچیاں دکاناں تیں پھکے پکوان ہوندین

(اونچی دکانوں پر پھیکے پکوان ہوتے ہیں)

وہ سرائیکی گیت گاتی جاتیں دُلہے کی نانی، اماں، چاچی، پھپھی پیسے لٹاتی جاتیں۔ 

پھر شادی کی تاریخ رکھی جاتی تو بھی یہ میراثنیں آ دھمکتیں اور ننھے منے کی آمد ہوتی تو بھی ان کا آنا لازم ہوتا۔ دینے والے سخی دیتے دیتے نہ تھکتے اور میراثنیں کڑکتے ہوئے نوٹ دوپٹے کے پلو میں بھرتے بھرتے نہ تھکتیں۔

خیر! آیئے اب عشق کی جھوک میں ان جھوکیوں (جھوک میں بسنے والوں) کا رخ کرتے ہیں جن کا عشق کچا ہے یا پھر پکا۔ اب یہ کچا پکا عشق کیا کیا رنگ دکھلاتا ہے، کن کن طوفانوں سے اس کا گزر ہوتا ہے۔ اس کی طرف نظر ثانی کرنے سے پہلے اس طرف دیکھتے ہیں جہاں یہ عشق پروان چڑھ رہا ہے۔

آیئے، جھوک عشق کی سیر کرتے ہیں۔

بیری کے درخت پر گلہریاں دندناتی پھر رہی تھیں۔ درخت کے پاس لگے نلکے سے پانی موٹر کے بغیر آرہا تھا اور نل کے آگے لگی اینٹوں کے آگے پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ہوتا ہوا لیموں اور مالٹے کے پودوں کو سیراب کر رہا تھا۔ مالٹے کے پودے کی اٹھان اچھی تھی ابھی مہینے ہی کتنے ہوئے تھے اسے لگائے ہوئے، یہاں کی مٹی بڑی زرخیز تھی، نہ کھاد ڈالنے کی ضرورت پڑتی نہ کسی اور شے کی بس پانی آتا رہے اور لگتا رہے تب ہی تو اس پر پھل لگنا شروع ہوگئے تھے۔ لیموں کے پودے نے تو تناور درخت کی سی صورت اختیار کرلی تھی۔ ہرے ہرے پتے اور چھوٹے چھوٹے سرسبز لیموں جو ابھی کچے تھے۔

وہ لاڈ اور پیار سے ان لیموں کو چھو رہی تھی۔ پاس رکھی بالٹی میں پانی اور کوزہ پڑا تھا۔ اس نے کوزہ بھرا اور لیموں کے پتوں پر ڈالنے لگی۔ دھیرے دھیرے ان پر لگی ساری مٹی دھل رہی تھی۔ سورج سوا نیزے پر تھا۔ ذرا سی مشقت سے جسم پسینے سے بھیگ جاتا اس کے ماتھے پر بکھری بالوں کی لٹوں کے نیچے سے پسینے کی ننھی ننھی بو ندےںنظرآ رہی تھیں۔ اس نے آخری بار پانی ڈال کر کوزہ بالٹی میں پٹخا اور بازو کی آستین سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا ۔ پھر بالٹی اٹھاتی نل کے پاس آرکی اوراُسے نل کے نیچے رکھ دےا ۔

عابی بس کرو دیکھو تو صحیح دُھوپ آ گئی ہے، اسکول نہیں جاگی ؟راشدہ خاتون مرغیوں کی کچی کو ٹھڑی کھولتے ہوئے بولیں۔ ساری مرغیاں قید سے فرار حاصل کرکے صحن میں جا بجا ٹھونگیں مارنے لگیں۔

جاں گی اماں آج کسی وڈے افسر نے اسکول کے وزٹ کے لیے آنا ہے۔وہ اب بالٹی سے بھر بھر پانی اپنے پیروںپر ڈال رہی تھی۔

کتنی بار سمجھاں تجھے، چھوڑ کیوں نہیں دیتی یہ نوکری تین ہزار کے لیے سارا سارا دن رُلتی پھرتی ہے۔ اللہ بخشے تیرے ابا مرحوم کو اس کی پنشن سے گزارہ ہوجاتا ہے۔ میں تو کہتی ہوں رشتے کے لیے ہاں کہہ دو بھلا مانس اور شریف جوان ہے۔ ہاتھ سے نکل گیا تو کوئی اس کے ورگا نہیں ملے گا۔راشدہ خاتون اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئیں اور دھیرج اور سبھاسے کئی دنوں پہلے کی گئی بات دہرانے لگیں۔ اس نے بات سنی ان سنی کردی اور گنگنانے لگی۔

ڈھولن آویں ہا….

پھیرا پاویں ہا….

جھوک وساویں ہا….

ڈھولن آویں ہا….

آویں ہا….آویں ہا….

اُف ایک تو یہ لڑکی بھی نہ مجال ہے جو کبھی میری کہی بات پر کان دھرلے اس کی ساری سکھی سہیلیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ تین تین بچوں کی مائیں بن گئیں اور اس کی ایک ہی ضد اور ہٹ دھرمی، میں تو ماں ہوں۔ جوان جہان اولاد اوپر سے لڑکی ذات مجھے فکر نہیں ہوگی تو کسے ہوگی؟

وہ بڑبڑاتی برتنوں کے ڈھیر کی طرف پلٹیں جہاں کوں کی فوج نے دھاوا بول رکھا تھا۔ہش، ہش، ہشوہ کوں کو اڑانے لگیں۔

اڑکوٹھے اتوں کاواں وے

اڑ کوٹھے اتوں کا واں وے

عبیرہ کی آواز گونج رہی تھی اور راشدہ خاتون نے بے بسی سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔

٭….٭….٭

admin

Read Previous

ٹیپو اور سنہری پری ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!