گُلّو کی واپسی ۔ الف نگر

گُلّو کی واپسی

ساجدہ غلام محمد

ننھی سارہ کی غلطی پر سب پریشان تھے لیکن کیوں؟ پڑھیے اس خوب صورت کہانی میں!

”ارے! یہ گُلّو کہاں گیا؟” نعیم صاحب عید کی نماز پڑھ کر واپس آئے تھے اور اب گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔ عید گاہ جاتے ہوئے انہوں نے گیٹ کے قریب صحن میں ایک درخت کے ساتھ قربانی کے لیے لایا گیا بکرا، گُلّو باندھ دیا تھا۔ اب جو واپس آئے تو گُلّو وہاں نہیں تھا۔

”مریم! گُلّو کہاں ہے؟” ابو جی نے گھبرا کر بیگم کو آواز دی، وہ بھی باہر آگئیں۔

”ارے! یہیں تو باندھا تھا آپ نے۔” امی نے پریشانی سے کہا۔

”شاید مجھ سے رسی ڈھیلی رہ گئی۔ دیکھو، گھر کے کمروں میں نہ چلا گیا ہو۔” ابو یہ کہتے ہوئے جلدی سے گھر کے اندر چلے گئے۔ سارے کمرے دیکھ لیے لیکن گُلّو کہیں نہ ملا۔ اسی وقت اچھلتی کودتی سارہ، اپنی سہیلی کے ساتھ عید کے پیارے سے کپڑے پہنے وہاں آگئی۔

”ابوجی! عید مبارک!” اس نے خوشی سے ابو جی کی جانب بانہیں پھیلائیں۔

”خیر مبارک بیٹا!” وہ گُلّو کی گمشدگی پر پریشان تھے، اس لیے سارہ کی طرف توجہ نہ دے سکے۔

”یہ دیکھیں، رسی کٹی ہوئی ہے، اس کا مطلب ہے کوئی چور ہمارے گھر آیا اور رسی کاٹ کر گُلّو کو لے گیا۔” سارہ کی امی نے درخت کے ساتھ بندھی رسی دکھاتے ہوئے کہا۔

”اوہ! بہت برا ہوا یہ تو!” ابو جی نے یہ کہتے ہوئے اپنا سر پکڑ لیا۔

”نہیں امی جی! چور نہیں آیا، میں نے رسی کھولنے کی کوشش کی تھی مگر وہ کھل ہی نہیں رہی تھی پھر میں نے کچن والی چھری سے رسی کاٹ دی اور گیٹ کھول دیا تاکہ گُلّو اپنے دوستوں کے پاس چلا جائے۔” بازوؤں میں کھنکھناتی چوڑیوں کی آواز سے خوش ہوتے ہوئے سارہ نے کہا تو امی ابو چونک اٹھے۔

”کیا؟؟ یہ آپ نے کیا کِیا سارہ؟؟” امی جان چلّائیں۔ ”بیٹا! ہم نے تو اس کی قربانی کرنی تھی۔” ابو نے پریشان لہجے میں اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تو وہ ڈر گئی۔ اُسے احساس ہو گیا اس نے غلطی کر دی ہے۔

”وہ… وہ… ابوجی!” سارہ ہکلائی۔

”آپ ذرا جلدی سے باہر جا کر دیکھیں، ہو سکتا ہے وہ زیادہ دور نہ گیا ہو۔ اللہ کا نام لے کر ڈھونڈیں، مل جائے گا۔ میں سارہ سے بات کرتی ہوں۔” امی جی نے ابو سے کہا۔

”اللہ کرے مل جائے ورنہ مشکل میں پڑ جائیں گے۔” ابو جی جلدی سے گیٹ کھول کرباہر نکل گئے تو امی سارہ کے پاس بیٹھ گئیں۔

”جی بیٹا! اب بتاؤ آپ نے ایسا کیوں کِیا؟” امی کے لہجے میں پریشانی تو تھی لیکن لہجہ نرم تھا، اس لیے سارہ کو حوصلہ ملا۔

”امی جی! ابھی کچھ دن پہلے چودہ اگست پر ابو جی نے چڑیاں آزاد کی تھیں نا؟ تاکہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے پاس چلی جائیں۔ ابو جی نے بتایا تھا کہ جانوروں کو قید نہیں کرتے۔ میں نے بھی اسی لیے گُلّو کو آزاد کر دیا کیوں کہ وہ بہت اداس تھا اور اپنے دوستوں کو یاد کر رہا تھا۔ آپ نے دیکھا تھا نا! وہ رات کو کیسے ”میں میں” کر رہا تھا۔” سارہ نے سہمے ہوئے لہجے میں بتایا مگر اب اُس کا اعتماد بحال ہو گیا تھا۔ امی جی نے گہری سانس لے کر اپنی پریشانی چھپائی۔

”بیٹا! ہم نے اسے قید نہیں کیا تھا، یہ اللہ جی کا حکم ہے کہ عید پر جانوروں کی قربانی دیں اور ان کا گوشت خود بھی کھائیں اور غریبوں کو بھی دیں لیکن آپ نے تو گُلّو کو آزاد کردیا۔ اب ہم ان غریب بچوں کو کیا دیں گے جب وہ ہمارے گھر گوشت لینے آئیں گے؟” امی کی بات سن کرسارہ بھی فکرمند ہوگئی۔

”اوہ! واقعی امی جی! مجھ سے غلطی ہوگئی۔” سارہ روہانسی ہوگئی۔

”جی ہاں بیٹا! آپ سے غلطی ہوئی ہے اور آپ کو چھری استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں مگر آپ نے اسے بھی بغیر اجازت استعمال کیا، یہ بھی غلط ہے۔ اب آپ دعا کریں کہ گُلّو مل جائے تاکہ ہم اس کی قربانی کریں اور اللہ جی ہم سے خوش ہو جائیں۔” امی جی نے پیار سے اسے سمجھایا۔

”اللہ جی! پلیز مجھے معاف کر دیں۔ میں آئندہ امی ابو سے پوچھ کر کام کیا کروں گی۔ پلیز ابو جی کو ہمارا گُلّو مل جائے۔” سارہ نے فورا ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔ امی جی بھی دل ہی دل میں مسلسل دعا مانگ رہی تھیں۔ اسی وقت ابو جی گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں رسی تھی اور رسی کے ساتھ گُلّو بھی بندھا ہوا تھا۔

”میں… میں…!” گُلّو نے واپس آتے ہی شور مچانا شروع کردیا۔

”امی جی! گُلّو واپس آگیا!” سارہ نے بکرے کو دیکھتے ہی آواز لگائی۔

”پچھلے محلے میں دلدار صاحب کے بکروں کے ساتھ چارہ کھا رہا تھا۔ شکر ہے مل گیا۔” ابوجی نے مسکراتے ہوئے کہا اور گُلّو کی رسی درخت کے ساتھ باندھ دی۔

”سوری ابو جی! مجھ سے غلطی ہوگئی تھی۔” سارہ نے ان کے پاس آکر شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تو انہوں چونک کر امی کی طرف دیکھا۔ امی نے اشاروں میں بتایا کہ وہ سارہ کو سمجھا چکی ہیں۔ تب ابو جی نے اطمینان کا سانس لیا۔

”کوئی بات نہیں بیٹا! اب آیندہ ایسا نہیں کرنا اور… ارے! میری بیٹی کو تو میں نے اب غور سے دیکھا ہے۔ یہ تو بہت پیاری سی گڑیا لگ رہی ہے۔” ابو جی نے سارہ کو گلے سے لگاتے ہوئے پیار کیا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ کچھ ہی دیر میں گُلّو اللہ کے راستے میں قربان ہوچکا تھا۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

دوسرا حصّہ ۔ الف نگر

Read Next

میں خوش نہیں ہوں ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!