پھول وادی ۔ الف نگر

پھول وادی

راحت عائشہ

سارہ اور بیہ نے آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گئیں۔ پڑھیے اس پیاری سی کہانی میں۔

”اف! ابھی اور کتنی دور جانا ہے؟” ننھی سارہ نے بیہ سے پوچھا۔

”بس ذرا سا اور آگے…” بیہ نے سارہ کو تسلی دی۔ ”لیکن اِدھر بھی تو اتنے پیارے پیارے پھول کِھلے ہیں، ہم یہی توڑ لیتے ہیں۔” سارہ نے یہ کہہ کر ایک خوب صورت لال گلاب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

بے چارا گلاب خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹا اور بولا: ”نہیں نہیں ننھی پریو! مجھے مت توڑو۔ تم چاہو تو میں تمہیں کچھ اور تحفے دے سکتا ہوں۔”

”لیکن تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔ میں تمہیں اپنی فراک پر سجانا چاہتی ہوں۔” سارہ نے پھول سے کہا۔

”اچھے پھول! ٹھیک ہے، ہم تمہیں نہیں توڑتے لیکن بتاؤ تم ہمیں کیا تحفہ دو گے؟ تم نے ہمیں پریاں کہا مگر ہم پریاں نہیں ہیں۔” بیہ نے پھول سے کہا۔

”کاش! ہم پریاں ہوتیں تو اِس وقت ہوا میں اُڑرہی ہوتیں۔ پیدل چل چل کر ہمارے پاؤں تھک گئے ہیں۔” سارہ نے افسردہ لہجے میں کہا۔

گلاب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ بولا: ”اپنی آنکھیں بند کرو۔” سارہ اور بیہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ تھوڑی دیر بعد گلاب کی آواز سنائی دی: ”اب آنکھیں کھول لو۔” جیسے ہی اُنہوں نے آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گئیں۔ اُن کے خوب صورت فراکوں پر بڑے بڑے سفید پَر موجود تھے۔

پُھول نے اِن دونوں سے کہا: ”ننھی پریو! یہ پَر ایک گھنٹے تک تمہارا ساتھ دیں گے۔ تم یہاں سے مشرق کی طرف جاؤ۔ وہاں تمہیں پھولوں کی ایک وادی نظر آئے گی۔ جس میں بہت سے رنگ برنگے پھول ہوں گے۔ اُس کا نام ”پھول وادی” ہے۔ تمہیں صرف وہی پھول اُٹھانے ہیں جو زمین پر گرے ہوئے ہوں۔” پھول نے بات مکمل کی تو سارہ اور بیہ نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینا شروع کردی۔ اب آہستہ آہستہ وہ ہوا میں اڑنے لگیں۔

”آہا! کتنا مزہ آرہا ہے بیہ! وہ دیکھو جھیل، آؤ وہاں چلتے ہیں۔” سارہ بے حد پرُجوش تھی۔

”نہیں، ہمیں مشرق کی سمت جانا ہے۔” بیہ نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ پھول وادی میں پہنچ چکی تھیں۔

”ننھی پریو! ہم پھولوں کی وادی میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔” سب پھولوں نے اُن کا استقبال کیا تو وہ وادی میں اُتر گئیں۔ باغ کی ملکہ نے اُنہیں پھولوں سے بنے خوب صورت ہئیر بینڈز پہنائے۔ اس کے بعد ملکہ نے سارہ کے ہیٹ پر پھولوں کا گلدستہ لگایا جو نہایت خوش نُما دکھائی دے رہا تھا۔

اب سارہ اور بیہ نے جلدی سے اپنی ٹوکریاں خوب صورت پھولوں سے بھرلِیں۔

”یہ خاص طور پر تم دونوں کے لیے ہیں۔” پھولوں کی ملکہ نے بہت سے بیج اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

”بہت شکریہ ملکہ! مگر یہ ہے کیا؟” بیہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا۔

”یہ پھولوں کے بیج ہیں۔ تم اِنہیں اپنے گھر لگا سکتی ہو۔ یوں تمہارا گھر بھی اِس دادی کی طرح خوب صورت نظر آئے گا۔ اگر تم چاہو تو یہ بیج دوسرے لوگوں کو بھی دے سکتی ہو۔”

بیہ اور سارہ خوشی خوشی گھر واپس آئیں۔ اُنہوں نے وہ سارے بیج اپنے گھر اور اس کے آس پاس کی کیاریوں میں بودیے۔ کچھ ہی دنوں بعد کیاریوں میں ننھے ننھے پودے اُگ آئے۔ اُن پودوں کو دیکھ بیہ اور سارہ بہت خوش ہوئیں۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

Read Next

روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!