پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

الف لیلہٰ کہانی مقابلے کی تیسری بہترین کہانی

پرستان کی کہانی 

سعدیہ جاوید گِل

جبل دیو نے طلسمی گھوڑا کہاں چھپا رکھا تھا؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

ملک اصفہان میں ایک مشہور اور رحم دل جادوگر ہامان رہتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے جادُوئی قالین پر سفر کررہا تھا کہ اس کی نظر بادلوں کے پار ایک شفاف گولے پر پڑی۔ گولے سے عجیب قسم کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اچانک گولاپھٹ گیا۔ اُس کے پھٹنے پر بھونچال سا آگیا۔ جس سے جادوگر بے ہوش ہوکر نیچے گر پڑا۔ وہ تو شکر ہے اُس کی پرواز نیچی تھی جو اُسے کوئی چوٹ نہ آئی۔

جب اُس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک خوب صورت وادی میں پایا۔ جس کی زمین روئی کے گالوں سے بھی زیادہ نرم تھی۔ جلد ہی اُسے اندازہ ہوگیا کہ وہ کوہ قاف میں ہے۔ ہامان جادوگر نے چمکیلی ریت سے بنے دو مناروں تک جانے والے راستے پر چلنا شروع کردیا۔ راستے میںاُسے انڈے کی شکل کے چمکیلے مکان نظر آئے۔ اردگرد سناٹا چھایا ہوا تھا۔

وہ سنہرے میناروں کے قریب ایک نہایت شان دار محل کے قریب رُک گیا۔ محل کے دروازوں پر دربان پتھر کے مجسموں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے۔ جب کہ محل کے اندر رنگ برنگی پریاں پتھر کے مجسموں کی صورت میں موجود تھیں۔ ہامان جلد ہی جان گیا کہ یہ طلسماتی اثر ہے۔ پورا محل گھومنے کے بعد وہ دوبارہ مناروں کے قریب واپس آگیا۔

ابھی وہ مایوسی کے عالم میں جھیل کنارے پاؤں لٹکا کر بیٹھا تھا کہ ایک دھیمی سرگوشی نے اُسے چونکا دیا۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ جھیل کے پانی میں بننے والے بلبلوں سے ایک ننھی جل پری اُسے پکار رہی تھی۔ وہ کہنے لگی: ”پیارے جادوگر! گھبراؤ نہیں، میرا نام ارسلا پری ہے اور میں پریوں کی شہزادی ہوں۔ ہمیں تمہاری مدد چاہیے۔”

ہامان نے ہمت کرکے پوچھا: ”ننھی پری! یہ بتائو کہ پرستان پر کیا مصیبت آن پڑی ہے اور تمہیں میری کیا مدد چاہیے؟”جل پری نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بتایا: ”کچھ عرصہ قبل جبل نامی ایک دیو نے اس پُرسکون علاقے میں اپنی طاقت کے زور سے سب پریوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا تھا۔ ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن اُس نے سنہری پری کی جادوئی چھڑی کو اپنے قبضے میں کرلیا اور پرستان کے مقدس سفید طلسمی گھوڑے کو اپنے ساتھ کالے پہاڑوں پر لے گیا۔ یوں پرستان کا طلسمی نظام گھوڑوں کی عدم موجودگی میں درہم برہم ہوگیا۔ سب پریاں پتھر کی مُورت بن گئیں اور سب جل پریاں پانی کے بلبلوں میں قید ہوکر رہ گئیں۔ یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے جب طلسمی گھوڑا واپس آئے گا۔” ہامان نے ساری کہانی سنی اور جل پری سے پوچھا: ”طلسمی گھوڑا جبل دیو نے کہاں چھپا رکھا ہے اور میں اُسے کیسے شکست دے سکتا ہوں؟”

جل پری بولی: ”اُس نیلی جھیل کے پار ایک گہرا کنواں ہے۔ اُس کے اندر ایک راستہ ہے۔ یہ راستہ سیدھا کالی گھاٹی کی طرف جاتا ہے۔ جبل دیو کے پاس ایک خنجر ہے۔ اِس پر اُس کا نام لکھا ہے۔ اگر تم وہ خنجر حاصل کرلو تو اُس کا خاتمہ کرسکتے ہو۔”

”طلسمی گھوڑا بھلا کہاں ہوسکتا ہے؟” ہامان نے ذہن پر زور دیتے ہوئے خود کلامی کی۔ جل پری مسکراتے ہوئے بولی: ”اے بہادر جادوگر! مجھے تمہاری جادوئی طاقت پر پورا بھروسا ہے۔” یہ کہتے ہی جل پری کا عکس نظر آنا بند ہوگیا اور بلبلے بھی غائب ہوگئے۔

جادوگر کچھ ہی دیر میں جل پری کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا جہاں اسے طلسمی کنواں نظر آگیا۔ اُس نے جھک کر دیکھا تو کنواں بالکل خالی تھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اُس نے آنکھیں بند کیں اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ جیسے ہی اس کے پاؤں زمین پر لگے تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ یہ ایک بہت وسیع میدان تھا۔ وہ آگے قدم بڑھانے لگا۔ آگے چل کر اُسے کالے رنگ کا ایک ریچھ نما جانورنظر آیا۔ ہامان نے آنکھیں بند کیں اور اپنی جادوئی طاقت استعمال کی تو اُسے ریچھ کی جگہ ایک خوف ناک شکل والے دیو کا عکس نظر آیا۔

”کون ہو تم… اورتم نے یہاں آنے کی جرأت کیسے کی؟” جبل دیو کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ اُس کے آسمان کو چھوتے قد کے سامنے ہامان جادوگر ایک بونے کی طرح لگ رہا تھا۔

”میرا نام ہامان ہے اور میں طلسمی گھوڑا لینے آیا ہوں۔” یہ سنتے ہی جبل دیو نے غصّے میں ہامان جادوگر کو اوپر اٹھا لیا۔ وہ اُسے مارنے ہی والا تھا کہ ہامان نے منتر پڑھنا شروع کردیا۔ اُس کی آنکھوں سے نکلنے والی شعاعیں جبل دیو کی کمر سے بندھے خنجر پر پڑیں اور پلک جھپکتے ہی وہ خنجر اُس کے ہاتھ میں آگیا۔ اب ہامان نے ایک ہی وار میں خنجر جبل دیو کے سینے میں اُتار دیا۔

خنجر کا سینے میں اترنا تھا کہ اچانک زمین ہلنے لگی اور ہر طرف کالا دھواں چھا گیا۔ کچھ دیر میں وہاں نہ کالے پہاڑ تھے اور نہ دیو… بلکہ ایک چٹیل میدان تھا جس میں ہامان جادوگر کے ساتھ طلسمی گھوڑا بھی کھڑا تھا۔

گھوڑے کے سر پر موجود سینگ سے سفید روشنی نکل رہی تھی۔ہامان جادوگر نے اِس سے پہلے اِس قدر خوب صورت چیز نہیں دیکھی تھی۔ طلسمی گھوڑے نے قریب آکر اپنے پَر پھڑ پھڑائے تو ہامان گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ پلک جھپکتے ہی وہ سنہری محل کے سامنے موجود تھے۔ طلسمی گھوڑے کے سینگ سے ایک بار پھر روشنی نکلی اور چاروں طرف پھیل گئی۔

آن ہی آن میں سب پریاں اپنی اصلی حالت میں واپس لوٹ آئیں۔ ہامان جادوگر حیرت سے یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک اُس پر مدہوشی چھانے لگی۔جب اس کی آنکھ کھلی تو اُس نے خود کو جادوئی قالین پر پایا جو واپس اصفہان کی سمت اُڑا جارہا تھا۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

میاں کی جوتی ۔ کہاوت کہانی ۔ الف نگر

Read Next

شرارتی چیمپی ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے