ٹیپو کا روزہ ۔ الف نگر

رمضان کہانی

ٹیپو کا روزہ

دلشاد نسیم

ٹیپو کا پہلا روزہ تھا۔ اس نے اپنے امی ابو سے یہی سنا تھا کہ رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہوتا ہے لیکن اس کی سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ صبر کیا ہے؟ اتنے مزے کی سحری ہوتی ہے۔ پراٹھے انڈے، دہی، پھیونیاں اور افطاری میں بھی فروٹ چاٹ، پکوڑے، سموسے، شربت وغیرہ۔

اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی روزہ رکھے لیکن ابھی اس کی عمر کم تھی جب کہ روزہ رکھنے کی خواہش بہت زیادہ! امی بھی راضی نہ تھیں۔

”ٹیپو بیٹا! گرمی بہت ہے۔” امی نے ٹیپو کو پیار کرتے ہوئے کہا۔

”کوئی بات نہیں، تم روزہ رکھو، اللہ صبر دے گا۔” ابو نے ہمت بندھائی۔

چناں چہ طے یہ پایا جمعہ کو ٹیپو روزہ رکھے گا۔ اسکول میں اس نے ایک ایک بچے کو بتایا کہ جمعہ کو اس کی روزہ کشائی ہے۔ وہ بہت خوش تھا اس لیے رات کو جلدی سو گیا بلکہ اس روز تو اس نے ٹی وی بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی امی سے کہانی سنی کیوں کہ اسے سحری کے لیے جاگنا تھا۔

سحری میں ٹیپو سے کچھ بھی کھایا نہیں جا رہا تھا۔ پراٹھے کے دو چار نوالے لیے تو اس کا دل بھر گیا۔ امی پریشانی سے بولیں: ”بیٹا! سارا دن کیسے گزارو گے؟”

”صبر سے۔” ٹیپو نے مسکرا کے کہا: 

سب ہنس دیئے کیوں کہ ٹیپو کو تو شاید صبر کے معنی بھی نہیں آتے تھے۔ سحری کا وقت ختم ہوا تو امی نے ٹیپو سے کہا: ”بیٹا! روزے کی نیت کرلو!” پھر ساتھ ہی عربی میں اُسے دعا یاد کروانے لگیں۔

وَ بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ۔

ٹیپو نے اس کو دُہرایا اور ابو کے ساتھ نماز کے لیے مسجد چلا گیا۔ راستے میں ابو نے بتایا کہ نیت کا مطلب ہے ارادہ یعنی ہم جو کام کرنے لگے ہیں، اس کے لیے ہم بالکل تیار ہیں جیسے ابھی ہم نماز کا ارادہ کرکے مسجد کی جانب جارہے ہیں۔” ٹیپو کے لیے ساری باتیں نئی تھیں۔ وہ نماز پڑھ کر آیا تو ٹی وی پر کارٹون لگا کر بیٹھ گیا۔ امی نے قرآن مجید پڑھتے ہوئے اُسے آواز دی:

”بیٹا! اتنی صبح ٹی وی نہیں دیکھتے۔” یہ سن کرٹیپو نے ٹی وی بند کیا اور سیپارہ پڑھ کر کچھ دیر کے لیے آرام کرنے لگا۔ جب وہ سو کے اٹھا تو دن کا اُجالا تھا۔ دوپہر تک تو اس کو بالکل بھوک نہیں لگی البتہ پانی پینے کو دل کر رہا تھا۔ تین بجے کے بعد تو وقت گزر ہی نہیں رہا تھا۔ یوں لگتا کہ جیسے گھڑی کی سوئیوں نے بھی روزہ رکھ لیا ہو۔ ٹیپو نے اپنی پیاس امی پر ظاہر نہیں ہونے دی کیوں کہ وہ ٹیپو کی ذرا سی بھی پریشانی سے بہت زیادہ فکر مند ہو جاتی تھیں۔

شام ہوئی تو ٹیپو کرکٹ کھیلنے باہر چلا گیا۔ گھر کے قریب ہی ایک جگہ مزدوروں کو کام کرتا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ سب اتنی گرمی میں کام کر رہے تھے۔ ٹیپو نے ایک مزدور سے پوچھا: ”انکل! بہت گرمی ہو رہی ہے، آپ کو پیاس لگی ہے تو میں پانی لے آئوں؟”

مزدور نے بہت پیار سے ٹیپو کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دیتے ہوئے کہا: ”بیٹا جی! میرا روزہ ہے۔”

ٹیپو حیران رہ گیا کہ مزدوروں نے اتنی سخت گرمی میں روزہ رکھا ہوا ہے؟ وہ گھر واپس آتے ہوئے سوچنے لگا کہ میں ان مزدوروں کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ اتنے میں امی آگئیں، انہوں نے ٹیپو کو چپ دیکھ کر پوچھا: ”بیٹا! بھوک تو نہیں لگ رہی؟” ٹیپو نے انکار میں سرہلایا تو امی نے دوبارہ پوچھا: ”پیاس لگ رہی ہے؟”

ٹیپو ان کی بات سُن کر خاموش ہو گیا۔ جب امی نے بہت اصرار کیا تو وہ دھیرے سے بولا: ”جی امی! آج آپ بہت سارا شربت بنائیے گا۔”

امی نے پیار سے ٹیپو کو گلے لگا لیا۔ افطاری کے وقت انہوں نے بہت سارا شربت، پکوڑے، سموسے، چاٹ اور دیگر بہت سی چیزیں بنائیں۔ ابھی روزہ کھلنے میں کچھ ہی دیر تھی۔ ٹیپو نے ابو سے پوچھا:

”ابو جی! کیا ہم اپنی افطاری سے کچھ چیزیں نکال سکتے ہیں؟”

”ہاں بیٹا! کیوں نہیں! مگر تم نے کیوں پوچھا؟” ابو نے مسکرا کے بولے۔

”ابو جی! وہ جو سامنے گھر بن رہا ہے، مجھے یہ سامان وہاں مزدوروں کو دینا ہے۔” یہ سن کر ابو بہت خوش ہوئے اور ٹیپو کے ساتھ جا کر شربت اور افطار کا دوسرا سامان مزدوروں کو دے آئے۔ ٹیپو اب کافی خوش نظر آرہا تھا۔ اس نے امی کو بتایا کہ مزدور بے چارے گرمی میں روزہ رکھ کر اتنی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ امی کہنے لگیں:”بیٹا! مزدوروں کے پاس یہ ہمت، طاقت اور یہ حوصلہ روزہ دار کے لیے اللہ کا انعام ہیں۔” ٹیپو سوچ میں پڑ گیا: ”امی! مجھے اللہ میاں سے کیا انعام ملے گا؟”

”بیٹا! ہماری زندگی کے سارے اچھے کام اللہ کا انعام ہیں۔ تمہارا روزہ بھی اور روزے میں صبر کے ساتھ افطاری کا انتظار بھی!” امی نے مسکرا کر کہا، اتنے میں ٹیپو کے ابو کہانیوں کی کتابیں اور IPod لے آئے اور ٹیپو کو گلے سے لگا کر کہنے لگے: ”بیٹا! جو انعام آپ کو اللہ تعالیٰ دیں گے وہ تو بہت ہی اچھا ہو گا لیکن کچھ تحفے میں بھی تمہارے لیے لایا ہوں۔”

”آہا! یہ بہت پیارے ہیں لیکن بابا جان! مجھے تو اللہ پاک سے انعام چاہیے۔” ٹیپو چہک کر بولا۔

”واہ بیٹا! تم نے واقعی صبر کرنا سیکھ لیا ہے۔” ابو بولے۔انہوں نے بے ساختہ ٹیپو کو گلے لگا کر بہت پیار کیا۔

”ٹیپو بیٹا! بھوک پیاس کے باوجود تم نے مزدوروں کا احساس کیا۔ اس پر بھی ہم سب بہت خوش ہیں اور یقینا اللہ بھی، اسی لیے تم ڈبل انعام کے حق دار ہو۔” امی نے کہا تو ٹیپو خوش ہوگیا۔

admin

Read Previous

ننھی مچھلی ۔ الف نگر

Read Next

تم اچھی ہو! ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!