میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

الف نگر کے مقابلہ ”الف لیلیٰ” میں پہلی انعام یافتہ کہانی

میرے پاس وقت نہیں!

اِنشا علی

خزاں کا موسم شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی سِمی گلہری بہت زیادہ مصروف ہوگئی۔ درختوں کے پتے اب پیلے اور بُھورے ہوکر تیزی سے گرنا شروع ہوگئے تھے۔ سمی سارا دن خوب شور مچاتی، درختوں اور جھاڑیوں میں بھاگتی، دوڑتی اپنا کھانا تلاش کرتی رہتی تھی۔ خزاں کا موسم شروع ہوتے ہی وہ سوچنے لگی کہ مجھے اپنے لیے ڈھیر سارا کھانا محفوظ کر لینا چاہیے۔ تاکہ سردیوں میں کام آسکے۔ اس سے پہلے بھی وہ خشک پھل اور بیج اکٹھے کرکے درخت کے نیچے دبا دیتی تھی۔ یہ خیال آتے ہی اُس نے بیج اور پھل اکٹھے کرنا شروع کردیے۔ اب وہ اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ اُس کے پاس اپنے دوستوں سے ملنے کا بھی وقت نہیں تھا۔

”السلامُ علیکم سِمی! تم کیسی ہو؟” ایک دن مِلی چوہیا نے صبح آکر اس کا حا ل پوچھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔” سِمی نے جواب دیا۔

”سِمی! میں آج کل سردیوں کے لیے اپنا نرم اور گرم بستر بنا رہی ہوں۔” مِلی نے کہا۔

سِمی کہنے لگی: ”اچھا! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”

مِلی بولی: ”یہ ایک بڑا ہی آرام دِہ، نرم اور گرم بستر ہے۔ میرا خیال ہے کہ اِس سے پہلے میں نے کبھی اتنا اچھا بستر نہیں بنایا۔ سِمی! کیا تم اِسے دیکھنا پسند کرو گی؟”

”میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں جلدی میں ہوں۔” سِمی نے بے رُخی سے کہا اور تیزی سے درخت پر چڑھ گئی۔

”اوہو!” بے چاری مِلی نے مایوسی سے سرہلایا اور چلی گئی۔

دوپہر کے وقت سِمی کا دوست ہُد ہُد اس کے درخت پر آبیٹھا اور تنے پر تیزی سے چونچ مارنے لگا۔ کھٹ کھٹ کی آواز سن کر سِمی گھر سے نِکلی تو ہُد ہُد اُسے دیکھ کر خوشی سے بولا: ”سِمی! جانتی ہو میں درختوں کے تنوں میں سوراخ بناتا ہوں ۔ آج میں نے ایک بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی اُسے دیکھنے؟”

سِمی نے ناگواری سے کہا: ”بالکل نہیں! میرے پاس وقت نہیںہے، میں جلدی میں ہوں۔”

”او ہو!” ہُد ہُد نے مایوسی سے کہا اور چپ چاپ اُڑ گیا۔

اگلے دِن سِمی کا دوست رابن خرگوش اُس سے ملنے آیا۔

اُس نے مُسکراتے ہوئے سِمی سے کہا: ”میری دوست! تم جانتی ہو کہ میں زمین میں سوراخ کرکے گھر بناتا ہوں مگر اِس بار تو کمال ہوگیا۔ میں نے اتنی تیزی سے زمین میں سوراخ بنایا ہے کہ جنگل کا کوئی جانور میرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ آؤ اور مجھے کام کرتے ہوئے دیکھو۔”

”نہیں، میرے پاس وقت نہیںہے۔ میں بہت جلدی میں ہوں۔” سِمی گلہری چیخ کر بولی۔

”اوہو! بھئی چیخو مَت۔” رابن خرگوش نے اُداس لہجے میں کہا اور اُچھلتا ہوا واپس چلا گیا۔

سِمی گلہری اب بڑبڑانے لگی: ”کسی کو نظر کیوں نہیں آتا کہ میں بہت مصروف ہوں۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

صبح سے شام تک سِمی گلہری پھل اور بیج اکٹھے کرکے اُنہیں زمین میں دفن کرتی رہتی۔ جب اندھیرا چھاجاتا تو وہ اپنے درخت میں بنے ہوئے گھر میں گُھس کر مزے سے سو جاتی۔

خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دِن جنگل میں تیز ہوا چلنے لگی جو آہستہ آہستہ آندھی کی شکل اختیار کرگئی۔ درختوں کی شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔ سِمی اپنے گھر بیٹھی سخت خوف زدہ تھی۔ اچانک اُسے محسوس ہوا کہ درخت جس میں اس کا گھر تھا، وہ نیچے گِر رہا ہے۔ کچھ دیر بعد واقعی دھڑام کی آواز آئی اور درخت سِمی سِمیت زمین پر آگرا۔

جب طوفان تھما تو سِمی نے آہستہ آہستہ اپنا منہ سوراخ سے باہر نکالا۔ اس کے سر پر سخت چوٹ آئی تھی اور اس کا سارا گھر بھی برباد ہوچُکا تھا۔

”مدد… مدد” سِمی چیخ چیخ کر پُکارنے لگی۔ مِلی چوہیا وہاں سے گزر رہی تھی۔ وہ سِمی کی آواز سُن کر تیزی سے آئی اور پوچھا: ”کیا ہوا سِمی؟” پھر مِلی نے سِمی کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا۔

سِمی بہت زیادہ پریشان تھی۔ مِلی نے کہا: ”اَرے دوست! پریشان کیوں ہوتی ہو۔ میرے ساتھ آؤ، تم میرا نرم گرم بستر لے لینا۔ میرا گھر جھاڑی کے نیچے زمین میں ہے۔ وہاں طوفان کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ آئودیکھو! میرے پاس بہت جگہ ہے۔”

”شکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور مِلی کے ساتھ چلنے لگی۔

اگلی صبح سِمی اور مِلی دونوں گرے ہوئے درخت کے پاس چلی آئیں تاکہ نقصان کا اندازہ ہوسکے۔

سِمی روتے ہوئے بولی: ”ہائے اللہ! کتنا خوب صورت درخت تھا۔ میں دوبارہ اتنا خوب صورت گھر کیسے بناؤں گی؟”

”پریشان مَت ہو میری دوست! میں نے ایک درخت کے تنے میں بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ میرے خیال میں وہ تمہارے رہنے کے لیے بہترین ہوگا۔ آؤ دیکھو!” قریب ہی سے ہُد ہُد بولا۔

”بہت شُکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور ہد ہد کے ساتھ چلنے لگی۔

جب سِمی نے سوراخ کو اندر باہر سے خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو بولی: ”ہد ہد میرے دوست! تم ٹھیک کہتے ہو، یہ تو میرے پہلے گھر سے بھی زیادہ آرام دہ ہے لیکن میں اپنے جمع کیے ہوئے پھل اور بیج یہاں کیسے لاسکتی ہوں؟ میں نے بڑی محنت سے اُنہیں جمع کرکے زمین میں دبایا تھا۔ میری ساری محنت ضائع ہوگئی ہے۔”

”کوئی مسئلہ نہیں دوست! میں زمین کھود سکتا ہوں اور ہم سب مِل کر تمہارے سارے پھل اور بیج یہاں لے آئیں گے۔ میں زمین میں ایک نیا اسٹور بنانے میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔” یہ آواز رابن خرگوش کی تھی۔ اس کے بعد سب دوست مل کر سِمی کی خوراک زمین سے نکالنے لگے۔

جب سارا کام مکمل ہوگیا تو سِمی نے اپنے دوستوں کو اپنے گھرانے کی دعوت دی۔ تاکہ وہ اُن سب کا شکریہ ادا کرسکے۔

مِلی، رابن اور ہد ہد یہ سُن کر ایک ساتھ بولے:

”ہمیں افسوس ہے سمی! ہمارے پاس وقت نہیں ہے، ہم جلدی میں ہیں۔” سِمی انتہائی شرمندگی سے بولی۔ ”میں جانتی ہوں کہ میں غلطی پر تھی۔ مجھے دوستوں کے لیے وقت ضرور نکالنا چاہیے تھا۔” یہ سن کر تینوں دوستوں نے ہنسنا شروع کردیا۔

”ارے سِمی پریشان مَت ہو، ہم جلدی میں نہیں ہیں اور دوستوں کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور کھلکھلا کر ہنس دیے۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

جُگنو اور ٹِیپو ۔ الف نگر

Read Next

پھول وادی ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے