لومڑی کی عقل مندی ۔ الف نگر

لومڑی کی عقل مندی

فائزہ شاہ

لومڑی ہرن کے خون سے اپنا منہ آلودہ کرکے بھیڑیے کی تلاش میں نکل پڑی تھی۔

ایک خوب صورت جنگل میں بہت سارے جانور رہتے تھے۔ فاختائیں امن کے گیت گاتی تھیں، کوئل اپنی سریلی آواز میں نغمے سناتی تھی۔ یوں کہہ لیں کہ سارے جانور مل جل کر ہنسی خوشی رہتے تھے۔ انہی میں ایک شیطان بھیڑیا بھی تھا۔ جسے جنگل کا سکون ایک آنکھ نہ بھاتا مگر وہ جنگل کے بادشاہ شیر سے ڈرتا تھا۔

ایک دن اس کی نظر تالاب کنارے بیٹھی ایک لومڑی پر پڑی۔ بھیڑیے نے اس کے قریب جاکر گلا صاف کیا اور بولا: ”کیسی ہو بی لومڑی؟”

”ٹھیک ہوں۔ کیسے آنا ہوا بھیڑیے بھائی؟” لومڑی نے حیرت سے پوچھا۔

”بس بہن! کچھ نہ پوچھو۔” بھیڑیا بولا۔ ”کیا ہوا ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو۔ خیریت تو ہے؟” لومڑی نے پوچھا۔

”خیریت ہی تو نہیں ہے۔ بی شیرنی آج کل تمہارے خلاف بڑا زہر اگُل رہی ہے۔” بھیڑیا غصے سے بولا۔

”کچھ بتاؤ کیا کہہ رہی تھی شیرنی؟” لومڑی نے بھیڑیے سے پوچھا۔

”ارے بہن وہ کہہ رہی تھی کہ لومڑی کو اپنی ذہانت اور بہادری پر بہت ناز ہے۔ ورنہ اُس جیسا بے وقوف اور ڈرپوک تو کوئی جانور ہے ہی نہیں۔ اگر اتنی ہی چالاک اور بہادر ہے تو میرے بچوں کو نقصان پہنچا کر دکھائے، تب میں اس کی بہادری اور ذہانت کو مان لوں گی۔” بھیڑیے کی اس بات پر لومڑی دل ہی دل میں مسکرائی اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔

”چلو پھر میرے ساتھ، شیرنی کے سامنے ہی بات کرتے ہیں۔ میں تمہارے سامنے ہی اس کے بچوں کو اپنا نوالہ بنا کر دکھاتی ہوں۔” لومڑی نے کہا تو بھیڑیا کھسیانا ہوکر بات بدلنے لگا: ”ارے میری بہن! تم اکیلی ہی جائو، مجھے تو ڈر لگتا ہے بھئی۔”

”تمہیں تو شیرنی پر غصہ آرہا تھا، اب کیا ہوا بھیڑیے بھیا؟” لومڑی نے مسکرا کر پوچھا۔ بھیڑیا جانتا تھا کہ لومڑی بہت چالاک ہے۔ خود کو سنبھالتے ہوئے بولا:

”ہاں غصہ تو ہے پر وہ جنگل کی ملکہ مجھ کمزور پر چڑھ دوڑے گی۔ تمہاری تو بات ہی الگ ہے، تم عقل مندی سے اپنی جان بچا لوگی۔ اس لیے مجھے تم اس معاملے سے دور ہی رکھو۔” یہ کہہ کر بھیڑیا وہاں سے رفوچکر ہوگیا۔ لومڑی اس کی چال پر دل ہی دل میں مسکراتی ہوئی شیرنی کے دربار میں جاپہنچی۔ اُسے آتا دیکھ کر شیرنی اپنی کچھار سے باہر نکل آئی: ”کہو بی لومڑی کیسے آنا ہوا؟”

”اے جنگل کی ملکہ! جان کی امان پائوں تو عرض کروں؟” لومڑی ادب سے بولی۔

”ہاں ہاں، جو کہنا چاہتی ہو کہو؟” شیرنی نے کہا تو لومڑی نے ملکہ کو تمام صورت حال سے آگاہ کردیا۔ شیرنی غصے سے پاگل ہوگئی: ”کہاں ہے وہ بدبخت بھیڑیا؟ آج اس کی خیر نہیں۔”

”ملکہ عالیہ! وہ ہمارا پُرسکون ماحول خراب کرنا چاہتا ہے۔ ہم اُسے سوچ سمجھ کر سزا دیں گے۔” لومڑی جلدی سے بولی۔

پھر اس نے شیرنی کے کان میں کچھ کہا اور وہاں سے چل دی۔ راستے میں وہ شکار کیے ہوئے ایک ہرن کے خون سے اپنا منہ آلودہ کر کے بھیڑیے کی تلاش میں نکل پڑی۔ دور ایک گھنے درخت کے سائے میں اُسے بھیڑیا اونگھتا نظر آیا۔ وہ قریب جا کربولی:

”بھیڑے بھائی! دیکھو میں شیر کے بچوں کا شکار کر آئی ہوں لیکن تم شیر کو نہ بتانا کہ میں نے اس کے بچوں کا شکار کیا ہے۔”

یہ بات سننا تھی کہ بھیڑیا کھڑا ہوگیا اور بے یقینی سے لومڑی کا چہرہ دیکھنے لگا پھر وہ خوشی سے جھومنے لگا کہ اب جنگل میں فساد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

”ارے واہ میری بہن! تم نے کمال کردیا ہے۔ میں تو تمہاری بہادری کا قائل ہوگیا ہوں۔” بھیڑیا اپنی خوشی چھپا کر بولا۔

لومڑی مسکرائی اور ایک طرف چل دی۔ کچھ دور جاکر وہ جھاڑیوں میں چھپ گئی لیکن اس کی نظریں بھیڑیے پر تھیں۔ بھیڑیا وہاں سے بادشاہ کے دربار کی طرف چل پڑا جب کہ لومڑی چپکے سے اس کا پیچھا کرنے لگی۔ وہ شیر کے دربار پہنچا تو لومڑی بھی دبے پاؤں اس کے پیچھے جاکر کھڑی ہوئی۔ بھیڑیا بلند آواز میں بادشاہ سے کہنے لگا:

”عالم پناہ! اے جنگل کے بادشاہ! غضب ہوگیا، آپ کے بچوں کو ایک معمولی اور کم عقل لومڑی اپنا شکار بناچکی ہے۔ کیا آپ اتنے کمزور ہیں عالم پناہ؟” شیرنی اور شیر اس کی بات سن کر کچھار سے باہر نکل آئے۔ شیر گرج کر بولا: ”کیوں چِلّا رہے ہو بے وقوف بھیڑیے؟” بھیڑیے نے جب شیر کا غصہ دیکھا تو اس کی گِھگی بندھ گئی۔

”بادشاہ سلامت! میں نے لومڑی کو آپ کے بچوں کا شکار کرتے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔” بھیڑیا کانپتے ہوئے بولا۔ اسی دوران شیرنی بپھری ہوئی آگے بڑھی۔

”ہمارے بچے تو زندہ سلامت ہمارے پاس موجود ہیں مگر اب تم نہیں بچو گے، لومڑی نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا۔”

شیرنی کی بات سنتے ہیبھیڑیے نے خوف زدہ ہوکر پیچھے دیکھا تو وہاں لومڑی کھڑی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی جنگل میں فساد کروانے کی سازش ناکام ہوچکی ہے۔ یہ سوچتے ہی اس نے ایک جست لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی مگر شیرنی نے اُسے دبوچ کر اس کا کام تمام کردیا۔ یوں لومڑی کی عقل مندی سے بھیڑیا اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

گیہوں ۔ الف نگر

Read Next

میاں کی جوتی ۔ کہاوت کہانی ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے