شہروز اور چندا ماموں ۔ الف نگر

چاند نگر سے خط آیا ہے

شہروز اور چندا ماموں

زارا فراز

اچانک اُس کے قدموں میں خط کا ایک لفافہ گِرا تو وہ حیران رہ گیا۔

شہروز تین سال سے ایک بڑے اور مشہور اسکول کے ہاسٹل میں رہتا تھا ۔اس لیے وہ ہاسٹل کے ماحول سے پوری طرح واقف تھا۔ جب اسے اپنی امّی کی یاد آتی تو وہ کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ہو کر اُنہیں یاد کرنے لگتا۔ اِس دوران وہ آسمان پر چمکتے دمکتے چاندکو بھی بڑے غور سے دیکھتا۔ امّی نے چاند نگر کے بارے میں اُسے بہت سی باتیں بتائی تھیں۔ کبھی کبھی شہروز کا دل کرتا کہ وہ چاند نگر کی سیر کو جائے اور دیکھے کہ وہاں کون سی دنیا آباد ہے ۔

آج بھی شہروز کھڑکی سے چاند کو دیکھ رہا تھا۔ ایسے میں ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی۔ چاند بادلوں میں چُھپن چھپائی کھیلنے لگا۔ یہ منظر شہروز کو بہت پیارا لگا۔ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ابھی وہ اسی منظر میں گم تھا کہ اچانک ہلکی آواز کے ساتھ کوئی چیز اس کی پیشانی سے ٹکرائی اور قدموں میں گرگئی۔ یہ خط کا ایک لفافہ تھا۔

شہروز نے حیران ہوکر لفافہ زمین سے اُٹھایا اور خط نکال کر پڑھنے لگا۔ خط پڑھ کر اس کا دل مارے خوشی کے جُھومنے لگا۔ اُس میں لکھا تھا:

پیارے شہروز…!

میں چاند ہوں، چاند نگر سے۔ زمین کا بھائی یعنی تمہارا چندا ماموں۔ شہروز!مجھے معلوم ہے کہ تم ذہین اور اچھے بچے ہو۔ تم چاند نگر کی سیر کرنا چاہتے ہو؟ چلو آج سے ہم دونوں دوست بن جاتے ہیں۔ میں جلد ہی تمہیں چاند نگر کی سیر کی دعوت دوں گا۔

مگر شہروز! اس سے پہلے تمہیں ایک کام کرنا ہوگا ۔ تمہارے ہاسٹل کے کمرا نمبر 14 میں ایک ننھا سا بچہ اُداس بیٹھا ہے۔ وہ کسی وجہ سے پریشان بھی ہے۔ میں تمہارے ہاسٹل کے اوپر سے گزر رہا تھا تب میں نے اُس بچے کو روتے دیکھا تھا۔ کیا تم اُس بچے کی کوئی مدد کرسکتے ہو؟ اگر ہاں! تو پھر آج سے تم میرے دوست ہو۔ میں دوبارہ تمہیں خط لکھوں گا۔ اب اجازت دو۔

تمہارا چندا ماموں… چاند نگرسے

شہروز نے خط پڑھا تو خوشی سے جُھوم اُٹھا۔ اس نے جلدی سے کمرے میں سوئے ہوئے عثمان اور حمزہ کو اُٹھایا پھر انہیں چاند نگر سے آئے خط کے بارے میں بتانے لگا۔ عثمان اور حمزہ نے حیران ہوکر شہروز کو دیکھا جیسے انہیں شہروز کی بات پر یقین نہ آیا ہو آخر ان دونوں نے بھی خط پڑھ لیا۔

”ہمیں ہاسٹل کے کمرا نمبر 14 میں جانا ہے۔” شہروز نے کہا پھرتینوں دوست چاند کی روشنی میں کمرا نمبر 14 کی طرف چل پڑے۔ کمرے کے پاس جاکر انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو واقعی وہاں ایک بچہ اُداس بیٹھا ہوا تھا۔ شہروز نے اسے سلام کیا پھر سب دوست اُس کے پاس بیٹھ گئے۔

”ننھے دوست ! کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟” شہروز نے پوچھا۔

”میرا نام بلال ہے۔ مجھے اس ہاسٹل میں آئے ابھی تین دن ہوئے ہیں۔ یہاں میرا کوئی دوست نہیں ہے۔ مجھے کوئی بھی اپنے ساتھ کھیل میں شامل نہیں کرتا۔ آج مجھے دو لڑکوں نے دھکا دے کر زمین پر گرایا تو مجھے چوٹ لگ گئی۔ مجھے اپنی امّی بہت یاد آتی ہیں۔” بلال نے رک رک کر شہروز کو ساری بات سنائی اور رونا شروع کر دیا۔

شہروز نے بلال کو گلے لگا لیا۔ اس کے بعد عثمان اور حمزہ نے بھی اسے دلاسا دیا۔ شہروز نے جیب سے کچھ ٹافیاں نکال کر بلال کو دیںاور اسے تھپکی دیتے ہوئے اس کے کان میں کچھ کہا۔شہروز کی دیکھا دیکھی حمزہ اور عثمان نے بھی بلال کے کان میں کچھ باتیں کیں۔ تینوں دوستوں کی باتیں سن کر بلال کھلکھلا اٹھا۔ اس کے چہرے سے اُداسی ختم ہوچکی تھی۔

شہروز اپنے دوستوں کے ساتھ کمرے میں واپس آیا تو یہاں چاند نگر سے ایک اور خط اُس کے انتظار میں موجود تھا جوکہ بلال کو خوش دیکھ کر چندا ماموں نے لکھا تھا۔

پیارے شہروز…!

بہت خوب بھئی شاباش! آج سے ناصرف تم بلکہ عثمان اور حمزہ بھی میرے دوست ہیں۔ اچھے بچو ! اسی طرح لوگوں میں خوشیاں بانٹتے رہو۔

تمہارا چندا ماموں…چاند نگر سے

خط پڑھ کر تینوں دوست خوشی سے اُچھل پڑے۔ دُور آسمان پر انہوں نے دیکھا کہ چندا ماموں ان کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

جی تو پیارے بچو! کیا آپ بھی شہروز کی طرح چندا ماموں سے دوستی کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کوبھی چندا ماموں کے خط کاانتظارہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر پہلے یہ بتائیے کہ

شہروز ،عثمان اور حمزہ نے اپنے ننھے دوست بلال کے کان میں کیا بات کہی ہوگی جس کی وجہ سے وہ خوش ہوگیا؟

اگر آپ کبھی ہاسٹل میں رہے ہوں یا کسی وجہ سے امّی ابّو سے دور گئے ہو تو اس وقت آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

پیارے بچو! درج بالا سوالوں کے جوابات ایک کاغذ پر صاف اور خوش خط لکھ کہ ہمیں بھیجئے۔ ساتھ میں ”چاند نگر سے خط آیا” کاکوپن لازمی لگائیں۔ بہترین جوابات لکھنے والے تین بچوں کو چندا ماموں کی طرف سے انعام کے ساتھ ساتھ ایک عدد دوستی خط بھی موصول ہوگا۔ اس دوستی خط میں کیا ہوگا؟ یہ تو آپ کو وقت پر ہی پتا چلے گا۔

admin

Read Previous

روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

Read Next

شکاری ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!