سوچ کا رخ ۔ الف نگر

سوچ کا رخ

بینا رانی

وہ گھٹنوں میں سر دیے مسلسل رو رہی تھی۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

”ارے میرا پرس… رکو! کون ہو تم؟ اس میں میرے ضروری کاغذات ہیں، ارے کوئی ہے؟” بوکھلائی، ہوئی عاتکہ اس اچکّے کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اس کے لیے یہ پرس بہت قیمتی تھا۔ اس کی بی ایس سی کی سند اور باقی ضروری کاغذات سب اسی میں تھے۔ آگے داخلے کے سلسلے میں ہی وہ آج اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی گئی تھی، مگر آج کام نہیں ہوسکا تھا ، سو وہ سب مل کر واپس آرہی تھیں۔ ابھی آدھے راستے میں ہی تھیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے اُس کے کاندھے سے پرس کھینچا اور موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔

عاتکہ اور اس کی سہیلیاں اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ اس پرس میں عاتکہ کے پیسے بھی تھے جو اس نے بڑی محنت سے کتنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر آگے پڑھنے کے لیے جمع کیے تھے، مگر اس وقت اس کے نزدیک اپنی سندوں سے زیادہ اہم کوئی چیز نہ تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح اس موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔

”بھائی! تمہیں اللہ کا واسطہ… بھلے سب کچھ لے لو مگر میرے ضروری کاغذات دے جاؤ۔” وہ بھاگتے بھاگتے چلّا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کچھ اور لوگوں نے بھی اس موٹر سائیکل کا پیچھا کرنا چاہا، مگر وہ تو لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔ کوئی کچھ نہ کرسکا اور عاتکہ سڑک پر ہی گھٹنوں میں سردے کر بیٹھ گئی، آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سہیلیوں نے اسے حوصلہ دے کر گھر بھجوا دیا۔

ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر موٹر سائیکل سوار نقاب پوش نے پرس میں سے پیسے نکال کر گننا شروع کردیے۔ اب وہ بڑے کمرے میں داخل ہوا جہاں زکو ان ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

”باس! یہ لے، آج تو بڑا ہاتھ مارا ہے۔”

”ارے واہ! تُو واقعی چیتا ہے اپنا! یہ لے کچھ پیسے تو بھی رکھ لے۔” زکوان نے کچھ پیسے نکال کر راشی کو دیے۔

”باس! ان ڈگریوں کا کیا کروں؟” راشی نے پوچھا

”ڈگریاں؟ ہاہاہا… پھینک دے کہیں… ہمارے کس کام کی ہیں۔” زکوان نے بے پروائی سے کہا تو راشی نے واقعی ڈگریاں قریبی نہر میں پھینک دیں پھر وہ دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔

زکوان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، گھر میں کافی حد تک دینی ماحول تھا مگر برُے دوستوں کی صحبت سے اسے غلط کاموں کی لت پڑ چکی تھی۔ ماں باپ سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ البتہ اپنی لاڈلی بہن اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔ بس کوئی بات مانتا تو اسی کی مانتا اور کوئی اس سے کچھ نہیں منوا سکتا تھا۔

سارا دن دوستوں کے ساتھ موج مستی کے بعد وہ شام کو گھر میں داخل ہوا تو گھر میں اک کہرام مچا ہوا تھا۔ اس کی بہن کا رو رو کر برُا حال ہوچکا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔

”ارے! کیا ہوا میری بہن کو؟” بہن کی لال سرخ آنکھیں دیکھ کر زکوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ ایک دم پریشان ہوگیا تھا۔

”بھیا… بھیا… وہ… وہ…” یہ کہتے ہوئے اس کی بہن اپنے بھائی کے کندھے پرسر رکھ کر رونے لگی۔

”ہاں ہاں بتا کیا ہوا؟ کیا چاہیے میری بہنا کو؟” زکوان کی پریشانی بڑھنے لگی۔ ”بھیا! آج یونیورسٹی سے واپسی پر کوئی اچکا میرا پرس چھین کر لے گیا، میرے سارے پیسے اسی میں تھے، میری سندیں اور باقی ضروری کاغذات بھی…” عاتکہ ہچکیاں لے کر بتارہی تھی۔ زکوان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ اس کے دل میں جیسے تیر لگا تھا۔

”بھیا! ایسے لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟ وہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اپنوں کے ساتھ یا خود ان کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو انہیں کیسا لگے گا؟” زکوان ایک دم صوفے پر گرگیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ عاتکہ کو آگے پڑھنے کا کتنا شوق ہے، اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے یہ پیسے کتنی مشکل سے جمع کیے تھے، جو آج وہ جوئے میں ہار آیا تھا، اور… اور بہن کی قیمتی سندیں… ”اف… یہ میں نے کیا کردیا؟” اس کا سر پھٹنے لگا۔ بہن کی سسکیاں اس کو سانپ کی طرح ڈس رہی تھیں۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ ضمیر جاگا تو سوچ کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ اس کے دماغ میں اپنے سارے گناہوں کی فلم چلنے لگی۔ کتنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے تکلیفیں پہنچی ہوں گی؟ وہ سوچنے لگا تھا۔ بس ایک لمحہ ہوتا ہے آگہی کا۔ آج کی رات اس نے رب کے حضور گڑگڑا کے معافی مانگی ،آئندہ کے لیے توبہ کی اور اپنی غلطیوں کے ازالے کا عزم بھی۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

موہن داس ۔ الف نگر

Read Next

یوں بھی ہوتا ہے ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے