روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

روشنی کا دِیا

فوزیہ خلیل

انہیں جھیل کے پاس روشنیاں دکھائی دیں تو وہ حیران رہ گئیں۔ وہ روشنیاں کیا تھیں؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

آج جماعت ہفتم کی طالبات مِس حریم کے ساتھ پِکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ یہ ایک تفریحی مقام تھا۔ موسم بھی بہت سُہانا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طالبات بہت خوش تھیں۔ شام سے پہلے سب کو واپس جانا تھا۔

اچانک کالی گھٹا چھائی اور اندھیرا سا پھیل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا آسمان کالے بادلوں سے بھر گیا۔ اتنے میں لڑکیوں کو دُور جھیل کے پاس چھوٹی چھوٹی روشنیاں دِکھائی دِیں۔

”ارے وہ کیا؟” فارعہ نے حیرت سے پوچھا۔

”بیٹی! وہ جُگنو ہیں۔” مِس حریم نے جواب دیا۔

”مِس! کیا ہم اِنہیں پکڑ سکتے ہیں؟” مریم نے پوچھا۔

”جی بالکل! ہم انہیں پکڑ سکتے ہیں۔”

”مِس! اِن سے روشنی کیسے نکلتی ہے؟” آمنہ نے سوال کیا۔

”بیٹی! جُگنو سانس لینے کے نظام سے روشنی پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ سانس لیتے ہیں تو سانس کی نالی کے ذریعے ہوا اُن کے اندر پائے جانے والے کیمیائی مادہ کو چُھوتی ہے۔ ہوا لگتے ہی یہ مادہ روشنی کی صُورت میں چمک اُٹھتا ہے۔” مس حریم نے بچوں کو بتایا۔

”مِس! جُگنو خوراک کیا کھاتے ہیں؟” مُسفرہ نے سوال کیا۔

”بیٹی! اُن کی خوراک گونگھوں اور چھوٹے کیڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اپنے شکار کو کھاتے نہیں بلکہ پی جاتے ہیں۔ اِن کے منہ پر انٹینا نما دو اعضا ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ شکار کے جسم میں ایک لیس دار مادہ داخل کرتے ہیں۔ یہ مادّہ فوراً کیڑے مکوڑوں کو مائع میں تبدیل کردیتا ہے اور وہ اس مائع کو پی لیتے ہیں۔” طالبات یہ سب باتیں سُن کر حیران ہورہی تھیں۔ کچھ طالبات تو جُگنو کو پکڑنے کی کوشش کررہی تھیں۔

”مِس! جُگنو انڈے دیتے ہیں نا!” ہاجرہ نے پوچھا۔

”ہاں بیٹی! یہ انڈے دیتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریکی میں ان کے انڈے چمکتے بھی ہیں۔” مِس مریم نے ذرا توقف کیا اور بات دوبارہ شروع کی۔

”بچو! پرُانے زمانے میں لوگ راتوں کو سفر کے دوران جُگنو کی روشنی سے مدد لیتے تھے۔ کچھ لوگ بید کی ٹوکریوں میں بہت سے جُگنو بند کرلیتے اور دورانِ سفر اُنہیں ساتھ رکھتے تھے۔ کچھ لوگ سفر کے دوران اُن کو ننھے مُنّے چراغ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ جب وہ کسی جنگل میں سفر کرتے تو جُگنوپکڑ کر دھاگے کی مدد سے اپنے ہاتھ یا پاؤں سے باندھ لیتے اور بہ آسانی سفر طے کرلیتے۔” مِس حریم نے تفصیل سے بتایا۔

”جی مس! ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے بھی اپنی ایک نظم میں جگنو کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔” رافعہ نے بتایا۔

”مِس! میں بھی جگنو کے متعلق کچھ بتانا چاہتی ہوں۔” سارہ نے اجازت لے کر بات شروع کی۔ ”مِس! میں نے سنا کہ لڑکیاں جُگنوؤں کو باندھ کر اپنے بالوں میں سجا لیتی ہیں۔ رات کے وقت یہ بالوں میں ہیروں کی طرح چمکتے ہیں۔”

”مس! میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک عام جُگنو آدھے انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا لیکن جنوبی امریکا میں ایسے جُگنو بھی پائے جاتے ہیں جو دو انچ تک لمبے ہوتے ہیں۔” عافیہ نے بتایا۔

”جی مِس! میں نے بھی ایسے جُگنوؤں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اِن دو انچ لمبے جُگنوؤں کے جسم سے بیک وقت سُرخ اور ہری روشنیاں نکلتی ہیں۔ سُرخ روشنی سر کی جانب سے اور ہری روشنی دُم کے نیچے سے پیدا ہوتی ہے۔” ارفعنے بتایا۔

مس حریم بچیوں سے معلومات سن کر بہت خوش ہورہی تھیں۔

”مِس! جگنو دن کے وقت کہاں رہتے ہیں؟” اب کی بار عاتکہ نے سوال کیا۔

”بیٹی! یہ دن بھر چُھپے رہتے ہیں۔ عام طور پر پتوں، گیلی گھاس اور فصلوں میں… باغ اور سبزے میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے ان کو جھیلوں اور دریاؤں وغیرہ کے نزدیک رہنا زیادہ پسند ہے۔” مس حریم نے بتایا۔

”مِس! جُگنو کی ٹانگیں چھوٹی اور تعداد میں چھے ہوتی ہیں نا؟” رومیصا نے پوچھا۔

”اگر ایسا ہے تو پھر یہ درختوں پر بھی چڑھ جاتے ہوں گے۔” خدیجہ نے کہا۔

”بالکل رمیصا اور خدیجہ! اِن کی چھے ٹانگیں ہوتی ہیں اور یہ درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت پر رکھتے ہیں لیکن یہ اُڑتے ہوئے اپنے لیس دار مادّہ کی مدد سے دیواریا درخت کی سطح پر چپک جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتے ہیں۔” مس حریم نے انہیں بتایا۔

”اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے۔ اُس نے کیسے کیسے جانور اور کیڑے مکوڑے پیدا کیے ہیں۔” ودیعہ بولی تو مس حریم مسکرا دیں۔

اب بادل سرخ ہورہے تھے پھر اچانک بارش شروع ہوگئی تھی۔ اتنے میں انہیں بس آتی دکھائی دی۔ مس حریم کے حکم پر تمام طالبات بھاگ کر اُس میں سوار ہوگئیں۔ وہ سوچ رہی تھی آج کی پکنک بہت شان دار رہی۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

پھول وادی ۔ الف نگر

Read Next

شہروز اور چندا ماموں ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!