جُگنو اور ٹِیپو ۔ الف نگر

جُگنو اور ٹِیپو

دِلشاد نسیم

اُسے پہلی بار اپنے قیدی ہونے کا احساس ہوا تو وہ اُداس ہوگیا۔ ایک دل چسپ کہانی!

پیارے بچو! جُگنو ایک بہت پیارے طوطے کا نام تھا۔ اُس کے ہرے پَر اور سرخ چُونچ ٹیپو کو بہت پسند تھی۔ دس سالہ ٹیپو اپنے جُگنو سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ اسکول جاتا تو جُگنو پَر پھڑپھڑا کر کہتا:

”ٹیپو! اسکول جا رہے ہو؟”

ٹیپو جواباً کہتا: ”ہاں جُگنو! میں اسکول جا رہا ہوں بائے۔” جُگنو بھی جواب میں بائے کہہ دیتا۔

ٹِیپو اسکول سے واپس آتا تو جُگنو خوشی سے سِیٹیاں بجاتا اور چِلّاتا: ”ٹِیپو آگیا، ٹِیپو آگیا۔”

پھر ٹِیپو جُگنو کے پنجرے کے پاس آتا تو جُگنو کی فرمائشیں شروع ہوجاتیں۔

”چوری کھانی ہے۔ امرود کھانا ہے۔”

غرض دو سال میں ٹِیپو اور جُگنو بہت اچھے دوست بن گئے تھے۔

ٹِیپو کے گھر کے صحن میں ایک آم کا درخت تھا۔ اُس کے نیچے ایک پنجرہ یعنی جُگنو کا گھر تھا۔ پنجرے میں ایک رنگین جُھولا بھی تھا۔ جُگنو موج میں آتا تو خوب جُھولا جُھولتا، سِیٹیاں بجاتا اور ٹِیپو کو آوازیں دیا کرتا۔

اگست کے دن تھے اور اسکول سے چھٹیاں تھیں۔ ٹِیپو کو صحن میں صرف آم کے درخت کے نیچے کھیلنے کی اجازت تھی۔ اس کی امّی نے یہ پنجرہ درخت کے ساتھ مضبوط گرہِ سے باندھا ہوا تھا۔

ایک شام ایک بھٹکا ہوا طوطا آم کے درخت کی سبز شاخوں میں آکر چُھپ گیا۔ جسے کچھ بچے پکڑ کر پنجرے میں بند کرنا چاہتے تھے۔ قسمت اُسے ٹِیپو کے گھر لے آئی۔ نئے طوطے نے پتّوں میں چُھپ کر رات ہونے کا انتظار کیا اور جب سب لوگ سو گئے تو وہ آہستہ آہستہ نیچے اُتر آیا۔ جُگنو نے اپنا ہم شکل دیکھا تو وہ پنجرے میں جُھوم جُھوم کر خوشی کا اظہار کرنے لگا۔

نئے آنے والے طوطے نے اُسے سمجھایا: ”ارے بھیّا! یوں شور کرو گے تو سب جاگ جائیں گے۔”

جُگنو نے جلدی سے پوچھا: ”تو کیا تُم مجھے آزاد کر کے اپنے ساتھ لے جائو گے؟”

طوطا بولا: ”ہاں، اگر تمہارے شور سے گھر والے جاگ نہ گئے تو! ایسا نہ ہو کہ میں بھی قید کر دیا جائوں۔”

اب جُگنو نے شور کرنا بند کردیا۔ رات بھر طوطا بے چارہ محنت کرتا رہا لیکن گِرہ نہ کھلی۔ البتہ کچھ نرم ہو گئی تھی۔ اتنے میں فجر کا وقت ہوگیا۔ اذانوں کے ساتھ ہی ٹِیپو کے بابا اُٹھ گئے۔ طوطا بھی اُڑ کر پتّوں کے جُھنڈ میں چُھپ گیا۔ جُگنو کو پہلی بار اپنے قیدی ہونے کا احساس ہوا۔ اب اُسے اپنا دوست ٹِیپو بھی دشمن لگ رہا تھا۔

صبح ٹِیپو کی نظر سب سے پہلے اس گِرہ پر پڑی جو ہلکی سی کھلی ہوئی تھی۔ ٹِیپو رونے لگا: ”ماما دیکھیں یہ گِرہ کھل گئی ہے۔ اگر میرا جُگنو اُڑ جاتا تو؟”

”نہیں بیٹا! جُگنو اُڑ نہیں سکتا، اِس کے پر کٹے ہوئے ہیں۔” ماما نے ٹِیپو کو تسلی دی۔

یہ سن کر جُگنو کو ڈر لگنے لگا کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو بڑی پریشانی کی بات ہوگی۔ اُس دن جُگنو کا دل گھبرا  رہا تھا۔ پنجرے میں اُداس بیٹھے جُگنو کو نئے طوطے نے درخت کے اُوپر سے کئی بار جھانکا لیکن وہ نیچے آکر اسے تسلی نہیں دے سکتا تھا۔

رات ہوئی تو ماما نے کپڑے کی کترن سے پنجرے کو گِرہ لگا دی او رٹِیپو سے وعدہ کیا کہ کل وہ نیا پنجرہ لادیں گی جو کمرے میں رکھا جاسکے۔”

”اِس کا مطلب ہے میرے پاس صرف ایک ہی رات ہے۔” درخت کی شاخ پر بیٹھا طوطا سوچنے لگا۔ اُسے اپنی چونچ پر بھروسا تھا۔

جُگنو اپنے نئے دوست کا انتظار کررہا تھا۔ رات ہوئی تو طوطا آہستہ آہستہ نیچے اترا۔ اُسے دیکھتے ہی جُگنو خوش ہوگیا۔ نیا طوطا اب گِرہ کھولنے میں جُت گیا۔ ذرا سی کوشش کے بعد وہ گِرہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔ جُگنو نے پنجرے سے نکل کر ایک بھرپور انگڑائی لی اور پَر پھیلا کر اپنے دوست طوطے سے بولا: ”شکریہ دوست۔”

طوطا خوش ہو گیا اور بولا: ”آئو! جلدی سے اُڑ چلیں ورنہ یہ ظالم لوگ ہم دونوں کو قید کردیں گے۔”

جیسے ہی جُگنو نے اُڑان بھری تو وہ پھَڑ پھڑا کر ایک طرف گر پڑا۔ کوشش کے باوجود وہ اُڑ نہ سکا۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر وہ رو پڑا اور کہنے لگا: ”اچھے دوست! میں تو اُڑنا ہی بھول چکا ہوں اور میرے پر بھی کٹے ہوئے ہیں، اِس لیے تم جائو۔ میں اب شاید کبھی نہ اُڑ سکوں۔”

یہ بات سن کر طوطا جگنو کے پاس آیا۔ اُس نے جُگنو کے پَروں کو اپنی چُونچ میں لے کر اُڑان بھری اور آم کے درخت پر بیٹھ گیا۔ صبح ہوتے ہی جُگنو کے پَروں میں نہ جانے کیسے جان آگئی۔ فجر کی نماز سے پہلے وہ دونوں وہاں سے اُڑ گئے۔ جُگنو کہتا جا رہا تھا: ”دیکھو! میں جا رہا ہوں، بائے… میں جا رہا ہوں، بائے۔”

صبح ہوئی تو پنجرہ خالی دیکھ کر ٹِیپو رونے لگا۔ جُگنو کی جُدائی میں اُس نے نہ تو کھانا کھایا اور نہ ہی اسکول گیا۔ نوکر نے بتایا کہ رات اُس نے جس طوطے کو آم کے درخت پر بیٹھے دیکھا تھا۔ وہی جُگنو کو اڑا کر لے گیا ہے۔ یہ بات سن کر ماما نے ٹِیپو سے وعدہ کیا کہ وہ اُسے جُگنو سے بھی پیارا طوطا لے دیں گی۔ ٹِیپو کو کچھ تسلی ہوئی۔ اگلے دن اسکول میں ٹِیپو نے گزشتہ روز چھٹی کرنے کی وجہ بتائی تو ٹیچر نے محبت سے ٹِیپو کو اپنے پاس بلایا۔ اُسے پیار کیا اور بولیں: ”دیکھو ٹِیپو! ہم پرندوں کو قید کرتے ہیں لیکن بیٹا! کسی کو قید کر کے ہم اس کو اپنا دوست نہیں بنا سکتے۔ اگر تم پرندوں سے دوستی کرنا چاہتے ہو تو اُن کے لیے اپنے صحن میں دانہ پانی رکھ دیا کرو پھر دیکھنا بہت سے پرندے تمہارے دوست بن جائیں گے۔ ہوسکتا ہے کسی روز تمہارا جُگنو بھی دانہ چگنے آجائے۔”

اُس شام ٹِیپو نے صحن میں دو پلیٹوں میں باجرہ اور ایک پیالے میں پانی بھر کررکھ دیا۔ یہ دیکھ کر ماما بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دیر بعد وہاں پرندے آگئے۔ ٹِیپو نے دانہ چگتے پرندوں کو دیکھا اور بولا:

”میری ٹیچر کہتی ہیں کہ میرا جُگنو کبھی نہ کبھی دانہ چگنے ضرور آئے گا۔” یہ بات سن کر ماما نے اسے پیار سے گلے لگالیا۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

گُلِ مہر اور مونی ۔ الف نگر

Read Next

میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

One Comment

  • کہانی بہت اچھی لگی الف کتاب کی کیا بات ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے