امرود کا درخت ۔ الف نگر

امرود کا درخت

مدیحہ شاہد

آخر تم لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ امی غصے سے بولیں۔

امی کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں جب کچن کا دروازہ کھول کر ہاتھ میں فٹ بال تھامے ارسل اندر آیا۔

”آگئے کھیل کر!”امی نے ٹماٹر کاٹتے ہوئے ایک نظر ارسل کو دیکھتے ہوئے کہا۔

”جی امی!” وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔

”شہرام، مہر اور سارہ کہاں ہیں؟” امی نے باقی بچوں کے بارے میں پوچھا۔

”وہ لائونج والے دروازے سے اندر چلے گئے ہیں۔” ارسل نے بتایا۔

”اچھا! جائو، منہ ہاتھ دھو لو اور کپڑے بھی بدلو۔” انہوں نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے کہا۔

ارسل اندر جاتے ہوئے رک گیا۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ امی کو آج کی رپورٹ نہ دے اور کسی کی شکایت نہ لگائے۔

”امی! شہرام بھائی امرود کے درخت سے گر گئے ہیں۔” اس نے ہمیشہ کی طرح آج کے اس واقعہ سے امی کو آگاہ کرنا ضروری سمجھا۔ وہ سب کی کارستانیاں ماں باپ کو بتاتا تھا۔

”کون سا امرود کا درخت؟” امی چونک پڑیں۔

”ہمارے پڑوس میں ارباز کے لان میں جو امرود کا درخت لگا ہوا ہے نا! شہرام بھائی اس پر چڑھ کر امرود توڑ رہے تھے کہ دھڑام سے نیچے گر گئے۔” ارسل نے بتایا۔

”شہرام ہمسایوں کے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ رہا تھا! مگر کیوں؟”

امی غصے میں آگئیں۔ شہرام کی یہ حرکت ناقابل معافی تھی۔ انہوں نے چولہا آہستہ کیا اور فوراً کچن سے نکلیں۔ اُن کا رخ سیڑھیوں کی طرف تھا تاکہ شہرام کی کلاس لے سکیں۔ ارسل بھی فٹ بال اٹھائے پیچھے پیچھے آگیا۔

امی نے غصے کے عالم میں شہرام کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہاں شہرام، مہر اور سارہ تینوں موجود تھے۔

”شہرام! یہ میں کیا سن رہی ہوں؟ کیا سوچتے ہوں گے ہمسائے؟ تم اُن کے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ رہے تھے اور پھر درخت سے بھی گر گئے؟” امی نے چیخنے کے انداز میں شہرام سے کہا۔ شہرام نے غصیلی نظروں سے دروازے کے پاس کھڑے ارسل کو دیکھا۔

”شکایتی ٹٹّو کہیں کا۔” وہ زیر لب بڑبڑایا۔ مہر نے فوراً شہرام کی حمایت کی۔

”امی! ارباز بھی تو ہمارے ساتھ ہی تھا۔ اس سے پوچھ کر ہی تو ہم لوگوں نے درخت سے امرود توڑے ہیں۔ شہرام درخت سے گرا ضرور ہے مگر اسے کوئی چوٹ نہیں آئی۔” امی کا غصہ کم نہیں ہوا۔ انہوں نے مہر کی خبر بھی لے ڈالی۔ 

”مہر! تمہیں تو شہرام کو سمجھانا چاہیے تھا کہ ایسی حرکتیں نہ کرے۔” مہر چوں کہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اس لیے اس پر ذمے داری بھی زیادہ تھی۔

”آخر تم لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟” امی نے ڈانٹا۔

”ہمارے گھر میں جو امرود کا درخت تھا وہ تو آپ نے کٹوا دیا!” شہرام نے منہ بسور کر گِلہ کیا۔

”وہ اس لیے کٹوا دیا کیوں کہ اسے کیڑا لگ گیا تھا، ہرسال وہ کیڑوں والا پھل دیتا تھا۔ میرے خیال میں ہماری کیاری والی زمین پودے اُگانے کے لیے اب ٹھیک نہیں ہے۔” امی نے کہا۔

”امی! ہماری Social Studies کی کتاب میں لکھا ہے کہ بیمار زمینوں کا علاج ہونا چاہیے۔ اگر زمین خراب ہو جائے تو اس کا کی دیکھ بھال کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔” سارہ نے اپنی رائے دی۔

”اف! یہ سائنس دان قسم کے بچے!” امی نے اپنا سر پکڑ لیا۔

”امی! یہ ایک معاشرتی حقیقت ہے۔ جس سے ہم غفلت برت رہے ہیں۔ ہماری ٹیچر کہتی ہیں کہ ہر انسان کو کم از کم ایک درخت تو ضرور لگانا چاہیے۔ درخت ہمیں آکسیجن دیتے ہیں جس گھر میں درخت ہوتے ہیں وہاں درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور درخت آلودگی کو بھی ختم کرتے ہیں۔” مہر نے کہا۔

”امی! جب سے درخت کٹا ہے، ہمارے گھر سے چڑیاں بھی چلی گئیں۔ ہم تو اسکول میں تھے جب آپ نے درخت کٹوایا۔ ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا ورنہ ایسا نہ ہونے دیتے۔” سارہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا۔ امی نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔ اچانک ان کی نظر بیڈ کے کونے کے پیچھے طوطے کے پنجرے پر پڑی۔ ساری بات اُن کی سمجھ میں آگئی۔

”تو یہ امرود میاں مٹھو کے لیے توڑے گئے ہیں! کہا بھی تھا کہ اسے چُوری دے دو، روٹی دے دو، سیب دے دو۔”

”مگر اسے تو امرود ہی پسند ہیں امی!” شہرام نے میاں مٹھو کی طرف داری کی۔

”چھوٹا سا پرندہ اور اتنے نخرے۔” امی نے سر جھٹکا۔ میاں مٹھو واقعی گھر بھر کا لاڈلا تھا۔ بچے خوشی خوشی اُس کے ناز نخرے اُٹھاتے۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتے۔ اس کے پاس بیٹھے رہتے۔ امی کچھ سوچتے ہوئے واپس پلٹ آئیں۔ رات کو ابو گھر آئے تو امی نے ان سے بات کی۔ چاروں بچے بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے۔

”بچے صحیح کہتے ہیں۔ ہمیں واقعی درخت کاٹنے کے بجائے اُگانے چاہئیں جس سے نہ صرف ثواب ملے گا بلکہ آکسیجن بھی حاصل ہوگی اور ویسے بھی درخت ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔” ابو نے تفصیل سے سمجھایا۔

”تو بس ہمیں زمین پر ذرا محنت کرنا پڑے گی۔ میں صبح ہی مالی سے بات کرتی ہوں۔” امی نے کہا تو بچے خوش ہو گئے۔

اگلے دن امی نے مالی کو بلوایا۔ مالی نے کیاری میں نئی مٹی ڈال کر گوڈی کی اور زمین اچھی طرح ہموار کرلی۔ پھر اس میں کھاد ڈال کر امرود کا ننھا سا پودا لگا دیا۔ بچے امرود کے پودے کو روزانہ پانی دینے لگے۔ اس چھوٹے سے پودے نے اپنے ساتھ سارے گھر کو مصروف کر لیا تھا۔

”امی! یہ پودا کب بڑا ہو گا؟ کب درخت بنے گا؟” ارسل نے پوچھا۔

”بیٹا! اس پودے کو بڑا ہونے میں کئی سال لگیں گے۔” امی نے نرمی سے جواب دیا۔

”ہاں مگر ایک دن یہ سایہ اور پھل ضرور دے گا۔” مہر مسکرائی۔

”جب میں میٹرک میں پہنچ جائوں گا تب یہ بہت بڑا ہو گا۔” ارسل نے پودے کے پتے کو چھوتے ہوئے کہا۔

”اور میں تب تک کالج چلا جائوں گا۔” شہرام مسکراتے ہوئے بولا۔

”پھر اس میں پرندے گھونسلے بنائیں گے اور ہم اس کے سائے میں بیٹھیں گے۔” سارہ بولی۔

”پرندے اور محلے کے بچے امرود توڑ کر کھایا کریں گے۔” ارسل چہکا۔

”اور ہم سب کو ثواب ملے گا۔” سارہ نے کہا۔

بچوں کی باتوں نے امی کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ درخت کاٹنے میں تو ایک ہی دن لگتا ہے مگر پودے کو درخت بننے میں بہت سال لگ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں درختوں کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں یا ہم نباتات کے ساتھ محبت نہیں کرتے۔

٭…٭…٭

مدیحہ شاہد

مدیحہ شاہد:۔ پنجاب یونیورسیٹی سے ماسٹر اور ایل ایل بی کرنے والی مدیحہ شاہد ڈائجسٹ اور ڈرامہ رائٹر ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریری سفر کے دوران کئی افسانے، ناولز، بچوں کی کہانیاں اور سفر نامے لکھے جب کہ ٹی وی میں بھی بہ طور لکھاری ان کا سفر کامیاب رہا۔ ڈائجسٹ رائٹر، ڈائجسٹ رائٹر۲، چنبیلی کے پھول ان کے نمایاں تحریری کام ہیں۔ ڈرامہ ڈائجسٹ رائٹر 2015ءمیں ہم ایوارڈز کے لیے نامزد بھی ہوا۔

Read Previous

تم اچھی ہو! ۔ الف نگر

Read Next

جِیا اور ڈبّو ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!