کہانی کی ساخت  ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

کہانی کی ساخت 

(حصہ اوّل)

تھیٹر کی طرح فلم کے بھی تین حصے ہوتے ہیں، جنہیں دو گھنٹے کی طویل فلم میں سمیٹا جا سکتا ہے۔

عموماً پہلا ایکٹ (حصہ) تیس منٹ، دوسرا ایک گھنٹہ اور تیسرا بھی تیس منٹ کا ہوتا ہے۔ پہلا حصہ کرداروں کی تشکیل، ان کے محرکات اور فلم کے تنازعے یا بحث (تنازعے سے مراد وہ محرکات جو کرداروں یا قوتوں کے درمیان کشمکش اور کہانی میں دل چسپی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں)کے بارے میں ہوتا ہے۔ دوسرے حصے میں فلم کے مرکزی کردار ایک یا ایک سے زیادہ تنازعات اور جدوجہد میں مصروف پائے جاتے ہیں۔تیسرا اور آخری حصہ وہ ہے جہاں جنگ جیت لی جاتی ہے ، تنازعات حل ہو جاتے ہیں اور کہانی اپنے اختتام تک پہنچتی ہے۔ تین حصوں پر مبنی یہ صنفی ساخت مزید پیچیدہ کہانیوں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

کہانی کی  یہی خصوصیت ہندوستان سمیت  بہت سے ممالک میں مصنفین کومضبوط اور دل فریب کہانیاں لکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی واضح مثال مشہور زمانہ فلمیں جیسا کہ ”سیو دا کیٹ، ہیروزجرنی، سُپر سٹرکچر” وغیرہ ہیں۔ ہر کہانی میں کچھ ”بیٹ” یا اپنے سحر میں جکڑ لینے والے موڑ آتے ہیں جو کہانی کا نقطۂ عروج بھی کہلاتے ہیں۔ ایک عمدہ کہانی میں ایک سے زیادہ ”بیٹ” یا نقطۂ عروج ہوتے ہیں جو سامعین کو ان کی جگہ جمے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 

یہاں ہم فلم سُپر سٹرکچر پر بات کریں گے۔

اس میں چودہ بیٹس پائی جاتی ہیں جو کہانی کاری کے اس سفر میں آپ کی رہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں سے پانچ بیٹس کہانیکے بڑے حصے کی ترجمان  ہیں۔ یہاں ان ہی پانچ بیٹس کا ذکر ہے۔ انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا ایکٹ

اُلجھن/خلل: ہر اچھی کہانی کی ابتدا کچھ نہ کچھ افراتفری یا گڑبڑ سے ہوتی ہے جو کہانی کے مرکزی کرداروں کو الجھا کر رکھ دیتی ہے گو کہ پوری کہانی میں خلل یا اُلجھن موجود ہو سکتی ہیں لیکن آغاز میں ہونے والی گڑبڑ ناظرین کو متوجہ لیتی ہے۔

تمام کشتیاں جلا بیٹھنے کا پہلا مرحلہ:  ایسی صورت میں مرکزی کردار نئے مشن یا سفر کے لیے اپنی پرانی شناخت اور دنیا دونوں کو اپنے نئے مشن کی خاطر قربان کر دیتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ”ہنگرگیمز” سیریز کی پہلی فلم میں کیٹنس ایور ڈین (Katniss Everdeen)کا کردار ہے جس میں اپنی بہن کی خاطر وہ اپنی ہر پہچان گنوا بیٹھتی ہے۔ یہ سیریز بعد میں بین الاقوامی شہرت کی حامل قرار پائی۔

دو سرا ایکٹ

خود شناسی کا لمحہ:  یہ کہانی کا درمیانہے جس میں مرکزی کردار خود اپنے مدِّمقابل ہوتاہے   اور کسی فیصلہ کن موڑ کا سامنا کرتا ہے جہاں مر جائو یا کر گزرو والے دو ٹوک حالات اس کے سامنے ہوتے ہیں۔

تمام کشتیاں جلا دینے کا دوسرا مرحلہ :   یہ وہ مرحلہ ہے جہاں مرکزی کرداروں کا کہانی کو واضح شکل دینا  ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں کوئی انقلابی صورتِ حال دکھانا ہوتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بحران یا نازک مرحلہ۔

 جیسے فلم ”سائلنس آف دا لیمبز” (Silence of the Lambs)میں ہینیبل لیکٹر (Hanibal Lecter) قاتل کے سراغ پولیس کو دے دیتا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے ۔دراصل ہونا یہ چاہئے کہ مرکزی کردار جنگ اپنی کوششوں سے جیتے کسی کی مدد سے نہیں۔

تیسرا ایکٹ

حتمی جدوجہد:   یہ مرکزی کردار کی اندرونی یا بیرونی جنگ ہو سکتی ہے۔ اس کی مثال ”دی کنگز سپیچ”(The King’s Speech) میں ہکلانے والے پرنس البرٹ کی آخری تقریر یا ”ہنگر گیمز” میں کیٹنس ایور ڈین کا زہر خوری کا فیصلہ ہے۔ 

آئندہ مضمون میں سپر سٹرکچر کے مزید پہلوئوں پر بھی گفت گو ہو گیلیکن یہ مضمون بھی نئے لکھنے والوں کے لئے بے حد مدد گار ثابت ہو گا۔

admin

Read Previous

کہانی کار کی منفرد آواز ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

کامیاب سکرین پلے کے دس اجزائ: لگاؤ/شوق  ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے