کرداروں کے جذبات قاری تک پہنچانے کے 3 طریقے  ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

کرداروں کے جذبات قاری تک پہنچانے کے 3 طریقے

ایک بہترین اور مضبوط کہانی لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ہر کردار کے جذبات کو پڑھنے والوں تک مکمل طریقے سے پہنچائیں۔اس طرح کہ ناظر ہر ایک کی ذہنی و جذباتی کیفیت کو محسوس کر سکے ، اپنی کیفیت کو کردار کی کیفیت کے ساتھ بدلتا ہوا دیکھ سکے۔ ایک عام سی کہانی میں جذبات بھر کر آپ اس کو خاص بنا سکتے ہیں۔ کردار کے اوپر گزرنے والے ہر طرح کے حالات اتنے پر اثر طریقے سے اس کے جذبات پر اثر انداز ہوتے نظر آئیں کہ دیکھنے والے اس سے خود کو جوڑے بغیر نہ رہ سکیں۔

ہر کہانی میں کردار کی زندگی سے جڑے بہت سے جذبات ہوتے ہیں۔ اس کی کوششوں کے نتیجے میں چھپے بہت دکھ اور بہت سی خوشیاں ہوتی ہیں ،کچھ کرداروں کے غیریقینی حالات، مضبوط ارادے، غصہ، اضطراب، ہمت اور بہت سے جذبات کو آپ الفاظ میں ڈھالتے ہیں۔ یہ سب جذبات ہی ناظرین کو کردار سے ہمدردی پر مجبور کرتے ہیں۔ ناظرین انہیں جذبات کی وجہ سے کردار کی کامیابی پر خوش اور ناکامی پر افسردہ ہوتے ہیں۔

کچھ لکھاری اپنے کردار کے جذبات کو صحیح طرح سے سامنے نہیں لاپاتے یا اس کی کوشش ہی نہیں کرتے کیوں کہ ان کو لگتا ہے کہ ان کا پلاٹ بہت مضبوط ہے اور مقبولیت کے لیے یہ کافی ہے۔ کچھ لوگ تو کردار کے منہ سے ہی جذبات کہلوا دیتے ہیں۔

”کیا! مجھے پروموشن نہیں ملی۔ مجھے یہ سن کر بہت پریشانی ہوئی ہے۔ میرا رونے کو دل چاہ رہا ہے۔”

اس سے زیادہ بے تکا ، بدمزہ اور سستی بھرا طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کردار کی کیفیت اس کے ہرعمل میں نظرآنی چاہیے نہ کہ لفاظی میں۔ یہ تھوڑا مشکل کام ہے لیکن ممکن ہے اور ضروری بھی۔ کچھ نکات پر غور کر کے آپ جذبات کو اپنے سکرین پلے میں دکھا سکتے ہیں۔

دیکھیے جب لوگ ایک خاص قسم کے حالات میں ہوتے ہیں تو خاص قسم کے کام کرتے ہیں۔ چہرے کے تاثرات بھی خاص طرح سے تبدیل ہوتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ کس وقت وہ اضطراب میں تیز تیز قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں ٹہل رہا ہے اس کے ماتھے پر بل ہیں منہ میں کچھ بڑبڑا رہا ہے۔ کب کوئی کردار غصے سے دانت پیس رہا ہے کب ڈر سے کانپ رہا ہے۔ کب پریشانی میں ناخن چبا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں، ناظرین، فنکار اور ہدایت کار کو آپ کی کہانی کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

جو ہو رہا ہے بالکل وہی بتا دینے سے جذبات کبھی نہیں اُبھرتے ۔آپ الفاظ کو تبدیل کر سکتے ہیں آپ محاورے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کے مضطرب کردار سے پوچھے کہ آج کا دن کیسا رہا تو اگر وہ جواب دے کہ ”بہت برا گزرا” تو یہ ایک عام جملہ ہے اگر وہ کہے کہ ”آج میری بدنصیبی کے دنوں کی فہرست میں ایک اور دن کا اضافہ ہوا”  تو یہ ایک بہتر سطر ہے۔اور یہ آپ کے اداکار کو اپنا فن دکھانے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس طرح سے آپصاف صاف بات بول دینے کی بجائے ، پردے اور پیرائے میں بات کر کے بات کی قدر بڑھا سکتے ہیں۔

آپ کرداروں کے تقابلی جائزے میں ناظرین کو فرق محسوس کروا سکتے ہیں۔ آپ دکھا سکتے ہیں کہ ایک ہی طرح کے حالات میں دو کردار کس طرح کے ردِّعمل دکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہالی وڈ فلم ”گاڈ فادر ” کا وہ سین جس میں ڈان کا بیٹا ہسپتال کے گیٹ کے باہر باپ کی حفاظت پر مامور ہے۔ اس کے ساتھ موجود دوسرا کردار سگریٹ جلانے کے لیے لائٹر جلاتا ہے ، لیکن دشمن کے کسی بھی وقت آ جانے کے خوف سے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں، جب کہ ڈان کا بیٹا بالکل پرسکون انداز میں ہاتھ بڑھا کر سگریٹ جلا دیتا ہے۔

اس طرح سے آپ دو کرداروں میں تضاد دکھا کر ان کے جذبات و کیفیات کو ناظرین کے ذہن پر نقش کر سکتے ہیں۔دیکھنے والے جذبات سے بھرپور ڈراموں کو زیادہ رسپانڈ کرتے ہیں۔ اس طرح کے کرداروں کو زیادہ پذیرائی ملتی ہے جن کے ایک ایک احساس سے ناظرین کے احساسات جڑ جائیں۔

٭…٭…٭

admin

Read Previous

کامیاب سکرین پلے کے دس اجزائ: لگاؤ/شوق  ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

خاکہ بنانے کے فوائد ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!