ڈرامے پر اِک نظر ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

ڈرامے پر اِک نظر

ڈرامہ کیا ہے اور اس کے ذریعے ہم تربیت کیسے کر سکتے ہیں۔ 

معاشرے کی تربیت ،بچوں کی تربیت اور خود اپنی بھی۔ 

ڈرامہ ایک طاقتور میڈیم ہے۔ جس زمانے میں ٹی وی یا ریڈیو وغیرہ نہیں تھا۔ اس زمانے میں بھی ایسے ڈرامے اسٹیج کےَ جا تے جن میں اصلاحی پہلو ہوا کرتے تھے۔اس کی مثال اوپیراز ہیں۔ اوپیراز یونان میں دکھاےَ جا تے تھے۔ یہ منظوم ڈرامہ ہوا کرتا ۔ عام طور پر ان کا تھیم مذہبی ہو تا یا کسی بادشاہ کا کوئی کارنامہ ،یا کوئی جنگی داستان بیان کی جا تی تھی۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ دنیا میں ڈراموں کی ابتدا اوپیراز سے ہویٔ تھی۔ 

ایتھینز کے تھیٹر ز میں دکھائے جانے والے ڈراموں کی تین اقسام ہوا کرتی تھیں، المیہ ،طربیہ اور طنزیہ ۔ (یہ باقاعدہ ڈرامے ہوا کرتے ۔ مذہبی تھیٹرز ان کے علاوہ ہوا کرتے تھے) 

کہا جا تا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ڈرامے کا فن لے کر آیا ہے۔ اس کی ڈائیلاگز ڈلیوری، چہروں کے تاثرات، جذبات کا اظہار، یہ سب کیا ہے۔ یہ سب ڈرامہ ہی تو ہے۔ 

لفظ ڈرامہ یونانی لغت کا حصہ ہے۔ اس کا مطلب عمل یا حرکت ہے۔ ڈرامے کو ادب کی اصناف میں سب سے قدیم تصور کیا جا تا ہے۔ خیال کیا جا تا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان کے ساتھ ہی ڈرامہ وجود میں آگیا ہو گا۔ مشہور جملہ ہے کہ ہم سب دنیا کے اسٹیج پر اداکاروں کی طرح ہیں۔ اپنا اپنا کھیل دکھا کر چلے جائیں گے۔ 

کسی قسم کے نمائشی ردِ عمل کو بھی ڈرامہ ہی کہا جا تا ہے۔ عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ دیکھوتو کیسا ڈرامہ کررہا ہے۔ بیوی رو رہی ہو توروایتی شوہر حضرات کہتے ہیں کہ بس اب ڈرامہ بند کرو، بہت ہو گیا۔ 

ڈرامہ زندگی کی عملی تصویر ہے۔ اب دیکھیں کہ مختلف مفکروں نے ڈرامے کی کیا تعریف کی ہے:

افلاطون تمام فنون کو اصل کی نقل کہتا ہے۔ 

 ارسطو کے نزدیک ڈرامہ زندگی کی نقالی ہے۔ 

 سیسرو نے ڈرامے کو زندگی کی نقل ،رسم و رواج کا آئینہ اور سچائی کا عکس کہا ہے۔ سادہ ترین تعریف یہ ہے ”زندگی کے واقعات کو منصوبے کے تحت اسٹیج پر عملی طور پر پیش کرنا ڈرامہ ہے۔ ”

اس سلسلے میں سنسکرت کے ڈرامہ نگاروں نے ڈرامہ کے جو اصول وضع کیے تھے۔ وہ آج تک چلے آرہے ہیں۔ جیسے:

١۔ ڈرامہ کے لےَ ایک کہانی یا پلاٹ ضروری ہے۔  

٢۔ ایک اسٹیج جہا ں ڈرامہ کیا جا سکے ۔ 

٣۔ موسیقی۔

٤۔ رقص ۔ 

 ٥۔ سوانگ (گیٹ اپ ۔ یا میک اپ ) 

 ٦۔ سیٹ ڈیزائین ۔ 

٧۔ سامان (پرابس ) 

 ٨۔ کاسٹیوم ۔ 

 یہ سب عناصر آج بھی ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈرامے کے لیے تین کرداروں کو لازمی قرر دیا تھا:

 ١۔ نائیک (ہیرو)

٢۔ نائیکہ (ہیروئین ) 

٣۔ کھل نائیک(ولن ) 

ہماری کہانیاں کم و بیش آج بھی ان ہی تین مرکزی کرداروں  کے گرد گھومتی ہیں۔ 

 ڈراموں کی قدیم تاریخ بتا تی ہے کہ اوپیرا یعنی منظوم ڈرامے، یونان اور اٹلی میں پرفارم کےَ جاتے تھے۔  

موجودہ دور میں اس کی مثال آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے ہیں۔ جیسا کہ توفیق کس حال میں ہے۔۔۔شیر لوہے کے جال میں ہے۔ 

 ہندوستان کی ایک فلم تھی ،،ہیر رانجھا ،،اس میں راج کمار ہیرو تھا۔ اس کے سارے مکالمے منظوم تھے۔خود میں نے میوزک کی ایک لنکنگ لکھی تھی جو منظوم تھی ۔ جیسے:خالی کمرہ ہے۔ فون کی گھنٹی بج رہی ہے۔ لڑکی بولتی ہوئی داخل ہو تی ہے۔”سارے جہاں  میں شورِ قیامت کےَ بغیر ۔۔رکتا نہیں ہے فون مصیبت کےَ بغیر”۔ 

ریسیور اٹھا کر ۔”ہیلو ۔  یہ کیسا شور مچایا ہے تم نے آج۔ ۔۔ابا کو سوتے سے اٹھا یا ہے تم نے  اوپیرا ز بھی اسی قسم کے ہوا کرتے تھے۔ 

 اوپیراز کاآغاز ١٦٠٠ عیسوی میں اٹلی میں ہوا تھا۔ 

ڈرامہ حرکت یا عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں بھی ڈرامہ موجود ہے، یعنی حرکت۔ امیر خسرو کا ایک دوہا سنیں:

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا۔۔۔آیا کتا کھا گیا توُ بیٹھی ڈھول بجا۔ لا پانی پلا ۔ 

اس میں پوری ایک موومنٹ ہے۔ ایک متحرک تصویر بن گئی ہے۔ 

پوچھا جو میں نے چاند نکلتا ہے کس طرح۔۔۔زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں۔ ہے نا حرکت۔ 

یا پھر،،،،ذرا شوخی تو دیکھےَ گا ،لےَ زلفِ خم کدہ کو ہاتھ میں۔۔۔۔میرے پیچھے آےَ دبے دبے مجھے سانپ کہ کر ڈرا دیا۔ 

 ڈرامے کی جڑ تھیٹر سے جڑی ہے۔ شہنشاہیت کے دور میں جب زندگی بہت گھٹی ہوئی ہوتی تھی توجرأت مند لکھنے والوں نے اپنی آواز پہنچانے کے لئے تھیٹر کا سہارا لیا تھا۔ 

ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے۔۔۔منبر نہ مل سکا تو سرِ دار کریں گے

اس زمانے کے بیشتر ڈرامے ضائع ہو چکے ہیں یعنی ہم تک نہیں پہنچے۔ آج کی دنیا صرف چند ناموں سے واقف ہے۔ جن میں سب سے اہم ”سوفو کلیز”ہے ۔طربیہ لکھنے والوں میں ”ارسٹوفینز” تھا۔ ٤٧٢ قبل مسیح اس کے ایک ڈرامے نے اوّل انعام حاصل کیا تھا۔ جی ہاں اس زمانے میں بھی اس قسم کے مقابلے ہوا کرتے تھے!!

یونانی طربیہ ڈراموں کو بھی تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی

قدیم کامیڈی، وسطی کامیڈی اور جدید کامیڈی۔ 

یونانی ڈراموں کے مقابل رومی ڈرامے تھے۔ ان کی بھی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی یونانی ڈراموں کی۔ رومن ڈرامے اپنی پیشکش کے لحاظ سے یونانی ڈراموں سے بہت بہتر اور ماڈرن ہوا کرتے۔ یہیں سے ڈراموں کی روایت یورپ اور انگلینڈتک گئی ہے۔ 

اینڈرونیکس اور نیو وییس روم کے مشہور ڈرامہ نگار ہوا کرتے تھے۔ اور ایک مشہو ڈرامہ رائٹر پلاٹس بھی تھا۔ اس کا زمانہ 205 اور 184 قبل مسیح کا تھا۔ 

قدیم کے بعد ڈراموں کا وہ دور آتا ہے جسے ہم وسطی کہتے ہیں۔ اس زمانے تک ڈراموں کی روایت پورے یورپ میں پھیل چکی تھی۔ اسی زمانے میں مسٹری تھیٹر کا آغاز ہوا تھا۔ 

سولہویں اور سترہویں صدی، انگلینڈ میں ڈراموں کے عروج کی صدیاں تھیں۔ کرسٹوفر مارلو، تھامس میڈلٹن اور شیکسپیئر کے ڈرامے اس دور کی بہترین مثال ہیں۔ 

شیکسپیئر کے ڈرامے ،ہیملٹ،جولیس سیزر اور میکبیتھ وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اس کا ایک ڈرامہ ”مرچنٹ آف وینس ”انسان کی منفی علامت کا شاہ کار ہے۔ 

انیسویں اور بیسویں صدی میں ڈرامہ اپنے خدوخال  اورپلاٹ کے حوالے سے کمال کو پہنچا۔ ناروے کا ہنرک ازبن، جرمنی کا بریخت، ان کے علاوہ چیخوف، اوجین اونیل،برناڈ شا ،ارتھر ملر وغیرہ ان گنت نام ہیں، جنہوں نے ڈراموں کو عروج تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 

اگاتھا کرسٹی کا ایک ڈرامہ پورے تیس برس تک مسلسل اسٹیج ہوتا رہا۔ اس ڈرامے کا نام ”ماؤس ٹریپ” تھا۔

اس سے اندازہ لگا لیں کہ لوگوں کو ڈرامہ دیکھنے میں کتنی دل چسپی تھی۔ 

یہ وہ ڈرامہ رائیٹر تھے جو جدید تقاضوں سے باخبر تھے۔ اسی لےَ علامتی ڈرامے لکھے گےَ ۔ سماج کے بے شمار مسائل پر توجہ دی گئی اور ڈرامے، اربابِ اختیار تک اپنی آواز پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئے۔

یونان اور اٹلی کے علاوہ ڈرامے کا ایک اور مرکز بھی تھا، ہندوستان۔ ہندوستانی تھیٹر در اصل سنسکرت کا تھیٹرہے۔ 

ہندو اساطیرکے مطابق لارڈ شیو،ڈرامے کی تکنیک کو لارڈ وشنو کی عبادت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ 

ان لوگوں نے ڈراموں کو کئی شعبوں میں تقسیم کیا ۔ جس کا ذکر ہو چکا ہے۔ یعنی کاسٹیوم، گیٹ اَپ کہانی وغیرہ۔ 

کالی داس کی شکنتلا ،راجہ ہریش چندر وغیرہ ایسے ڈرامے ہیں جنہوں نے مغرب کو بھی متاثر کیا۔ اس زمانے میں چین ،جاپان اور کوریا میں بھی  تھیٹر بھی بہت فعال تھا۔ 

ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد اور اُردو ڈرامے 

ہندوستان میں ڈراموں کا جدید عہد بہت طاقت ور رہا۔ ایسے ڈرامے لکھے گےَ جن کے موضوعاتحب الوطنی، انسان کی اپنی شناخت ،روحانیت اور سماج کے دُکھ تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو جدید ڈرامہ کے بانیوں میں شمار کیا جا تا ہے۔ انہوں نے بنگالی میں لکھا اور بہت خوب لکھا۔ ان کے ڈرامے،ڈاک گھر اور چترا وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ 

جدید عہد کے بڑے ڈرامہ نگاروں میں گرش کرناڈ،وجے ٹنڈولکر اور ٹنڈانی وغیرہ ہیں۔ 

اُردو ڈرامے

اب آجائیں اردو ڈراموں کی طرف:

ان کی ابتدا ایک طرح سے نواب واجد علی شاہ کی سرپرستی سے ہوتی ہے۔ ان کے ،،رہس ،،کے ڈرامائی تجربات نے امانت لکھنوی سے ،،اندر سبھا ،،جیسا ڈرامہ لکھوایا۔ امانت سے یہ سفر پارسی تھیٹر تک جاتا ہے۔ 

امانت لکھنوی کے کردار ،،لال دیو اور سبز پری،،ایک عرصے تک علامت کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ 

امانت لکھنوی کے بعد اُردو ڈرامہ آغا حشر کاشمیری کے پاس چلا گیا ۔ جن کو اُردو کا شیکسپیئر بھی کہا جا تا ہے۔ ان کے ڈرامے ،بے انتہا مقبول ہوئے جیسے صیدِ ہوس ، رستم و سہراب وغیرہ۔ ان کے مکالمے اپنی گھن گرج میں بے مثال ہوا کرتے تھے۔ 

اُردو ڈراموں نے بہت کم عرصے میں اپنی ساکھ بنا لی تھی کیوں کہ خوش قسمتی سے اس زبان کو ادبی دنیا کے دیو قامت لوگ مل گےَ تھے۔ جیسے ،امتیاز علی تاج،کرشن چندر،منٹو، رفیع پیر ،اوپندر ناتھ اشک،غلام ربانی، پروفیسر مجیب اور بہت سے دوسرے۔ کمال احمد رضوی بھی ان میں شامل تھے۔ ان لوگوں نے نہ صرف طبع زاد ڈرامے لکھے بلکہ ماخوذبھی کیے۔ 

اب ماڈرن تھیٹر کا دور آیا

سماجی وسیاسی مسائل پر کمال کے ڈرامے لکھے گئے ۔ لکھنے والوں کی ایک توانا کھیپ سامنے آگئی۔ جیسے :پروفیسر حسن،غلام جیلانی برق ، جے این کوشل، شمیم حنفی، جمیل شیدائی، دانش اقبال، سعید عالم، شاہد انور وغیرہ۔ 

ہندوستان میں سعید عالم اپنی طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں سے پہچانے جاتے ہیں۔ دانش اقبال کا ڈرامہ دارا شکوہ اپنی مثال آپ ہے۔ دانش نے مشہور شاعر ”ساحر لدھیانوی ”کو بھی بہ طورِ کردار تھیٹر کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیض صاحب کے ان خطوط کو بھی اسٹیج پر پیش کیا جو فیض صاحب نے جیل میں لکھے تھے۔ ممبئی کے اقبال نیازی نے اور کتنے جلیانوالا باغ ،،جیسا ڈرامہ لکھا ۔ 

ہم مغرب کے ڈراموں سے ہوتے ہوےَ ہندوستان کی طرف آئیجہاں سے اُردو ڈراموں کی روایت ہمارے سامنے آئی۔ اب ہم پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ 

پاکستان میں تھیٹر 

پاکستان میں تھیٹر کی ابتدا پاکستان بنتے ہی ہو گئی تھی۔ 

اس زمانے میں فرخ نگار اور ان کی بہنوں نے خواتین کے مسائل پر اسٹیج ڈرامے لکھے تھے۔ ابتدا میں سنجیدہ ڈرامے پیش کیے جاتے رہے، اس کے بعد ڈرامے کمرشل ہو گئے۔ 

مقامی تھیٹر کو زندہ رکھنے کا کا م عمر شریف ،معین آختر ، امان اللہ اور ببو برال جیسے فنکاروں نے انجام دیا۔ یہ عام لوگوں کی دلچسپی اور تفریح طبع کے ایسے ڈرامے ہوا کرتے جن میں ہلکے پھلکے انداز میں سماجی مسائل کی نشان دہی کی جا تی۔

ہمیں خواجہ معین الدین کو نہیں بھولنا چاہئے جن کے ڈرامے تعلیمِ بالغاں نے ایک دھوم مچا دی تھی۔ اس ڈرامے میں سماجی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پر گہرے اور بھر پور طنز کےَ گےَ تھے۔ ان کے دیگر ڈرامے بھی قابلِ ذکر ہیں۔ جیسے لال قلعے سے لالو کھیت، مرزا غالب بندر روڈ پر وغیرہ۔ 

پھر پاکستان میں سنجیدہ اور تخلیقی ڈراموں کا ایک دور آیا۔ بہت سے گروپس قائم ہوئے جنہوں نے بہترین تھیٹر پیش کئے ۔ ان کی مثال کے طور پر  ایکٹنگ وھیل، بلیک فش وغیرہ پیش کیے جا سکتے ہیں۔ 

ایک اخبار کی طرف سے پاکستان میں پہلا مزاحیہ ڈراموں کا فیسٹیول بھی پیش کیا گیا، جس میں شائقین کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملے۔

سنجیدہ اور ماخوذ ڈراموں کا ایک سنہرا دور آیا، ذہین ترین لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ ضیاء محی الدین،راحت کاظمی، حسن رضا، عثمان خالد بٹ اور انور مقصود، جنہوں نے پونے چودہ اگست، دھرنا اور سیاچن جیسے ڈرامے لکھے اور پیش کئے۔ اس بہاؤ میں بہت خوبصورت ڈرامے دیکھنے کو ملے۔ جیسے نظام سقہ، بیک ٹو دی فیوچر، کاؤنٹ ٹو دی مانٹی کرسٹو وغیرہ۔ 

 ڈراموں کی اقسام 

اب ہم اسٹیج سے ہٹ کر ڈراموں کے دوسری اقسام کی طرف آتے ہیں۔ 

ڈراموں کی چار اقسام ہیں۔ 

١۔ تحریری ڈرامے۔ ایسے ڈرامے جنہیں اسٹیج کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ڈرامے صرف پڑھنے کے لئے ہوتے ہیں۔ 

٢۔ اسٹیج ڈرامے (ان پر ہم گفتگو کر چکے ہیں ) ۔

 ٣۔ ریڈیا ئی ڈرامے۔ ریڈیو پر پیش کےَ جانے ڈرامے جو صرف سنے جا سکتے ہیں۔

 ٤۔ ٹی وی کے ڈرامے ۔ جن سے ہر ایک واقف ہے۔ 

( ڈراموں کی پیشکش کا ایک اور طریقہ اسٹریٹ تھیٹر بھی ہے۔ اس میں کچھ لوگ کہیں بھی کھڑے ہو کر ڈائیلاگز بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں اسٹیج ،سیٹ یا پراپس کی ضرورت نہیں ہوتی ۔) 

پاکستان میں ریڈیائی ڈرامے 

ایک زمانہ تھا جب ٹی وی ابھی قائم نہیں ہوا تھا، تب ریڈیو کے ڈرامے بہت مقبول ہوا کرتے تھے۔ اسٹوڈیو نمبر نو میں پیش کےَ جانے ڈراموں کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا۔ با کمال ادیبوں نے ریڈیو کے لےَ لکھنا شروع کیا۔ ان لکھاریوں میں اشفاق احمد، بانوقدسیہ، ریاض فرشوری، سلیم احمد صاحب، انتظار حسین وغیرہ شامل تھے۔ 

ریڈیو کے ڈراموں کی تکنیک مختلف ہوا کرتی۔ ان میں مناظر کو جملوں کے ذریعے واضح کیا جاتا۔ ان ڈرامہ نگاروں نے، او ہنری،موپساں کو بھی اپنایا کیا اور وہ بھی اتنی خوبی کے ساتھ کہ ڈرامے اوریجنل معلوم ہوا کرتے۔ ریڈیو کے ڈراموں میں صوتی اثرات کا بڑا کمال ہوا کرتا تھا۔ 

اس زمانے میں ریڈیو، فنکاروں کی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ مکالمہ جات بولنے کی تربیت دی جاتی۔ ا س وقت پاکستان میں ہم جنہیں عظیم آرٹسٹ مانتے ہیں، ان کی تربیت ریڈیو ہی سے ہوئی ہے۔ ان ڈراموں میں اخلاقی اور اصلاحی پہلو کو خاص طور پر مدِّنظر رکھا جاناایسا کوئی ڈرامہ نشر نہ جا تا تھا جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔ 

ریڈیو ڈرامہ نگاروں کے یہ صرف چند نام ہیں ورنہ تو اس زمانے میں ایک سے ایک نابغۂ روزگار شخصیت موجود تھی۔

ٹی وی کے ڈرامے

ٹی وی کے قائم ہوتے ہی ڈرامہ صنعت یک دم کئی جست طے کر گئی۔ اب لوگ صرف صوتی تاثرات پر گزارا نہیں کرتے تھے بلکہ مناظر کو آنکھوں سے دیکھ بھی سکتے تھے۔ مستند ادیبوں نے ٹی وی کے لئے ڈرامے لکھے۔ ان میں اشفاق حسین بانو قدسیہ، انتظار حسین، حسینہ معین، انور سجاد، یونس جاوید، مستنصر حسین تارڑ ،سلیم احمد، فاطمہ ثریا بجیا، کمال احمد رضوی جیسے بے مثال لکھاری شامل ہیں۔

ابتدا کے ڈراموں میں چونکا دینے والے عناصر کم ہو تے تھے، بلکہ ایسی گھریلو کہانیاں پیش کی جاتیں جو زندگی سے وابستہ ہو تی تھیں۔ چونکہ اس زمانے میں زندگی بھی بہت ٹھہری ہوئی اور پُر سکون ہوا کرتی تھی ۔ اسی لئے ڈراموں میں بھی اس کا عکس دکھائی دیتا تھا۔ 

گلیمر کی وبا نہ ہونے کے برابر تھی۔ ڈرامے زندگی کے قریب ترین ہوا کرتے تھے۔ سیدھے سادے سیٹ ہوتے تھے اور سیدھے سادے لباس لیکن اس سادگی سے قطع نظر فن کاروں کی پر فارمنس اپنی انتہا کو ہوتی تھی۔ 

تعلیم و تربیت 

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم ڈراموں سے تعلیم و تربیت کا کام کیسے لے سکتے ہیں۔ ؟ 

 یہ ایک اہم سوال ہے۔ 

 اس کے کیٔ پہلو ہو سکتے ہیں۔ جیسے :

١۔ کہانی کا انتخاب۔ (ایسی کہانیاں جن میں ساس بہو کے جھگڑوں ، دوسری بیوی، بیوی کی موجودگی میں کسی اور سے عشق کا سلسلہ، تشدد، سوتن کی چالیں ،وغیرہ نہ ہوں یا کم ہوں۔ ذرا آج کے ڈراموں کے موضوعات پر نظر ڈالیں۔ ستر فی صد ڈراموں میں عورت غیروں سے عشق کرتی نظر آرہی ہے)( یہ کیا بکواس ہے؟ ستر فیصد ڈراموں میں مرد غیروں سے عشق کرتا نظر آ رہا ہے. کیوں نہیں لکھا جا سکا؟ کیونکہ سچ ہے؟) 

اسی لئے کہانی کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔ 

عمدہ اور شان دار الفاظ اور مکالمے دیکھنے والوں کی زبان و بیاں کو نکھار دیتے ہیں۔

٢۔مکالمے: یہ کسی بھی ڈرامے کا مضبوطی کے لحاظ سے بہت اہم عنصر ہے۔ موجودہ دور میں ایسے عامیانہ قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ افسوس ہو نے لگتا ہے۔ خاص طور پر مزاح کے نام پر۔

٣۔ تلفظ اور زبان کی غلطیاں بہت ہوتی ہیں، ان کی درستی پر توجہ نہیں دی جاتی۔حالاںکہ ڈرامے تربیت کرنے ،سکھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ 

ان دنوں ہمارے ڈراموں میں ممبئی کے ٹپوریوں کی زبان استعمال کی جانے لگی ہے۔ کیا زیڈ اے بخاری،اسلم اظہر ،آغا ناصر جیسے لوگ ایسی زبان کو برداشت کر پاتے؟ 

(ڈراموں پر ایک نظر ۔۔منظر امام ) 

admin

Read Previous

Cutoffs کیسے بنائیں؟ ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

کہانی کار کی منفرد آواز ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!