”پہلی کتاب سے بہترsequel لکھنے کا راز” ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

”پہلی کتاب سے بہترsequel لکھنے کا راز”

آج کل تو ہر چیز کا Sequel بنایا جارہا ہے۔ ایک نظریے سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب کہانی کو ایک جدید شکل دینا ہے۔ آج کی کہانی بالکل مختلف ہے۔ اب لوگوں کو sequel کا پہلی کتاب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو آخر سب کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ کرداروں سے دوبارہ ملاقات کریں، دوبارہ اُسی رونگٹے کھڑے کردینے والی سنسنی کو محسوس کریں ، اور اپنی پسندیدہ کہانی کو نئے موڑ لیتے دیکھیں۔ اور اگر ایک لکھاری کی نظر سے دیکھا جائے تو sequel بہت منافع بخش بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کی پہلی کتاب کو پسند کیا گیا ہے تو قوی امکان ہے کہ آپ کی دوسری کتاب کو بھی سراہا جائے گا۔لیکن ایک ایسا sequel جو پہلی کتاب سے زیادہ داد سمیٹے، اسے لکھنے سے پہلے خود سے سوال چند سوال کیجئے۔

١۔ کیا آپ خود کو ہرا سکتے ہیں؟

کہانی کا دوسرا حصہ لکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کیا ہم دوسرے حصے کو پہلے حصے سے بہتر بناسکتے ہیں۔ لکھاری ہونے کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دوسری کتاب کو پہلی سے بہتر بنائیں۔ اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو پھر آپ کے پاس اس کہانی کا دوسرا حصہ لکھنے کا کوئی جواز نہیں۔

اس سوال میں خود کود ہرانے سے مراد ایک بہتر خیال سے نئی کتاب لکھنا ہے۔ کتاب کا دوسرا حصہ بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم ایک نئے اور عمدہ موضوع کا چناؤ کریں بجائے اس کے کہ پچھلے خیال کو بڑا بنانے کی کوشش کریں۔

اچھے sequel کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم پرانے کرداروں کو لے کر ایک نئی کہانی تشکیل دیں۔کہانی کے sequel کا مطلب یہ نہیں کے پہلے حصے کی کہانی کو اُنہیں کرداروں کے ساتھ لمبا کردیا جائے بلکہ sequel کا مطلب یہ ہے کہ ُانہیں کرداروں کو ایک نئے احاطے کے اندر لے جاکر ایک نئی کہانی تشکیل کی جائے، کوئی نیا ایڈونچر، کوئی راز جو پہلی مرتبہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، کچھ ایسا جو ادھورا رہ گیا۔

٢۔کیا آپ کی کہانی دوسرے حصے کے لیے کافی ہے؟

آپ کو اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہونا چاہیے کہ آپ کے ذہن میں جو کہانی ہے ، کیا وہ ایک مکمل کہانی ہے؟ ایک پوری کتاب کے لیے کافی ہو گی؟ آپ کی اس بات کی مکمل خبر ہونی چاہیے کہ صرف کرداروں کو نئی situations میں ڈال دینا کافی نہیں ہو گا۔ بلکہ آپ ایک کے پاس ایک مضبوط پلاٹ بھی ہو نا چاہیے تا کہ آپ کی دوسری کتاب یا دوسری فلم بھی پہلی جتنی شہرت اور مقبولیت سمیٹ سکے۔

٣۔آپ Sequel لکھ کیوں رہے ہیں؟

Sequel لکھنے سے پہلے آپ کو اپنے اندر جھانک کریہ جان لینا چاہیے کہ آپ sequel لکھ کیوں رہے ہیں۔ ذیل میں ہم آپ کو چند نکات دے رہے ہیں جن کے بارے میں سوچ بچار آپ کو اس سوال کا جواب دینے میں آسانی مہیا کرے گی۔

منافع: یہ درست ہے کہsequelsعام طور پر اکیلی کہانیوں سے زیادہ منافع بخش ہوتے ہیں کیوں کہ آپ کے فینز پہلے سے ہی کہانی کی بنیاد اور کرداروں وغیرہ سے مانوس ہوتے ہیں۔ وہ پہلے سے ہی کتاب کا sequelپڑھنے کے انتظار میں ہوتے ہیں تو دوسرا حصہ لکھ کر آپ یقینا آسانی سے پیسے کما سکتے ہیں۔ لیکن پیسہ وہ واحد وجہ نہیں ہونی چاہیے جس کی بناء پر آپ اپنی کہانی کا دوسراحصہ لکھنے کا فیصلہ کریں۔ فکشن اور فلموں کی دنیا ایسی کئی بری مثالوں سے بھری پڑی ہیں جن میں صرف پیسے کے لیے sequelsلکھے گئے اور وہ شدید خسارے کا شکار ہوئے۔ 

دباؤ: کئیدفع ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم بھی بھیڑ چال کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کہ اگر سب sequel لکھ رہے ہیں تو میں کیوں نہیں۔ تو ایک لکھاری کے لیے یہ بالکل غلط ہے۔ادب کی چند بہترین مثالیں اٹھا کر دیکھ لیں۔ کسی بھی کہانی کا دوسرا حصہ نہیں لکھا گیا: راجہ گدھ، بستی، وغیرہ۔

پرانے کرداروں سے محبت: کئی دفعہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو الوداع کہنابہت کٹھن ثابت ہوتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کہانی کو بغیر کسی وجہ کے لمبا کیا جائے۔یا اس کادوسرا حصہ لکھ دیا جائے۔ کرداروں سے اپنی محبت کا اظہار اسی کہانی کو بار بار پڑھ کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

کہانی کا دوسرا حصہ لکھنے کی چند صحیح وجوہات:

کہانی اور کرداروں سے انس: دوسرا حصہ لکھنے کی ایک بہتر وجہ اصل کہانی اور کرداروں سے عشق ہے۔ کچھ کردار اتنے مضبوط اور کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان کا حق ہوتا ہے کہ ان پر بار بار لکھا جائے۔ اگر آپ ایسے کردار تخلیق کر چکے ہیں تو sequelضرور لکھیے۔ 

پڑھنے والوں کی دلچسپی :ایک لکھاری ایک بادشاہ ہوتا ہے اور پڑھنے والے اس کی رعایا۔ تو ایک بادشاہ ہونے کے ناطے ایک لکھاری کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی رعایا یعنی پڑھنے والوں کا خیال کرے اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ کہانی کا دوسرا حصہ لکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کہانی کو مزید آگے بڑھانے کی گنجائش ہے۔لیکن اس کا فیصلہ صرف اسی ایک وجہ پر نہ کریں تو بہتر ہے۔ 

نئے اور دلچسپ خیالات:اپنی کہانی کو جاری رکھنے کی سب سے بہترین اور دانش مندانہ وجہ یہ ہی ہے۔ کہانی کے دوسرے حصے کو کھڑا کرنے کے لیے سب سے اہم چیز ایک نیا خیال ہے جو ایک ستون کی مانند ہے اور جس پر کہانی انحصار کرسکتی ہے۔اگر آپ کے پاس کچھ عمدہ نئے خیالات ہیں تو کاغذ قلم سنبھال لیجیے۔ 

کہانی کا دوسرا حصہ کس بارے میں ہونا چاہیے

ایک بہترین Sequel کے لیے یہ ضروری ہے کہ پرانی کہانی کے پلّو سے پیچھا چھڑوا کر، اس کے اختتام کو مدنظر رکھ کر نئی کہانی لکھی جائے۔

کچھ کہانیاں اختتام کے وقت ایک نئی کہانی کی گنجائش چھوڑ دیتی ہیں۔ تو ایک لکھاری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور کہانی کے دوسرے حصے کو شروع کرنی چاہیے۔ مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دوسرے حصے کی شروعات پہلے حصے سے کافی مختلف ہو۔ ایک لکھاری کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ کہانی کے پہلے حصے میں اٹھائے گئے سوالات کا دوسرے حصے میں جواب دے۔

آپ پہلی کتاب سے ہی لوگوں کے دل میں اپنا گھر بنا چکے ہوتے ہیں تو آپ کے لیے کتاب کے دوسرے حصے کو کامیاب بنانا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔

مگر سچ یہ ہے کہ Sequel کے ناکام ہونے کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ لوگ آپ سے بہت پختہ امیدیں لگا بیٹھتے ہیں اور لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنا کوئی آسان کام نہیں۔

لوگ جتنا آپ کی پہلی کتاب کو پسند کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے آپ کی اگلی کتاب کا انتظار کرتے ہیں اور یہ انتظار اگر ایک بہترین کتاب کی صورت میں پورا نہ ہو تو تنقید کے ایک بڑے طوفان کا سامنا کرنے کے لیے آپ کو تیار رہنا پڑے گا۔ 

٭…٭…٭

admin

Read Previous

تحریر کے فن میں ادارت کی اہمیت ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

روزمرہ بنیادوں پر کیسے لکھیں؟ ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!