نو آموز سکرین رائٹرز سے ہونے والی سات عام غلطیاں ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

نو آموز سکرین رائٹرز سے ہونے والی سات عام غلطیاں

جب آپ نئے سکرین رائٹرز کا کام باقاعدہ بنیادوں پر دیکھنا شروع کرتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ کتنی ساری غلطیاںاور کمزوریاں ایسی ہیں جو تقریباً ان تمام نئے لکھاریوں میں موجود ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ملک میں اس پیشے کو ایک مکمل شعبے کی طرح نہ لینا ہے، اور اس وجہ سے اس پیشے کو نہ تو کوئی ٹریننگ ملتی ہے نا تکنیکی تعلیم۔ اور اس کمی کا کسی حد تک ازالہ کرنے کے لیے یہ مضمون پیشِ خد مت ہے تا کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے نوآموز سکرین رائٹرز ان غلطیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔ 

١۔ فلم میکنگ کے عمل سے لاعلمی

فلم میکنگ ایک پیچیدہ اور تکنیکی پراسس ہے جس میں ایک لمبی چوڑی ٹیم حصہ لیتی ہے۔ ایک اچھے سکرین رائٹر کے طور پر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ایسا سکرین پلے لکھیں جو نہ صرف آپ کے نمایاں اداکاروں بلکہ ڈائریکٹر، پروڈیوسر، سیٹ ڈیزائنر وغیرہ سے لے کر ایک معمولی ٹیکنیشن یا سپاٹ بوائے تک کو انسپائر کر سکے۔ 

اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ فلم میکنگ کا کوئی کورس کریں یا کیمرے ، لینز، پروڈکشن اور ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کریں، لیکن اس پورے عمل کے بارے میں بنیادی سمجھ آپ کے اندازوں سے بھی زیادہ آپ کے لیے مددگار ہو گی۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے کسی فلم کی پروڈکشن کا حصہ بنیں اور جتنا ممکن ہو سکے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔ 

٢۔ گمشدہ کہانی

یہ بات کہنے میں ہی عجیب لگ رہی ہے لیکن سچ ہے کہ کئی مرتبہ نئے لکھاری اپنے لکھے ہوئے ڈائیلاگ یا ایکشن sequence سے اتنے متاثر ہو جاتے ہیں کہ اصل کہانی بیان کرن بھول جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اچھے مکالمے اور شاندار ایکشن آپ کی فلم کی ہائی لائٹ ہو سکتا ہے لیکن اگر ان چیزوں کو جوڑنے کے لیے ایک اچھی کہانی نہیں ہے تو آپ کی فلم شاید ہی کامیاب ہو۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ وہ اپنے اچھے ڈائیلاگ یا ایکشن کے لیے یاد رہ جائے۔ اگر آپ اسی سے مطمئن ہیں تو ٹھیک۔۔۔ورنہ اپنی کہانی پر ضرور کام کریں۔ 

اپنے سکرین پلے کو فلم میں تبدیل کرنے کا یقینی طریقہ یہ ہے کہ ایک ایسی کہانی لکھیں جسے چند اصناف میں بیان کیا جا سکے۔ کیا آپ کی کہانی رومانی ہے؟ ایکشن سے بھر پور ہے؟ کامیڈی ہے؟ تھرلر ہے؟ مسٹری ہے؟ کیوں کہ پروڈکشن کمپنیوں کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹس اگر آپ کی کہانی کو چند اصناف میں بیان کر سکیں گے تو ڈسٹری بیوٹر تک اس فلم کو بیچنا آسان ہو گا۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کی کہانی فلم میں سے گمشدہ نہ ہونے پائے، اور جب ملے تو اس کی ایک واضح شناخت ہو۔

٣۔ مرکزی کردار کی غیر موجودگی

عام طور پر ہم اپنے مرکزی کردار کو ایک رول ماڈل بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یا تو ہم اسے اتنا اچھا بنانا چاہتے ہیں کہ سب لوگ اس سے متاثر ہوتے رہیں اور ولن اس کے سامنے دنیا کی سب سے زیادہ گھٹیا اور خطرناک شے لگے۔ کبھی ہم اسے اتنا بر ادکھانا چاہتے ہیں کہ اس کا اچھائی کی طرف سفر دیکھنے والوں کو انسپائر کر دے۔ یہ پرفیکشن حاصل کرنے کے دوران ہم مرکزی کرداروں کو یک جہتی نفسیات دے دیتے ہیں۔ وہ اچھا ہے تو بس اچھا ہی ہے۔۔۔ہر طرح کے حالات میں وہ بس اچھا ہی رہے گا۔۔۔برا ہے تو اتنا برا ہے کہ ہیروئن کے علاوہ باقی کسی کے ساتھ عام انسانوں والا سلوک اس کے بس سے باہر کی چیز ہے۔ 

یہ یک جہتی شخصیت نگاری مرکزی کرداروں کو بور ۔۔۔اور بہت سے موقعوں پر ثانوی کرداروں کو دلچسپ بنا دیتی ہے۔ اور یہ ایک غلطی شاید ہی کوئی نیا لکھاری نہ کرتا ہو۔ 

آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اپنے مرکزی کردار کو ایک مکمل شخصیت دیں۔ اس کا پس منظر تخلیق کریں۔ اس کی عادات، اٹھنا بیٹھنا، خدو خال، نفسیات، لوگوں سے میل جول، زندگی کے بارے میں توقعات۔۔۔یہ سب تفصیلات آپ کو ایک ایسا مرکزی کردار دیں گی جو نہ صرف حقیقت کے قریب ہو گا بلکہ دلچسپ اور یاد رہ جانے والا بھی۔

٤۔ کسی مخصوص مقصد کی غیر موجودگی

قارئین کو شاید یقین نہ آئے لیکن ذہن میں پنپتی کہانی کا ایک مخصوص مقصد ڈھونڈنا یا اس تک پہنچنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ اور کئی مرتبہ نئے لکھاری اس مشکل سے جی ہار بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ ان لکھاریوں میں شامل ہیں تو لسٹ سے فوراً باہر آ جائیں کیوں کہ یہ مشکل کام سر انجام دیا جا سکتا ہے!

کہانی کے مقصد سے مراد جو گول ہے جو آپ کی کہانی کا ہیرو یا ہیروئن حاصل کرنا چاہتایا چاہتی ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ آپ یہ مقصد ایک سطر میں اور آسان الفاظ میں بیان کر سکیں۔

مثال پیش کرتے ہیں: ”یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنا شہر چھوڑ کر نئے شہر جانا چاہتی ہے۔”

یہ جملہ بہت غیر واضح ہے ۔ وہ گھر کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟ گھر چھوڑ کا کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ 

تھوڑی تبدیلی کے ساتھ اسے دیکھتے ہیں۔

”یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنا شہر چھوڑ کر نئے شہر جانا چاہتی ہے تا کہ اپنی ماں کو ڈھونڈ سکے۔”

اب کہانی کا بنیادی مقصد نہ صرف واضح ہو گیا ہے بلکہ سسپنس بھی پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ماں سے الگ کیوں ہوئی؟ کب ہوئی؟ اس کی ماں کیسی ہے؟ وہ لڑکی اب کہاں رہ رہی ہے؟ ماں سے علیحدگی کن حالات میں ہوئی؟ وہ اس علیحدگی سے کس طرح متاثر ہوئی؟ 

فلم بین اب ان سب سوالوں کے جواب تلاش کرنا چاہیں گے، اور ساتھ ساتھ وہ سب لوگ بھی جو آپ کا سکرین پلے پڑھ رہے ہیں۔ 

٥۔اندرونی خلفشار کی غیر موجودگی

انسانوں کی نفسیات کے بارے میں ایک بات جان لیجیے۔ ہم چاہیں مانیں یہ نہ مانیں۔۔۔ہم سب بہتر ہونا چاہتے ہیں۔ کبھی مالی طور پر، کبھی جسمانی طور پر، کبھی اندرونی طور پر۔ کوئی انسان اس اندرونی خلفشار سے آزاد نہیں۔ 

یہ خلفشار دو اقسام کا ہوتا ہے: نفسیاتی اور اخلاقی۔

نفسیاتی خلفشار تب جنم لیتا ہے جب ہم کسی نہ کسی وجہ سے خود کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔

اخلاقی خلفشار تب پیدا ہوتا ہے جب ہم سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔

کہانی کے اعتبار سے آپ ان دونوں طرح کا خلفشار اس میں شامل کر سکتے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ آپ اپنے کردار کو بہت سے ایسے مواقع دیجیے کہ وہ بار بار ان خلفشاروں کا سامنا کرے، ان کی شدت میں اضافہ ہو اور پھر آخر کار اس پر کھلے کہ اسے آخر ان تمام مسئلوں سے نجات کیسے حاصل کرنی ہے۔ کہانی کا کلائمکس، یا کم سے کم کلائمکس تک پہنچنے میں یہ انکشاف بہت کام آتا ہے اور اکثر کردار اس انکشاف کے بعد ہی اپنے مقصد میں کامیابی تک پہنچتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ان اندرونی مسائل اور خلفشاروں کو ڈھونڈنے کہاں جائیں تا کہ کہانی میں گہرائی لائی جا سکے۔ اگر آپ جینئس اور شاہکار سکرین پلے رائٹرز کی راہ چنناچاہتے ہیں تو یہ راہ مشکل ضرور ہے لیکن اسی میں دوام ہے۔ مشکل یہ کہ اس کے لیے آپ کو اپنے اندر جھانکنا پڑے گا اور اپنی اندرونی کشمکش کا سامنا کرنا ہو گا۔ جیسے ہم نے پہلے کہ کوئی انسان اس کشمکش سے مبرا نہیں۔۔۔اور اپنے اندر کے احساسات اور دبا کر رکھی گئی سوچوں کا سامنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں آپ کے پاس ایسی کہانیاں آئیں گی جو نہ صرف حقیقت سے بھر پور ہوں گی بلکہ دیکھنے والوں کے لیے کردار سے تعلق جوڑنے میں بھی مدد کریں گی۔ اور اسی طرح یاد رہ جانے والی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔

٦۔مردہ منظر نگاری

منظر نگاری ایک وسیع اسطلاح ہے۔ اس میں نہ صرف سین اور کردار شامل ہوتے ہیں بلکہ سین میں ان کرداروں کی حرکات و سکنات، ایک دوسرے کو دیکھنے کا انداز، مکالموں کے تاثرات اور ان تاثرات کے ردِ عمل۔۔صوفے سے اٹھ کر میز تک جانا، پانی پینا، گھونٹ نگلنا۔۔۔ہر ایک تفصیل شامل ہوتی ہے۔ اور یہی تفصیلی منظر نگاری اگر صفحے پر پڑھنے والے کے تخیل کو نہیں جگا رہی تو آپ کا سکرین پلے نہیں بکے گا۔ فلم ایک بصری تفریح ہے۔۔۔آسان اردو میں۔۔۔ایک ایسی تفریح جو دکھائی دے رہی ہے۔۔۔کہانی جو زندگی کی طرح نظرا  رہی ہے۔۔اور بے جان لفاظی اور لمبی لمبی scene descriptions منظر نگاری کو برباد کر دیتی ہیں۔ 

اپنا تخیل اتنا جاندار اور زندہ رکھیں کہ آپ کے کردار آپ کے لفظوں کے ذریعے ڈائریکٹر، پروڈیوسر یا سکرپٹ ایڈیٹر کو اپنے ذہن کے پردے پر چلتے پھرتے نظرا ئیں۔ اور یہ سب مختصر سے مختصر الفاظ میں ہو سکتا ہے۔ 

٧۔ دوسروں کے سکرین پلیز نہ پڑھنا

ہم سمجھ سکتے ہیں۔ لکھاری اپنے ناز، انا اور حساسیت کے لیے مشہور ہیں۔ اور صرف لکھاری ہی نہیں۔۔۔ہر وہ انسان جو تخلیقی ذہن رکھتا ہے کہیں نہ کہیں ایک حساس طبیعت کا مالک ہے۔ ایک لکھاری کو یہ کہناکہ وہ دوسروں کے اچھے سکرین پلے پڑھ کر اپنا ہنر بہتر کرے اس لکھاری کو ناراض کرنے کا سب سے آسان اور یقینی طریقہ ہے۔ لیکن ہم یہ رسک لے رہے ہیں کیوں کہ جب تک آپ مطالعہ نہیں کریں گے، مختلف طرح کے سکرین پلے نہیں پڑھیں گے، آپ اپنے کام میں بہتری نہیں لا سکتے۔ 

اگر آپ ناول لکھتے ہیں تو دوسروں کی کتابیں، افسانے اور ناول پڑھیں۔

اگر آپ ڈرامہ یا فلم لکھتے ہیں تو ڈرامہ وغیرہ دیکھیں اورپھر ان کے سکرپٹ پڑھیں اور ایک بار پھر وہ ڈرامہ یا فلم دیکھیں۔ ایسا مختلف ڈراموں اور فلموں کے ساتھ کریں جب تک آپ سکرپٹ اور سکرین پلے کی تنکیک کے ماہر نہ ہو جائیں۔

اگر آپ ان کمزوریوں اور خامیوں پر قابو پا لیتے ہیں تواپنی کامیابی کا یقین کر لیجیے۔ اچھی تحریر اور دلچسپ کہانی اپنی جگہ ضرور ڈھونڈ لیتی ہے۔ 

admin

Read Previous

سکرین پلے تیار کرنے کے تین طریقے ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

شارٹ فلم لکھنے کی جدو جہد ۔ سکرین پلے ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!