نان فکشن تحریر میں اقوال شامل کرنے کے کچھ اصول ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

نان فکشن تحریر میں اقوال شامل کرنے کے کچھ اصول

اگر آپ ایک نان فکشن لکھاری ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کبھی کبھی یکساں موضوعات پر لکھتے ہوئے ہر بار تحریر کو ایک نیا پن دینا بہت مشکل امر ہے۔ نان فکشن تحاریر میں خاطر خواہ طوالت کے ساتھ ابتدا سے آخر تک دل چسپی اور ندرت کا برقرار رکھنا لکھنے والے کے لیے بہت ضروری ہے۔ کہی گئی ایسی کوئی نئی بات جس سے قاری تحریر سے جڑ جائے اور تحریر پسندیدگی کی سند پاسکے بہت ضروری ہے ورنہ آپ ایک ناکام لکھاری ہیں اور یقینا ایڈیٹرز آپ سے لکھوانا چھوڑ دیں گے۔

اس لیے اکثر اوقات نان فکشن لکھاری اپنی تحریر کا ابتدائی جملہ ہی انتہائی چونکا دینے والا اور ایک دم جکڑ لینے والا لکھتے ہیں تاکہ قاری کی فوری توجہ حاصل کی جا سکے۔ 

اس مقصد کے لیے، تحریر کا آغازکسی جملے یا قول سے کیا جانا ایک نہایت آزمودہ طریقہ ہے، جو کبھی ناکام نہیں ہوتا۔

لیکن اس کے لیے کسی ایسے قول یا جملے کا انتخاب ضروری ہے، جو آپ کی تحریر کا لُبِ لباب ہو۔۔۔تحریر کی پوری روح اس ایک جملے سے عیاں ہوں۔۔۔اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے بعد آپ کی تحریر بھی اس جملے کے ساتھ پورا انصاف کر سکے۔ 

یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا آپ کو لگ رہا ہے۔ 

آئیے، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اس مشکل کو کیسے حل کیا جائے۔

تحریر میں کو د پڑیں:

اگر آپ تحریر کا آغاز کسی قول یا مکالمے سے کرنا چاہتے ہیں تو تمہید مت باندھیں، انتظار مت کریں اور تحریر کا پہلا ہی جملہ مکالمہ بنا دیں۔ایک ایسی مصنفہ کی مثال لیں جو نئے لکھاریوں کے لیے آرٹیکلز لکھتی ہے اور اس بار ڈیڈ لائن کے موضوع پرلکھنا چاہ رہی ہے۔ اس تحریر کا آغاز کیسے کیا جائے کہ ”لکھاری کی ڈیڈ لائن” سے جڑا تمام تر شدید دبائو، افراتفری، جلدی جلدی کا شور اور جذبات کا سارا طوفان تحریر کے ابتدائی  مکالمے سے ہی سامنے آ جائے۔ مثلاً:

 ”تمہیں معلوم  ہے تمہارے جیسے لوگوں کو ہی  کتابی کیڑا کہتے ہیں۔” وہ بے پروائی سے ٹانگ ہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

اور میں جو اپنے آرٹیکل کی ڈیڈ لائن کے خوف میں دھڑا دھڑ کی بورڈ پرانگلیا ں چلائے جا رہی تھی، انتہائی جھلاہٹ سے بولی: ”اور تمہارے جیسے لوگوں کو ”چپ ہو جائو!” کہتے ہیں!!”

 اب یہاں سے وہ مصنفہ نہایت ہم وار طریقے سے اپنے آرٹیکل کے موضوع پر بات شروع کر سکتی ہے کیوںکہ اس نے بڑی سمجھ داری سے قاری تک یہ بات پہنچا دی کہ ڈیڈ لائن پورا کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے ۔۔۔اور یہ بات  سمجھانے کے لیے اُسے چار، پانچ پیراگراف اور ہدایتوں کی قطعاً ضرورت نہیں پڑی۔

تحریر کا سرا:

کسی دل چسپ بات یا قول سے تحریر شروع کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے آپ کو اپنی تحریر کی تھیم کا پتا چل جاتا ہے۔ اگر آپ نے ایک سنجیدہ قول کا انتخاب کیا ہے تو یقینا آپ باقی بات بھی سنجیدگی سے کریں گے ورنہ آپ کا قاری تحریر کی بار بار بدلتی جون سے تنگ آ کر پڑھنا چھوڑ دے گا۔ 

تحریر کی تھیم طے ہو جانے سے تحریر کو آگے بڑھانا اور مختلف اتار چڑھائو سے گزارنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ قول منتخب کرتے ہوئے ذہن میں رکھیں کہ کوئی جملہ ایسا نہ ہو جو آپ کی فطری لکھائی سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اگر آپ طبعاً سنجیدہ ہیں تو زبردستی کسی مزاحیہ جملے سے شروعات نہ کریں کیوںکہ قاری تحریر پر آپ کی کمزور گرفت سے فوراً آگاہ ہو جائے گا۔

کچھ الگ کر کے دکھائیں:

کچھ الگ اور اچھوتا لکھنا صرف فکشن والوں ہی کی جاگیر نہیں۔ ہم نان فکشن لکھنے والے بھی بہ خوبی ایک عام سے موضوع کو مختلف انداز سے  لکھ کر اس میں جان ڈال سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ جس طرح کے اسلوب کی نان فکشن تحریریں آپ کو پسند آتی ہیں، انہیں ضرور پڑھیں اور پڑھ کر سوچیں کہ آپ کو اس میں کیا اچھا لگتا ہے اور آپ اسے کس طرح اپنا سکتے ہیں۔ اپنے لکھنے کے انداز کو بار بار بدلیں تا کہ آ پ جان سکیں کہ آپ کس طرح سب سے اچھا لکھ سکتے ہیں۔ بڑے بڑے نان فکشن رائٹرز کو پڑھیں۔۔۔آپ حیران ہوں گے کہ کتنے کم نان فکشن رائٹرز اپنی تحریروں کا آغاز کسی مکالمے یا قول سے کرتے ہیں۔ کیوںکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ قاری کی توقعات بڑھا دیتے ہیں جو انہیں لگتا ہے کہ پھر وہ پوری نہیں کر پائیں گے۔ اس خوف سے ہی آپ اندازہ لگا لیں کہ یہ طریقہ کتنا مشکل ہے۔ تو پھر ہمت کریں اس طریقے کو اپنانے کی، کچھ نیا کر کے دکھانے کی۔

admin

Read Previous

روزمرہ بنیادوں پر کیسے لکھیں؟ ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

کتاب کی تصنیف کو منظّم بنائیں ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!