معین اختر:صدائے ظرافت اب نہ آئیں گے پلٹ کر۔۔۔ ۔ شاہکار سے پہلے


معین اختر:صدائے ظرافت

اب نہ آئیں گے پلٹ کر۔۔۔

کراچی کے ماڈل کالونی قبرستان کا منظر ہے۔ قبروں کے ڈھیر میں کئی انسان دفن ہیں۔ اپنے پیچھے کہانیاں چھوڑ جانے والے بھی، شہرتیں سمیٹنے والے بھی اور دنیا کو روتا چھوڑ کر جانے والے بھی۔ سب اپنی اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں۔ دکھ ،تکلیفیں،غم ،خوشیاں،مسکراہٹیں اور قہقہے۔۔ زندگی کا ہر رنگ دیکھ کر اپنے اصل کی جانب واپس لوٹ جانے والوں میں ایک قبر اس کی بھی تھی۔ گیٹ پر گاڑی آکر رکی۔ اس میں اداس بیٹھا اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘‘سرعام’’کا میزبان اقرار الحسن اب اپنے سنگ ایک نئی اداسی سمیٹنے آیا تھا۔ پاکستان کی مشہورشخصیات کی قبروں کا حال لوگوں کو دکھانے کیلئے ریکارڈ کیا جانے والا یہ پروگرام اقرار کے ساتھ کئی لوگوں کو اداس کر گیا تھا۔ اس وقت بھی اقرار ایک ایسی ہی شخصیت کی قبر سے گرد جھاڑ کر اس پر پھول ڈال رہا تھا۔ یہ قبر ویران پڑی تھی۔ گورکن کے مطابق یہاں کبھی کبھی صرف ایک شخص آتا تھا۔:عمر شریف۔ برِصغیر پاک وہند کا مشہورترین کامیڈین عمر شریف جو شاید جانتا ہے کہ یہ شہرت ،عزت،دولت اور سب سے بڑھ کر یہ زندگی صرف ایک امتحان ہے۔۔ اور ایسے ہی امتحان سے وہ شخص بھی گزر کر گیا تھا جس کی قبر پر اب صرف عمر شریف ہی پھول ڈالنے آتا تھا۔

اقرار الحسن اپنے پروگرام میں اس قبر میں دفن ہونے والے شخص کے جنازے کی ویڈیو بھی دکھا رہا تھا۔ ‘‘اب ہمارے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟’’اس کے جنازے کے ساتھ ایسی صدا بلند کرنے والے بہت تھے۔ رزق دینے والا بے شک خدا ہے مگر اس خدا کا رزق ایسے گھروں تک پہنچانا جو بھوکے سوتے ہوں ایک عظیم نیکی ہے اور وہ تو تھا ہی ایسا۔ غریبوں کا درد اس کے دل میں تھا۔ ٹی وی کی سکرین پر مختلف کردار نبھانے والا شخص، کبھی ‘‘روزی’’ بننے والا، کبھی نقالی کرکے ہنسانے والا، کبھی سیاسی چہروں کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے والا، کبھی میزبان بن کرتو کبھی مہمان بن کر لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے والا۔۔ کبھی کسی کا روپ بنا کر۔۔ تو کبھی اپنے مخصوص انداز میں قہقہے بکھیرنے والا شخص۔۔ وہ سب کچھ تھا کیونکہ وہ معین اختر تھا۔ وہ معین اختر جسے شاید اپنی موت کا چند دن پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا۔ صرف چند روز پہلے ہی تو اس نے کہا تھا۔
‘‘اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا یہ سفر اختتام پذیر ہوا چاہتا ہے۔ زندگی جیسے بھی گزاری ہو کائنات میں، مگر دفنائے جاؤ گے بڑی عزت سے’’۔
اور اس کی بات سچ تھی۔ زندگی اس نے گزاری تو زندگی کا ہر رنگ دیکھا اور جب اپنے خالق حقیقی سے جاملا تب اس کو ایک شان کے ساتھ دفن کیا گیا۔ لاکھوں آنکھیں آنسو لئے اور لاکھوں دل اس کی مغفرت کی دعا مانگ رہے تھے۔ اقرار الحسن ،معین اختر کی قبر پر پھول ڈال کر کسی اور کی قبرکی طرف چل دیا۔ لیکن اس قبر کی اداسی کو وہ پھول محسوس نہیں کر سکتے تھے۔ قبر اداس تھی۔۔۔ شاید ہمیشہ اداس رہنے والی تھی۔۔

نامہ بر اپنا ہواؤں کو بنانے والے۔۔۔۔۔
اب نہ آئیں گے پلٹ کرکبھی جانے والے
مر گئے ہم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا۔۔۔۔۔
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے۔۔۔

٭٭٭

admin

Read Previous

ولیم شیکسپیئر ۔ شاہکار سے پہلے

Read Next

 محمد علی ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے