مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

مایا اینجلو ۔ شاہکار سے پہلے

الماس آصف

ہم میں سے بہت سے لوگ، مایا اینجلو کوایک عظیم امریکی مصنفہ اور شاعرہ کے طور پر جانتے ہیں مگر یقینا اس کی شخصیت کے ان خفیہ پہلووں سے واقف نہیں، جنہوں نے اسے مارگریٹ اینی جانسن سے ”مایا اینجلو“ بنایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مایا نے زندگی میں جن مشکلات کا سامنا کیا، کوئی عام عورت ان میں سے نصف کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔
4 اپریل 1928ءکو ریاست میزوری کے اہم شہر سینٹ لوئز کے سیاہ فام امریکی خاندان میں جنم لینے والی مایا کی آزمائشوں سے بھرپور زندگی کا آغاز اسی دن سے ہو گیا تھا جب محض تین برس کی عمر میں اس کے والدین نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آ کراپنی زندگی کی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا اور بعدازاں بچوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر اسے چار سالہ بھائی بیلے کے ہم راہ آرکنساس ان کی دادی کے پاس بھجوا دیا۔ معصوم بہن بھائی تنِ تنہا اپنا مختصر سامان سنبھالے بہ ذریعہ ٹرین طویل سفر طے کرنے کے بعد دادی کے گھر پہنچے تو ان کے لئے یہ ایک نئی زندگی کا آغاز تھا۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا پر دوسری جنگِ عظیم کے سائے لہرانے شروع ہو گئے تھے۔ سیاہ فام امریکی، بنیادی انسانی حقوق سے محروم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ مایا کی دادی اشیائے خوردونوش بیچنے کا کاروبار کرتیں جس سے خاصی معقول آمدنی ہو جایا کرتی۔ اسی بنا پر وہ سمجھتیں کہ اس مشکل گھڑی میں وہ دونوں بچوں کی بہترین نگہداشت کے قابل ہیں۔
اگلے چار برس کمسن مایا کا بچپن، بھائی کے ساتھ خوش گوار انداز میں بسر ہوا۔ تاہم جب وہ آٹھ برس کی ہوئی تو ایک روز اچانک ہی اس کا باپ اپنے دونوں بچوں کو لینے آن پہنچا اور یوں انہیں واپس ان کی ماں کی سرپرستی میں دے دیا گیا۔ مایا، والدین کے گھر واپسی کو اپنی زندگی کا ”ٹرننگ پوائنٹ“ قرار دیتی ہے جس کی بڑی وجہ کمسنی میں اس کا اپنی ماں کے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں عصمت دری کا وہ واقعہ ہے جس نے زندگی میں پہلی بار اسے ایک شدید ترین ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔ یہ تکلیف دہ سانحہ اس کی پوری زندگی پربہت اثرانداز ہوا۔ مایا نے اس واقعے کا تذکرہ صرف بیلے سے کیا جس کے ذریعے یہ بات اس کے رشتہ داروں اور پھر پولیس تک جا پہنچی۔ گرفتاری کے بعد فری مین نامی شخص محض دو روز بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم رہائی کے چار روز بعد ہی مایا کے رشتہ داروں نے اسے رنجش کی بنا پرموت کی نیند سلا دیا۔ اس سنگین واقعے کاکمسن مایا کے ذہن پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ احساس جرم اورصدمے کی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پانچ برس کے لئے قوت گویائی سے تقریباً محروم ہوکر رہ گئی۔ مایا اس واقعے کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہوئے اپنی سوانح حیات میں لکھتی ہیں:
”اس قتل کے بعد میں نے اپنے اوپرخاموشی طاری کر لی کیوں کہ مجھے لگا کہ میری آواز اتنی طاقت ور تھی جو ایک انسان کے قتل کا باعث بنی۔ میں سمجھتی تھی میری آواز نے ہی اس شخص کی جان لی تھی اور اگر دوبارہ زبان کھولی تو میں پھرکسی انسان سے اس کی زندگی چھین لوں گی۔ میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی تھی کیوں کہ میں اندرونی طور پرنہایت خوف زدہ ہو کررہ گئی تھی۔ میں بالکل خاموش رہ کر زندگی گزارنا چاہتی تھی۔“
مذکورہ واقعے کے تناظر میں مایا کوایک بار پھراس کی دادی کی سرپرستی میں دینے کا فیصلہ ہوا، جہاں اس کی زندگی ایک مختلف انداز میں بسر ہونے لگی۔ پانچ برس کا خاموش دور اس کے لئے روحانی طور پرنہایت مفید ثابت ہوا۔ اس دوران اسے اپنے اردگرد کے ماحول، انسانی رویوں اور زندگی کے دیگر واقعات کا مشاہدہ کرتے ہوئے قیمتی ترین باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔ پانچ برس کے اس طویل عرصے میں وہ سوائے اپنے بھائی یا ذاتی ڈائری کے کسی سے دل کی بات نہ کر سکی۔ بات کرنے پر آمادہ کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآ خراس کی دادی اور ماموں نے ہار مانتے ہوئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔
وہ اپنے زمانہ ¿ طالب علمی سے متعلق یادداشت رقم کرتے ہوئے لکھتی ہے۔

admin

Read Previous

قلم کار کی شہزادی ۔ افسانچہ

Read Next

سٹیفن کنگ ۔ شاہکار سے پہلے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!