قاری کو پسند آنے والی نان فکشن تحریروں کے راز ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

قاری کو پسند آنے والی نان فکشن تحریروں کے راز

ایک متاثر کن اور بہترین مضمون وہی ہوتا ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا مضمون لکھا کیسے جائے۔ماہرین کے مطابق ایک یادگار مضمون صرف وہ ہوتا ہے جوپڑھنے والی کی خواہشات اور ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر لکھا جائے۔ نئے لکھنے والوں کے لیے سب سے بہترین مشورہ یہ ہے کہ اپنی ذات کو اپنی ڈائری تک محدود رکھیں، مضمون لکھیں تو صرف قاری کے لیے، اپنے لیے نہیں۔

قلم سے قاری تک:

بہترین تصنیف کے لیے یعنزگھسے پٹے اصول و ضوابط کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیںبلکہ اکثر مضمون نگاراپنی تصنیف میں تازگی پیدا کرنے کے لیے قواعد و ضوابط سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔اپنی راہ خود تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کے نقشِ قدم پر نہ چلا جائے۔لیکن بڑے سے بڑا مصنف بھی مطالعہ کی شرط سے آزاد نہیں۔اگر آپ کو دوسروں کی تصانیف غور سے پڑھنے کی عادت نہیں تو یہ عادت ڈال لیجیے۔جب آپ کسی اور کی تصنیف میں کسی ایسے حصے سے گزریں جو آپ کو اپنی گرفت میں لے لے تو رکیے اور اس مخصوص حصے کو دوبارہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے۔اس بات کا عمیق جائزہ لیجیے کہ مصنف نے ایسی کون سی تکنیک استعمال کی ہے جس نے اس حصے کو اس قدر متاثر کن بنا دیا ہے۔صرف یہ مت دیکھیے کہ کیا لکھا گیا ہے، یہ بھی دیکھیے کہ کیا نہیں لکھا گیا ۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اگرآپ کو کوئی تحریر پڑھتے وقت روکھی پھیکی اور بے سروپا لگے تو رکیے اور اس حصے کو بغور دوبارہ پڑھیے اور دیکھیے کہ کب ، کہاںاور کیوں یہ تحریر ایک بری تحریر کے خانے میں جا کھڑی ہوئی۔دوسرے مصنفین کے کامیاب تجربوں کی نشاندہی کر لینے سے آپ کے اپنے ترکش میں کئی تیروں کا اضافہ ہو جاتا ہے جنہیں آپ موقع آنے پر اپنی تحریر میں استعمال کرسکتے ہیں۔اسی طرح جب آپ کسی اور کے قلم کو ٹھوکر کھاتے دیکھتے ہیں تو اپنے قلم کی راہ بدل لیتے ہیں۔ دوسروں کی تحریر میں خامیوں کی نشاندہی آپ کو اپنی تحریروں میں غلطیوں سے بچنے کا موقع دیتی ہے۔

مقام کا تعین کیجیے:

دنیا کے بہت سے شہروں میں ایسی بسیں چلتی ہیں جن کی پیشانی پر ایک سائن لگا ہوتا ہے جس پر ان تمام مقامات کے نام جلی الفاظ میں لکھے ہوتے ہیںجہاں وہ بسیں رکتی ہیں۔ مثلاً لاہور میں آپ نے ایسی بسیں دیکھی ہوں گی جن پر ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو،مال روڈ لکھا دکھائی دیتا ہے۔ ان بسوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو تسلی رہتی ہے کہ یہ بس فلاں فلاں مقام پر جائے گی اور وہاں یا اس کے آگے پیچھے اپنی مرضی کے مقام تک پہنچ جائیں گے۔

ان بسوں کی مثال اس لیے کہ اس ہی طرح ایک مضمون پر بھی اپنے مقام کے واضح تعین کا سائن بورڈ لگا ہونا چاہئے۔پڑھنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ مضمون کس موضوع پر لکھا گیا ہے اور اپنی منزل تک پہنچتے پہنچتے اس میں کون کون سے مقامات آئیں گے۔یہ نہ ہو کہ قاری کا وہی حال ہوجو ایک انجان منزل کی طرف رواں دواں بس میں بیٹھے مسافر کا ہو سکتا ہے۔

آئیے ایک مثال دیکھتے ہیں۔ رچرڈ روڈریگز اپنے متاثر کن مضمون Mr. Secrets کی ابتدا ء یوں کرتے ہیں:

”سات سال قبل جب میری آپ بیتی کا پہلا مضمون شائع ہوا تو فوراً ہی میری والدہ نے مجھے خط لکھااور مجھے ہدایت کی کہ آئندہ میں خاندانی معاملات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے باز رہوں۔’آئندہ کسی اور چیز کے بارے میں لکھنا۔ خاندانی زندگی ہمارا نجی معاملہ ہے۔’ اور یہ بھی کہ ‘ بھلا غیروںکو یہ بتانے کی کیا ضرورت ہے کہ تم خود کو اپنوں سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہو؟’  آج میں اپنی میز پر ان کاغذات کے پلندوں میں گھرا بیٹھا ہوںاور اس سوال کا جواب تلاش کر رہاہوں۔”

آپ پوچھیں گے اس پیراگراف میں مقامات دکھانے والا سائن بورڈ کدھر ہے۔آئیے،بنظر غائر روڈریگز کی تحریرکا جائزہ لیں۔اس تحریر میں رائٹر نے:

)مرکزی کردار متعارف کروا دیے ہیںجن کے گرد یہ مضمون گھومتا ہے۔ یعنی اس کی والدہ اور وہ خود۔

) یہ واضح کر دیا کہ لکھنا اس کی زندگی کا اہم ترین مقصد ہے۔

)وہ بنیادی سوال پیش کر دیا جس پر یہ مضمون لکھا گیا ہے: کیا چیز ہے جو اسے اجنبیوں کو اپنے ذاتی خلفشار میں شریک کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

 

دو نسلوں کے درمیان رسہ کشی، مصنف کی سماجی تنہائی اور یہ سوال کہ کیا چیز ذاتی ہے اور کیا عوامی۔۔۔یہ وہ عناصر ہیں جو اس مضمون کے مرکزی خیال کا احاطہ کرتے ہیں۔

ہم اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ مضمون ایک بس ہے۔ اس کا ہر پیراگراف ایک پڑائو ہے اور مصنف نے ہمارے ہاتھ میں وہ نقشہ تھما دیا ہے جس کے مطابق چلتے چلتے ہم اس سفر سے بھرپور لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

فاصلہ رکھیے:

اپنے مضمون کو ذاتیات کی حدود سے نکال کرپبلک میں لانے کے لیے جو سب سے اہم کام آپ کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی ذات سے نکل کر پرے ہٹ کر کھڑے ہو جائیں۔اور اپنے تجربات کا بنظرِ غور ، ایک تیسرے شخص کی حیثیت سے جائزہ لیں۔

یہ فاصلہ کیوں ضروری ہے؟اس لیے کہ جب تک مصنف اپنی ذات کا قیدی رہتا ہے، اس کا مضمون اس کے بارے میں بہت سے باتیں چھپا جاتا ہے۔اپنی زندگی کو دور سے دیکھتا ہوا مصنف سب کچھ کھول کر رکھ دیتا ہے۔اور سب کچھ کا مطلب ہے، برا بھلا سب کچھ۔

انسانی فطرت کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں۔ہم نقائص کا مجموعہ ہیں۔ہماری فطرت میں اونچ بھی ہے، نیچ بھی،بھلائی بھی، برائی بھی۔ اور جوں ہی آپ اپنے آپ کو ایک چپٹا سا ، یک رخی کردار بنا کر پیش کرتے ہیں( جو ہر وقت عظمت کے مینار پر چڑھا ہے، یا جو صرف خامیوں کا مجموعہ ہے، جو یا تو مکمل فرشتہ ہے یا پورا شیطان)۔۔قاری کا اعتماد آپ پر سے اٹھ جاتا ہے۔وہ آپ کی لکھی ہوئی ہر بات کو شک کی نظرسے دیکھنے لگتا ہے۔اگر وہ اپنے اس تجزیے کو الفاظ میں نہ بھی ڈال سکے، تب بھی وہ اپنے اندر یہ رائے قائم کر لیتا ہے کہ آپ نے اپنا جو پرفیکٹ خاکہ پیش کیا ہے وہ ضرور غلط ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ قاری کی دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں۔

گہرائی میں جا کر دیکھئے:

دنیا کے بہترین لکھاری کبھی بھی معاملات کو سطحی طور پر دیکھنے کے عادی نہیں ہوتے۔وہ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں، ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس کی اوپری سطح کو اٹھا کر دیکھیں کہ اس کے نیچے کون سے سوالات یا آئیڈیاز موجود ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک مضمون کا حوالہ ملاحظہ کیجیے:

Floyd Skloot ایک مشہور مصنف ہیں جنہوں نے Silence the Pianos  کے عنوان سے ایک شاہکار مضمون لکھا ہے۔اس کا ابتدائیہ کچھ اس طرح ہے:

”آج سے پورے ایک سال پہلے، آج کے دن، میری والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ان کی عمر اس وقت چھیانوے (٩٦) سال تھی اور وہ dementia  کی اس سطح پر پہنچ چکی تھیں جہاں انہیں سب کچھ بھول گیا تھا۔وہ کہاں تھیں؟ میں کون تھا؟اور وہ خود کون تھیں، انہیں کچھ یاد نہ تھا۔اپنے وسیع ماضی سے اگر ان کو کچھ یاد تھا تو بس موجودہ لمحے سے قبل کے کچھ سیکنڈز۔”

کسی محبوب ہستی کی بیماری کا دکھی یا والدین کی دائمی جدائی کا صدمہ ان چند موضوعات میں سے ایک ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا جاتا ہے۔اور اس کی وجہ بھی ہے۔یہ وہ واقعات ہیں جو ہمیں اندر تک جھنجھوڑکر رکھ دیتے ہیں۔لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ جب مصنف ان اندوہ گیں واقعات پر قلم اٹھاتا ہے تو اس کا زیادہ زور یہ ثابت کرنے پر ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے ساتھ ہوا ، وہ بڑی نا انصافی تھی یا یہ کہ جو محبوب ہستی اس سے جدا ہو گئی، اس کی کمی نے زندگی میں کبھی نہ پر ہونے والا خلا بھر دیا ہے۔

کیا یہ جذبات سچے ہیں؟

جی ہاں۔

کیا قاری کو ان میںکوئی دلچسپی ہے؟

جی نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ کئی چیزیں ایسی ہیں جوقاری پہلے سے جانتا ہے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی محبوب ہستی کی بیماری یا موت کے ہاتھوں جدائی ایک گہرا گھائو ہے جو بھرتے بھرتے ہی بھرتا ہے۔اور یہ کہ جب ایسا کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو اپنا آپ کس قدر مظلوم لگتا ہے اور یہ بھی کہ جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کتنے ہی پچھتاووں کے ناگ کس شدت سے ڈسنے لگتے ہیں۔

جب یہ واقعات اور ان کے رد عمل ہماری زندگیوں میں پیش آتے ہیں تو یہ ہمیں پوری زندگی پر محیط نظر آتے ہیںاور ان کے بارے میں لکھنا ہمیں ایک عظیم مقصد کی طرح لگتا ہے۔اسی وجہ سے ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمارے نقصانِ عظیم کا اس قاری پر کوئی اثر نہیں ہوتا (یا بہت کم ہوتا ہے)، جو نہ تو ہماری محبوب ہستی کو جانتا تھا، نہ ہی ہم سے واقف ہے۔جس قاری نے زندگی میں کبھی ایسا صدمہ نہیں دیکھا، وہ سرے سے انہیں سمجھنے ہی سے قاصر ہے۔

دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی کے کئی لمحات ہمارے لیے اس یاد کی مانند ہوتے ہیںجسے ہم بار بار پلٹ کر دیکھنا چاہتے ہیں اور جن کے بارے میں لکھنا ہمارے لیے بڑا فرحت بخش تجربہ ہوتا ہے۔مگر یہی یادگار لمحات جب تحریر کی صورت میں ڈھل کر قاری کے سامنے پہنچتے ہیں تو اس کے لیے چند بے روح لفظوں کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔

اصل کامیابی:

کسی بھی رائٹر کے لیے یاد رکھنے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ مصنف کو اپنے ذاتی خیالات سے باہر قدم رکھنا پڑے گا، اور اپنے قلم کو اس قاری کی طرف متوجہ کرنا پڑے گاجو حقیقی زندگی کا ایک جیتا جاگتا کردار ہے۔یہ قاری ہمیں نہیں جانتا ، نہ ہی وہ ہمیں پڑھنے پر مجبور ہے۔اگرچہ زیادہ تر قاری پڑھے لکھے، حساس اور کشادہ دل ہوتے ہیں لیکن انہیں ہماری زندگیوں کے غیر دلچسپ مسائل (یا خوشیوں)میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

یہ ہے وہ پبلک جسے آپ اپنی تحریر کے ذریعے اپنا آپ پیش کر دیتے ہیں۔

اپنی ذات کا اظہار ایک مصنف کے کیرئر کا نقطہ ء آغازتو ہو سکتا ہے، نقطہ ء انجام کبھی نہیں۔اپنے قاری کے دل تک پہنچنے کا صرف ایک طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ آپ کی توجہ صرف اور صرف اپنے پڑھنے والوں پر ہو، جنہیں آپ تو نہیں جانتے لیکن وہ آپ کے لکھے ہوئے لفظوں سے آپ کے اخلاص اور لگن کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اخلاص ہی وہ چیز ہے جو آپ کے قلم سے ایک ایسا شاہکار لکھواتا ہے جو آپ کے پڑھنے والوں کے لیے ایک قابلِ قدر تجربہ ہے۔اور یہی اس کامیابی کی مکمل تعریف ہے جسے حاصل کرنے کی تمنا لیے ایک مصنف اپنا دل کھول کر کاغذ پر رکھ دیتا ہے۔

admin

Read Previous

آ پ کے لیے نان فکشن کی بہترین قسم کون سی ہے؟ ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

تخلیقی نان فکشن کے اہم عناصر ۔ نان فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!