سکرپٹ کا بہترین اختتام ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

سکرپٹ کا بہترین اختتام

ناگزیر اور ناقابلِ یقین۔۔۔ کسی بھی کہانی یا سکرپٹ کا اختتام ایسا ہی ہونا چاہیے۔اور اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل ارسطو نے بھی ڈرامہ نگاروں کو یہی چیز سکھائی تھی۔

آج کے دور میں بھی ایک سکرین پلے رائٹر کو کہانی کا اختتام ایسا کرنا چاہیے کہ وہ نہ صرف دیکھنے والوں کو مطمئن کرسکے بلکہ ایک عام سی چیز کو بہترین بنا کر بھی پیش کرسکے۔ انٹرٹینمنٹ کے اندر، بھلے وہ سٹیج پر ہو یا آتش بازی کا مظاہرہ ہو، اختتامی تقریب سے بہترین چیز کوئی نہیں ہوتی ہے، دیکھنے والے دم سادھے اختتامی تقریب کی آوازیں اورتصاویر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

لیکن ایک ہی وقت میں دیکھنے والوں کو ایسی چیز کس طرح سے پیش کی جاسکے جس کی وہ امید کر بھی رہے تھے اور نہیں بھی کررہے تھے؟ 

کہانیوں کے اختتام ایک نہایت ہی مشکل چیز ہوتے ہیں، ناظرین کو مطمئن کرنااور ساتھ ہی ان کو حیران کردینا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ہم سب نے ایسی فلمیں بارہا دیکھی ہوں گی جن کے اختتام سے ہمیں تشنگی سی محسوس ہوئی۔ اور یہ چیز بھی آپ ذہن میں رکھیں کہ وہ اختتام سٹوڈیو کے کروڑوں ڈالر کی رقم خرچ کرنے، اپنی فلم کو بار بار ٹیسٹ کرنے اور مختلف طرح کے اختتام کو سوچنے، اور اکثر اوقات مناظر کو دوبارہ سے عکس بند کرنے کے بعد ہوا ہے۔

اختتام اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں؟ نقاد بار بار یہ بات کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں پوری فلم کے دوران کردار اور ساری صورت حال بہت دل چسپ لگی لیکن اختتام سے میرا موڈ خراب ہوگیا؟

کچھ زاویوں تک ہماری زندگی میں ابتدا اور اختتام موجود ہی نہیں ہوتا۔پیدائش کو ابتدا اور موت کو اختتام سمجھنا بھی ہماری صوابدید پر ہی ہے ۔ قدرتی طور پر ابتدا اور اختتام نہیں ہوتے، صرف کچھ واقعات ہوتے ہیں جنہیں ہم ابتدا اور اختتام سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ سب وقتی ہوتا ہے۔ موت اکثر اوقات ایک بہت اچھی ابتدا ثابت ہوسکتی ہے(Citizen Kane)۔ بالکل اس ہی طرح جس طرح کسی بچے کی پیدائش ایک بہت اچھا اختتام ثابت ہوسکتی ہے (Hannah and Her Sisters)۔

مثالی اختتام کے طور پر ایک مصنف کہانی کو اس وقت ختم کرتا ہے جب کہانی کے مرکزی کردار کے مسائل اختتام پر پہنچ جاتے ہیں یا پھر اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ آجاتا ہے، اس کے بعد فلم کا آخری پارٹ آتا ہے۔ یہ ایک تجریدی سی مثال ہے۔ لکھنا ایک ایسا فن ہے جس میںکردار خود اس بات کو سامنے لاتا ہے کہ اس کے نزدیک کیا اہم ہے اور کیا نہیں،کہانی کی ابتدا اور اختتام کو نافذ کرتے ہوئے لکھنے والے کی خواہش اور اس کے نزدیک اہم چیزوں کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں(یا آپ کیا ثابت کرتے ہیں) یہ کہانی کے اختتام سے واضح طور پر ثابت ہوجاتی ہے۔

اکثر اوقات کہانی کے اختتام کو ناظرین کے مزاج کے مدِنظر رکھتے ہوئے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے،اور اس کے لیے مووی سٹوڈیو کہانی لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ مشہور فلم Fatal Attraction میں Michael Douglas کے کردار کو پولیس Glenn Close کے کردار کے قتل کے الزام میںگرفتار کرلیتی ہے۔ لیکن ناظرین کے اصرار اور ان سے کی جانے والی بحث کے بعد اختتام میں شوہر کو جو غیر متناسب رویہ رکھتا ہے، اس کو اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔

کچھ ناقدین نے اس پر بے حد تنقید بھی کی تھی کہ اختتام میں دیکھنے والوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی تھی، یا پھر لوگوں کو وہی اختتام دیا گیا جو وہ چاہتے تھے حالانکہ وہ اس کہانی سے بالکل بھی میل نہیں کھاتا تھا۔ لیکن سب باتوں سے اہم ایک ہی بات تھی، سٹوڈیو والے فلم بنا کر پیسے بنانا چاہتے تھے، اور اس فلم کے اختتام سے ان کی اس خواہش کا بخوبی اندازہ ہوگیا۔

اختتام پر سب سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں

فلموں اور کہانیوں میں ایک چھپا ہوا وعدہ موجود ہوتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فلم یا کہانی کس طرف جارہی ہے۔ایک اچھا اختتام ان تمام سوالوں کے جواب دے دیتا ہے جو فلم کی شروعات میں دیکھنے والوں کے ذہن میں کلبلا رہے ہوتے ہیں۔

پہلے ایکٹ میں ہمیں کرداروں کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ہی فلم کی نوعیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ دوسرے ایکٹ تک ہمیں کردار کے تنازعہ کے بارے میں گہرائی اور مشکلات کا پتہ چلتا ہے جن پر اس کردار کو قابو پانا ہے، تاکہ اسے وہ سب مل سکے جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تیسرے ایکٹ میں مسائل کا نقطۂ عروج آنا چاہیے، یہ وہی جگہ ہوتی ہے جہاں سے مرکزی کردار یا تو کامیاب ہوتا ہے یا پھر تنازعہ کی وجہ سے ہار جاتا ہے۔ اس جنگ سے ہی ان ڈرامائی سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں جوفلم کے شروع میں کھڑے کئے گئے تھے۔

Godfather فلم کے تینوںحصوں میں ایک ہی ڈرامائی سوال کیا گیا تھا۔۔۔ کیا کسی شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ خود کو برے کام میں لگا کر بھی اچھا رہ سکے؟ اور تینوں حصوں میں اس سوال کا جواب ایک ہی طرح سے دیا گیا تھا۔ Al Pacino کا کردارMichael جو اپنے خاندان کو بہت چاہتا تھا، اور ان کے ساتھ جڑا رہنا چاہتا تھا، وہ اختتام پر اپنے خاندان سے کٹ کر اکیلا رہ جاتا ہے۔ پہلے حصہ کے آخری منظر میں Diane Keaton جو مائیکل کی بیوی کا کردار ادا کرتی ہے، وہ اپنے شوہر کو دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔ دوسرے حصہ میں مائیکل تنہا ہوتا ہے، اس کو اس کا احساسِ جرم مار رہا ہوتا ہے کہ اس نے اپنے عزیز ترین کو ماردیا تھا۔ آخری حصے میں مائیکل تنہائی کے عالم میں مرجاتا ہے۔

ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ فلم نے ابتدائی سوال کے جواب بالکل ٹھیک دیے ہیں؟ یہ کردار کی اس اندرونی لڑائی سے پتہ چلتا ہے جو وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے کرتا ہے۔

امکانات

اکثر اوقات، سمجھدار ناظرین کے لئے فلم کے اختتام کو بوجھنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن وہ امکانات یا تو اچھے ہوتے ہیں، یا پھر برے ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر James Bond کی فلموں میں فلم کے آخر میں ولن مرجائے گا، یہ ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ہر فلم میں جیمز بانڈ مختلف طریقۂ کار اپنا کر فتح حاصل کرتا ہے۔ جیمز بانڈ کی فلموں اور دوسری ایکشن تھرلر فلموں کے سکرین رائٹرز کو ایکشن کے کچھ ایسے مناظر لکھنے چاہیے جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں۔

The Sixth Sense میں لوگوں کے لئے یہ بوجھنا بہت آسان تھا کہ فلم کے آخر میںBruce Willisاپنی بیگم کے ساتھ معاملات طے کرنے آئے گا، لیکن یہ کام اس طریقے سے نہیں ہوا جیسا لوگوں نے سوچ رکھا تھا۔اس کی بیگم کو بری طرح سے ٹوٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا، کہ کس طرح وہ سونے سے پہلے اپنی شادی کی ویڈیو دیکھ کر پچھتاتی رہی تھی۔

فلم کے اختتام کو بوجھنے کے برے اختتام اس وقت ہوتے ہیں جب فلم کے آخر میں کچھ بھی نیا دیکھنے کو نہیں ملتا، برے اختتام فلم کے اندر پوچھے گئے ڈرامائی سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہتا ہے۔اکثر تھرلر فلموں کا اختتام اب ایسا ہونے لگا ہے کہ آخر میں سب ٹھیک تو ہو جاتا ہے لیکن سب کی نظروں سے بوجھل ایک مسئلہ جو حل ہونے سے رہ گیا، اس کی جھلک دکھا دی جاتی ہے۔ شروع کی کچھ فلموں میں تو یہ طریقہ چل گیا۔ لیکن اب تقریباً ہر ہارر مووی کا ایسے ہی ختم ہوتی ہے، اور فینز اس سے بہت نالاں ہیں۔

سکرین پلے کے موڑ

فلم میں وہ اختتام جس میں کوئی نیا موڑ آجاتا ہے، وہ بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ایک ڈرامائی موڑ، فلم کے اندر موجود ان تمام چیزوں کو تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے جو ہمیں بالکل درست لگ رہے ہوتے ہیں، اور وہ اس ڈرامائی سوال کا ایک غیر متوقع لیکن منطقی جواب بھی ہوتاہے۔ہالی وڈ کے مشہو ر سٹوڈیو ایگزیکٹو کے مطابق ” اختتام ہمیشہ کہانی میں کوئی نیا موڑ ڈھونڈنے کا ہی نام ہے۔”

admin

Read Previous

سکرپٹ کو غیر رسمی بنانا ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

Read Next

مکالمے لکھنے کا پہلا اور بنیادی اصول ۔ سکرپٹ ۔ کمرشل رائٹنگ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!